ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں مزدور تحریک منظم بھی تھی اور پر اثر بھی۔ ملک میں مہنگائی کا مسئلہ ہو، بے روز گاری کی بڑھتی ہوئی شرح ہو، سامراج کا تسلط ہو، کشمیر کا مسئلہ ہو یا اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ، پاکستان کے مزدور ان تمام مسائل پر سڑکوں پر آتے اور حکمرانوں کو مسائل کے حل پر مجبور کرتے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مزدور تحریک نے اپنا نظم بھی کھو دیا اور اثر بھی۔ مزدور تحریک کے زوال کے اسباب میں اگر چہ مزدور بھی ایک حد ذمہ دار ہیں، لیکن سامراج اور اس کے حاشیہ برداروں نے بھی اپنا پورا کردار ادا کرتے ہوئے، ایسی پالیسیاں بنائیں، جن سے مزدور تحریک تنزلی کا شکار ہوتی رہی۔
اس تمام واقعے میں بنیادی کردار افغان جنگ کا ہے، جس میں فوائد تو ملکی اشرافیہ اور بین الاقوامی ٹھیکداروں نے سمیٹے، لیکن پاکستان کے عوام اور مزدوروں کے حصے میں نقصان ہی آئے اور نقصان کا یہ سلسلہ آج بھی اسی طرح سے جاری ہے۔ مہنگائی اور بے روز گاری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی بنیادی ترجیح کشکول اور پرائی جنگیں لڑنا رہی ہیں۔ ملک میں صنعت اور تجارت کا فروغ کبھی بھی بنیادی ترجیح نہیں رہا، اور ظاہر ہے کہ جب ’آمدن‘ کی یہ مدیں ختم ہو جاتی ہے تو خزانہ خالی اور عوام بد سے بد حال ہوتے چلے جاتے ہیں۔
Read more