کینیڈا کی حکومت نے 1880 میں ریزیڈینشل سکولز قائم کیے تا کہ مقامی ایبوریجنل بچوں کو کینیڈین ثقافت (مراد یورپی مذہبی و سماجی اقدار) سے روشناس کرایا جا سکے۔ یعنی ایک نووارد قوم نے پہلے سے آباد شدہ لوگوں کو خطے کی ثقافت سے آشنا کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا۔
کم عمر ایبوریجنل بچوں کو ان کے گھروں سے جبرا اٹھا کر ان سکولوں میں رکھا جاتا تھا۔ جہاں ان کے نام انجیل مقدس میں موجود انبیا کے ناموں سے بدل دیے جاتے تھے۔ انہیں اپنی مادری زبان بولنے کی اجازت ہوتی اور نہ اپنے پرانے نام پکارنے کی۔ سکول کے وضع کردہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر بچوں کو کڑی سزائیں دی جاتی تھیں۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ بچے ان سکولوں میں لائے گئے۔ نامکمل اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے چھ ہزار کے قریب وبائی امراض، حادثات، نامناسب خوراک، موسم کے مطابق رہائش و لباس کی عدم فراہمی اور جسمانی تشدد کی وجہ سے مر گئے۔ آخری ریزیڈینشل سکول 1996 میں بند کر دیا گیا تھا لیکن وہاں سے پڑھنے والے ذہنی مفلوج ہوئے لوگ آج بھی نظر آتے ہیں۔ تقریباً 140 سال بعد ریزیڈینشل سکولز کا ذکر معذرت اور شرمندگی کی آمیزش کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
Read more