کرکٹ، عمران خان کی سیاست اور استعاروں کی اہمیت

پاکستان اپنی سیاسی تاریخ کے ایک اور ہنگامہ خیز دور سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ بہت سے برسوں کی طرح اب کی بار بھی رونق افروزی کا سامان کرکٹ کے مرد میدان عمران خان کے دم قدم سے ہے۔ عمران خان کی بنیادی وجہ شہرت برطانوی نوآبادیاتی دور کے یادگار کھیل کرکٹ سے وابستگی ہے۔ برطانوی سامراج کے خاتمے کے بعد ، اکثر غیر سفید فام ریاستوں میں جہاں کرکٹ مقبول تھا، وہاں یہ کھیل نسل پرستی اور ’صدیوں کے

Read more

مادری زبان کی اہمیت اور کینیڈا کی ایک بھیانک غلطی

کینیڈا کی حکومت نے 1880 میں ریزیڈینشل سکولز قائم کیے تا کہ مقامی ایبوریجنل بچوں کو کینیڈین ثقافت (مراد یورپی مذہبی و سماجی اقدار) سے روشناس کرایا جا سکے۔ یعنی ایک نووارد قوم نے پہلے سے آباد شدہ لوگوں کو خطے کی ثقافت سے آشنا کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا۔

کم عمر ایبوریجنل بچوں کو ان کے گھروں سے جبرا اٹھا کر ان سکولوں میں رکھا جاتا تھا۔ جہاں ان کے نام انجیل مقدس میں موجود انبیا کے ناموں سے بدل دیے جاتے تھے۔ انہیں اپنی مادری زبان بولنے کی اجازت ہوتی اور نہ اپنے پرانے نام پکارنے کی۔ سکول کے وضع کردہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر بچوں کو کڑی سزائیں دی جاتی تھیں۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ بچے ان سکولوں میں لائے گئے۔ نامکمل اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے چھ ہزار کے قریب وبائی امراض، حادثات، نامناسب خوراک، موسم کے مطابق رہائش و لباس کی عدم فراہمی اور جسمانی تشدد کی وجہ سے مر گئے۔ آخری ریزیڈینشل سکول 1996 میں بند کر دیا گیا تھا لیکن وہاں سے پڑھنے والے ذہنی مفلوج ہوئے لوگ آج بھی نظر آتے ہیں۔ تقریباً 140 سال بعد ریزیڈینشل سکولز کا ذکر معذرت اور شرمندگی کی آمیزش کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

Read more

آئرلینڈ کی لوک کہانی اور ستائیس دسمبر

آئرلینڈ کی لوک کہانیوں میں بینشی (Banshee) نام کی مافوق الفطرت مخلوق کی چیخ اگر کوئی سن لے تو وہ چیخ کسی رشتہ دار کی موت کا پیغام ہو جاتی ہے۔ آئرش لوگ کہتے ہیں کہ بینشی کی چیخ صرف آئرش نسل کے لوگ سن سکتے ہیں۔ لیکن ’درد کا رشتہ‘ نسلی رشتوں سے ’بڑا‘ ہوتا ہے۔

2007 کا موسم سرما مارگلہ کی پہاڑیوں سے اتر کر اسلام آباد میں ڈیرے ڈال رہا تھا۔ نومبر کی دھوپ احباب کے خلوص کی تمازت کم، دوستوں کی سرد مہری زیادہ یاد دلانے لگی تھی۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک زوروں پر تھی اور ’ہم سادہ ہی ایسے تھے کی یوں ہی پذیرائی/جس بار خزاں آئی سمجھے کہ بہار آئی‘ ۔ جیو نیوز کے دفتر کے

Read more

تاریخ بے رحمی سے خود کو دہراتی ہے

کہتے ہیں کہ the more things change the more they stay the same یعنی تبدیلی نظر کے دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ نئے حالات سے جڑی امیدیں صرف ظاہر تک ہی محدود ہوتی ہیں۔ ذرا کریدیں تو معلوم پڑتا ہے کہ یہ سب کبھی پہلے بھی ہو چکا ہے۔ یہی احساس چند روزقبل ریحان فضل کی بی بی سی ہندی کے لئے لکھی تحریر ’سراج الدولہ: وہ شخص جس کے وحشیانہ قتل کے بعد انڈیا میں انگریزوں نے 180

Read more

ارطغرل اور دلی سے آئے پانچ سوار

گئے دنوں کی بات ہے شہر لاہور تیرہ دروازوں میں سمٹ جاتا تھا۔ شام ڈھلے لوگ آنکھیں موندنے کی تیاری کرنے لگے کہ ایک دروازے پر چار گھڑ سوار اور ایک خر سوار نمودار ہوئے۔ سپاہی نے استفسار کیا ’کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟‘ احساس کمتری سے مہمیز ہوئی عجلت سے خر سوار بولا ’ہم پانچوں سوار دلی سے آئے ہیں۔‘

Read more

بے حیا عورتیں، بد دیانت مرد

جانے وہ دن کیا ہوئے جب بے موسم بارشیں عذابِ الہیٰ نہیں ہوتی تھیں بلکہ حاکمِ وقت کی صداقت و امانت پر مہرِ خداوندی ثبت کرتی تھیں۔ زلزلے کے جان لیوا جھٹکے ایک با کردار کے کرسئی اقتدار پر نزول کے جشن میں زمین کی انگڑائیوں سے تعبیر ہوتے تھے۔ خدا معلوم کیا کایا پلٹی ہے۔ فکر و تصور کے سوتے خشک ہوئے یا یہ دورِ وبا بے امکان ہوا کہ داد کی کشید کی کوئی صورت نہ رہی۔ آنگن

Read more

عمران خان چاہیں بھی تو جیسنڈا آرڈرن نہیں بن سکتے؟

انسان اپنے روزمرہ معمول کو اتنی بار دہرا چکا ہوتا ہے کہ وہ خود ایک معمول بن چکا ہوتا ہے۔ معمول میں ڈھلی ہوئی عادات ہمارے کسی شعوری احساس کے بغیر ہمیں ایک مشین کی طرح خود کار طریقے سے کام کرواتی رہتی ہیں۔ اسی لئے انسانوں کے اصل کردار کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی واقعہ ان کے اس معمول کو توڑ دے اور انہیں ایک مختلف صورت حال کا سامنا کرنا پڑے۔ عام انسان ہوں، راہ

Read more

منظور پشتین، تم غدار ہو

بزرگوں کے میران شاہ اور پاڑہ چنار میں گزرے وقت کے توسط سے پہنچی کہانیوں نے میرے ذہن میں قبائلی لوگوں کا خاکہ کچھ ایسا بنا دیا تھا۔ سادہ، معصوم، مخلص اور پیار کرنے والے۔ اسی لئے تمہاری تصویر دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا کہ تم سا مکار، گھاگ، خرانٹ نظر آتا نوجوان قبائلی کے بھیس میں دشمن کا ایجنٹ ہی ہو سکتا ہے۔ دیکھو میاں، تم جو عزت اور احترام کا شور مچا رہے ہو، یہ سب آزادی سے

Read more