پاکستان زندہ باد پارٹی، روزنامہ92 نیوزکی سالگرہ
مجھے ایک انوکھی سالگرہ کی تقریب میں شامل ہونا ہے۔ میں جو پچھلے دو تین برس سے ایک راہب کیکڑے کی مانند ہوں جو اپنی چٹان کی کھوہ میں سے باہر نہیں آتا۔ سالگرہ کا جشن تو کیا کسی شادی پر جانے سے بھی گریز کرتا ہوں تو آج میں کیوں اس انوکھی سالگرہ میں شریک ہونے کے لیے مرا جاتا ہوں‘ شائد اس لیے کہ جس کی سالگرہ ہے اس نے ‘ میں پچھلے چالیس برس سے کالم لکھ رہا ہوں تو اس نے مجھے زندگی کا بہترین تخلیقی برس عطا کیا۔ میں نے کبھی اتنا لطف نہیں اٹھایا۔ مجھے کبھی اتنی طمانیت نہیں ہوئی۔ میں نے جب بھی اس کے لیے لکھا تو دل و جان سے لکھا اور اس کے لیے لکھتے ہوئے وہ لطف اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے۔ رنج ایک بھی نہیں اٹھایا۔
اس کی سالگرہ کا موقع ہے تو خالی ہاتھ کیسے جاؤں کیا کروں۔ اپنی جان نذر کروں اپنی وفا پیش کروں۔ ویسے بندہ اسی کے پیٹے میں ہو تو جاں فی الفور نذر کرنا کچھ دشوار نہیں ہوتا۔ جاں ویسے ہی لبوں پر آئی ہوتی ہے۔ نورجہاں کے آخری گیت کی مانند کہ۔ کی دم دا بھروسا یار دم آوے نہ آوے۔ چنانچہ اس عمر میں کچھ بھروسا نہیں کہ اگلا دم آتا ہے کہ نہیں ‘تو جاں نذر کر دینا کچھ ایسا تحفہ نہیں کہ سالگرہ پر نذر کیا جائے۔ جہاں تک وفا کا تعلق ہے تو ہم نے کیا جس کی سالگرہ ہے اس نے ہم جیسوں سے وفا کی ہے۔ ہر مہینے ایک معقول رقم براہ راست آپ کے اکاؤنٹ میں جمع ہو جاتی ہے تو اس سے بڑھ کر منافع بخش وفا اور کیا ہو گی۔ آج کے مجھ سے کہیں بڑھ کر مشہور اور متمول کالم نگار نے کبھی اقرار کیا تھا کہ میں نے کالم کو کہانی بنانا تارڑ سے سیکھا تو میں مجبوراً ایک کہانی سناتا ہوں جس سے ظاہر ہو گا کہ آخر مجھ میں اور جس کی سالگرہ ہے اس میں کون سی ایسی قدر مشترک ہے۔ جو ہم دونوں کا سرمایہ حیات ہے۔
ان زمانوں میں مجھے ٹیلی ویژن کی صبح کی نشریات کی آٹھ برس پر محیط روزانہ کی میزبانی سپرد کی جا چکی تھی ایک سویر حسب معمول میں ایم این اے ہوسٹل کی اپنی قیام سے نکل کر سیر کرتا راستے میں سؤروں وغیرہ سے احتیاط کرتا کہ وہ ان زمانوں میں بہت تھے یہاں تک کہ انہی دنوں ایک وقوعہ ظہور پذیر ہوا تھا جس کا تذکرہ اخباروں میں تفصیل سے آیا تھا کہ سؤروں کا ایک ریوڑ جنگلوں میں سے نکلا اور ان میں سے کچھ صدارتی محل کے کمپاؤنڈ میں گھس گئے اور چند ایک سامنے والی پاکستان ٹیلی ویژن کے ہیڈ کوارٹر کی عمارت میں روپوش ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ صدارتی محل کے کمپاؤنڈ میں داخل ہونے والے ان جانوروں کو تلاش کر کے وہاں سے ہانک دیا گیا جب کہ ٹیلی ویژن ہیڈ کوارٹر میں روپوش ہونے والوں کا کچھ سراغ نہ ملا۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں کچھ مبالغہ نہیں کر رہا اور نہ ہی کسی استعارے کا درپردہ سہارا لے رہا ہوں۔ ان زمانوں کے اخبار نکالیے اور پڑھ لیجیے۔
بہرحال میں اس سویر حسب معمول اسلام آباد ٹیلی ویژن سنٹر پہنچا ‘صبح کی نشریات کا آغاز ہونے میں چند لمحے باقی تھے۔ کیمروں کی سرخ آنکھیں کھلنے کو تھیں۔ میں میک اپ زدہ حالت میں نشریات کے آغاز کی سکرپٹ زیر لب دوہرا رہا تھا جب یکدم اوپر تلے تین چار ایسے دلدوز بلکہ دل پھاڑ دھماکے ہوئے کہ ٹیلی ویژن کی پوری عمارت اپنی بنیادوں پر یوں لڑکھڑائی جیسے ابھی مسمار ہو جائے گی۔ میں بھی دہشت زدہ حالت میں اپنی کرسی سے گرتا گرتا بچا ایک بھگدڑ سی مچ گئی۔ سب لوگ جو ادھر ادھر بھاگتے پناہ کی تلاش میں تھے یہی کہہ رہے تھے کہ انڈیا نے ایٹمی حملہ کر دیا ہے۔ سٹیشن کا سٹاف اپنے کمروں اور بال بچوں کے لیے فکر مند فوراً کوچ کر جانا چاہتا تھا۔ پھر نیوز روم میں خبر آئی کہ انڈیا نے حملہ نہیں کیا۔ اوجڑی کیمپ کے افغان ’’جہاد ‘‘کے لیے جمع شدہ امریکی ہتھیاروں اور سٹنگر میزائل میں آگ لگ گئی ہے۔ میرے پروڈیوسر خالد محمود زیدی نے کہا تارڑ صاحب کیا کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ بسم اللہ کر کے کیمرے مجھ پر کھول دیں صبح کی نشریات میں خلل نہیں آنا چاہیے۔ نشریات کے دوران بدستور دھماکے ہوتے رہے بلکہ شائد ایک میزائل سٹیشن کے ایک باتھ روم کی دیوار میں بھی شگاف کر گیا۔ اسلام آباد کے بیشتر سیکٹر ویران ہو گئے سڑکوں پر سکول کے بچوں کی لاشیں پڑی تھیں۔ نشریات حسب معمول نو بجے اختتام پذیر نہ ہوئیں۔ سارا دن جاری رہیں اور میں کچھ نہ کچھ ڈھارس دیتا رہا۔ لوگوں کو تسلی دیتا رہا۔ پچھلے پہر حکومت نے اعلان کیا کہ اب تمام سیکٹر محفوظ ہیں گھر چھوڑنے والے لوگ واپس آ جائیں۔ کسی نے اعتبار نہ کیا کہ اہل اقتدار کی زبان کا کون اعتبار کرے۔ تب مجھے کہا گیا کہ میں بے گھر ہو چکے لوگوں سے درخواست کروں انہیں یقین دلاؤں کہ فلاں فلاں سیکٹر بالکل محفوظ ہے۔ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں کہ اس روز پورا اسلام آباد صبح کی نشریات جو پورے دن پر محیط ہو گئی تھیں ان سے جڑا بیٹھا تھا یعنی مجھے دیکھ رہا تھا۔ جب مجھ سے کہا گیا کہ لوگ حکومت پر اعتبار نہیں کرتے آپ ان سے درخواست کریں کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں تو میں نے یہ شرط رکھی کہ آپ یعنی حکومتی ادارے اور ان میں فوج بھی شامل تھی مجھے قائل کریں کہ کیا واقعی اسلام آباد کے یہ بے آباد ہو چکے سیکٹر محفوظ ہو چکے ہیں اور جب میں قائل ہو گیا تو مجھے اب تک یاد ہے کہ میں نے کیمرے کی آنکھ میں اپنی آنکھیں ڈال کر کہا تھا کہ آپ لوگ مجھے جانتے ہیں میری کتابوں اور میڈیا کے حوالے سے پہچانتے ہیں اور آپ آگاہ ہیں کہ میں آج تک نہ اہل اقتدار کے قدموں میں نچھاور ہوا اور نہ ہی میں کسی بھی سیاسی پارٹی سے متعلق ہوا ‘ نہ کسی سٹیج پر کسی سیاسی لیڈر کے لیے زندہ باد کے نعرے لگائے۔ میری صرف ایک ہی مستقل اور دائمی پارٹی ہے جس کا نام پاکستان ہے اور میں نے ہمیشہ صرف پاکستان زندہ باد کو ہی اپنی حیات کا منشور جانا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ واقعی اسلام آباد کے فلاں فلاں سیکٹر حکومت اور فوج کی کاوشوں سے کلیئر ہو چکے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ اپنے اپنے گھروں میں واپس چلے جائیے۔ اور وہ چلے گئے۔ بعدازاں پارلیمنٹ میں بھی میری اس کاوش کا تذکرہ ہوا ۔ کہانی قدرے طویل ہو گئی لیکن جس کی سالگرہ کا جشن ہے اس میں اور مجھ میں یہی قدر مشترک ہے کہ ہم دونوں کسی بھی سیاسی جماعت سے منسلک نہیں ہماری ایک ہی پارٹی ہے اور وہ ہے پاکستان زندہ باد پارٹی!آپ جان ہی گئے ہوں گے کہ وہ کون ہے جس کی سالگرہ کا جشن ہے۔ جیسے صادقین نے میری کتاب ’’نکلے تیری تلاش میں‘‘ کا جو سرورق ایک بورڈ پر تخلیق کیا اس کی پشت پر میرے لیے ایک رباعی لکھی:
یہ حُسن پرستی جو ہے کُو ہی کُو ہے
ہاں رنگ ہی رنگ ہے تو بُو ہی بُو ہے
آئینے ہی آئینے ہیں میرے دل میں
اور کون ہے آئینوں میں تُو ہی تُو ہے
فقیر صادق 31مئی 1974ء
مستنصر حسین تارڑ کے لیے
تو اور کون ہے آئینوں میں۔ تو ہی تو ہے۔ روزنامہ92 نیوزہے اور کون ہے اور اسی کی تو سالگرہ ہے اور یہ ارشاد عارف ہے جس نے اس اخبار کے لیے اپنی جاں بھی نذر کر دی اور اپنی وفا بھی پیش کر دی‘ اُسے بھی مبارک!
شکریہ روزنامہ 92 نیوز‘ جیتے رہو‘ تم جیو ہزاروں برس اور ہر برس کے دن ہوں پچاس ہزار اور ان میں کچھ دن میرے بھی ہوں۔ ہیپی برتھ ڈے!


