پاکستان کی مدر ٹریسا اور اسلام آباد کا نیا ائیرپورٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سکندر اعظم اور پوپ جان پال دوم میں اور کوئی قدر مشترک ہو یا نہ ہو تاہم اتنا ضرور ہے کہ یہ دونوں وہ منفرد شخصیات ہیں جن کے نام سے دنیا کے دو مختلف ممالک میں ائیرپورٹ موجود ہیں۔ سکندر اعظم کے نام پر یونان اور مقدونیہ جب کے پوپ کے نام پر پرتگال اور پولینڈ میں ہوائی اڈے موجود ہیں۔

معروف شخصیات کے نام پر ہوائی اڈوں کے نام رکھنا اب ایک روایت کا حصہ بن چکا ہے۔ تاہم اگر دنیا کے ہوائی اڈوں کی فہرست پر نظر ڈالیں تو دو چیزیں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ زیادہ تر ہوائی اڈوں کے نام سیاسی شخصیات اور رہنماؤں کے گرد گھومتے ہیں چناچہ نیویارک کا جے ایف کے، استنبول کا اتاترک، کراچی کا جناح انٹرنیشنل، نیروبی کا جومو کنیاتا، تل ابیب کا بن گورن اس کی چند مثالیں ہیں۔ دوسرا اہم پہلو خواتین کے نام پر ہوائی اڈوں کی تعداد کل کے مقابلے میں بے حد قلیل ہے۔ دہلی کا اندرا گاندھی، اسلام آباد کا بینظیر انٹرنیشنل، سپین میں ملکہ صوفیہ ائیرپورٹ اور البانیا میں موجود مدر ٹریسا کے نام سے ائیرپورٹ چند مثالیں ہیں۔

ایک دلچسپ روایت سکندر اعظم کی طرز پر معروف فوجی جرنیلوں کے نام سے ائیرپورٹ ہیں۔ چانچہ چلی میں موجود جنرل برناڈو، ارجنٹائن کا جنرل جسٹو انڈونیشیا کا سوکارنو ۔ ہتا اور امریکہ کا جارج واشنگٹن ائیرپورٹ اسی روایت کا تسلسل ہیں۔ منگولیا کا سب سے بڑا اور دارلحکومت سے تقریباً بیس کلومیٹر دور چنگیز خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ بھی فوجی حکمرانوں کے نام پر ائیرپورٹ کے تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ تاہم اس ضمن میں میکسیکو کا جواب نہیں جہاں پر جنگ آزادی سے منسلک فوجی جرنیلوں کے نام سے پورے ملک میں دس کے قریب ائیرپورٹ موجود ہیں۔

چند غیر سیاسی ناموں کے حوالے سے فٹ بال کے معروف کھلاڑی رونالڈو کے نام سے پرتگال کا ایک ائیرپورٹ، مراکو میں واقع ابن بطوطہ ائیرپورٹ، اٹلی کا گللیلو ائیرپورٹ، بلغاراد، سربیا کا ٹیسلا ائیرپورٹ اور آسٹریا کا موزارٹ ائیرپورٹ وغیرہ شامل ہیں۔

ایک بات تو واضح ہے کہ وہ افراد جو اپنی قوم اور ملک کے لئے بڑھ چڑھ کر کام کرتے ہیں ان کو خراج تحسین پیش کرنے کا یہ ایک معتبر طریقہ ہے کے ائیرپورٹ کو ان کے نام سے موسوم کر دیا جائےلیکن وہ افراد جو کام تو بیحد کرتے ہیں لیکن پس منظر میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان کو ائرپورٹ کے نام رکھتے ہوے بھی پس منظر میں دکھیل دیا جاتا ہے۔

اب جب ہمارے ملک میں اسلام آباد کے نئے ائیرپورٹ کا چرچا ہے تو دوبارہ سے سیاسی شخصیات محترمہ بینظر بھٹو اور معروف سماجی کارکن ایدھی صاحب کا نام لیا جا رہا ہے۔ لیکن اب وقت ہے کہ سامنے نظر آنے والی چکا چوند سے نظر ہٹا کر پس منظر میں رہ کر کام کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے۔ اگر ایدھی صاحب سماجی کام کرنے کے حوالے سے ایک کامیاب ترین شخص تھے تو اس کامیابی کے پیچھے یقیناً بلقیس ایدھی صاحبہ کا ہاتھ تھا۔

لہٰذا اسلام آباد ائیرپورٹ کا نام  خاموشی سے کام کرنے والی ایک باہمت خاتون سماجی کارکن بلقیس ایدھی کو خراج تحسین پیش کرنے کا ایک نادر موقع ہے۔ برسوں بعد اگر امریکا یا یورپ کے ائیرپورٹ پر اسلام آباد آتے ہوے کوئی غیر ملکی آپ سے پوچھ بیٹھے کہ یہ بلقیس ایدھی کون تھیں تو آپ فخر سے مختصراً بتا سکیں کہ بلقیس ایدھی پاکستان کی مدر ٹریسا تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •