مسلم ممالک اور سزائے موت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 ندیم عباس

حال ہی میں پوپ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر سزائے موت کو عیسائی تعلیمات کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت پر دیا گیا ہے جب ایک اور ابراہیمی مذہب اسلام کے پیروکار اپنے زیر انتظام مختلف علاقوں میں سزائے موت پر عملدرآمد کے متروک مگر انتہائی سفاک طریقوں کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ دولت اسلامیہ کی جانب سے ہم جنس پرست افراد کے سر قلم کیے جا چکے ہیں، انڈونیشیا کے ایک صوبے میں حال ہی میں سزائے موت کے لیے سرقلم کیے جانے کا طریقہ اختیار کرنے پر غور کیا گیا ہے اور پاکستان میں بھی گزشتہ چند ماہ کے دوران زینب کے ریپ اور قتل کے مجرم کے لیے سرعام پھانسی اور سنگساری جیسی سزائیں تجویز کی جا چکی ہیں۔ تاہم ایسا نہیں کہ تمام عیسائی سزائے موت کے معاملے میں پوپ کے ہم خیال ہیں اور تمام مسلمان سرعام سر قلم کیے جانے اور سنگساری کے حامی ہیں۔

ایران میں گزشتہ برس ایک فیصلے کے ذریعے منشیات فروشی کے لیے سزائے موت کے قوانین نرم کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے ہزاروں قیدیوں کی سزائے موت عمرقید میں تبدیل ہونے کی امید ہے۔ ملائیشیا میں اراکین پارلیمان سزائے موت کے خاتمے کے لیے کوشش کر چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی دسمبر 2014 سے قبل سات سال تک سزائے موت پر غیر رسمی پابندی عائد رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ معاصر مسلم فکر سخت سزاؤں خاص کر سزائے موت سے متعلق کن خیالات کی حامل ہے۔ یہ دیکھنا بھی اہم ہے کہ کیا مذہبی حدود کے اندر رہتے ہوئے سزائے موت جیسی سزا کے خلاف کوئی علمی مقدمہ کھڑا کیا جا سکتا ہے؟

پاکستانی پس منظر میں اس ضمن میں راقم کے خیال میں درج ذیل سوالات قابل توجہ ہیں:

1۔ عموماً سزائے موت اور مذہب سے متعلق بحث محض سزائے موت کے مذہباً فرض ہونے یا نہ ہونے تک محدود رکھی جاتی ہے۔ اس حوالے سے بحث کا ایک اور مکمل دائرہ جو کسی بھی سزا کے موثر ہونے یا غیر موثر ہونے سے متعلق ہے عموماً یا تو ادھورا چھوڑ دیا جاتا ہے، یا یہ کہہ کر بحث ختم کر دی جاتی ہے کہ چونکہ یہ سزائیں خدا کی طرف سے متعین کردہ ہیں اس لیے ان کے موثر ہونے میں کسی قسم کا شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ درحقیقت جرائم سے متعلق اعدادوشمار ایسی سزاؤں کے غیر موثر ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں جن ممالک میں سزائے موت موجود ہے وہاں جرائم کی شرح ان ممالک سے کم ہے جہاں سزائے موت موجود نہیں۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ خدا ایسی سزاؤں کو لازم قرار دینے کا حکم کیوں دے گا جو جرائم کی شرح کم کرنے میں معاون نہیں؟

ایران میں جنسی جرائم کے خلاف اس سرعام سزائیں عام ہیں تاہم ایران کے بچوں کو ان سزاؤں کے باوجود محفوظ نہیں بنایا جا سکا۔ اسی طرح پاکستان میں سرعام پھانسیوں کے باوجود بچوں کے خلاف جنسی جرائم ہوتے رہے ہیں۔ یہ نوٹ کرنا بھی ضروری ہے کہ 2014 سے اب تک متعدد ایسے افراد کو چائلڈ ریپ کے الزامات پر پھانسی دی گئی، تاہم اس کے باوجود گزشتہ دو سال کے دوران جنسی جرائم کے بدترین واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

2۔ سزاؤں کے موثر ہونے یا غیر موثر ہونے سے متعلق بحث سے قبل ایک زیادہ بنیادی معاملہ سزا دینے کے نظام کی اہلیت، شفافیت، غیر جانبداری اور تیزی کا ہے۔ درحقیقت ایران اور سعودی عرب جہاں مذہبی سزائیں دی جاتی ہیں وہاں نظام انصاف جس کے تحت سزائیں دی جاتی ہیں وہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔ سعودی عرب اور ایران کے نظام ہائے انصاف انسانی حقوق، شفافیت اور غیر جانبداری کے بنیادی تقاضے پورے نہیں کرتے۔ ایسے میں سزائے موت جیسی سنگین سزا دینے کا اختیار ایک ایسے نظام انصاف کو کیسے دیا جا سکتا ہے جو مذہب، قومیت اور صنف کی بنیاد پر امتیاز برتتا ہو؟

3۔ ایک تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران، سعودی عرب، بنگلہ دیش، مصر اور پاکستان سمیت جہاں کہیں بھی مسلم ممالک میں سزائے موت استعمال کی جا رہی ہے وہاں پر اس سزا کا سیاسی استعمال کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب میں شیعہ سیاسی و مذہبی رہنما، بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما اور پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کے خلاف اس سزا کا استعمال سیاسی بنیادوں پر ہی کیا گیا، ایک ایسی سزا جس کا استعمال طاقتور شخصی اور غیر جمہوری حکومتیں سیاسی مخالفین پر قابو پانے کے لیے کر رہی ہوں وہاں اس سزا کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟

4۔ مسلم ممالک میں سزائے موت کی حمایت بھی دراصل جمہوری نظام اور انسانی حقوق کے جدید تصورات کے تحت کی جانے والی تبدیلوں کے خلاف پائے جانے والی عام نفرت کا خصوصی اظہار ہے۔ مسلم ممالک میں جہاں جہاں بھی نوآبادیاتی قبضے رہے وہاں نوآبادیاتی طاقتوں کے استحصال کا ایک لازمی نتیجہ نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف نفرت کی صورت میں نکلا۔ نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف یہ نفرت دوسری جنگ عظیم کے بعد بنائے جانے والے انسانی حقوق کے اداروں اور انسانی حقوق کے عالمی میثاق کی عمومی مخالفت کی صورت میں واضح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر مسلم ممالک میں تاحال سزائے موت موجود ہے بلکہ گاہے بگاہے یہاں اس غیر انسانی سزا کے نفاذ کے لیے سرقلم کرنے یا سنگسار کرنے جیسے طریقے اختیار کرنے کا مطالبہ بھی عام ہے۔

مندرجہ بالا سوالات کے باعث ہی مسلم ممالک میں بتدریج سزائے موت کے حوالے سے رویہ تبدیل ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور ملائیشیا میں سزائے موت سے متعلق قوانین پر نظر ثانی کی جا رہی ہے اور پاکستان میں سزائے موت پر غیر رسمی پابندی عائد رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے سزائے موت سے متعلق مسلم ممالک ایک زیادہ انسان دوست رویہ اپنائیں اور اس سزا کے خاتمے کے لیے قانون سازی کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •