اضطرابی سیاست اور بگڑتی معیشت

وطن عزیز کی سیاست اور معیشت کو عجیب سی صورتحال کا سامنا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ اضطراب اور ڈرامے سے عبارت رہی ہے۔ تازہ بے چینی یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی معاشی، خارجی اور داخلی معاملات پر ناکامی کے خلاف مولانا فضل الرحمٰن آزادی مارچ اور دھرنے کے لیے یکسو ہیں، پیپلز پارٹی…

Read more

مجھے ہے حکمِ اذاں۔۔۔۔ اور قائد کا خواب

آزادیِ کو تہتر برس کا عرصہ گزر چکا ہے۔ خطہ زمین آزاد ہوا لیکن کیا اس پربسنے والے انسان بھی آزاد ہیں؟ جمہوریت، معاشی و سماجی انصاف، فرد اور اس کی رائے کی آزادی جنھیں ریاست کے بانی نے ریاست کے لازمی اجزاء قرار دیا تھا آج تک مکمل شکل میں نافذ نہیں ہوسکے ہیں۔…

Read more

قانون پر فوری عمل درآمد کی چند مثالیں

قانون کی موٹی موٹی کتابیں جرائم کی سزاؤں کی شقوں سے بھری پڑی ہیں۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے بارے میں قانون موجود نہ ہو لیکن اس پر عمل در آمد کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ برسوں پہلے انڈیا کی ایک آرٹ فلم ”کملا“ دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ فلم کا…

Read more

حکومت کی انتظامی اور اقتصادی پالیسیوں کے ابہام

حکمت تدبر، فراست اور زمینی حقائق سے آگہی سے محروم جو ٹولہ حکومت کی تہمت لیے اپنے لیے تو جو کررہا ہے سو کررہا ہے اس کی مشقِ سیاست میں وطنِ عزیز کی عوام کے مسائل میں کمی ابھی تک دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ ابہام اور تذبذب کی جو کیفیت حکومت کے انتظامی اور…

Read more

فرخ سہیل گوئندی کی کتاب لوگ در لوگ

فرخ سہیل گوئندی کے بارے میں یہ لکھنا آسان ہوگا کہ وہ کیا نہیں ہیں۔ فرخ سہیل گوئندی ایک کٹر سیاسی نظریاتی کارکن، دانشور، مصنف، کالم نگار، شاعر، سیاح، پبلشر اور ایک نظریاتی شخصیت ہیں۔ فرخ سہیل گوئندی کے کان میں سوشلزم کی اذان بھٹو صاحب نے دی اور وہ اس ازان پر لبیک کہتے…

Read more

فلک نے اُن کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں!

آدھی رات کا وقت تھا اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر صاحب آنکھوں میں نیند کے باوجود اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے موجود تھے۔ اچانک ان کے اسٹاف نے انھیں آکر بتایا کہ ایک مریض ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اپنے کمرے سے سے وارڈ میں پہنچے تو ہیضے کے باعث بارہ تیرہ سال کا ایک بچہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا۔ بچے کا باپ بھی حُلیے سے ایک غریب محنت کش لگ رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے فوری طور پر علاج شروع کیا اور کچھ دیر بعد بچے کی حالت سنبھلنے لگی۔

Read more

عمران خان کو مڈ ٹرم انتخاب کے بارے میں سوچنا چاہیے

قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری خطاب کررہے تھے انہوں نے ناقص کارکردگی پر کابینہ میں کی جانے والی ردو بدل پر خوب دل کی بھڑاس نکالی اور آخر میں وزیر اعظم عمران خان کو ایک بار پھر سلیکٹڈوزیراعظم کہہ ڈالا اور ستم یہ کیا کہ ساتھ ہی نا اہل اور نالائق بھی کہہ ڈالا۔ حکومتی بنچوں سے ردِ عمل شدید احتجاج متوقع تھا لیکن سب سے زیادہ لال پیلے عمر ایوب ہوئے اور اس قدر ہوئے کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہے تھے۔

Read more

سر سید احمد خان ایک متنازع ہیرو؟

چندروزقبل سوشل میڈیا پر ایک صاحبِ لیاقت نے پوسٹ لگائی جس پر درج تھا ”خدا کا شکر ہے کہ اب مسلمانوں میں ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ جیسے غدار پیدا ہونے بند ہوگئے ہیں اور میر جعفر اور میر صادق جیسے محب وطن اور قوم کے بہی خواہ پیدا ہورہے ہیں جو سرکار برطانیہ کے…

Read more

زمیں کے زخم آج بھی بھٹو کو پکارتے ہیں

جون 1966 ء میں پہلے فوجی آمر ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو وزارتِ خارجہ سے برطرف کیا تو عام خیال یہی تھا کہ ان کا سیاسی سفر ختم ہوگیا ہے۔ بھٹو بے پناہ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے اور انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو نہایت ذہانت اور جرات سے ایوب خان کے…

Read more

کلدیپ نائر کے خاکے۔ ٹیپو سلطان، بہادر شاہ ظفر اور عمران خان

مشہور و معروف بھارتی صحافی کلدیپ نائر 23 اگست 2018 کو وفات پا گئے تھے۔ انہوں نے تقریبا چھیانوے برس کی عمر پائی۔ وہ پاک بھارت تاریخ کے اہم واقعات کے چشم دید گواہ تھے۔ انہوں نے 1950 ء میں ایک اردو اخبار کے رپوٹر کے طور پر اپنے صحافتی کیریر کا آغاز کیا۔ لیکن بعد میں انہوں نے یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا سے منسلک ہونے کے بعد انگریزی صحافت کو اختیار کیا۔ کلدیب نائر اسٹیٹس مین۔ دہلی کے ایڈیٹر رہے مگر ان کی طویل وابستگی انڈین ایکسپریس کے ساتھ رہی۔

Read more