کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے


جب سے عمران خان نے پاکستان کی سیاست میں قدم رکھا ہے پاکستان کی سیاست دلچسپ ہو گئی ہے۔ 2011 کے بعد جب عمران خان کو سیاسی رہنما کے طور پر کامیابی حاصل ہوئی اور تحریک انصاف میں بڑے ناموں کی شمولیت شروع ہوئی تب سے پاکستانی سیاست میں نئی نئی تراکیب اور نعرے متعارف ہوتے چلے گئے۔ عمران خان کرکٹ کا پس منظر رکھتے ہیں چنانچہ ان کی زبان سے سیاست میں بھی کرکٹ کی اصطلاحات ادا ہونے لگیں۔ کچھ باتیں بہت تیزی سے سیاست میں مستقل جگہ بنا گئیں۔

ایک اصطلاح جو عمران خان نے متعارف کروائی وہ وکٹیں گرنے یا گرانے کی تھی۔ عمران خان نے 2013 کے انتخابات میں ان کے لیے غیر متوقع نتائج کے بعد انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں تحقیق اور تفتیش کا مطالبہ کیا۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے عمران خان کے مطالبے کو سنجیدگی سے نہ لیا جس کے بعد عمران خان اپنے مطالبات کو لے کر اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر ان چار حلقوں میں تحقیقات ہوئیں تو مسلم لیگ نواز کی یہ چاروں وکٹیں گر جائیں گی۔

طویل دھرنے کے بعد اس وقت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن قائم ہوا جس نے 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کی شکایات پر تحقیقات کیں۔ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں اپنے مؤقف کہ انتخابات میں منظم دھاندلی ہوئی ہے، کے حق میں ثبوت مہیا نہ کر سکے اور جوڈیشل کمیشن نے انتخابات میں منظم دھاندلی کے الزامات مسترد کر دیئے۔

اس دھرنے میں تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی نے استعفے دینے کا اعلان کیا مگر قومی اسمبلی کے اسپیکر نے ان کے استعفے منظور نہیں کیے۔ اس سب کے بعد جب قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین واپس گئے تو مسلم لیگ نواز کے اس وقت کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں ایک دھواں دھار خطاب کیا اور تحریک انصاف کو ان الفاظ میں طعنے دیئے اور شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ "کوئی شرم ہوتی ہے۔ کوئی حیا ہوتی ہے۔” یہ الفاظ ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گئے۔

آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں انہی خواجہ محمد آصف جو اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ تھے، کو قومی اسمبلی کی نشست سے برطرف کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا ہے کہ خواجہ آصف 2013 کے انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہی نہیں تھے کیونکہ انہوں نے کاغذات نام زدگی داخل کرتے وقت آئین کی شق باسٹھ ون ایف کے میعارات کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ یاد رہے کہ حلقہ این-اے 110 انہی چار میں سے ایک حلقہ تھا جن کو کھولنے کا مطالبہ عمران خان نے 2014 کے دھرنے سے پہلے کیا تھا۔

پانامہ کیس میں نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عثمان ڈار نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن کر دی۔ اس سے پہلے ان کی دو درخواستیں الیکشن ٹربیونل میں مسترد ہو چکی تھیں۔ خواجہ محمد آصف پر الزام تھا کہ انہوں نے 2013 کے انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت پیشہ کے خانے میں ملازمت کی بجائے کاروبار لکھا اور تنخواہ کے خانے میں صفر درج کیا۔ جبکہ تقریباً اڑسٹھ لاکھ روہے کی آمدن فارن ریمیٹینس کی مد میں درج کی۔ حالانکہ خواجہ محمد آصف متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی میں کل وقتی ملازم تھے اور ان کا عہدہ مارکیٹنگ مینیجر کا تھا۔ اور اس حیثیت میں وہ اس کمپنی سے 9000 اماراتی درہم تنخواہ موصول کر رہے تھے اور اقامہ ہولڈر تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے نیشنل بینک میں موجود اپنا اکاؤنٹ چھپایا جس میں رقم موجود تھی۔

عدالت کی سماعت کے دوران خواجہ محمد آصف کے ملازمت کے معاہدے عدالت میں پیش کیے گئے جن میں پہلے معاہدے میں جو 2011 میں کیا گیا، خواجہ محمد آصف کو بطور مارکیںنگ مینیجر کل وقتی ملازم بتایا گیا تھا۔ ان کی تنخواہ 9000 اماراتی درہم تھی اور اس حیثیت میں انہیں فیملی رہائیش اور سفری سہولیات بھی دی گئی تھیں۔ 2013 میں دوسرے معاہدے میں تنخواہ بڑھا کر 30000 اماراتی درہم کر دی گئی۔ 2017 میں جب خواجہ محمد آصف پاکستان کے وزیر خارجہ تھے، معاہدے کی تیسری تجدید کی گئی اور عہدہ مینیجمنٹ کنسلٹینٹ لکھا گیا اور تنخواہ 50000 اماراتی درہم کر دی گئی۔دیگر سہولیات مثلاً گھر، گاڑی اور بونس وغیرہ اس کے علاوہ تھے۔

جب کل وقتی ملازمت پر اعتراض اٹھایا گیا اور اسے مفادات کا ٹکراؤ قرار دیا گیا تو خواجہ محمد آصف نے ایک خط عدالت میں پیش کیا جس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ خواجہ محمد آصف کی ملازمت کے معاہدے محض اماراتی قوانین کو پورا کرنے کی غرض سے لکھے گئے تھے جبکہ درحقیقت ملازمت کی شرائط خواجہ صاحب اور اماراتی کمپنی میں زبانی طے کر لی گئی تھیں جن کے مطابق خواجہ صاحب کمپنی کے کل وقتی ملازم نہیں تھے بلکہ قانونی مشیر تھے اور بوقت ضرورت ان سے ٹیلی فون پر یا ان کے طے شدہ دوروں کے دوران ان سے قانونی مشورہ جات لیے جاتے تھے اور اس کے عوض ان کو معاوضہ ادا کر دیا جاتا تھا۔

اس خط نے یہ ثابت کر دیا کہ خواجہ محمد آصف نے معاہدہ ملازمت میں بے ایمانی کی اور جھوٹ بولا۔ اور نہ صرف پاکستان بلکہ متحدہ عرب امارات کے قوانین اور حکومت کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی اور تقریباً سولہ لاکھ پاکستانی روپے بغیر معاہدہ ملازمت کی شرائط پوری کیے ماہانہ وصول کرتے رہے جبکہ وہ اس عرصہ میں پاکستان کے وفاقی وزیر بھی تھے۔ اس بات پر عدالت کے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ نیز خواجہ محمد آصف اپنے متحدہ عرب امارات کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات چھپانے کی معقول وجہ بیان کرنے سے بھی قاصر رہے۔

اس تمام صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے آج کے فیصلے میں خواجہ محمد آصف کو 2013 کے انتخابات لڑنے کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی کی نشست سے برطرف کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اور یوں ایک اور وکٹ گر گئی۔

کرکٹ میں وکٹ گرنے کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ ان میں بولڈ ہو جانا، کیچ آؤٹ ہونا، ایل بی ڈبلیو اور رن آؤٹ عام ہیں۔ ان کے علاوہ اسٹمپ آؤٹ بھی ہوتا ہے جب کہ دو آؤٹ ایسے ہیں جو بہت کم دیئے جاتے ہیں اور وہ ہیں دوران بیٹنگ جان بوجھ کر فیلڈنگ میں رکاوٹ ڈالنا اور ہٹ وکٹ آؤٹ ہو جانا۔ اور یہ دو ایسے آؤٹ ہیں جن میں سوائے بیٹسمین کے اور کسی کا ہاتھ نہیں ہوتا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ پڑھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ محمد آصف دراصل ہٹ وکٹ آؤٹ ہوئے ہیں۔ اس کو عام فہم الفاظ میں اپنے پاؤں پر خود کلہاڑا مارنا بھی کہا جا سکتا ہے۔ اور خواجہ محمد آصف صاحب کے اپنے مشہور زمانہ الفاظ میں ہٹ وکٹ آؤٹ والے بیٹسمین کو یہی کہا جا سکتا ہے کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 122 posts and counting.See all posts by awais-ahmad