عمران خان کو چیف جسٹس کا بہترین مشورہ

اسی طرح سیاستدان انتخاب کے دن کو اپنا یوم حساب مانتے ہیں، جب وہ اپنے اعمال کے دفتر لے کر، ننگے پاؤں، خاک نشینوں کے دربارعالیہ میں حاضر ہوتے ہیں۔ اپنی چھوٹی چھوٹی نیکیاں قوالوں کی طرح دہراتے ہیں اور اپنے بڑے بڑے گناہ ’شیطان‘ کے کھاتے ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (یہ شیطان کوئی دُشمن ملک، کوئی صوبائی حکومت یا کوئی غیر سیاسی ادارہ بھی ہو سکتا ہے)
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ’ یوم حساب‘ ہو اور کوئی سیاستدان کسی اور کے گناہ اپنے سر لینے پر تُلا ہو؟ جبکہ اس نے اپنے بھی ذرے ذرے کا حساب دینا ہو؟ اگر کسی سیاستدان کو سیاسی جنت کی بشارت مل چکی ہو پھر تو یہ رویہ قابل فہم ہے، وگرنہ ’کچھ نہ سمجھے خُدا کرے کوئی‘۔
سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تو لا محالہ این اے 120 میں ضمنی انتخاب کا انعقاد ہوا۔ عمران خان صاحب نے اس الیکشن کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر ریفرنڈم قرار دیا۔ خان صاحب نے اس کے بعد چکوال، سر گودھا اور لودھراں میں ہونے والے ضمنی انتخابات پر بھی یہ ہی موقف اپنایا۔ یہ چاروں الیکشن نواز شریف کی جماعت جیت گئی۔ یہ بات درست ہے کہ مذکورہ انتخابات کے دوران ’سپریم کورٹ پرریفرنڈم ‘ والی بات خان صاحب نے کی تو تھی، لیکن مسلسل نہیں، ایسا نہیں تھا کہ بس اسی ایک نکتے پر الیکشن لڑا گیا ہو۔
لمحہء موجود میں آ جائیے، خان صاحب کے اس موقف میں اب شدت آ گئی ہے اور وہ عدالتِ عظمیٰ کے حق میں شمشیرِ برہنہ ہو چکے ہیں۔ مینارِ پاکستان پر تحریک انصاف کا جلسہ علانیہ طور پہ سپریم کورٹ سے اظہار یکجہتی کے یک نکاتی ایجنڈا پہ استوار ہے۔ انتخابات کے دہانے پرسیاسی جماعتیں اپنے بیانیہ کی نوک پلک درست کر رہی ہیں۔ نواز شریف ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے پر انتخاب لڑنے جا رہے ہیں، اور قرائن بتاتے ہیں کہ عمران خان ’سپریم کورٹ کو عزت دو‘ کا پھریرا لہراتے ہوئے میدان انتخاب میں اتریں گے۔
سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان کا یہ نعرہ پاکستان کے عوام میں مقبول ہو سکے گا؟ کیا پاکستان کے عوام عدالتوں اور موجودہ نظامِ انصاف سے ایسا بے پایاں عشق کرتے ہیں کہ وہ الیکشن والے دن ملک کے گلی کوچوں میں تکریم عدلیہ کے گیت گاتے ہوئے، مست و رقصاں نکل کھڑے ہوں؟
پاکستان کے عوام کسی بھی شخص یا ادارے کے بارے رائے قائم کرنے میں جلد بازی نہیں کرتے۔ شاید اس لئے کہ عجلت میں کیے گئے کچھ فیصلوں کا خمیازہ وہ کئی بار اٹھا چکے ہیں:
ہم سادہ ہی ایسے تھے کی یوں ہی پذیرائی
جس بار خزاں آئی، سمجھے کہ بہار آئی
بذاتِ خود عمران خان کی سیاسی حیثیت بارے فیصلہ کرنے میں عوام نے تقریباً دو دہائیاں صرف کیں، اور آخرِ کار انہیں ان کے موجودہ سیاسی سنگھاسن پر سرفراز کیا۔ عدلیہ کے سلسلے میں بھی عوام کا یہی رویہ ہے، اور وہ حالیہ عدالتی تحرک کا بہ غور جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام نے ستّر سال میں عدلیہ کے حوالے سے جو رائے قائم کی ہے آخر اسے بدلنے میں کچھ سال تو لگیں گے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ملک میں عدلیہ کی تاریخ بارے چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب بھی وہی رائے رکھتے ہیں جو پاکستان کے عوام کی ہے۔ ثاقب نثار صاحب نے حال ہی میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے چہرے پر وہ ’کالک اور گند‘ نہیں ملیں گے جو ان کے پیشرو اپنے چہروں پر ملتے رہے ہیں۔ ان کا واضح اشارہ سپریم کورٹ کے ان قطار اندر قطار متنازعہ فیصلوں کی طرف تھا جن میں مارشل لاز کو جائز قرار دیا گیا تھا۔
چیف جسٹس صاحب نے تفصیلاً تو اس موضوع پر گفتگو نہیں فرمائی مگر ان کے الفاظ کے چناؤ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنے ادارے کے ماضی پر شدید برہم ہیں۔ عوام بھی چیف جسٹس سے سو فی صد متفق ہیں۔ عوام بھی سپریم کورٹ کے ماضی پر انتہائی خفا ہیں، انہیں بھی سب ہے یاد زرا زرا۔ آئینی معاملات پر پاکستان کی تاریخ کے دس اہم ترین مقدمات میں سے کوئی ایک فیصلہ بھی ایسا نہیں جس کا ذکر آج عوام مسکرا کے کرتے ہوں۔ کس کس کیس کا ذکر کیا جائے:
ایک دو ہوں تو سحرِ چشم کہوں
کارخانہ ہے واں تو جادو کا
دوسو کیس سے لے کر ظفر علی شاہ کیس تک ایک ہی سلسلہ ہے، مولوی تمیزالدین کیس سے ذوالفقار علی بھٹو کیس تک ایک ہی کہانی ہے۔ یہ تو سپریم کورٹ کا معاملہ تھا، ایک اُچٹتی ہوئی نظر ماتحت عدلیہ پہ بھی۔ عوام، ماتحت عدلیہ اور شکایات کا انبار۔ یہ ہے عوام اور عدلیہ کے رشتہ پہ مختصر ترین تبصرہ۔ ’وکیل کیا کرنا جج ہی کر لیتے ہیں‘ سے لے کر’دادے کا مقدمہ پوتے تک چلتا ہے‘ جیسے فقرے ہم روز سنتے ہیں۔
لگ بھگ بیس لاکھ کیسز عدالتوں میں التواء کا شکار ہیں۔ بیس لاکھ کیسز کا مطلب ہے کروڑوں متاثرین۔ ایسے میں عوام نظامِ عدل کے بارے کیا رائے رکھتے ہوں گے؟ چیف جسٹس صاحب بھی ماتحت عدلیہ کے حوالے سے ایسے ہی خیالات کا اظہار بار ہا کر چکے ہیں۔ اس صورتِ حال میں عمران خان عدلیہ کو عزت دو کے نعرے پہ انتخابات لڑنے جا رہے ہیں۔ خان صاحب اگر اپنے اعمال کا حساب ہی دے پائیں تو بڑی بات ہو گی۔
یہ درست ہے کہ سپریم کورٹ کے چند حالیہ فیصلوں سے نواز شریف کی سیاست کو شدید زک پہنچی ہے، اور عمران خان اس صورتحال کے سیاسی ثمرات کے حصول کے لئے بے تاب ہیں۔ عدلیہ نے یہ فیصلے عمران خان کا کام آسان کرنے کے لئے تو نہیں دیے، لیکن خان صاحب کا عشقیہ رویہ کہیں سپریم کورٹ کو متنازع نہ بنا دے۔
محترم چیف جسٹس صاحب کو بھی غالباً یہی اندیشہ لاحق ہے، اور اسی لئے انہوں نے سیاسی عناصر کو سپریم کورٹ کے ساتھ کسی بھی قسم کے اظہار یکجہتی سے پرہیز کا مشورہ دیا ہے۔
یہ ایک انتہائی صائب مشورہ ہے۔ اور ویسے بھی انتخابات بوجھ اتارنے کا وقت ہوتا ہے نہ کہ پرایا بوجھ لادنے کا۔

