سیاسی وابستگیاں اور جاگیر داری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں بلوچستان میں صوبائی حکومت کی تبدیلی، سینیٹ کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے مواقع پر ہماری سیاسی تاریخ کے صفحات میں جو کچھ رقم ہوایہ جاگیر دار او ر قبائلی سرداروں کے طبقے کی اس شرمناک روایت کا تسلسل ہے جو صدیوں سے چلی آرہی ہے ۔ اسی روایت پر جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں نے بھی عمل کیا اور جنوبی پنجاب کے مسائل کا رونا روتے ہوئے اپنی سیاسی وابستگی کو مسلم لیگ (ن) سے ختم کرکے ملکی سیاست میں ارتعاش پیدا کرنے کی کوشش کی۔

پاکستان کی سیاست میں جاگیر دار ، مُلا ، پیر کے تسلط اور ا ثر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ یہ طبقہ کم و بیش ہزار سال سے خطے کی سیاسی و سماجی زندگی کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہے۔ جس کی بنیادی وجہ اس خطے کا مغرب سے آنے والے حملہ آوروں کی زد میں آنا رہا ہے۔ خیبر پختونخواہ، پنجاب اور سندھ پرحملہ آور جس طرح یکے بعد دیگرے وارد ہوئے دنیا کی معلوم تاریخ میں اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ان حملہ آوروں کی منزل دہلی اور آگرہ پہنچ کر مشرق کے صوبوں کو فتح کرنا ہوتا تھا۔ ہندوستان میں مضبوط حکمرانی کا تقاضا تھا کہ اِ س وقت کے سندھ ، پنجاب اور سرحد پر کنٹرول رکھا جائے۔ اس خطے کی عسکری اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے یہاں کے بڑے سردار اور قبائلی اپنے مفادات اور بقاءکے لیے سمجھوتے کرنے میںہر حد سے گذرتے رہے اور ہر بڑے اور پہلے سے زیادہ طاقتور کے ساتھ اپنی وابستگیاں بناتے چلے گئے۔ اگر چند ایک نے نعرہ حق بلند کیا بھی تو ان مفاد پرست سرداروں نے جتھا بنا کر اسے روند ڈالا او ر ان کی جگہ ایسے افراد کو سامنے لایا گیا جو ان حملہ آوروں کے مفادات کی نگہبانی اور مزید فتوحات کے لیے افرادی قوت فراہم کرسکیں۔یہ سلسلہ انگریز کی آمد کے بعد بھی جاری رہا اور ۷۵۸۱ءکی جنگ آزادی کو سبوتاژ کرنے میں پنجاب کے قبائلی سرداروں اور جاگیر داروں نے انگریز کی بھرپور معاونت کی۔ جس کے عوض انھیں مزید جاگیریں عطا کی گئیں۔ پنجاب کے بڑے بڑے جاگیردار خاندانوں کی انگریز آقاﺅں سے وفاداری کی بدولت ان کا سماجی تشخص برقرار رہا اور یہ اسی وفاداری اور غلامی کے عوض سیاسی اور سماجی مراعات سمیٹتے چلے گئے۔ ہر جاگیر دار کی خواہش ہوتی کہ وہ حکومت کے لیے خدمت انجام دے کر زیادہ سے زیادہ زمین حاصل کرسکے ۔ کیونکہ جاگیر دار کے حکومت میں اثر اور عوام پر رعب کا انحصار اس کی زمین کے رقبے سے مشروط ہوتا تھا۔

تحریک پاکستان میں بھی ان جاگیردار طبقات نے قائد اعظم اور تحریک پاکستان کی بھرپور مخالفت کی۔ وہ قائد کی دولت کی تقسیم نو اور ملکیت زمین کی حد کے ممکنہ نفاذ سے خوف زدہ ہو کر یوننیسٹ پارٹی کے پرچم کے تلے متحد ہوگئے تاکہ مستقبل میں قائم ہونے والی حکومت میں منصفنانہ معاشرے کے قیام کو روک سکیں۔ لیکن جب تحریک پاکستان کامیابی کے قریب پہنچ گئی تو زمانہ شناس جاگیر دار طبقے نے مسلم لیگ میں شامل ہوکر اپنے اپنے علاقوں کی مقامی قیادت پر قبضہ کرلیا۔ اسی رجعت پسند طبقے نے کروڑوں مسلمانوں کے خوابوں کو چکنا چور کیا جو انہوں نے قائد اعظم کی ولولہ انگریز قیادت میں دیکھے تھے۔

پاکستان بننے کے بعد بھی پاکستان کی سیاست پر یہی طبقہ اثر انداز رہا اور اپنی اولادوں کو اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بنا کر اپنے اثرو رسوخ کو اور مضبوط کرلیا۔قیام پاکستان کے وقت ان 80 جاگیر دار خاندانوں کے پاس تیس لاکھ ایکڑ زمین تھی۔جو اوسطَ 5100 مربع فی خاندان بنتی ہے۔ ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں متعار ف کروائی جانے والی زرعی اصلاحات سے بچنے کے لیے بھی ان خاندانوں نے مختلف حربے استعمال کیے جس کے سبب زرعی اصلاحات اپنی روح کے مطابق نتائج حاصل نہ کرسکیں۔

جب ذوالفقار علی بھٹو نے جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ کر اعلان جنگ کیا اور یہ 1970ء کے انتخابات سے قبل ہی واضح ہوگیا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئے گی تو سندھ اور پنجاب کے وڈیرے اور جاگیر دار پاکستان پیپلز پارٹی میں جوق درجوق شمولیت اختیارکرتے چلے گئے، اور ایک بار پھر قومی دولت اور جاگیر پر اپنے تسلط کو قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔

ضیاءالحق کے مارشل لاءکے بعد اسی طبقے کی اکثریت ان کی حمایتی بن گئی اور بعد میں بننے والی جمہوری حکومتوں میں بھی یہی طبقہ ”قوم کے وسیع تر مفاد میں“ کبھی مسلم لیگ اور کبھی پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوتا رہا ۔ ان جمہوری حکومتوں کے قیام اور ٹوٹ پھوٹ کے دوران بھی یہ طبقہ ا پنی قیمت وصول کر کے قومی خزانے کی خطیر رقوم بھی ہتھیاتا رہا اور ملک و قوم کی خدمت کے نعرے بھی لگاتا رہا ۔ ان شاہی پیادوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ آج بھی اپنی پوری آن اور شان کے ساتھ جاری ہے۔ ان کی وابستگیاں ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ جب بھی کسی منتخب حکومت کے خلاف محاذ بنانے کی ضرورت پڑتی ہے یہ طبقہ اپنی قیمت لگوا کر اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے ہمہ وقت تیارہوتا ہے۔ وفاداریِ ایماں کی شرط استواری ہے، جس سے جاگیردار اور سر دار طبقہ محروم ہے۔

لیکن یہ طبقہ اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ بالآخر اس مکروہ روایت کو ختم ہونا ہے جو خصوصاَ 1857ء کی جنگ آزادی سے لے کر آج تک چلی آرہی ہے۔ جوں جوں عوام میں علم و شعور کی سطح بڑھتی جائے گی ان کا تسلط درجہ بہ درجہ کم ہوتا چلا جائے گا۔ اگرچہ منزل بہت دور ہے لیکن اس منزل کے راہی بھی منزل کو پانے کے لیے اپنی کم کوشی اور بے ذوقی کو ختم کرنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔

ملکی سیاست کی آلودگی کو صاف کرنے کے لیے جب تک جاگیرداریت کے عفریت کو ملکیت زمین کی حد مقرر کر کے ریزہ ریزہ نہیں کیا جائے گا اس وقت تک جدید فلاحی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہے۔ یہ زمینیں محنت کی کمائی سے نہیں بلکہ خطے کی سا لمیت اور نادار و مفلس عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر حاصل کی گئیں ہیں۔ ان کی ملکیت کی حد مقرر کرنا جرم نہیں بلکہ احسن اقدام ہوگا۔ اسی خیرات کی زمین کی طاقت پر اس جاگیر دار طبقے نے غیر ملکی حملہ آوروں، جمہوری و غیر جمہوری مطلق العنان حکمرانوں اور رجعت پسند عناصر کی حمایت کرکے ملک میں حقیقی تبدیلی اور ترقی کا راستہ روکا ہے۔

اس کے لیے ایسے سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ کی قوتوں کو سامنے آنا ہوگا جو مفادات و تعصبات سے بالا تر ہو کرعوام کو ذات برادری ،جاگیرداری اور خانقاہیت کے تسلط سے نجات دلا کر فلاحی ریاست کے قیام کو ممکن بنا سکیں ۔

نہیں ہے نو امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).