حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے!


اسلام کی آمد سے قبل پورا عرب جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، کونسی برائی تھی جو وہاں نہیں تھی، بیٹی کی پیدائش ایک بہت بڑا جرم تھا لڑکی کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردیا جاتا تھا۔ اسلام کی آمد سے جہاں علم کی روشنی پھیلی وہیں یہ ظالمانہ رسم بھی ختم ہوگئی۔ آج کے اخبار میں یہ خبر پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ پچھلے 16 ماہ میں 345 نومولود بچوں کو پیدا ہوتے قتل کرکے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا ان میں سے 99 فیصد لڑکیاں ہیں۔

یہ وہ ان چاہے بچے ہیں جو زبردستی اس دنیا میں آجاتے ہیں اور پھر کچرے کے شاپر کی طرح کچرا کنڈی میں پھینک دیے جاتے ہیں، ان کو مارنے کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن ان بچوں کو اپنانے والے ایدھی کی روح ضرور تڑپ اٹھی ہوگی کیونکہ ایدھی نے جھولا مہم ایسے ہی بچوں کے لیے شروع کی تھی جو ان چاہے ہوتے تھے بلکہ ایدھی نے تو ان ماں باپ کے بچوں کو بھی جھولے میں ڈالنے کو کہا جو وقتی مزے اور عیاشی کی صورت میں جنم لیتے تھے اور کچرا گھر مین پھینک دیے جاتے تھے۔ دنیا کی نظر میں یہ حرامی بچے بھی ایدھی پھول کی طرح رکھتے تھے اور ان بچون کو بہت چھان پھٹک کے بعد بے اولاد جوڑوں کو دے دیا جاتا تھا۔ آج ایدھی کی روح تڑپ اٹھی ہوگی۔

ان بے گناہ بچوں کی ہلاکت افسوسناک ہے لیکن اتنی بڑی تعداد میں نومولود بچیوں کی ہلاکت اس بات کی غماز ہے کہ اب بھی لڑکی کی پیدائش باعث شرم اور تکلیف ہے۔ یہ جرم اس روشنیوں کے شہر، عروس البلاد کراچی میں ہورہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں، اس بدنامی میں کراچی سر فہرست ہے، جہاں کچرا کنڈی سے ایسی لاشیں ملی ہیں، کچھ کو تو تیز دھار آلے سے گلا کاٹ کر مارا گیا، سال رواں کے ابتدائی چار ماہ میں کراچی میں صرف ایدھی فاؤنڈیشن نے 72 مردہ بچیوں کو دفنایا۔ یہ اعداد و شمار تھوڑے ہیں کیونکہ ایدھی فاؤنڈیشن صرف شہروں کے اعدادوشمار کا ریکارڈ رکھتی ہے جہاں اس کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، دوسری تنظیموں کا بھی یہی کہنا ہے۔ ان نومولود بچوں بچیوں کے قتل کی سب سے بڑی وجہ ناجائزاولاد ہے بدنامی کے ڈر سے ایسے بچوں کو جان سے ماردیا جاتا ہے اور لڑکی کو تو خاص طور سے۔

دوسری وجہ غربت بھی کہی جاسکتی ہے لیکن ایک اہم وجہ بیٹوں کی خواہش میں بیٹیوں کی تعداد بڑھنا بھی ہے اور پیدا ہوتے ہی بچی کو مروا دیا جاتا ہے، اگر بیٹاہو تو وہ خوشی کا باعث ہے لیکن یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ نومولود جس نے دنیا میں آکر ابھی سانس ہی لی تھی کہ اسے ظالم پنجوں نے سانس لینے سے روک دیا اور اس ننھی روح کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ یہ کونسا معاشرہ جنم لے رہا ہے بچیوں کے قاتلوں تمھیں نیند کیسے آجاتی ہے کیا ننھی روحیں تمھیں آکر نہیں ڈراتیں، ہمیں کیوں مار ڈالا ہمارا کیا قصور تھا؟

اس کے لیے این جی اوز اور پولیس کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ایسے عناصر کا خاتمہ کیا جاسکے، اس کے علاوہ عام لوگوں میں شعور بیدار کرنا ہوگا کہ اس بارے میں پولیس کوع اطلاع دیں سوچیں پچھلے سال اتنی بڑی تعداد میں نومولود بچوں کی لاشیں ملیں لیکن صرف ایک ہی مقدمہ درج ہوا جبکہ پاکستان میں نومولود بچیوں اور بچوں کا قتل اور ان کو لاوارث چھوڑنا دونوں جرم ہیں یہ قابل تعزیر جرائم میں شامل ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 328 اور 329 کے تحت مختلف مدت کی سزائے قید اور جرمانہ ہے، لیکن کوئی اس بارے میں رپورٹ نہیں کرتا۔ اگر ہم رپورٹ درج کروائیں گے تو پولیس بھی تحقیق کر سکتی ہے کہ آیا یہ واقعات ناجائز بچوں کے ہیں یا قتل کاس محرک کچھ اور ہے، اس طرح ہی پولیس ان کی تہہ تک پہنچ سکتی ہے۔
بہر حال یہ ظلم ہورہا ہے اور رات کی تاریکی میں کیے گئے ظلم کا اثر دن کے اجالے کو بھی نہ نگل لے اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں۔

Facebook Comments HS