جی ہاں، پانی چلتا رہے گا

چھوٹی عمر میں جو خفیہ حسرتیں پوری ہوتے ہوتے رہ گئیں اُن میں گرمی کی چھٹیوں میں دھاری دار پاجامے کو آدھا کر کے ’کاچھا‘ بنا لینے کی آرزو بھی شامل ہے۔ یہ بھی کہ پرانے براؤن سینڈل کو کاٹیں اور سلیپر میں ڈھال لیں، جیسا کہ اپنے ارد گرد کئی بار ہوتے دیکھا۔ سیالکوٹ کے آبائی محلے میں البتہ ہم دونوں بھائی ذرا ’وکھری ٹائپ‘ کے بچے تھے جو گلی میں لاٹو اور چکئیاں چلانے یا ’سچل اور جھوٹل،

Read more

قربانی اور میری مجموعی قومی آمدنی میں کمی

زندگی میں گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنے والا ایک ہی ادارہ دیکھا۔ وہ تھی مسرت نذیر کی فلم ’یکے والی‘ میں ماماں جی کی عدالت۔ مسرت نذیر وہی فنکارہ ہیں جنہوں نے مدت ہوئی فلموں سے کنارہ کشی اختیار کی اور کینیڈا میں خاموش وقت گزار کر ’میرا لونگ گواچا‘ کی لَے پکڑی تو پاکستانی گائیکی کے منجمد پانیوں میں ہلچل مچ گئی۔ ماماں جی ماضی کے ایکٹر ظریف تھے جو بستی بستی گھوم کر ’پورا پورا انصاف

Read more

ایک کالم شوکت نواز کے لئے

آپ نے دیکھا ہو گا کہ بچپن میں لاڈ پیار، شکل صورت یا کسی اور وجہ سے ایک آدمی کا کوئی نام پڑ گیا اور یہ عرفیت ہمیشہ کے لیے اس کے ساتھ چپک گئی۔ آبائی شہر سیالکوٹ میں ابا کے ہم عصر عبدالحفیظ پھر تیلی حرکتوں کی بدولت ’فیجا باندری‘ ، میرا ہم مکتب بابر ایک جسمانی نقص کے سبب ’بابر ٹنڈ‘ اور خواجہ شفیع رشید جوشیلی طبیعت کے ہاتھوں شفیع بوتل کہلائے۔ یہ راز بھی نہیں کھلا کہ

Read more

جو مِلے تھے راستے میں

کالم کا عنوان مستند ادیب اور صحافی احمد بشیر مرحوم کی ایک کتاب سے مستعار لیا گیا ہے۔ پریشانی کا سبب البتہ یہ چوری نہیں بلکہ ’پینڈوُ اردو میڈیم‘ کا وہ طعنہ ہے جو اپنی ایک حرکت شیئر کرنے پر عین ممکن ہے کہ آج سننا پڑ جائے۔ حرکت ہے آئی فون، اینڈروئڈ اور مَیک بُک کے دَور میں ٹائم دیکھنے کے لیے سار ا دن کلائی گھڑی باندھے رکھنے کی عادت۔ کہنے والے کہیں گے اوہو، تم جیسے پرانے

Read more

سپاہی کو کیا سمجھا رہے ہیں؟ 

مزنگ روڈ پر برٹش کونسل سے گزرتے ہوئے وہ واقعہ آج بھی یاد آتا ہے جب ایک مرتبہ اِس عمارت کے باہر گاڑی پارک کرتے ہوئے مَیں نے ایک پولیس اہلکار سے مشورہ کیا تھا۔ اْس روز یہاں لاہور کے چیدہ چیدہ صحافی سمندر پار ترقیات کے برطانوی وزیر سے ملاقات کرنے والے تھے۔ ”وہ سامنے آپ بجلی کا کھمبا دیکھ رہے ہیں نا، بس اِس سے آگے کار کھڑی کر دیں“۔ مَیں نے ہدایت پر عمل کیا۔ اب تقریب

Read more

الف انار، ب بکری، پ پتا نہیں (2)

 بی بی سی لندن میں ہمارے سینئر اور منجھے ہوئے صحافی اطہر علی کبھی کبھی چھیڑنے کے انداز میں کہا کرتے: ”شاہد، آپ کا پروگرام تھا تو اچھا مگر ذرا عالمانہ تھا۔“ ابتدا میں تو یہ بات میری سمجھ میں نہ آئی۔ پھر اردو سروس کے باقی ساتھیوں سے تعلق بڑھا تو احساس ہونے لگا کہ محض نصابی ضرورت کے تحت سیکھی گئی زبان اور ماں بولی میں فرق ہوا کرتا ہے۔ اِسی لئے لسانی ماہرین اِن دونوں تجربات کو

Read more

الف انار، ب بکری، پ پتا نہیں

ممکن ہے کہ آپ کے ساتھ کبھی نہ کبھی ایسا ضرور ہوا ہو۔ مراد ہے کسی کی زبان سے نکلی ہوئی کوئی بات جس نے آپ کا ورلڈ ویو ہمیشہ کے لئے تبدیل کر دیا۔ گپ نہیں ماروں گا، صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ پچھلے تیس برس میں یہ اتفاق میرے ساتھ دو مرتبہ ہوا۔ پہلا مشورہ جس نے میری کایا پلٹ کے رکھ دی ممتاز صدا کار اور ایکٹر جناب ضیا محی الدین کا ایک جملہ ہے۔ سنٹرل

Read more

ادریس بختیار: رفتگاں لوٹ کے نہیں آئے

(دو جون کو پاکستانی صحافت میں اعتبار کا درجہ رکھنے والے محترم ادریس بختیار کو رخصت ہوئے دو برس ہو گئے۔ انتقال سے چند ہفتے قبل لاہور تشریف لائے تو ڈیوس روڈ کے ایک ہوٹل میں آخری ملاقات ہوئی۔ اپنی طبیعت کی ناسازی سے زیادہ پاکستانی صحافت کی زبوں حالی پر دل گرفتہ تھے۔ استاذی شاہد ملک کو ان سے طویل تر اور گہری رفاقت کا موقع ملا۔ آئیے پڑھتے ہیں، ایک ہفت پہلو جواہر پارے کے قلم سے ایک

Read more

سبط علی صبا: یارِ بے پروا کے لئے ایک کالم

یہ شعر آپ نے پڑھا نہیں تو سُنا ضرور سُنا ہوگا: دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالئے  اِس لافانی شعر کے خالق، سیالکوٹی ہم وطن اور شاعری میں میرے سینئر سید سبطِ علی صبا کی اکتالیسویں برسی 14 مئی کو گزری۔ صبح ہی صبح فیس بُک پر اُن کے فرزند میشاق علی جعفری کی تحریر پڑھ کر مجھے صبا مرحوم کی دنیا سے اچانک روانگی کا وہ المناک دن یاد آ گیا،

Read more

رحمان صاحب: ہلکی پھلکی یادیں (1)

جناب آئی اے رحمان کے دنیا سے چلے جانے پر سوشل میڈیا پہ جو بے شمار چاہنے والے سپاسِ عقیدت پیش کرتے رہے اُنہیں دو زمروں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ ایک تو ایسے عامل صحافی جنہوں نے پاکستاں ٹائمز، روزنامہ آزاد یا ہفت روزہ ویو پوائنٹ میں اُن کی ہمکاری یا سرپرستی میں ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر کام کیا۔ دوسرے انسانی حقوق کے وہ کارکن جنہیں رحمان صاحب کی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے طویل وابستگی

Read more

جزوقتی استاد کی فارن کوالیفکیشن بلال گنج کیسے پہنچی؟

’کومک ریلیف‘کا  لفظی ترجمہ ہوگا ’المیہ ڈرامے میں مسخرے پن کا وقفہ‘ جس کا مقصد ناظرین کو چند گھڑیوں کے لئے ماحول کی سنگینی سے نجات دلانا ہوتا ہے۔ مَیں بھی کووڈ کی یلغار کا اثر کم کرنے کی خاطر آپ کی انٹرٹینمنٹ کا سامان چاہتا ہوں۔ وہ یوں کہ جن لوگوں نے 1970 ء کی دہائی میں تعلیم مکمل کی اُن میں سے کئی ایک نے اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ انگریزی ادب میں ایم بی بی ایس کیا

Read more

سچ بیان کرنے کا حوصلہ

نفسیات دانوں کا کہنا ہے کہ انسانی شخصیت کے ابتدائی خدو خال سات سال کی عمر تک متعین ہو جاتے ہیں۔ جیسے کچھ لوگ شروع سے تنہائی پسند ہوں گے اور کچھ رونق میلے کے رسیا، بعض میں مقابلے کا رجحان ہوگا اور بعض میں قناعت کا۔ اسی طرح ایک شخص بھلا مانس سمجھا جاتا ہے، دوسرا چکر باز اور تیسرا دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو۔ یوں، لوگوں کو آپ جتنی اقسام میں چاہیں بانٹ لیں، مگر کسی بھی

Read more

’میرا کالم، میری مرضی‘

سرکاری طور پہ بزرگ شہری بن جانے کے باوجود ابھی میرا شمار اُن بڈھے بابوں میں نہیں جنہیں نئے زمانے کی ہر چیز بُری لگتی ہو۔ کون کِس سے ملتا ہے؟ فرصت کے مشاغل کیا کیا ہیں؟ عالمانہ توند کے مالک گنجے آدمی کو سالگرہ منانی چاہیے یا نہیں؟ یہ اور اِسی نوع کے کئی اور سوال پرسنل چوائس کا معاملہ ہوا کرتے ہیں۔ اِس وضاحت کے پیشِ نظر آپ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آج ویلنٹائن ڈے ہے اور

Read more

منو بھائی: کچھ ذاتی یادیں

صاحب ِ طرز اخبار نویس اور لکھاری منو بھائی کی تیسری برسی گزر گئی۔ مجھے اُن کے ساتھ گہری دوستی یا پیشہ ورانہ تعلق کا دعوی تو نہیں۔ ہاں، انہوں نے پاکستانی عوام کے لئے پرامن، باعزت اور محفوظ زندگی کے جو خواب دیکھے وہ ابھی تک نہیں ٹُوٹے۔ میرا سرمایہ یہی مشترکہ خواب ہیں اور اِن سے جڑی کچھ یادیں۔ پہلی یاد اُس مرحلے کی ہے جب جنرل ضیا الحق کو سیاسی منظر سے ہٹے کچھ ہی دن ہوئے

Read more

احمد فراز: غزل گوئی سے جملہ بازی تک

کورونا کی دوسری لہر، شدید دھند اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے پس منظر میں کئی واقعات ایسے ہیں جو اپنی تہذیبی اہمیت کے باوجود ہماری اجتماعی گفتگو کا موضوع نہیں بن سکے۔ جیسے فیس بُک پر ایک دوست کی تازہ یاد دہانی کہ صاحبِ طرز غزل گو احمد فراز کی ولادت کو گذشتہ ہفتے نوے سال ہو گئے۔ تو کیا فراز مرحوم کو پچھلی نیم صدی کے ایک رجحان ساز اردو شاعر کا درجہ دیا جا سکتا ہے یا

Read more

لفافہ جرنلزم اور انکم ٹیکس ریٹرن

اگر ریڈیو ٹی وی نشریات کو کھلے دِل سے صحافت شمار کر لیا جائے تو مجھے یہ پیشہ ورانہ زندگی اختیار کئے چالیس سال ہونے کو ہیں۔ تعلیم و تدریس کے شعبہ سے وابستگی کا دورانیہ اِس سے زیادہ ہے۔ لفافہ جرنلزم سے دوچار ہونے کا اتفاق البتہ پچھلے ہفتے پہلی بار ہوا۔ آج کے کالم کا پھڑکتا ہوا عنوان دیکھ کر گمان ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ کسی میڈیا کانفرنس یا پریس بریفنگ میں پیش آیا۔ اگر ایسا

Read more

صحافی کو بے روزگار کرنے کے پرانے اور نئے طریقے

ایک مفلوک الحال شاعر کے گھر میں چور آ گیا۔ نصف شب کا وقت تھا۔ آنکھ کھلی تو شاعر کو حالات کا اندازہ ہوا۔ کہنے لگا ’میاں، یہاں تو دن کے اجالے میں ہمیں کبھی قیمتی شے دکھائی نہیں دی، تم اندھیرے میں کیا تلاش کر رہے ہو؟‘ کوئی اِس سوچ کو ’بلیک ہیومر‘ کہہ لے یا میری خود غرضی، لیکن جب سے پاکستانی میڈیا میں چھانٹیوں اور برطرفیوں کا طوفان برپا ہوا ہے، متواتر اِسی سوچ میں ہوں کہ

Read more

’کھڑکیاں کون کھلی چھوڑ گیا…‘

بعض لوگوں کو اپنی مشابہت فلمی ایکٹروں میں تلاش کرنے کا شوق ہوتا ہے۔ ہماری نوجوانی میں یہ جاننے کا خبط عام تھا کہ بھئی، کس کس کی آنکھیں بھارتی اداکارہ ہیما مالنی سے ملتی ہیں۔ دو ایک دوستوں کو جواب میں سننا پڑا کہ جاؤ ہیما مالنی تو ایک طرف، تمہاری تو ایک آنکھ دوسری سے نہیں ملتی۔ اسی وضع کا ایک نوجوان گورڈن کالج راولپنڈی کی ادبی تقریب میں نظم سنانے کے لئے اٹھا تو اُس نے اپنا

Read more

ہر پہر کا آسماں: ذرا آگے سبھی منظر کھُلے ہیں

مرزا غالب کو ظرفِ غزل کی تنگی کا شکوہ تھا اور علامہ اقبال بھی حرفِ راز شیئر کرنے کے لئے یہ شرط عائد کر گئے کہ ’خدا مجھے نفسِ جبرئیل دے تو کہوں‘۔ میرے دوست پروفیسر آصف ہمایوں نے رجحان ساز شاعر ہونے کا دعوی تو نہیں کیا، مگر مسئلہ اُس کا بھی وہی ہے جو غالب و اقبال کا تھا۔ اسی لئے تو وہ انسانی مشاہدے کے معلوم وسیلوں کا زادِ سفر اٹھائے بڑی مستعدی سے نامعلوم کا پیچھا

Read more

اہلیہ کی گاڑی میں ۔۔۔ گوجرانوالہ تک پینٹھ ترتالی

اِسے ماہِ رمضان کی برکتوں کا اشارہ سمجھنا چاہئیے کہ میری ذاتی موٹر کار کے فروخت ہوتے ہی بیگم سے تعلقات میں قربت محسوس ہونے لگی ہے۔ نئے معمولات یہ ہیں کہ بیوی کی کار میں پہلے اُنہیں اسکول اتارنا اور پھر واپسی پہ ساتھ لانا۔ خوشی اِس لئے کہ دو کی بجائے ایک گاڑی میں شانہ بشانہ سفر نے پینتیس سال پہلے کی یاد یں تازہ کر دی ہیں اور یہ کالم نویس خود کو پھر سے لڑکا لڑکا

Read more

بی بی سی کا وقار چلا گیا

’’الفاظ کی تخلیق و ترتیب شاعر اور ادیب کا پیشہ ہے، لیکن زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب یہ قدرتِ کلام جواب دے جاتی ہے۔۔۔ آج عجزِ بیان کا ایسا ہی مرحلہ مجھے درپیش ہے‘‘۔

یہ ہیں فیض احمد فیض کی اُس تاریخی تقریر کے ابتدائی جملے جو انہوں نے ماسکو میں لینن امن انعام کی تقریب کے موقع پر اردو زبان میں کی۔ مَیں فیض احمد فیض ہوں نہ اُن جیسی اظہار پر دسترس کا مالک۔
پر کیا کروں کہ بی بی سی اردو کے وقار احمد کی رحلت مجھے ایک ایسی کیفیت سے دوچار کر گئی جہاں رہ رہ کر ایک ہی خیال آتا ہے کہ ’’وہی ہر روز کے مضموں میں لکنت خالی جگہوں کی‘‘۔

Read more

انگلش میڈیم اور’’چغتائی آرٹ‘‘ بچے

نجی اسکولوں کی ہوش رُبا فیسیں کم کرنے کے حکم پہ یاد آیا کہ چند سال پہلے روزنامہ ’ڈان‘ میں ایڈیٹر کے نام ایک خط میں پنجاب کے دانش اسکولوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مراسلہ نگار کی رائے میں مذکورہ اسکیم کے لئے مختص رقم صوبے کے مجموعی تعلیمی ڈھانچے پہ خرچ ہونا چاہییے تھی جہاں بچوں کی اکثریت آج بھی دیہی اسکولوں کی غیر علمی فضا میں دقیا نوسی نصاب کا مطالعہ کر رہی ہے۔

Read more

بے روزگار صحافت کے موسم میں انٹرویو برائے ملازمت کی باتیں

مخصوص حالات نے مجھے کچھ لوگوں کا اعزازی مشیر بنا رکھا ہے۔ اِن میں سب سے نمایاں زمرہ میرے سابق ہمکار صحافیوں کا ہے، جن میں سے کوئی نہ کوئی ہر آٹھویں دسویں دن کسی تربیتی اسکالرشپ کے لیے ریفرنس لکھنے کی فرمائش کر دیتا ہے۔ دوسرے نمبر پہ ہیں یونیورسٹی کے نئے اور پرانے شاگرد جن کے مطالبات میں تحقیقی مقالوں کی نظر ثانی سے لے کر دستاویزی فلموں کی اسکرپٹنگ، ایڈٹنگ اور صوتی ریکارڈنگ جیسی میری رضا کارانہ سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔

Read more

علامہ اقبال کی مال گاڑی، عثمان بزدار کا پروٹوکول اور سیالکوٹ

کم لوگوں کو علم ہو گا کہ جب علامہ اقبال کے استاد مولوی میر حسن کا انتقال ہوا تو اُس روز حکیم الاامت کو نمازِ جنازہ میں شرکت کی خاطر لاہور سے سیالکوٹ پہنچنے کے لئے مال گاڑی پہ سفر کرنا پڑا تھا۔ یہ ہمارے وزیر ریلوے شیخ رشید کی پیدائش سے پہلے کا واقعہ ہے، اِس لئے دونوں شہروں کے درمیان آنے جانے والوں کو وزیرآباد جنکشن پہ لازمی طور پہ ٹرینیں تبدیل کرنا ہوتی تھیں۔ آپ کہیں گے

Read more

کیا ہمیں ہائر ایجوکیشن چاہئے؟

ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب کا پورا تعارف تھا محی الدین شمیم صدیقی ایم اے بی ٹی (علیگ) لیکن اسکول کے لڑکے کسی وجہ سے انہیں ’پوپٹ‘ کہہ کر یاد کرتے۔ خیر، کالم کا نکتہ آغاز اُن کا ’نِک نیم‘ نہیں، بلکہ دورانِ گفتگو لفظوں کا وہ زندہ اتار چڑھاؤ ہے، جس کی بدولت شمیم صاحب کی باتیں ہماری ذہنی سطح سے بلند تر ہوتے ہوئے بھی بے حد مزا دے جاتیں۔ ایک روز انگریزی کی کلاس میں انہوں نے کالج

Read more

آدھی صدی پہلے مضافات کی عید

شاعر مشرق کے ہم وطن اور پچھلی صدی کے وسط تک مرے کالج، سیالکوٹ میں فارسی کے نامور استاد حکیم جمشید علی کبھی کبھار علامہ کی بے پناہ مقبولیت سے حیرت زدہ ہو کر یہ شکوہ کیا کرتے کہ ’’میں بھی ایم اے، پی ایچ ڈی اور ڈاکٹر اقبال بھی ایم اے، پی ایچ ڈی۔۔۔ لوگ انہیں مانتے ہیں، مجھے کوئی نہیں مانتا ‘‘ ۔ حکیم جمشید، جنہیں سارا شہر ایک درویش صفت بزرگ کے طور پر جانتا تھا، اپنی

Read more

ووٹ ایوب خان کو دیا، دعا مائی فاطمہ کے لئے

شعر تو بلاشبہ دلاور فگار ہی کا ہے ، مگر یاد آ رہے ہیں پروفیسر زمرد ملک جو انگریزی زبان و ادب کے استاد تھے اور منفرد لہجہ کے پنجابی شاعر۔ چھیالیس سال کی عمر میں جب دنیا سے گئے تو ’دُور درشن‘ پر اُن کی یاد میں ہونے والے پروگرام کی میزبانی امرتا پریتم نے کی تھی۔ پھر بھی آج کے کالم کی ابتدا شاعری کی بجائے زمرد ملک کے ایک عجیب و غریب حکیمانہ قول سے ہو گی

Read more

علامہ اقبال اور احترام رمضان آرڈیننس

رمضان المبارک میں مجھ جیسے کمزور دل لوگ جن ہستیوں کو یاد کرکے تقویت حاصل کرتے ہیں اُن میں مرزا غالب ہی نہیں، علامہ اقبال بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کا بیان ہے کہ اُن کے والد جب کبھی روزہ رکھ لیتے تو طبیعت دن بھر بے چین سی رہتی اور کئی کئی بار پوچھتے کہ بھئی، افطار میں کتنا وقت باقی رہ گیا ہے۔ میری یہ بات سُن کر ڈنڈے کے زور پہ اسلامی تمدن کو فروغ دینے

Read more

’بس یار، بڈھے ہو گئے آں‘

مکالمہ تھا تو بے ضرر، مگر بات اُس ترتیب سے آگے نہ بڑھی جسے اپنی نوجوانی میں ہم گفتگو کا روایتی تسلسل خیال کرتے تھے۔جیسے کالج کے برآمدے میں استاد اور شاگرد آمنے سامنے آتے تو شاگرد کی کوشش ہوتی کہ جلدی سے آگے بڑھ کر سلام کرے۔ ’’کیسے مزاج ہیں؟‘‘برطانوی شاہی خاندان کی طرح یہ سوال کرنے کا اختیار استاد کے پاس تھا۔ بدلے ہوئے زمانے میں پروفیسر ہو یا اسٹوڈنٹ، سلام کرنے میں کوئی بھی پہل کر سکتا

Read more

رو میں ہے ’رخشِ عدل‘۔۔۔

مرزا غالب نے کہا تھا کہ ’’رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھئے تھمے ‘‘۔۔۔ مگر جمعہ کو سپریم کورٹ کا فیصلہ سنتے ہی ہمارے دوست اور دانشور حماد غزنوی نے اِس مصرعہ میں ’رخشِ عمر‘ کو ’رخشِ عدل‘ سے تبدیل کر دیا۔ ہے تو یہ تخلیقی حرکت، مگر آجکل چونکہ آئین میں درج بنیادی حقوق سے زیادہ صادق اور امین والے آرٹیکل توجہ کا محور ہیں، اِس لئے کچھ پتا نہیں کہ کوئی ادبی عدالت اِس شعری تحریف کا

Read more