تعلیمی سافٹ وئیر کا طبقاتی وائرس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پانچ سال تو ہو گئے ہوں گے جب ایک شام گھر والوں سے چھُپ کر سگار پیتے ہوئے اسد ملک کے ساتھ میرا دلچسپ مکالمہ ہوا تھا۔ اسد ملک یار دوست آدمی ہے اور خاندانی رشتہ کے اعتبار سے میرا بیٹا۔ دھیما لب ولہجہ رکھنے والا یہ نوجوان پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے آخری مراحل میں ہے۔ اب تک اُس نے اپنے ہی دماغ سے سوچا اور حالات پر نظر ڈال کر خود ہی راہِ عمل متعین کی۔ چونکہ دونوں بھائی بہن کے ساتھ ماں باپ کا تعلق ملکیتی رشتوں سے ہٹ کر ہے، اِس لئے ڈاکٹریٹ کے تھیسس میں شکریہ کے باب میں رابعہ ملک کا یہ جملہ بھی پڑھنے کو ملا کہ ’’والدین کی ممنون ہوں، جن سے کسی فیصلے میں اجازت طلب کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ جب یہ طے ہے کہ وہ میری تمام تر ترجیحات کی تائید کریں گے تو پھر جذبہ تشکر کا لفظوں میں اظہار کر کے اِس کے خلوص کو زائل کیوں کروں‘‘۔
یہ مراد نہیں کہ شجر کاری، مرغ بانی اور بٹیر پالنے کے مستند طریقوں کی طرح میرے نزدیک تربیتِ اطفال کا واحد نصاب وہی ہے جس کی طرف بندہء عاجز نے اشارہ کیا۔ مقصد تو اُس شام اسد ملک سے ہونے والے مکالمہ کو دہرانا ہے، جس کی گیند ابتدا میں یہ کہہ کر لڑھکائی گئی کہ ’’آپ نے میری اور رابعہ کی تربیت بہت پر فیکٹ کی ہے، اِتنی کہ ہمارے اندر کوئی کامپلیکس ہی نہیں۔ اور چونکہ کامپلیکس نہیں، اِس لئے موٹیویشن بھی نہیں‘ ‘۔ مَیں حیران تو ہوا، لیکن جلد ہی احساس ہونے لگا کہ یہ بات سیدھی سادی، سچے مشاہدہ پر مبنی اور حقیقت کے قریب ہے۔
’’بیٹا، کہا تو آپ نے ٹھیک۔ پر آجکل مَیں خود ایک کامپلیکس کا شکار ہوں۔ سکڑتا ہوا مالی دجود اور پیشہ ورانہ مستقبل پہ سوالیہ نشان‘‘۔ یہی وہ مقام تھا جہاں اسد نے بیٹھے بیٹھے میرے مسئلہ کا ایک قابلِ عمل حل تجویز کر دیا۔
تجویز کا لطف لینے میں یہ اشارہ مددگار ثابت ہو گا کہ میرے مسئلہ کا حل پیش کرنے والے کی ریسرچ کا موجودہ میدان سائبرنیٹکس ہے۔ پھر یہ کہ موصوف برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں جس گروپ کے ساتھ تحقیقی کام کر رہے ہیں، اُس کی توجہ کا ہدف یہ عجیب سا نکتہ ہے کہ ای ای جی اور ایم آر آئی کی نشاندہی کے لئے پیمائش کی کوئی مشترکہ اکائی وضع کر لی جائے۔ چنانچہ اُس شام گھر کے ٹیریس کی نیم تاریک فضا میں مجھے یہ تجویز دو مرحلوں میں باور کرائی گئی۔
’’اول یہ کہ کمپیوٹر کے استعمال نے انسانی دماغ کی ورکنگ کو سمجھنا آسان بنا دیا ہے کیونکہ ہماری سوچ سمجھ کے طور طریقے ایک سافٹ وئیر ہی تو ہیں، اِس کے سوا کچھ نہیں۔
دوسرے یہ کہ سوچ کے پرانے سیٹ کو نکال کر بدلے ہوئے حالات کی روشنی میں ایک نیا سافٹ وئیر دماغ میں ڈال لیں تو آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا‘‘۔
کوئی مانے یا نہ مانے، مَیں نے ہدایت کے عین مطابق اُسی دن ایک نیا سافٹ وئیر دماغ میں فِٹ کر لیا۔ بنیادی اعتراف یہ تھا کہ مَیں اب ٹی وی اسکرین پر شکلیں دکھانے والا وہ پرانا آدمی نہیں رہا جس کی طرف برسوں پہلے مری کی مال روڈ پہ ایک چار سالہ بچے نے انگلی اٹھا کر کہا تھا ’’امی، وہ ڈرامے والا آدمی جا رہا ہے‘‘۔
اِس پر پکنک پہ آئے ہوئے میرے دوست کھلکھلا کر ہنس پڑے تھے، وگرنہ بچے تو بچے ہوتے ہیں جنہیں واحد چینل پی ٹی وی کے ہفتہ وار ’فروزاں‘ کے دور میں ابھی اندازہ نہیں تھا کہ خبریں اور کرنٹ افیئرز کے اسٹیج شو بھی مزاحیہ پروگرام ہو سکتے ہیں۔
میرے نئے سافٹ وئیر میں خود سے کئے گئے اِس وعدہ کی تکمیل کا سامان بھی تھا کہ وزٹنگ ٹیچر بھی ایک طرح کا پروفیسر ہوتا ہے جو نئی نسل سے اپنے فکری رابطوں کی بدولت وقت کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اور اُس سے پیچھے نہیں رہ جاتا۔
اپنے اِس عزم کو مضبوط کرنے کی خاطر نئے سافٹ وئیر والے نے ایک حرکت اور بھی کی۔ وہ تھی اپنے ’ ٹِین ایج ‘ بھتیجے کو ہر صبح خود کالج لے جانے کی مشق۔ اِس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ڈھلتی عمر کا انسان اتنا سوچ کر مستقبل کی طرف دیکھنے لگتا ہے کہ چلو، اوروں کی طرح ہمارے بچے ابھی اسکول کالج میں ہیں، اِس لئے ’’غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی‘‘۔ پھر اِس حرکت میں اصلی اور نسلی بابوں والا ایک اصلاحی جذبہ بھی تھا۔
یہ نہیں کہ حسن ملک پر اپنی فرسودہ اخلاقیات مسلط کرنے کی کوشش کی جائے یا پتا چلاؤں کہ دوپہر ڈیڑھ بجے کلاسیں آف ہو جانے پر شام گئے تک میڈیا کونسل کے اراکین کہاں کہاں فلمیں شُوٹ کرتے ہیں۔ البتہ شعر و ادب اور موسیقی پہ ویسی گپ شپ کی خواہش ضرور تھی جو سال ہا سال تک اپنے استادوں کے ساتھ چائے کی پیالی پہ ہماری گفتگوؤں کا موضوع بنتی رہی۔
مَیں حسن ملک کی کیمرہ چلانے کی صلاحیت کا قائل تو ہوں، لیکن حسن کے لئے عقل و دانش کی اکائی لفظ نہیں بلکہ امیج ہے۔ اسی لئے جتنی توجہ فلم ایڈٹنگ پہ ہے اُتنی اسکرپٹ لکھنے پہ نہیں۔ اردو کا ذکر کر کے مَیں خوشحال والدین کے بچوں کی توہین نہیں کروں گا، انگریزی مسودہ پڑھنے کا حال یہ ہے کہ کئی دفعہ لفظوں کے جوڑے بنا کر معنویت کو اجاگر کرنے کو کہا۔
یہ بھی کہنا پڑا کہ یار، پوستیوں والی آواز کیوں نکالتے ہو، یوں بولو جیسے مائیکرو فون پہ بولتے ہیں۔ نئے سافٹ وئیر والے کو اِس کا کیا کلاسیکل جواب ملا ہے۔ ’’تایا ابو، آپ مجھے سمجھ نہیں سکتے۔ آپ نائینٹیز میں پیدا نہیں ہوئے نا‘‘۔
مجھ سے ہمکلامی کو روکنے کا ایک حربہ اور نکالا ہے کہ کار میں بیٹھتے ہی کانوں کو ٹونٹیاں لگا لیتے ہیں اور گیت سنگیت کی اسٹریمنگ شروع ہو جاتی ہے۔ اِس پر میرا دوست رضوان رضی کہے گا ’’ ہُن دس، ڈپٹی‘‘۔
ڈپٹی بھی کچی گولیاں نہیں کھیلا۔ وہ حسن ملک کی بے رخی کا انتقام اپنے یونیورسٹی اسٹوڈنٹس سے لے رہا ہے۔ ریڈیو ٹی وی کے لئے خبریں کیسے لکھنی چاہئیں ؟ براڈکاسٹ جرنلزم میں بولتا ہوا اسکرپٹ کسے کہتے ہیں ؟ مکالماتی زبان میں قواعد سے رو گردانی کس حد تک جائز ہے ؟ کیا معنویت محض الفاظ و تراکیب کے چناؤ اور جملے کی ساخت تک محدود ہے یا مسودہ کا مجموعی ڈھانچہ بھی اُس پہ اثرانداز ہوتا ہے ؟ نائینٹیز میں پیدا ہونے والے یہ طلبہ و طالبات نہ صرف ڈپٹی کی بات با آسانی سمجھ جاتے ہیں بلکہ اُس سے لطف لینے کا تاثر بھی دیتے ہیں۔
اگر یہ محض ایکٹنگ ہے تو اللہ تعالی ایسی ایکٹنگ کی توفیق ہر طالب علم کو دے۔ پچھلی مرتبہ، فائنل امتحان کے پرچے دیکھے تو نصف ایسے تھے جن میں جواب کے مجموعی تاثر، حقائق و دلائل اور اسلوب کو دیکھ کر سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اگر نمبر کاٹوں تو کس بنیاد پر۔
تو کیا آپ کے شعبہ صحافت کے سارے اسٹوڈنٹ اتنی ہی لگن سے کام کرتے ہیں ؟ جی نہیں، مَیں ذاتی مشاہدہ اور تجربہ کی رو سے صرف اپنے ملک کی قدیم ترین سرکاری یونیورسٹی کی بات کر رہا ہوں، جہاں میری قوم کے عام شہریوں کی بیٹیاں اور بیٹے تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔
لڑکوں کی کارکردگی اگر انیس ہے تو لڑکیوں کی بیس۔ یہ انیس بیس کا فرق اِس لئے کہ کم مراعات یافتہ خاندانوں اور علاقوں کے کئی ایک نوجوان تعلیمی اخراجات کا بوجھ برداشت کرنے کے لئے کسی نہ کسی اخبار یا چینل میں شفٹ سسٹم کے تحت ملازمت بھی کر رہے ہیں۔
اِس ضمن میں اب لڑکیاں بھی زیادہ پیچھے نہیں، اگرچہ کام کاج کی جگہوں اور بعض صورتوں میں اپنے گھروں میں انہیں جن دکھائی دینے اور دکھائی نہ دینے والی عصبیتوں کا سامنا ہے، اُن کا سراغ لگانے کے لئے بہت گہرائی میں جانے کی ضرورت نہیں۔
کاش، میرا بیان یہاں پہنچ کر ختم ہو جاتا اور راوی چَین ہی چَین لکھتا۔ پر مَیں نے کہا نا کہ صرف اسٹیٹ یونیورسٹی کی بات کر رہا ہوں۔ گزر بسر کے لئے مجھے نجی سیکٹر کی ایک درجہ دوئم یونیورسٹی میں بھی جانا پڑتا ہے جس میں ’چغتائی آرٹ‘ ٹائپ کے بچے پڑھتے ہیں۔ ٹیڑھے میڑھے، لمبا لمبا کر کے بولنے والے، اپنی اپنی کار پہ سوار۔ ہر روز کسی نہ کسی برتھ ڈے پارٹی کے لئے یونیورسٹی پہنچتے ہیں۔ کلاس میں بیٹھنا کبھی کبھار ہوتا ہے۔ چنانچہ طلبہ اور اساتذہ دونوں کو بہت سہولت رہتی ہے۔ آجکل اِن کے پرچے خورد بین کی مدد سے دیکھ رہا ہوں کہ مبادا کہیں کوئی درست فقرہ نظر آجائے۔ انہی میں سے کوئی چغتائی آرٹ لڑکی لڑکا عنقریب کسی نئے چینل کا مالک ہو گا اور میرے اصلی یونیورسٹی والے بچے اُس کے سامنے نوکری کی درخواستیں لئے کھڑے ہوں گے۔ ممکن ہے درخواست گزاروں میں نئے سافٹ وئیر والا یہ پروفیسر بھی ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •