Ministry of Lessons Learnt

گزشتہ سال معروف بھارتی مصنفہ ارندھتی راے کا ناول The ministry of utmost happiness شائع ہوا۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار اپنے ہمسایے ممالک سے کئی درجے زیادہ خوش و خرم ممالک میں ہوتا ہے۔ اب یہ خوشی کس بات کی ہے یہ پتہ لگانا ابھی باقی ہے۔ لیکن خوشی کے معاملے میں ہماری خود مختاری کو دیکھ کر یہ ثابت ہوتا ہے کہ فل حال ہمیں انبساط، مسرت یا خوشی کی وزارت کی ضرورت نہیں تاہم ملکی حالات اور ہماری گزشتہ ستر سالوں کی کارگردگی دیکھتے ہوے ایک عدد Ministry of Lessons Learnt کی گنجائش نکالی جا سکتی ہے
یوں تو تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کے تاریخ اور ماضی سے کوئی بھی سبق حاصل نہیں کرتا لیکن جہاں اتنی بہت سی وزارتیں ہیں ایک اور سہی وزارت اسباق کے چند تحقیقی پروجیکٹس
تین وزیر اعظم کے قتل سے حاصل ہونے والے سبق۔
دہشت گردی کے خلاف ہونے والی جنگ سے سبق۔
اسامہ بن لادن کی دریافت سے حاصل ہونے والے سبق۔
ملک میں لگنے والے چار مارشل لاء سے حاصل ہونے والے سبق۔
بھارت کے ساتھ تین جنگوں سے حاصل ہونے والے سبق۔
پولیو کے خاتمے میں تاحال ناکامی سے حاصل ہونے والے سبق۔
سانحہ اے پی ایس سے حاصل ہونے والے سبق۔
ملک میں کرکٹ، ہاکی، اسکواش کے زوال سے حاصل ہونے والے سبق۔
پانی کے ذخائر میں کمی اور راوی، جہلم اور ستلج کی حالت سے حاصل ہونے والے سبق۔
سانحہ قصور اور زینب کی موت سے حاصل ہونے والے سبق۔
میڈیا کی سنسنی پھیلاتی خبروں اور بریکنگ نیوز کے خبط سے حاصل ہونے والے سبق۔
سالوں سے مذہبی فرقہ واریت سے حاصل ہونے والے سبق۔
ذرائع مبادلہ اور روپے کی قدر میں بے پناہ کمی سے حاصل ہونے والے سبق۔
سٹیل مل اور پی آئی اے سمیت اہم قومی اداروں کی زبوں حالی سے حاصل ہونے والے سبق۔
چاہیں تو فہرست اور طویل ہو سکتی ہیں لیکن اگر سارا کام ہم نے کر دیا تو وزارت کیا کرے گی۔ ایک سالانہ رپورٹ یہ بھی ہونی چاہیے وزارت اسباق کی کارکردگی سے حاصل ہونے والے سبق۔

