سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل نو


شاہراہ دستور پر کھڑے ہو کر تینوں ریاستی اداروں …. مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ…. کی عمارات پر کیا کبھی کسی نے غور کیا کہ سب سے بلند، باجبروت ،متانت اور دبدبے سے معمور عمارت عدالت عظمیٰ کی ہے۔ تو کیا یہ جبروت دبدبہ متانت اور ارتفاع صرف سنگ و خشت کو سزاوار ہے؟ جی نہیں، عمارت کے مکین ان خصائص کے امین ہوتے ہیں۔ ادھر گزشتہ ایک سال سے ہماری عدالت عظمیٰ جو تاریخ رقم کر رہی ہے، اسے نظرانداز کرتے ہوئے صرف ایک ماہ کی تصویر ملاحظہ ہو۔ یہ محترم چیف جسٹس کے چند اخباری بیانات کی ایک جھلک ہے:

1۔             ’خواہش ہے، شہباز وزیراعظم بنیں‘ یہ الفاظ تمام اخبارات میں شائع ہوئے۔ کیا ضرورت تھی، معلوم نہیں جب ارتعاش پیدا ہوا تو تردید کر دی گئی۔ پھر ایک میڈیا گروپ کو بطور خاص چیف نے دھمکی دی کہ’نام ای سی ایل میں ڈال دیں گے‘۔ میڈیا گروپ کہہ رہا ہے کہ تردید چھپ چکی ہے، ملاحظہ کر لیں۔ لیکن دھمکی پر دھمکی! محترم چیف کا یہ بیان ہر اخبار میں شائع ہوا۔ بی بی سی کی حنا سعید 11فروری : ’اگر ان انتخابات میں آپ ]شہباز شریف[ کی پارٹی جیت جاتی ہے تو آپ کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں‘۔

2۔             ’ڈاکو پارٹی سربراہ بنے، نہیں مانتا‘۔ الفاظ کا انتخاب ملاحظہ ہو۔

3۔             از خود نوٹس (Suo Moto) لینے کا اختیار آئین کا حصہ ہے اور عدالت اس کا استعمال کرتی ہے۔ لیکن جس طریقے سے موجودہ چیف اس اختیار کو استعمال کر رہے ہیں قانون کے سانچے میں اسے سمجھنا مشکل ہے۔ چار سینیٹرز کو ان الفاظ کے ساتھ حلف اٹھانے سے روک دیا ’سنا ہے حالیہ انتخابات میں جیتنے والے کچھ سینٹرز بھی دوہری شہریت رکھتے ہیں‘۔ اس ’سنا ہے‘ سے قبل اگر آنجناب، رجسٹرار الیکشن کمیشن سے معلوم کر لیتے تو ادارے کی وہ ’توہین ‘ نہ ہوتی جو بذریعہ ’سنا ہے‘ عدالت عظمیٰ کے چیف کے ہاتھوں ہوئی۔ کیا محترم چیف کو علم نہیں کہ کمیشن امیدواروں کی چھان بین باریک بینی سے کرتا ہے؟ سپریم کورٹ کی اس توہین کا کون ذمہ دار ہے؟

4۔             9 مارچ کو آنجناب نے اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں میں مجمع لگایا۔ ایک کالج کے پرنسپل کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور ’ہدایت کی کہ مرغیوں کی انتڑیوں کے تیل کی فروخت پر پابندی کے لیے قانون سازی کی جائے‘۔ ہدایت اسمبلی کو ہے۔ کیا مزید کسی تبصرے کی ضرورت ہے؟

5۔             10 مارچ کو وزیراعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی کہ بتائیں کہ ’دس سال میں پنجاب میں کیا کیا؟‘ علم نہیں ہو سکا کہ کون سی شق کے تحت احتساب کی داغ بیل ڈالی جا رہی ہے۔ یہی سوال باقی وزراءاعلیٰ سے بھی ہو سکتا ہے۔ گویا سیاست دان عوام اور پارلیمنٹ میں نہیں، عدالتوں کو وضاحتیں دیا کریں گے۔

6۔             ’الیکشن شفاف بنانے کے لیے بیوروکریٹس کو دوسرے صوبوں میں بھجوا دیں گے‘ کیوں ؟ کس اختیار کے تحت ؟ کیا سارے بیوروکریٹس بدعنوان ہیں؟ اور اگر ہیں تو کیا دوسرے صوبوں میں وہ نیک سیرت ہو جائیںگے؟

7۔             ’سندھ ہائی کورٹ کے جج چیمبر میں سٹے آرڈر بانٹتے ہیں‘۔ بات توہینِ عدالت کی ہے تو کیا سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کی کوئی عزت نہیں ہے ۔ یہی بیان عام آدمی دیتا تو کیا سندھ ہائی کورٹ کے جج اسے چھوڑ دیتے؟ کیا توہینِ عدالت صرف عام آدمی سے سرزد ہوتی ہے۔ چیف جسٹس عدلیہ کا باپ ہوتا ہے۔ یہ اظہارِ ہمیں کس طرف لے جا رہا ہے۔ کیا چیف نے یہ الفاظ کوئی تحقیقی رپورٹ پڑھ کر کہے؟ 28 مارچ کو صدر کراچی بار حےدر امام رضوی نے کہا”چیف جسٹس آف پاکستان کا سندھ ہائی کورٹ پربیان نامناسب تھا، چاروں صوبوں میں بے چینی پھیلی“۔

8۔             جس دستور سے چیف اختیارات لیتا ہے وہی دستور ہر معمولی ریاستی عہدے دار کی عزت نفس کا ضامن ہے۔ 27فروری کو ایک اور از خود نوٹس پر ’سماعت کے آغاز میں چیف نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کی سرزنش کی اور انہیں کھڑے ہونے کا حکم دیا۔‘تین چار اخبار دیکھنے کے بعد بھی معلوم نہ ہو سکا کہ ملزم سے کیا جرم سرزد ہوا تھا۔ انہیںکھڑے ہونے کا حکم دے کر چیف کیا اپنا تعارف کرا رہے تھے؟

9۔             ایک اور از خود نوٹس میں ایک سیاست دان کو دس ہزار روپے جرمانہ کیا انہوں نے ادا نہ کیا تو اگلی پیشی پر محترم چیف یوں گویا ہوئے: ”میرے بیٹے نے کہا اعتزاز انکل کا جرمانہ میں ادا کروں گا“۔ انہوںنے اس رقم کو صدقہ قرار دیا۔ محترم چیف مخالف سیاستدانوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔

10۔          22 مارچ کو محترم چیف نے دنیائے قانون کا ایک اچھوتا فیصلہ رقم کیا۔ سابق وزیرخزانہ پر الزام لگا کہ ان کے حکم پر پارک کی جگہ پر سڑک کی توسیع کی گئی۔ غیرحاضر ملزم پر الزام لگاکہ ان کے زبانی احکام پر کام ہوا۔ چیف نے ملزم کو سنے بغیر کھڑے گھاٹ مجرم قرار دیا اور حکم جاری کیا کہ ’دس دن کے اندر پارک اصل شکل میں بحال کر کے لاگت سابق وزیرخزانہ یا ڈی جی، ایل ڈی اے سے وصول کی جائے۔‘ اس ’یا‘ کے اندر الفاظ و معانی کا ایک سمندر پنہاں ہے۔ قانون کے طلبا کے لیے اس میں تحقیق کا خاصا سامان موجود ہے۔

11۔          وزیراعظم چیف سے ملے ترجمانوں نے اعلامیے جاری کیے جو کافی تھے۔ اب سیاستدان اور ذرائع ابلاغ گل افشانیاں کرتے رہیں۔ اگلے دن تجاوزات کا مقدمہ تھا۔ ’فریادی آئے تو سننا میرا کام ہے…. کئی سائل آتے ہیں پتہ نہیں کس کو کیا تکلیف ہو۔ میری ذمہ د اری ہے سائل کی تکلیف سنوں“۔ لطیف کھوسہ نے کہا ’ان کی تکلیف‘ کا سب کو علم ہے۔ کمرئہ عدالت قہقہوںسے گونج اٹھا۔“

یہ نمونے کے چند واقعات ہیں ورنہ صبح اخبار اٹھائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چیف جسٹس نہیں مجسٹریٹ درجہ سوئم چھاپے مار رہا ہے۔ معاشرتی سدھار کے لیے وہ وہ فکر و فلسفہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ گویا سیاست دان بول رہا ہے ایک اور چیف جسٹس کو اسلامی یونیورسٹی کا ریکٹر لگایا گیا تو وہ یونیورسٹی کی نظریاتی اُٹھان سے متاثر ہوئے۔ حکم ہوا کہ دنیا بھر میںیونیورسٹی کے سو کیمپس کھولنے پر کام کیا جائے۔ سو کیمپس کیابننا تھے۔ افسران کی بن آئی۔ جس صاحبِ اختیار کو دیکھا بین الاقوامی دورے کر رہا ہے ورکنگ پیپر بن رہے ہیں، سیمینار ہو رہے رہیں۔ موصوف کروڑوں روپے برباد کر کے خود تو ریٹائر ہو کر خانگی مقدمات کا سامنا کرتے رہے یونیورسٹی کو بچاؤ کے لالے پڑے ہیں۔ ایک صاحب عدلیہ کی آزادی کے نقیب بن کر آئے۔ ان کے صاحبزادے گریڈ اٹھارہ میں براہ راست بھرتی ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ارب پتی بن گئے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ آج کل موصوف بلٹ پروف گاڑی کے لیے مقدمات لڑ رہے ہیں۔ یہ واقعات و ملفوظات ماہرین نفسیات کی کسی کمیٹی کے سامنے بغرض تحلیل نفسی (Psycho Analysis) رکھے جائیں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کی رائے کیا ہو گی۔

وقت آ گیا ہے کہ سیاستدان سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل نو کے لیے دستور میں ایسی ترمیم کریں کہ جج حضرات کے رویے، ان کے فیصلوں اور ملاحظات (Observations) پر احتساب ہو سکے۔ کونسل اپنی موجودہ ساخت کے ساتھ یہ کام نہیں کر سکتی کیونکہ اس کا چیف خود چیف جسٹس ہوتا ہے۔ ضروری ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل قائدایوان اور قائد حزبِ اختلاف کے مشورے سے ریٹائرڈ جج حضرات میں سے ہو۔ مجوزہ ناموں پر چار چھ مہینے خوب کھل کر بحث ہو اور منظوری سینٹ دے۔ نصف صدی ہونے کو ہے پارلیمنٹ نے کونسل کی قانون سازی ہی نہیں کی۔ کام چلانے کے لیے کونسل نے اپنے (Rules) بنائے ہیں جو منصفانہ عدالتی کارروائی پر سوالیہ نشان ہیں۔ عدلیہ کے ایک معزز رکن داد رسی کے لیے سپریم کورٹ میں سائل ہیں کہ ان کا ٹرائل کھلی عدالت میں ہو جو دستوری حق ہے۔ وزیراعظم کے مقدمے میں پانچ ججوں نے جو فیصلہ سنایا اس نے ہماری معزز عدالت کو ’فائیواسٹار سپریم کورٹ‘ بنا دیا ہے۔ عدالت کے اندر سے فیصلے کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ قانونی اعتبار سے یہ فیصلہ اس قدر کمزور اور سیاست میں لتھڑا ہوا ہے کہ عدلیہ کا وجود خطرے میں ہے۔ سابق سینٹر فرحت اللہ بابر نے بجاطور پر کہا ہے کہ’اگلے انتخابات عدلیہ کے خلاف ریفرینڈم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔‘ یہ ایک المیہ ہو گا۔ مضبوط، موثر، آزاد اور سیاسی آلودگی سے مبرا عدلیہ ہر ملک کی ضرورت ہوتی ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں اسلام آباد کی تعمیر کرتے وقت عدلیہ کو جو بلند و بالا عمارتی حسن دیا گیا تھا بدقسمتی سے اس خاکے میں ابھی تک رنگوں کی وہ دھنک نظر نہیں آتی جو عمارت کی نیو میں رکھی گئی تھی۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی عمارت میں جو تاثر رکھا گیا ہے اس کا کوئی شائبہ بھی ہماری موجودہ عدلیہ میں موجود ہے۔ ہماری پارلیمنٹ نے ہر دور میں قوم کی امنگوں کو پورا کیا۔ سیاستدان ہر موقع پر قوم کی توقعات پر پورا اترے۔73 کا دستور ہو یا آٹھویں ترمیم غیرممالک میں فوجی دستے بھیجنے کا معاملہ ہو یا پانی کی تقسیم کا معاہدہ عوامی امنگوں کو سیاست دانوں نے ہمیشہ پورا کیا۔ سیاست دانوں کی کرپشن پر بھا شن دینے والوں سے گزارش ہے کہ دیگر اداروںمیں سے پوتر اصحاب کی فہرست ارسال کریں تاکہ رائے قائم کی جا سکے کہ دونوں میں سے زیادہ بددیانت کون ہے۔ موجودہ صورت حال (اور ہر حال) میں سیاست دان ہی غنیمت ہیں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام اسلامی قانون کے پروفیسراوردستوری قانون میں پی ایچ ڈی ہیں ۔ گزشتہ 33 برس سے تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔

dr-shehzad-iqbal-sham has 9 posts and counting.See all posts by dr-shehzad-iqbal-sham