خیبر پختونخوا کا مردان میں ایک مثالی جیل خانہ
اگلے بیرک میں گئی تو لگا یہاں تو ضرور کوئی نا کوئی ایسی بات پتا چلے گی کہ لگے کہ جیل ہے تو ایک 302 کی خاتون سے پوچھا کہ ” بی بی کھانا کیسا ملتا ہے“ تو انہوں نے فرمایا
“باجی ہفتے میں دو دن مرغی ملتی ہے“
یہ سوچ کہ مجھے میرے ہاسٹل کا وہ زمانہ یاد آگیا جہاں ہفتے میں ایک دن مرغی ملتی تھی اور اس دن جیسے میس میں قیامت کا سا رش ہوتا تھے۔ ساتھ بیٹھی ہوئی ایک اگلی جوان لڑکی قیدی سے پوچھا
”بہن یہاں کیا کوئی کھیلنے کی جگہ ہے“ تو اٹھے بغیر باہر کی طرف اشارہ کیا کہ
”باجی وہ دیکھو وہ بیڈ منٹن کی جگہ ہے اور یہ سامنے دیکھو کیرم بورڈ پڑا ہے جس کا جو دل کرے وہ وہی گیم کھیلتا ہے“
ان قیدیوں کے ہر سوال پر مثبت جواب آنے کے بعد میں نے سوچا کہ پوچھوں کہ اچھا رشتہ داروں کے ملنے کے دن تو مختص ہوں گے لیکن اس سوال پر بھی حسب معمول توقع کہ برعکس جواب ملا کہ
”ان قیدیوں سے ان کے رشتہ دار ملنے کے لیے ہر روز آسکتے ہیں سوائے ہفتہ اور اتوار کہ“
ایک قیدی نے بتایا کہ“ ہفتے میں دو دن جیل سپرڈنٹ فضل حمید ہم سے ملنے آتے ہیں، ہمارے مسائل سنتے ہیں اور انہیں حل کرنے کی بھی پوری کوشش کرتے ہیں“
اور یوں مجھے یہ احساس ہوا کہ پاکستان کہ جیلوں میں خاص طورپر میں نے چونکہ خیبر پختونخواہ کہ جیل کا سفر کیا تو وہاں اب ایسا کچھ نہیں ہوتا کہ قیدیوں سے چکی پسوائی جاتی ہو، ان سے بڑے بڑے پتھر توڑوائے جاتے ہوں یا انہیں شوربے میں تیرتی ہوئی دال کھلائی جاتی ہو۔ اس کہ برعکس انہیں دنیاوی تعلیم کہ ساتھ ساتھ دینی تعلیم میں قرآن کی تلاوت، تجوید، حفظ اور حدیث بھی پڑھائی جاتی ہے تاکہ کل کو وہ جب جیل سے رہا ہوں تو ایک اچھی اور معیاری زندگی گزارسکیں۔
جیل میں انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تعلیم بھی دی جاتی ہے تاکہ سزا ختم ہونے پر وہ معاشرے کہ ایک مہذب شہری بن پائییں۔

