محبت، بغاوت اور نظمیں پرانی نہیں ہوتیں


نسیم سید

اور جب وسیع و عریض دُنیا، سرزمینِ کینیڈانے نسیم سیّد کو پناہ دی۔۔۔اور وہ نوآبادیاتی نظام کے شکنجے میں جکڑے ، اس مُلک کےحقیقی باشندوں پر گزرنے والے مظالم سے آگاہ ہوئی کہ دھرتی کے یہ بے شناخت باشندے کبھی اس دھرتی کے والی تھے، وارث تھے۔ یہ زمین ان کی تھی۔یہ وسائل ان کے تھے۔اور جو آج تک منتظر انصاف ہیں،تو اس نےان مظلوموں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور اپنے ضمیر اور قلم کی طاقت سے اس خوفناک اور جان لیوا سچ کو لکھا ، جس کا سامنا کرنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔نسیم سیّد لکھتی ہیں:

"نوآ بادیات نے قدیم النسل مردوں، عورتوں اوربچوں کو گویکساں متاثر کیا لیکن عورتوں کوجسمانی اورروحانی دونوں مارماری، انہیں قتل کرنے سے پہلے اپنی ہوس کا نشانہ بنانا اورطرح طرح سے ذلیل کرنا ایک معمول تھا۔ نوآ بادیاتی حکمرانوں کے پاس اپنے مفتوح کوبرباد کرنے کے ہر قسم کے ذرائع ہوتے ہیں ہیں، جہاں وہ طاقت کے بوتے پر انہیں اپنا غلام بنا تے ہیں وہیں نفسیاتی مار بھی مارتے ہیں۔ کینیڈا میں پس نوآ بادیات یعنی آج بھی ہزاروں کی تعداد میں غائب چکی ہیں اورمسلسل ہو رہی ہیں۔ انہیں زمین کھا جاتی ہے یا آ سمان ، کچھ پتہ نہیں چلتا۔ اس غائب ہونے کے پیچھے انڈینز کویقین ہے کہ وہی پرانی سازش ہے کہ ان کی نسل کو ختم کردیا جا ئے۔ کینیڈاکے ایک ایبوریجنل ادیب تھامس وائکنگ نے اپنی بائیس سالہ حاملہ کزن کے اغوا کے بعد قتل کر دیئے جانے کے حوالے سے چارسال پہلے ایک طویل مضمون میں’’ نوآبادیات کے اثرات زندگی پر‘‘ میں تفصیلی روشنی ڈالی ہے اس موضوع پرکہ انڈین خواتین رائٹرز کا مزا حمتی لہجہ ان کے ادب میں تلخ کیوں ہے ۔نوآ بادیا تی حکمرانوں کا دورعورتوں کی وحشیانہ آ برو ریزی کی لرزہ خیز داستانیں ہیں۔ ان کے پرائیویٹ پارٹ کو کاٹ کے درختوں کی شاخوں پرٹانگ دیا جاتا۔ ریپ کے بعد ان کی برہنہ لا ش بیچ سڑپ پرپھینک دی جاتی ۔”

نسیم نے ایبوریجنل باشندوں کی اس ظلم و جبر کے خلاف لکھی شاعری اکھٹی کی جو تاریخ کا ایک انمٹ باب بن چکی ہے۔ اس شاعری میں عورت کی آواز نمایاں ہےکہ فطرت سے محبت کرنے والی ان اقوام کے پاس عورت ، انسان تھی،ذہین و فطین انسان۔اس کا مقام معاشرے میں افضل و محترم تھا۔۔ایک ایبوریجنل شا عرہ کرسٹوفر کی نظم ہے:

 تمہیں استعمال کے بعد قتل کردینا ہی مناسب ہے

میری ماں نے بتایا

’’ہم اپنے وجود سے شرمندہ تھے

سفید آدمی ہمیں دیکھ کے

نفرت سے ہمارے منہ پر تھوک دیتے

’’ بد شکل جنگلی عورتیں ‘‘

وہ ہم سے کسی کو بھی

کسی بھی وقت بے لباس کرسکتے تھے

ہمارے گندے جسم کواستعمال کرکے

قتل کرسکتے تھے

یا سڑک پرہمیں دیکھ کے

اپنی گاڑی سے کچل سکتے تھے

یہ سب کچھ روز کا معمول تھا

مجھے اپنے آپ سے شرم آ نے لگی تھی

مجھے یقین ہوگیا تھا کہ میں اتنی بدصورت ہوں

کہ اسی سلوک کی مستحق ہوں

میں شرم کے مارے مرجانا چا ہتی تھی‘‘

میری ماں ریپ کے بعد قتل کر دی گئی

مگروہ میری نظموں میں

زندہ ہے

اوراب جب میں یہ نظم اس کے قاتلوں

کو سناتی ہوں

تو ان کے سرشرم سے سینوں سے جالگتے ہیں

ماں !

تیری بے عزتی کا بدلہ

میرا قلم لے رہا ہے

میری نظمیں تیرا وقار واپس چھین کے رہیں گی

بقول نسیم سید ،”یہ نظم بہترین مثال ہے قلم کی اس طاقت کی جس نے وقت کے دھارے کواپنی مٹھی میں جکڑ کے اس کا رخ موڑ دیا ہے۔”

بڑے ادیب یا شاعر، در حقیقت وہ ہوتے ہیں جو ہر دور کے جبر کے سامنے، سچ کا علم تھامے مظلوموں اور بے کسوں کی صدا بن کر مشکل مگر راست سمت میں کھڑےہوتےہیں۔ خواہ حق و سچ کے اس سفر میں انہیں کتنی ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ کردار کی یہ عظمت ہی انہیں وہ لفظ و فکر عطا کرتی ہے جس سے وہ خلقِ خدا پر بیتتے قہر اورکرہ ارض پر بپا ہونے والے سانحات کو اپنے دامن میں بھر کر، اپنے آنسوؤں سے نتھار کر۔نثر یا نظم کی شکل میں، فنکارانہ مہارت سے دُنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یہ ادیب اور شاعر اس دُنیا کا نہ صرف حساس ترین بلکہ خوبصورت ترین سرمایہ ہیں۔ ان کی آواز اور ان کے لفظوں کے بغیر، سسکتی اِنسانیت لاوارث ہے۔ حق وانصاف کا ساتھ دینے والے ان باکمال لوگوں میں نسیم سید بھی شامل ہیں۔ سچ کا سامنا کرتے ہوئےنسیم کا قلم کسی لمحے نہیں ڈگمگاتا ۔ وہ اس ناقابل برداشت بھیانک سچ کے پاتال میں اترتی ہیں۔ اس گھپ تاریکی کے عقوبت خانے میں ہونے والے گھناؤنے جرائم اور بے کسوں کی دلدوز چیخوں کو بے پایا ں جرات، عظمت اور دلیری سےاپنے لفظوں کی زبان عطا کرتی ہیں:

”حکومت کی طرف سے انڈینز کو انسان بنانے کے لئے جو مدرسے قائم کئے گئے وہاں کمسن لڑکیوں کے ریپ کی بھی لرزہ خیز داستانیں موجود ہیں۔ بے شمار بچیاں حاملہ ہو جاتی تھیں اورلا کھ دہائی دینے کے باوجود کے وہ بے قصورہیں ان کو سخت سزائیں ملتیںذہنی، جسمانی اورروحانی تشدد بردا شت کرنے والے ان انڈین نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری بلکہ اپنے قلم کواپنے نیزے اور ڈھال دونوں میں بدل دیا۔ امریکہ کینیڈا اوردیگرجن جن ممالگ میں انڈینزموجود تھے وہاں عوام میں ان پرہونے والے مظالم کے خلاف ایک تو مقامی ادیبوں، کالم نویسوں اورمیڈیا میں ان کے حق میں آوازبلند ہونے لگی اورآ خرکب تک نہ ہوتی کہ پانچ سوسال گزرچکے تھے ان مصائب کو سہتے ہوئے۔ اس عرصہ میں مقامی زبان (انگریزی) میں لکھنے کی صلا حیت انڈینزکی نوجوان نسل میں پیدا ہوچکی تھی ان کی آواز کو زنجیر کرنا اب مشکل تھا۔ عورتیں گو روزِاوّل سے آ سمانی اور زمینی ضابطوں کی پابند رہی ہیں۔ لیکن ان کی مٹی کا نم عجب جوہر رکھتا ہے جوسوبارزمین گاڑے جانے کے باوجود پھرسے پھوٹ آ تا ہے۔ ایبوریجنل عورت ٹکڑے ٹکڑے کرکے چیل کوؤں کوکھلا دی گئی۔اس کی روح کی دھجیاں درختوں پر ٹانگ کے اس کے وجود کا مذاق اُڑا یا گیا۔اس کے خاکے بنا ئے گئے جس میں جانوران کے برہنہ جسم کو بھنبھوڑ رہے ہیں اور ان کی آ بروریزی کرہے ہیں۔۔ ان کے چہرے مسخ کردئے گئے مگراس نے اپنے وجود کوایک بار پھر سمیٹا اورپورے جلال اورجمال کے ساتھ ڈٹ گئی آباد کاروں کے وحشی قوانین کے سامنے۔”

نسیم سید یہ کڑوا سچ آپ کے سامنے پیش کر کے جرات رندانہ سے کہتی ہیں ، یہ ہے استعمار کا اصل چہرہ، جسے اپنے اصل سے خائف ، کئی اقوام اب بھی دیکھنے سے قاصر ہیں۔ اور ان کا ادب اب بھی طاغوتی طاقتوں کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔ادب کیا ہوتا ہے، کیا ہونا چاہئے ، اور کیوں لکھا جانا چائیے،ادیب کی ذمےداری کیا ہے۔ اس کتاب سے بہتر ان سوالوں کا جواب بھلا کون دے پائے گا۔سچا ادب بے ریا ہوتا ہے، اپنی زمین اور اس کے باسیوں کے دکھ سکھ ، آنسوؤں، آہوں اور سسکیوں کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ مصلحت کے نام پر جھوٹ اور دروغ گوئی سے دور ہوتا ہے۔

 میرا بس چلے تو میں وطن عزیزمیں جھوٹ پر مشتمل حملہ آوروں اور رہزنوں کے گن گاتی نصابی کتب کی جگہ، نسیم سید کی اس کتاب کو سماجی علوم کے نصاب میں شامل کر وا کر ، اصحاب طبل وعلم سے دست بستہ عرض کروں۔ ۔ سرکا ر بہت ہو گیا جھوٹ، کئی نسلیں اپنے دشمنوں کو دلدار سمجھ کر اپنے ہاتھوں علم و دانش کی شمعیں گل کرتی رہی ہیں۔ اس کتاب کواسکول، کالج اور یونیورسٹی جانے والے ہر بچے کو پڑھائیں اور آگہی کے اک نئےدور کا آغاز کریں۔ مجھے یقین ہے نسیم سید کی اس کتاب کو سچائی کے پرستار دیوانہ وار پڑھیں گے ۔ اس کتاب میں موجود شاعری پڑھ کر ، تیسری دنیا کے بے شمارشاعر ہمیشہ زندہ رہنے والی نظمیں لکھیں گے جو دھرتی کے اصل وارثوں کو انصاف دلوائیں گی ۔وقت قریب آیا چاہتا ہے کہ دنیا بھر کے مظلوم و محکوم عوام مرثیے نہیں، نوحے نہیں۔اب بغاوت کے گیت گائیں گے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2