لفافہ جرنلزم اور انکم ٹیکس ریٹرن

اگر ریڈیو ٹی وی نشریات کو کھلے دِل سے صحافت شمار کر لیا جائے تو مجھے یہ پیشہ ورانہ زندگی اختیار کئے چالیس سال ہونے کو ہیں۔ تعلیم و تدریس کے شعبہ سے وابستگی کا دورانیہ اِس سے زیادہ ہے۔ لفافہ جرنلزم سے دوچار ہونے کا اتفاق البتہ پچھلے ہفتے پہلی بار ہوا۔ آج کے…

Read more

صحافی کو بے روزگار کرنے کے پرانے اور نئے طریقے

ایک مفلوک الحال شاعر کے گھر میں چور آ گیا۔ نصف شب کا وقت تھا۔ آنکھ کھلی تو شاعر کو حالات کا اندازہ ہوا۔ کہنے لگا ’میاں، یہاں تو دن کے اجالے میں ہمیں کبھی قیمتی شے دکھائی نہیں دی، تم اندھیرے میں کیا تلاش کر رہے ہو؟‘ کوئی اِس سوچ کو ’بلیک ہیومر‘ کہہ…

Read more

’کھڑکیاں کون کھلی چھوڑ گیا…‘

بعض لوگوں کو اپنی مشابہت فلمی ایکٹروں میں تلاش کرنے کا شوق ہوتا ہے۔ ہماری نوجوانی میں یہ جاننے کا خبط عام تھا کہ بھئی، کس کس کی آنکھیں بھارتی اداکارہ ہیما مالنی سے ملتی ہیں۔ دو ایک دوستوں کو جواب میں سننا پڑا کہ جاؤ ہیما مالنی تو ایک طرف، تمہاری تو ایک آنکھ…

Read more

ہر پہر کا آسماں: ذرا آگے سبھی منظر کھُلے ہیں

مرزا غالب کو ظرفِ غزل کی تنگی کا شکوہ تھا اور علامہ اقبال بھی حرفِ راز شیئر کرنے کے لئے یہ شرط عائد کر گئے کہ ’خدا مجھے نفسِ جبرئیل دے تو کہوں‘۔ میرے دوست پروفیسر آصف ہمایوں نے رجحان ساز شاعر ہونے کا دعوی تو نہیں کیا، مگر مسئلہ اُس کا بھی وہی ہے…

Read more

اہلیہ کی گاڑی میں ۔۔۔ گوجرانوالہ تک پینٹھ ترتالی

اِسے ماہِ رمضان کی برکتوں کا اشارہ سمجھنا چاہئیے کہ میری ذاتی موٹر کار کے فروخت ہوتے ہی بیگم سے تعلقات میں قربت محسوس ہونے لگی ہے۔ نئے معمولات یہ ہیں کہ بیوی کی کار میں پہلے اُنہیں اسکول اتارنا اور پھر واپسی پہ ساتھ لانا۔ خوشی اِس لئے کہ دو کی بجائے ایک گاڑی…

Read more

بی بی سی کا وقار چلا گیا

’’الفاظ کی تخلیق و ترتیب شاعر اور ادیب کا پیشہ ہے، لیکن زندگی میں بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جب یہ قدرتِ کلام جواب دے جاتی ہے۔۔۔ آج عجزِ بیان کا ایسا ہی مرحلہ مجھے درپیش ہے‘‘۔

یہ ہیں فیض احمد فیض کی اُس تاریخی تقریر کے ابتدائی جملے جو انہوں نے ماسکو میں لینن امن انعام کی تقریب کے موقع پر اردو زبان میں کی۔ مَیں فیض احمد فیض ہوں نہ اُن جیسی اظہار پر دسترس کا مالک۔
پر کیا کروں کہ بی بی سی اردو کے وقار احمد کی رحلت مجھے ایک ایسی کیفیت سے دوچار کر گئی جہاں رہ رہ کر ایک ہی خیال آتا ہے کہ ’’وہی ہر روز کے مضموں میں لکنت خالی جگہوں کی‘‘۔

Read more

انگلش میڈیم اور’’چغتائی آرٹ‘‘ بچے

نجی اسکولوں کی ہوش رُبا فیسیں کم کرنے کے حکم پہ یاد آیا کہ چند سال پہلے روزنامہ ’ڈان‘ میں ایڈیٹر کے نام ایک خط میں پنجاب کے دانش اسکولوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مراسلہ نگار کی رائے میں مذکورہ اسکیم کے لئے مختص رقم صوبے کے مجموعی تعلیمی ڈھانچے پہ…

Read more

بے روزگار صحافت کے موسم میں انٹرویو برائے ملازمت کی باتیں

مخصوص حالات نے مجھے کچھ لوگوں کا اعزازی مشیر بنا رکھا ہے۔ اِن میں سب سے نمایاں زمرہ میرے سابق ہمکار صحافیوں کا ہے، جن میں سے کوئی نہ کوئی ہر آٹھویں دسویں دن کسی تربیتی اسکالرشپ کے لیے ریفرنس لکھنے کی فرمائش کر دیتا ہے۔ دوسرے نمبر پہ ہیں یونیورسٹی کے نئے اور پرانے شاگرد جن کے مطالبات میں تحقیقی مقالوں کی نظر ثانی سے لے کر دستاویزی فلموں کی اسکرپٹنگ، ایڈٹنگ اور صوتی ریکارڈنگ جیسی میری رضا کارانہ سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔

Read more

علامہ اقبال کی مال گاڑی، عثمان بزدار کا پروٹوکول اور سیالکوٹ

کم لوگوں کو علم ہو گا کہ جب علامہ اقبال کے استاد مولوی میر حسن کا انتقال ہوا تو اُس روز حکیم الاامت کو نمازِ جنازہ میں شرکت کی خاطر لاہور سے سیالکوٹ پہنچنے کے لئے مال گاڑی پہ سفر کرنا پڑا تھا۔ یہ ہمارے وزیر ریلوے شیخ رشید کی پیدائش سے پہلے کا واقعہ…

Read more

کیا ہمیں ہائر ایجوکیشن چاہئے؟

ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب کا پورا تعارف تھا محی الدین شمیم صدیقی ایم اے بی ٹی (علیگ) لیکن اسکول کے لڑکے کسی وجہ سے انہیں ’پوپٹ‘ کہہ کر یاد کرتے۔ خیر، کالم کا نکتہ آغاز اُن کا ’نِک نیم‘ نہیں، بلکہ دورانِ گفتگو لفظوں کا وہ زندہ اتار چڑھاؤ ہے، جس کی بدولت شمیم صاحب…

Read more