رابرٹ فراسٹ، بوڑھا شخص اور جاڑوں کی رات


رابرٹ فراسٹ فطرت کی خوبصورتی سے متاثر ضرور ہوتا ہے لیکن برطانوی شاعر ولیم ورڈزورتھ کی طرح فطرت کی پوجا نہیں کرتا۔ ورڈزورتھ کے لیےتو ندی کنارے ناچتے پھول یا فصل کاٹتی گانا گاتی اکیلی لڑکی کے نظارے بے حد سحر انگیز ہیں۔ یہ نظارے خوشی کا دائمی ذریعہ ہیں۔ اداسی کے لمحوں میں وہ ان کو یاد کرتا ہے تو اس کا دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ رابرٹ فراسٹ کو فطرت اپنی طرف کھینچتی ضرور ہے لیکن وہ جلد ہی دوسری طرف پلٹ جاتے ہیں۔ فطرت کے نظارے دلکش سہی مگر زندگی کی مجبوریوں میں بھی بلا کی بے رحمی ہے۔
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے
اب بھی دلکش ہے تیرا حسن مگر کیا کیجے (فیض)

زندگی کے اس بے چین مسافر کو ایک طرف سے آرزؤئیں کھینچتی ہیں تو دوسری طرف ذمہ داریاں اس کو سانس نہیں لینے دیتیں۔
ڈبلیو ایچ ڈیویس کی نظم Leisure میں بھی کچھ ایسے صورتحال کو بیان کیا گیا ہے کہ ’ ہمارے پاس وقت نہیں ہے کہ ہم تھوڑی دیر کھڑے ہو کر دیکھ سکیں‘۔ جدید دور کے انسان کے پاس اتنا وقت بھی نہیں ہے کہ وہ کچھ فرصت کے لمحے جی سکے۔ البتہ گائیں بھینسوں کو یہ عشرت میسر آ جاتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ رابرٹ فراسٹ کی شاعری میں یاس و نا امیدی کی فراوانی ہے اور مسرت و شادمانی کا فقدان نظر آتا ہے۔ رابرٹ فراسٹ ایک حقیقت پسند شاعر ہے جو زندگی کی حقیقی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس نے یاس و نا امیدی کے یہ رنگ اپنے پلے سے نہیں ڈالے۔ زندگی کے اس پہلو کا رونا تو حضرت انسان روتا ہی رہتا ہے۔ ولیم شیکسپئیر اپنے ڈرامہ ’میکبیتھ‘ میں لکھتا ہے کہ ’زندگی ایک دیوانے کی سنائی ہوئی داستاں ہے جو شور و غصے سے بھری ہوئی ہے۔ جس کا کوئی مطلب ہی نہیں۔ ‘
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

بوڑھا شخص تھک چکا ہے لہذا وہ فارم ہاؤس کو چاند کے حوالے کر دیتا ہے اور سو جاتا ہے۔ اور کرے بھی تو کیا کرے؟ نظم کی آخری سطروں میں ہے کہ ’ایک عمر رسیدہ شخص، اکیلا شخص گھر کی یا فارم کی رکھوالی نہیں کر سکتا۔ اگر کر سکتا ہے تو اس بوڑھے آدمی کی طرح ہی کر سکتا ہے‘۔

رابرٹ فراسٹ کی نظموں میں نیند کا ذکر بار بار ملتا ہے جو موت کی علامت بھی ہے۔ After apple picking میں کسان سیب توڑتے توڑتے تھک چکا ہے اور سونا چاہتا ہے۔ اس نے اچھی فصل کی آرزو کی تھی۔ سارا دن سیب چنتے گزر گیا۔ اب شام ہو چکی اور کچھ ڈرم ابھی خالی پڑے ہیں۔ کچھ شاخوں پہ خال خال سیب بھی رہ گئے۔ لیکن کسان کہتا ہے اب بہت چنائی ہو چکی۔ کتنی عجیب بات ہے کہ کسان کو وہی فصل تھکا دیتی ہے جس کی اس نے خود آرزو کی تھی۔ انسان بھی عجب شے ہے۔ جس چیز کو شدت سے چاہتا ہے اس کے حصول پر اسی چیز سے اکتا جاتا ہے۔

رابرٹ فراسٹ کی نظموں میں انسانی زندگی کی بے ثباتی کا گہرا احساس ملتا ہے۔ یہ عالمگیر احساس ہے جو دنیا کے ہر کونے میں بسنے والے ہر انسان کے من میں پلتا رہتا ہے۔ رابرسٹ فراسٹ کی شاعری دنیا کے ہر انسان کے احساسات کو زباں بخشتی ہے۔ Nothing gold can stay میں وہ لکھتا ہے کہ‘آج کا سورج بھی ڈوب گیا ہے۔ کوئی بھی چیز ہمیشہ کے باقی نہیں رہتی‘۔

رابرٹ فراسٹ کی ہر نظم میں قاری کے لیے انمول موتی ہیں۔ زبان اتنی آساں کہ میرے ایسا دیہاتی بھی سمجھ سکتا ہے۔ کردار و واقعات اتنے جانے پہچانے کہ لگتا ہے ہماری ہی بات ہو رہی ہے۔ میرے دوست کو رابرٹ فراسٹ کی شاعری اس لیے پسند ہے کہ اس میں دیہات، فصلیں، کھیت کھلیان، کسان، جنگل اور فطرت کے نظارے ہیں۔ وہ کہتا ہے ’رابرٹ فراسٹ کی شاعری سے مٹی کی خوشبو آتی ہے‘۔


صفحات: 1 2

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 81 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti