اہلیہ کی گاڑی میں ۔۔۔ گوجرانوالہ تک پینٹھ ترتالی

اِسے ماہِ رمضان کی برکتوں کا اشارہ سمجھنا چاہئیے کہ میری ذاتی موٹر کار کے فروخت ہوتے ہی بیگم سے تعلقات میں قربت محسوس ہونے لگی ہے۔ نئے معمولات یہ ہیں کہ بیوی کی کار میں پہلے اُنہیں اسکول اتارنا اور پھر واپسی پہ ساتھ لانا۔ خوشی اِس لئے کہ دو کی بجائے ایک گاڑی…

Read more

بی بی سی کا وقار چلا گیا

’’الفاظ کی تخلیق و ترتیب شاعر اور ادیب کا پیشہ ہے، لیکن زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب یہ قدرتِ کلام جواب دے جاتی ہے۔۔۔ آج عجزِ بیان کا ایسا ہی مرحلہ مجھے درپیش ہے‘‘۔

یہ ہیں فیض احمد فیض کی اُس تاریخی تقریر کے ابتدائی جملے جو انہوں نے ماسکو میں لینن امن انعام کی تقریب کے موقع پر اردو زبان میں کی۔ مَیں فیض احمد فیض ہوں نہ اُن جیسی اظہار پر دسترس کا مالک۔
پر کیا کروں کہ بی بی سی اردو کے وقار احمد کی رحلت مجھے ایک ایسی کیفیت سے دوچار کر گئی جہاں رہ رہ کر ایک ہی خیال آتا ہے کہ ’’وہی ہر روز کے مضموں میں لکنت خالی جگہوں کی‘‘۔

Read more

انگلش میڈیم اور’’چغتائی آرٹ‘‘ بچے

نجی اسکولوں کی ہوش رُبا فیسیں کم کرنے کے حکم پہ یاد آیا کہ چند سال پہلے روزنامہ ’ڈان‘ میں ایڈیٹر کے نام ایک خط میں پنجاب کے دانش اسکولوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مراسلہ نگار کی رائے میں مذکورہ اسکیم کے لئے مختص رقم صوبے کے مجموعی تعلیمی ڈھانچے پہ…

Read more

بے روزگار صحافت کے موسم میں انٹرویو برائے ملازمت کی باتیں

مخصوص حالات نے مجھے کچھ لوگوں کا اعزازی مشیر بنا رکھا ہے۔ اِن میں سب سے نمایاں زمرہ میرے سابق ہمکار صحافیوں کا ہے، جن میں سے کوئی نہ کوئی ہر آٹھویں دسویں دن کسی تربیتی اسکالرشپ کے لیے ریفرنس لکھنے کی فرمائش کر دیتا ہے۔ دوسرے نمبر پہ ہیں یونیورسٹی کے نئے اور پرانے شاگرد جن کے مطالبات میں تحقیقی مقالوں کی نظر ثانی سے لے کر دستاویزی فلموں کی اسکرپٹنگ، ایڈٹنگ اور صوتی ریکارڈنگ جیسی میری رضا کارانہ سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔

Read more

علامہ اقبال کی مال گاڑی، عثمان بزدار کا پروٹوکول اور سیالکوٹ

کم لوگوں کو علم ہو گا کہ جب علامہ اقبال کے استاد مولوی میر حسن کا انتقال ہوا تو اُس روز حکیم الاامت کو نمازِ جنازہ میں شرکت کی خاطر لاہور سے سیالکوٹ پہنچنے کے لئے مال گاڑی پہ سفر کرنا پڑا تھا۔ یہ ہمارے وزیر ریلوے شیخ رشید کی پیدائش سے پہلے کا واقعہ…

Read more

کیا ہمیں ہائر ایجوکیشن چاہئے؟

ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب کا پورا تعارف تھا محی الدین شمیم صدیقی ایم اے بی ٹی (علیگ) لیکن اسکول کے لڑکے کسی وجہ سے انہیں ’پوپٹ‘ کہہ کر یاد کرتے۔ خیر، کالم کا نکتہ آغاز اُن کا ’نِک نیم‘ نہیں، بلکہ دورانِ گفتگو لفظوں کا وہ زندہ اتار چڑھاؤ ہے، جس کی بدولت شمیم صاحب…

Read more

آدھی صدی پہلے مضافات کی عید

شاعر مشرق کے ہم وطن اور پچھلی صدی کے وسط تک مرے کالج، سیالکوٹ میں فارسی کے نامور استاد حکیم جمشید علی کبھی کبھار علامہ کی بے پناہ مقبولیت سے حیرت زدہ ہو کر یہ شکوہ کیا کرتے کہ ’’میں بھی ایم اے، پی ایچ ڈی اور ڈاکٹر اقبال بھی ایم اے، پی ایچ ڈی۔۔۔…

Read more

ووٹ ایوب خان کو دیا، دعا مائی فاطمہ کے لئے

شعر تو بلاشبہ دلاور فگار ہی کا ہے ، مگر یاد آ رہے ہیں پروفیسر زمرد ملک جو انگریزی زبان و ادب کے استاد تھے اور منفرد لہجہ کے پنجابی شاعر۔ چھیالیس سال کی عمر میں جب دنیا سے گئے تو ’دُور درشن‘ پر اُن کی یاد میں ہونے والے پروگرام کی میزبانی امرتا پریتم…

Read more

علامہ اقبال اور احترام رمضان آرڈیننس

رمضان المبارک میں مجھ جیسے کمزور دل لوگ جن ہستیوں کو یاد کرکے تقویت حاصل کرتے ہیں اُن میں مرزا غالب ہی نہیں، علامہ اقبال بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کا بیان ہے کہ اُن کے والد جب کبھی روزہ رکھ لیتے تو طبیعت دن بھر بے چین سی رہتی اور کئی کئی بار…

Read more

’بس یار، بڈھے ہو گئے آں‘

مکالمہ تھا تو بے ضرر، مگر بات اُس ترتیب سے آگے نہ بڑھی جسے اپنی نوجوانی میں ہم گفتگو کا روایتی تسلسل خیال کرتے تھے۔جیسے کالج کے برآمدے میں استاد اور شاگرد آمنے سامنے آتے تو شاگرد کی کوشش ہوتی کہ جلدی سے آگے بڑھ کر سلام کرے۔ ’’کیسے مزاج ہیں؟‘‘برطانوی شاہی خاندان کی طرح…

Read more