منظور پشتین، تم غدار ہو


بزرگوں کے میران شاہ اور پاڑہ چنار میں گزرے وقت کے توسط سے پہنچی کہانیوں نے میرے ذہن میں قبائلی لوگوں کا خاکہ کچھ ایسا بنا دیا تھا۔ سادہ، معصوم، مخلص اور پیار کرنے والے۔ اسی لئے تمہاری تصویر دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا کہ تم سا مکار، گھاگ، خرانٹ نظر آتا نوجوان قبائلی کے بھیس میں دشمن کا ایجنٹ ہی ہو سکتا ہے۔

دیکھو میاں، تم جو عزت اور احترام کا شور مچا رہے ہو، یہ سب آزادی سے پہلے کی باتیں تھیں۔ اب یہ مسائل حل ہو چکے ہیں۔ تقسیم سے پہلے، (شاید) لائل پور کے ایک مشاعرے میں اختر شیرانی نے یہ قطعہ پڑھا تھا۔

منّعم کو محبت کے پیام آتے ہیں

نادار کو کس وقت سلام آتے ہیں

گذرتے ہیں جس سمت میرے اہلِ وطن

ہوتے ہیں اشارے کہ غلام آتے ہیں

کیا آج بھی ایسی صورتحال ہے؟ میرے ملک میں بھائی چارے کے ماحول میں کیا کوئی چھوٹا یا بڑا سرکاری ملازم اپنے کسی ہم وطن کو غلام سمجھتا ہے؟ ملک کو چھوڑو، کیا دنیا میں کوئی بھی میرے کسی ہم وطن کو حقارت سے دیکھنے کی جرأت کر سکتا ہے؟ کیا کسی میں ہمت ہے کہ میرے آزاد ملک کی خودمختاری کا ٹھٹھہ لگائے؟ چین جیسی طاقت کے انجنئیرز واپس بھیج دیئے یا نہیں؟ ابھی کل ہی کی بات ہے۔ میاں، آزادی کے بعد اپنے ملک کے اندر تو عزیز ہم وطنو کو جو احترام میسر آیا اس کے کیا قصے سناوُں، کبھی تم برادر اسلامی ملک سعودی عرب جا کر دیکھو کہ میرے ملک کی ہر نوعیت کی سرحد کے محافظوں کے کارناموں کی بدولت قومی وقار اور ہماری اجتماعی عزتِ نفس کو کتنی تقویت ملی ہے۔ جہاز سے اترتے ہی اگر تمہیں اپنے پاکستانی ہونے پر فخر نہ ہو اور بہت دن تک جس شکریہ کا ہم نے ورد کیا اگر اسی ورد کے ساتھ وہاں کے سپاہی تمہارا خیر مقدم نہ کریں تو پھر گلہ کرنا۔

اتفاق دیکھو کہ جس دن وطنِ عزیز میں دنیا کا سب سے مطلوب شخص مارا گیا، میرا اسی دن اس برادر ملک جانا ہوا۔ تم سمجھ رہے ہو گے کہ وہاں کسی نے مجھے اس شخص کی میرے ملک میں موجودگی پر کوئی طعنہ دیا ہو گا۔ ہر گز نہیں۔ پہلے ہی افسر نے سبز پاسپورٹ دیکھتے ہی اس قضیئے میں ہمارے قومی کردار کو اتنا سراہا کہ تعریف کی کثرت سے میرا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔ اور دنیا کیوں نہ عالمی امن کے لئے ہماری کوششوں کو سراہے؟ اگر ہم اسے اتنا عرصہ نظر میں نہ رکھتے تو وہ نجانے اور کیا گل کھلاتا!

اور اب اپنے ملک کی سنو۔ دیکھو بچے، میں سارے ملک کی نہیں تمہیں صرف پنجاب کی مثال دوں گا۔ میں نے بچپن لاہور میں گزارا اور 80 کی دہائی میں جب کبھی فورٹریس سٹیڈیم یا لاہور ریلوے سٹیشن وغیرہ جانا ہوا تو تمہارا کیا خیال ہے کہ وہاں میری اور میرے وطن کی حفاظت پر مامور شیردل جوانوں نے اپنے حقِ حکمرانی کا رعب جمایا ہو گا یا کبھی میری عزتِ نفس کو مجروح کیا ہو گا؟ قطعاً نہیں۔ کل کو پنجاب سے اٹھا کوئی تمہاری طرح کا غدار یہ منجن بیچے کہ لاہور میں لگے ناکوں اور پنجاب کی بہت سی چھاؤنیوں پر تعینات میرے غازی اپنے ہم وطنوں کو ہمہ وقت بلڈی سویلین ہونے کا احساس دلاتے ہیں اور یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ بچے اور خواتین ہیں تو یہ سراسر جھوٹ ہو گا۔ میں خود اس کا گواہ ہوں کیونکہ میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا۔ نہ لاہور میں، نہ اوکاڑہ میں، نہ راولپنڈی میں، نہ سیالکوٹ میں۔ نہ ہی کسی چھاؤنی کی چیک پوسٹ کراس کرتے کبھی یوں لگا کہ جیسے میں سرحد پار کر رہا ہوں یا منظر یوں بدلا کہ جیسے میں ای۔ ایم۔ فارسٹر کے چندراپورمیں ہوں جہاں ایک طرف مقامی لوگ بستے ہیں اور دوسری طرف انگریز۔ پھر میں کیسے مان جاؤں کہ میرے غازیوں کی آنکھوں کا پانی اتنا مر گیا ہے کہ اس حسن سلوک کا عشرِ عشیر بھی باقی عزیز ہم وطنو سے نہ کر سکیں۔

تم غدار سہی، بزرگوں کے تمہارے علاقے سے ایک رشتے کے حوالے سے پھر بھی تمہیں اپنا بچہ جان کر سمجھاتا ہوں۔ (اب یہ مت سوچنا کہ میں تمہیں پیٹرانائز کر رہا ہوں)۔ تم نہیں جانتے کہ حب الوطنی کیا ہے۔ دیکھو، حب الوطنی کے معنی مٹی یا لوگوں سے محبت نہیں۔ ایسا کرنا تو عین غداری ہے۔ ابھی چند روز پہلے ہی تو تمہارے طفیل تمام ملک کو یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ اتنی جلدی تاریخ نہ بھولا کرو۔ لیکن تم بھول گئے ہو کہ غدار بنگالیوں نے بھی تو اپنی مٹی سے محبت کا دعویٰ کیا تھا اور تمہاری طرح عزت مانگی تھی۔ میاں، حب الوطنی کے اصل معنی ہیں سرکار سے وفاداری۔ سرکار پس پردہ ہو یا سامنے، گورے انگریز کی ہو یا کالے انگریز کی، یزید کی ہو یا حسین کی یہ بے معنی ہے۔ تمہارے جیسے اور بہت سے نادان یہ نہ سمجھ سکے۔ تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی تکرار اور احمد فراز کی زبان درازی میں کیا فرق ہے؟ وہ بھی تو میرے وطن کے فرزندوں کو، جو ہٹاں تے نئیں وکدے، پیشہ ور قاتل کہتا تھا۔ اگر آج زندہ ہوتا تو کہاں منہ چھپاتا جب دیکھتا کہ کس ولولے سے میرے دلیر اکہتر کو شرمانے پر تیار ہیں؟

اب ایک اور غدار کی سنو جس نے کبھی کسی سرکار سے وفاداری نہ نبھائی۔ ہاں جب مشاعرے میں جاتا تھا تو لوگ جالب، جالب کا شور مچا دیتے تھے۔

حسیں آنکھوں، مدھر گیتوں کے سندر دیس کو کھو کر

میں حیراں ہوں وہ ذکر وادئ کشمیر کرتے ہیں

اگر وہ آج زندہ ہوتا تو کتنا شرمندہ ہوتا یہ دیکھ کر کہ کیسے ایک سیاسی مسٔلے کو عسکری مسئلہ بنا کر میرے غازی کشمیری بھائیوں کو آزادی سے ہمکنار کرنے والے ہیں۔ آج دنیا میں ہر فورم پر اس پر بات ہو رہی ہے۔ صرف تم اور تم جیسے غدار اسے پراسرار بندوں کی کامیابی نہیں سمجھیں گے۔

لگے ہاتھوں اس روس نواز، اشتراکی فیض احمد فیض کا قصہ بھی سن لو۔ ہر عظیم سپہ سالار سے جھگڑتا وہ آدھی زندگی زنداں کے نام کر گیا۔ جھوٹ کے بیوپاری بتاتے ہیں کہ جب وہ دل میں خون ہوئیں ان گنت حسرتوں کا واویلا کرتا اس جہاں سے چلا تو ایک دنیا اسے رخصت کرنے آئی تھی۔ اگر ایسا ہو بھی تو میرے عظیم سپہ سالاروں کی رخصتی سے کیا مقابلہ۔ تم تو تب پیدا نہیں ہوئے ہو گے، لیکن اپنے بڑوں سے پوچھنا محترم جنرل ایوب خان صاحب، محترم جنرل یحییٰ خان صاحب، اور محترم جنرل ضیاء الحق صاحب کو شان سے رخصت کرنے کیسے ایک عالم امڈ کر آیا تھا۔ آج بھی ان کی آخری آرامگاہوں کی رونق ان کی انسان دوستی اور عظمت کی گواہی دیتی ہے۔ ڈی۔ ایچ۔ لارنس نے اپنے ناول دا پلیومڈ سرپنٹ (The Plumed Serpent) میں لکھا کہ زندہ لوگوں کے دل ہی گزر گئے لوگوں کے لئے جنت ہوتے ہیں۔ میرے وطن کے عظیم سپہ سالاروں نے عزیز ہم وطنو کے دلوں میں جگہ بنائی ہے۔ میرے قابلِ صد رشک رہبرِ اعظم مرد مومن مرد حق محترم جنرل ضیاء الحق صاحب کے دور میں تو انسانیت، بھائی چارے اور عدل و انصاف کا وہ نظام قائم ہوا کہ انسان تو انسان، بلیاں اور کتے بھی امن و محبت سے رہنے لگے۔ حضرت کے عدل نے صرف لوگوں کے دلوں میں ہی گھر نہیں کیا تھا بلکہ جانوروں کی جبلتوں کو بھی مسخرکر لیا تھا۔ اور یہ مخلوق بھی ان کے عقیدت مندوں میں شامل ہوئی۔ یقین نہ آئے تو کبھی فیصل مسجد جانا اور دیکھنا کہ ان کے مزارِ اقدس پر کون کون سا جانور ان سے محبت میں وہاں بسیرا کئے ہوئے ہے۔

اور اب ان کا حال بھی سنو جو اس رہبرِ عظیم اور پھر درپردہ سرکار سے نہ نبھا سکے، وہی گڑھی خدا بخش میں دفن غدار اور سکیورٹی رسک بھٹو خاندان۔ ان قبروں کی ویرانی دیکھ کرسوچنا کہ مٹی سے محبت کرنے والے لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں یا سرکار کا دم بھرنے والے۔ مجھے یقین ہے کہ ان قبروں کو دیکھ کر تمہیں یہ شعر یاد آئے گا

بر مزارِ ما غریباں نے چراغے نے گلے

نے پرِ پروانہ سوزد نے صدائے بلبلے

تم مٹی سے محبت کے دعویدار اور عزت کے طالب ہو، اس غداری کے سہارے خوابوں کے چمن سجانا چاہتے ہو سو بسم اللہ۔ بات اختر شیرانی سے شروع ہوئی تھی اور انہی کے ایک شعر پر تمام کرتا ہوں۔

چمن میں رہنے والوں سے ہم صحرا نشیں اچھے

بہار آ کے چلی جاتی ہے، ویرانی نہیں جاتی

Facebook Comments HS