پشتون قوم کو موجودہ دور میں اپنی بقا کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کا دور ذہانت کا اور ورچوئل کنٹیوٹی کا دور ہے۔ اس دور میں اپنی بات پہنچانے کے لیے ذہانت اور علم درکار ہے۔ جو اہمیت دلیل اور عقلی توجہہ کو حاصل ہے وہ بندوق نہیں ہو سکتی۔ ایک سوال اکثر کیا جاتا ہے کہ پشتون لوگوں کے پاس خود کو سماج کا اہم جزو ہونے کو ثابت کرنے کے لیے بصیرت کی بجائے بندوق کیوں ہے؟

پشتون قوم اپنے پشتون ولی کوڈ کا مکمل مجسم ہیں۔ پشتون لفظ پانچ خوبیوں کا مخفف ہے۔
پخت۔ خودی یا فخر
خاگیرہ۔ بھلائی
تورہ۔ بہادری
وفا۔ وفاداری

ننگ۔ عزت و غیرت جو بنیادی خوبی ہے۔

اس میں مزید چار خوبیاں شامل کی گئی ہیں۔
بادل۔ بدلہ، خاندانی دشمنی
میلماستہ۔ مہمان نوازی
نانہ وٹے۔ رحم اور امن کی دعا
جرگہ۔ قبیلے کے بڑوں کا گروہ جو اسلامی اور پشتون روایات کے مطابق فیصلے لیتا ہے۔

پشتوں آئیڈیل ایسا ماڈل نہیں ہے جو عالمی امن کی تحریک ہو۔ یہ قرون وسطی کا رنگ لیے ہوئے ہےاور جدید ترقیاتی سوچ سے ہم اہنگ نہیں ہے۔ پشتون ولی کوڈ کو شریعہ کے ساتھ ملا دیا جائے تو آئیڈیل جہادی وجود میں آتا ہے۔

پشتون کوڈ مکہ کے صحرا میں بسنے والے عربوں کی روایات سے مماثلت رکھتا ہے۔ پشتون کوئی تبدیلی نہیں چاہتے وہ وراثتی طور پہ صحرا کے پیغام کی طرف رحجان رکھتے ہیں۔ اگر عرب بدل سکتے ہیں تو ان کے فطری طور پہ مماثلت رکھنے والے قدرتی کزنز پشتون کیوں نہیں بدل سکتے۔

اوپر بیان کیےگئےکوڈ میں بندوق اور غصہ اہم جزو ہے۔ یہ پشتون قوم میں صدیوں میں پروان چڑھایا گیا ہےاور پشتوں ذہنیت کاحصہ بنایا گیا ہے۔ تاریخ کا شارٹ کٹ ضرر رساں ہے اور غصہ کے حوالوں کو پس منظر سے ہٹا کر بتانے والی بات ہے۔ بہت سےغلط عام نظریات کو اکٹھا کر لیا جائےتو پتھر کے دور کو بدلے بغیر امن کے پروان چڑھنے کو سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

فکری ترقی اور نشاتہ ثانیہ کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے جو پشتون کوڈ کے زیر اثر رہنے والی قوم میں جاری رہتا، انہوں نے جدید علم کے دور سے خود کو الگ کرکےخود کو اس علم سے محروم رکھا ہے۔ ہم انسان اب جنگل کے قانون میں نہیں رہ رہے۔ ہم گلوبل ویلیج میں رہتے ہیں جو علم اور دانائی کی دنیا ہے ہمیں اپنے انداز فکر کوسائبر دنیا اور کوانٹم فزکس کے حقائق کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ پرانی بوسیدہ خیالی اپنی تباہی اور حتمی خاتمے کی طرف لے جاسکتی ہے۔

ایک بڑے مکالمے کی ضرورت ہے کہ اسے پشتون اپنائیں اور خود کو جدید حقائق اور ضروریات کے مطابق ڈھالیں ہزاروں سال پہلے کے سوچ میں بہتری لا کر علم، امن اور گلوبل ویلیج کا حصہ بنیں۔

یہ افسوس ناک ہے کہ پچھلی پانچ دہائیوں سے پشتون معاشرہ۔ پشتون ولی کوڈ کو بغیر بصیرت اور علم کے اپنائے ہوئے۔ اس میں تور یعنی قتل، ننگ یعنی غیرت، بہادری، بادل یعنی بدلہ، وفا یعنی وفاداری، مستاملیہ یعنی مہمان نوازی، یہ مہلک مجموعہ پشتونوں کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔

1978میں روسی حملہ ننگ یعنی غیرت کی بے ادبی کے طور پہ دیکھا گیا جو قوم کی غیرت پہ حملے کے مترادف ہے۔ ملا عمر نے وفا کی حفاظت کی ذمہ داری لی۔ پھر 9/11کے واقعے کے بعداسامہ کوجو کہ ایک دہشت گرد اور ان چاہا مہمان تھا اس کی حفاظت کے لیے سب کچھ تباہ کر دیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آج کے دور میں جامعہ بنوریہ اور جامعہ حقانیہ کی تعلیم کی بجائے جدید تعلیم کی ضرورت ہے آج کے دور میں جنگ ٹیکنالوجی اور ترقی کی ہے نہ کہ قتل و غارت گری کی۔ جس شعبے میں نام پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہ سائنس کا شعبہ ہے۔ تاریخ اٹھائیں اور دیکھیں کہ کتنے اس علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگ سائنس میں نام پیدا کر پائے۔ نتیجہ افسوسناک نکلے گا۔

اب اگر ظلم کی بات کی جائے تو ظلم ظلم ہی کہلاتا ہے اسے رنگ، نسل، ذات، قوم و مذہب کے حوالوں سے نکل کر دیکھنا چاہیے۔ اس ظلم کا شکار آسیہ مسیح ہو، مشال خان ہو، نقیب اللہ محسود ہو یا سلمان تاثر اس کو کسی طور سے جسٹیفائی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اسے دائروں میں قید کیا جائے تو ایک طرح کی مخالفت جنم لے گی۔ ذرا تاریخ پہ نظر ڈالیں پشتون علاقہ نےحملہ آور پیدا کیے اس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ ایک ہزار سالہ حملہ آوروں کی تاریخ جو غزنوی سےابدالی تک محیط ہے اسے اسلام کے سنہرے جہادی دور کی بنیاد سمجھتے ہیں۔

ہندوستان میں جب کافروں کی سر کی فصل پک جاتی تھی گویا ان کو کاٹنے کی ذمہ داری پشتوں حملہ آوروں کی عطا کر دی جاتی تھی۔ انہیں روایات کی سنہری مثال سومنات پہ سترہ حملے ہیں جن کی معافی مانگنا توہین سمجھا جاتا ہے۔

اب دیکھا جائے تو پشتون قوم پہ ہونے والی زیادتیوں کا ملبہ پنجاب پہ ڈالا جا رہا ہے۔ لیکن کیا اس کو کسی ایک قوم پہ الزام ڈال کے کہا جاسکتا ہے کہ اس سب کی ذمہ دار وہی قوم ہے۔ جواب نہیں میں ہوگا۔ آج کے دور میں تحریک چلانے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات کو واضح کیا جائے اور بہت ہی سنجیدہ انداز میں اپنی بات پہنچائی جائے تاکہ بغیر ابہام کے اسے سنا جاسکے۔ اگر اس کے پس منظر میں ایسی مدد حاصل کی جاتی ہے جو دہشت گرد پیدا کرنے کے حوالے میں نام رکھتی ہو تو یہ اپنی بات کے اثر کو ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔

پشتون معاشرے کو اپنے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ دوسروں کو اس ناسور کا ذمہ دار ٹھہرائے بغیر جو ان میں پراون چڑھ رہا ہے۔ آج کے دور میں یہ سچائی جاننے کی کہ یہ دور عقل و دانش کا دور ہے اور اپنی بنیادی خوبیوں کے ساتھ ساتھ جدید دور کے علم اور کوانٹم فزکس کے اصولوں اور تیزی سے بدلتی سائیبر دنیا کے ہم قدم ہونے میں ہی بھلائی ہے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی بات مناسب اور مدلل انداز میں دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •