سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات

آخر کار آئی ایم ایف سے حصولِ قرض کی حکومتی کوششیں رنگ لے آئیں اور وزیراعظم عمران خان کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکڑ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں قرض کی شرائط تقریباً طے ہوگئیں۔ چھ ارب ڈالر کے اس معاشی پیکج کے بنیادی نکات طے کر لیے گئے ہیں اور اپریل 2019…

Read more

پارلیمنٹ! ایک ہنگامہ شب و روز بپا رہتا ہے

پارلیمنٹ وہ ادارہ ہے جہاں منتخب عوامی نمائندے ملک و قوم کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ لیکن آج تک چند ایک مواقع ہی ایسے ہوں گے جہاں پارلیمنٹ نے اپنا حقیقی کردار ادا کیا ہو۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی تقسیم حکومتی ارکان اور حزبِ اختلاف کے ارکان پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایک تیسرا گروہ بھی ہر پارلیمنٹ میں ہوتا ہے جو طاقتور کے ساتھ اپنے الحاق رکھنا چاہتا ہے۔ یہ گروہ ہر اہم موقع پر اپنی رائے دینے کی بجائے واک آوٹ کا سہارا لیتے ہوئے خاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔

قومی انتخاب میں سیاسی انجینئرنگ نے پوری کردی جس کے سبب حکومتی ارکان اور حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد میں معمولی فرق رکھا جاتا ہے۔ لیکن کسی بھی حزب اختلاف نے کبھی کسی حکومت کو آسانی سے حکومتی معاملات چلانے نہیں دیے ہیں۔ حزبِ اختلاف کے وجود کا جواز بھی اس وقت تک ہی رہتا ہے جب تک وہ اپنا مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے حکومت کو پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہونے پر مجبور نہ کردے۔ لیکن ہر حزبِ اختلاف نے حکومتی پالیسیوں پر تیکنیکی تنقید کرنے کی بجائے ہلڑ بازی اور شور شرابے کا راستہ اختیا ر کیا ہے اور جواب میں حکومتی ارکان نے بھی یہی وتیرہ رکھا ہے۔

Read more

اجارہ دار سیاست اور استحصالی طبقات

چند روز قبل ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک صاحب طرز کالم نگار کی گفتگو سننے کا موقع ملا۔ کالم نگار ایک عرصے سے اپنے کالموں میں پاکستان تحریک انصاف کی تشہیر کرتے چلے آرہے تھے۔ مگر ان دنوں تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں موصوف کے مخالفانہ اورجارحانہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا…

Read more

نئے ٹیکس اور عوام کی حالتِ زار

تحریک انصاف نے 2018 ء کے عام انتخابات میں جیسے تیسے کرکے اقتدار توحاصل کرلیا لیکن حکومت کے نظم کو چلانے کے لیے تحریک انصاف وہ کچھ نہیں کرپائی جس کا ڈھول ان کے عہدیدارانتخابی جلسوں اور ٹی وی چینلز پر پیٹا کرتے تھے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ستمبر 2018 ء میں اپنی حکومت…

Read more

بنام محمد حسن عسکری۔ نو دریافت خطوط

کسی فرد کی قلبی و نفسی کیفیات اور علمی و ادبی میلانات اور رجحانات سے آگاہی کے لئے اس کے لکھے گئے یا اس کو لکھے گئے خطوط ایک اہم ذریعہ ہیں۔ ہماری علمی اور ادبی تاریخ میں مکاتیب کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔ بلا شبہ خط کو تہذیبِ انسانی کی محیر العقول عجائبات میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق کے باب میں بھی مکاتیب کو بنیادی معلومات کا بہترین ماخذ تصور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ خط میں مخاطب فردِ واحد ہوتا ہے جس کے باعث لکھنے والا بلا تکلف ذہن و قلب کی کیفیات رقم کرتا چلا جا تا ہے۔ علامہ اقبالؔ شاعر کے ادبی اور ذاتی خطوط سے اس کے کلام کے پس منظر سے آگاہی کے لیے ضروری قرار دیتے تھے۔

اردو افسانہ و تنقید میں محمد حسن عسکری کی ایک مسلمہ حیثیت ہے۔ وہ مغربی ادب کے طالب اور استاد تھے۔ انہوں نے مشرقی اور مغربی ادب تاریخ کے پس منظر کے ساتھ پڑھا۔ 1930 ء کے بعد اردو ادب میں نئے ادب کی تحریک کے آغاز نے ایک عجیب کیفیت پیدا کی جسے اس کے بعد ہماری ادبی تاریخ میں نہیں دیکھا گیا۔ اس سے پہلے کے ادب پر علی گڑھ کی جمال پرستی کا اثر تھا، اس کے بعد اشتراکی حقیقت نگاری کا رنگ ادب پر غالب آیا۔ پھر نئے ادب نے جدجدیت کا رنگ اختیار کیا۔

Read more

حکمِ انفاق اور ہمارا سماج

سماجی رابطے کے ایپس نے خبر اور معلومات کے پھیلاؤ کو حد درجے آسان کردیا ہے۔ مثال کے طور پر واٹس ایپ پر مختلف افراد اپنے ہم خیال احباب پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دے لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر بھی لوگ باہمی دلچسپی کی خبریں، ویڈیو کلپس سمیت مختلف مواد ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں بھی بحثیتِ مجموعی ہماری ذہنی پسماندگی اور تعصبات کے عملی مظاہرے دیکھے جاسکتے ہیں۔ جھوٹ، من گھڑت خبروں اور واقعات، لغویات اور فضولیات کو اس دھڑلے سے پھیلایا جاتا ہے کہ سچ اور دلیل اس کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں۔

Read more

فروغ ِ تحقیق اور نصاب

مطالعات و تحقیق کی روایت ہر ملک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے ذریعے پنپتی ہے۔ تحقیق کی اس روایت کی آبیاری میں انفرادی اور نجی کاوشوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یہاں عمومی نوعیت کی تحقیق بھی دیکھنے میں آئی ہے اور ایسے اعلیٰ اور معیاری تحقیقات بھی سامنے آئی ہیں جو…

Read more

تحریک انصاف کے 100 دن

ہر قدم دوری منزل ہے نمایاں مجھے سے
مری رفتار سے بھاگے ہیں بیاباں مجھ سے

غالبؔ کا یہ شعر تحریک انصاف کی حکومت پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سو روز کا تجزیہ ان دونوں موضوع خاص اہمیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ اول دن سے جس چیز کا فقدان تحریک انصاف کی حکومت میں نظرآیا ہے وہ سنجیدگی اور حکومتی معاملات چلانے کی مہارت ہے اور جس چیز کی بہتات نظر آئی وہ ہے لطائف اور مضحکہ خیز حرکات کی برسات۔ پہلے پندرہ روز تو یہ ہی طے ہوتا رہا کہ وزیراعظم کے شب و روز کہا ں بسر ہو نگے؟ آیا وہ وزیراعظم ہاؤس میں رہیں گے، ملٹری سیکرٹری کے گھر میں رہیں گے یا بنی گالا میں۔ اس کے بعد مسئلہ یہ آیا کہ وہ دوران سفر پروٹوکول لیں گے یا نہیں۔ پھر انہوں نے ہیلی کاپٹر کا استعمال شروع کیا جس پر سفر کی لاگت 55 روپے فی کلو میٹر بتائی گئی اور ان کے ہر مصاحب نے اپنی بساط کے مطابق اس پر طرہ لگائی۔

Read more

اقبالؔ کا فن، شخصیت اور فکری جدوجہد

بلا شبہ علامہ اقبال ؔ ایک عہد ساز شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری میں ایک مکمل دور اور تاریخ کو بیان کیا ہے۔ ۔ اقبال جس دور میں اقبالؔ بنے وہ مشرقی اقوام کے لیے سیاسی بدحالی اور سماجی اضطراب کا دور تھا اور یہی درد ان کی شاعری میں نظر آتا ہے۔ انہوں…

Read more

امّی جان کی یاد میں

وہ ہستی دنیا سے رخصت ہوچکی جس کی ہرسانس میں ہمارے لیے دعاؤں کا سمندر تھا اور آج ان کے بعد حال یہ ہے کہ : دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے آج سے دس سال قبل جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تقریباً ڈیڑھ…

Read more