آٹھ منٹ میں زندہ انسان کی کھال اتارنے والے کے ساتھ بارہ منٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے ذہن نے کام کرنا شروع کردیا، مجھے پتہ تھا کہ آگے ٹیپو سلطان روڈ کے جنکشن تک کوئی بھی ٹریفک کی بتی نہیں ہے لہٰذا گاڑی اسی طرح سے چلتی رہے گی۔ میں نے سوچا کہ میں گاڑی یکایک روک کر دوڑ لگادوں اگر اس جہادی نے اپنے آپ کو اُڑا بھی لیا تو شاید میں بچ جاؤں۔ اگر اس نے کسی جگہ گاڑی رکوا کر خود کو اُڑایا تو پھر شاید کچھ بھی نہیں ہوسکے گا۔ میں نے یہ بھی سوچا کہ اس شخص سے بات چیت بھی جاری رکھنی چاہیے شاید میں اسے قائل کرسکوں کہ وہ مجھے چھوڑدے۔

آپ کا یقین اپنی جگہ پر شاید درست ہو میں نے یہ الفاظ کہے کہ اس کے فون کی گھنٹی بجی۔ کچھ لمحوں کے لئے میں نے سوچا کہ جیسے ہی وہ فون سے بات کرنے کے لے بٹن دبائے گا بم پھٹ جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس نے دھیمے لہجے میں پشتو میں مختصر بات کی۔

ہم لوگ اب پاکستان ایئرفورس کے بیس کے پاس پہنچ گئے تھے اور غیرارادی طور پر ایکسی لیٹر پر میرا دباؤ بڑھ گیا اور گاڑی تھوڑی تیز ہوگئی۔
گاڑی آہستہ چلاؤ اس نے دھیرے سے کہا۔

میں نے ایکسی لیٹر پر دباؤ کم کردیا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی ہمت اور بے خوفی کا معترف ہوگیا ہوں مگر پھر ایک بار کہہ رہا ہوں کہ اللہ کے لئے مجھے گاڑی سے اُتاردیں اور گاڑی جہاں بھی لے جانی ہے لے جائیں، میں کسی سے کچھ بھی نہیں کہوں گا۔
اللہ کی راہ میں جو نکلتے ہیں وہ بے خوف ہوجاتے ہیں۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ مگر اللہ کی راہ میں جان دینے والے لوگ معصوم عورتوں اور بچوں کی جانیں کیوں لیتے یہں، یہ تو کوئی انصاف نہیں ہے اوراللہ کا حکم بھی نہیں ہے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا۔

یہ جنگ ہے اور جنگ میں یہی ہوتا ہے۔ جب وہ حملہ کرتے ہیں زمین پر ہتھیاروں سے اور جب بم برساتے ہیں ہم لوگوں پر تو وہ صرف نشانہ دیکھتے ہیں، ان معصوموں کو نہیں دیکھتے ہیں جن کی جان چلی جاتی ہے۔ اس کی آٖواز میں درد اور غصہ دونوں واضح تھا۔
مگر وہ اللہ کے لئے نہیں لڑرہے ہیں، آپ اللہ کے لئے لڑ رہے ہیں، آپ میں اور ان لوگوں کی جنگ میں فرق ہونا چاہیے۔ وہ باطل ہیں آپ حق ہیں، وہ جھوٹے ہیں آپ سچ ہیں۔ ان کا مطمح نظر دنیا ہے آپ کی منزل دین، دونوں میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے۔

گاڑی کارساز کے موڑ سے آگے گزرچکی تھی، مجھے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ شخص کیا کررہا ہے اور کیا کرنا چاہ رہا ہے۔

جنگ صرف جنگ ہوتی ہے اور جنگ کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور دونوں جانب سے جنگ میں یہی ہورہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ یہ بھی ہم نے امریکیوں سے سیکھا ہے۔ اس وقت سیکھا ہے جب روس کے خلاف جنگ میں وہ ہمارے ساتھ تھے۔ میں آٹھ منٹ میں انسان کی کھال کھینچ لیتا ہوں۔ انسان زندہ رہتا ہے مگر اس کی کھال باہر آجاتی ہے۔ یہ مجھے ہمارے امریکی دوست نے سکھایا تھا۔ ہم لوگوں کی تربیت کی تھی اس نے۔ سب اسے ڈائمنڈ کہتے تھے، نہ جانے اس کا اصلی نام کیا تھا۔ وہ اپنے کام میں ماہر تھا۔ ہم لوگ روسی سپاہیوں یا روسیوں کے جاسوسوں کو اغوا کرتے تھے پھر انہیں لٹکا کر ان کی کھال کھینچ لیتے تھے اور بغیر کھال کے زندہ آدمی یا اس کی لاش کو کابل کی سڑکوں پر پھینک دیتے تھے۔ یہ ایک غیرانسانی فعل ہے مگر اس کا مقصد دشمن کو خوفزدہ کرنا ہے اسی طرح سے جس شہر، محلہ اور گاؤں کے لوگ ہمارے خاف ہوتے ہیں ہم وہاں کے مشہور لوگوں کو پکڑ کر ان کی گردنیں کاٹ کر ان کے جسم اور گردن کو شہر کے چوک میں لٹکادیتے تھے۔ اس کے بعد لوگ خاموشی سے ہمارے سامنے سر جھکا دیتے تھے، وہی کرتے تھے جو ہم چاہتے تھے۔ یہ کہہ کر وہ تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہوا، کچھ سوچتا رہا پھر بولا۔

اس دن پانچ روسی فوجی اور دو ان کے شہری پکڑے گئے تھے اور مجھ سے کہا گیا تھا کہ ان میں سے ایک کی کھال کھینچنی ہے۔ یہی میرا امتحان تھا۔ ان دھریوں کے ہاتھ پیر باندھ کر کھڑا کیا گیا، پھر ان میں سے ایک کو میں نے اپنی مرضی سے چنا اور ان سب کے سامنے اس زندہ آدمی کو لٹکا کر گردن کے نیچے سے اس کی کھال کھینچ دی میں نے۔ جیسے قصاب بکرے کی کھال کھینچتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دنبہ بکرا مرا ہوتا ہے اور یہ زندہ۔ دس بارہ منٹ لگے ہوں گے مجھے اور ان دھریوں کی شکل دیکھنے کے لائق تھی۔ ایک تو فوراً ہی مرگیا، وہ دونوں لاشیں اور بقیہ روسی ہم نے کابل پہنچادیئے تھے۔ یہی طریقہ کار تھا دشمنوں میں دہشت پھیلانے کا اور اس طریقے سے روسی بھاگے افغانستان سے۔ یہاں بھی یہی کریں گے ہم لوگ۔ کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کتنے معصوم مرتے ہیں اور کتنے مجرم۔ مقصد تو امریکیوں اور ان کے پٹھوؤں کو نکالنا ہے، یہی کریں گے اور ایسا ہی ہوگا۔ انہوں نے ہی ہمیں سکھایا تھا اور اب ان کے ساتھ ہی ہم یہ کررہے ہیں۔ اب پاکستانی حکومت کی کرتوتوں کی وجہ سے پاکستانیوں کے ساتھ بھی یہی کرنا پڑرہا ہے۔

میرے دل میں نفرت پیدا ہوگئی اور جسم پر رعشہ سا طاری ہوگیا۔ جنگل میں بھی یہ سوچ نہیں ہوتی ہے۔ جانور جانور کے ساتھ یہ نہیں کرتا ہے جو انسان انسان کے ساتھ کرتا ہے۔ یہی کچھ اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کے ساتھ کیا تھا۔ انہیں موجودہ اسرائیل سے نکالنے کے لئے ہراساں کیا تھا، گاؤں کے گاؤں اُجاڑ دیئے تھے، راتوں کو گولیاں چلا کر معصوم بچوں اور عورتوں کی جانیں لی تھیں زبردستی۔ زمین خالی کراکر اپنے گھر بسائے، جان لوئس کی داستان پرانی نہیں ہے وہ رات جب نہتے فلسطینیوں کو بے دخل کیا گیا، لاشوں کے ڈھیر بنائے گئے اور سینی کاگ کی عمارتیں کھڑی کی گئیں، یہی کچھ امریکیوں نے ویتنام اور کمبوڈیا میں کیا تھا اور افغانستان کی جنگ میں مجاہدوں کو یہی سکھایا تھا کہ کس طرح روسیوں کو خوف زدہ کرنا ہے اور اب ان کے سکھائے ہوئے مجاہدین پاکستانیوں کے ساتھ یہی کررہے ہیں۔ شہروں میں بم پھوڑرہے ہیں، سر تن سے جدا کرکے لاشیں لٹکا رہے ہیں۔ پاکستان کو اپنے کئے کی سزا مل رہی ہے، میرے ذہن میں خیالات کے طوفان اُٹھ رہے تھے۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے “اگلا صفحہ” پر کلک کریں

Latest posts by ڈاکٹر شیر شاہ سید (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3