ہینڈ سم اداکارونود کھنہ کی داستان
موسٹ ہینڈ سم سپر اسٹار ونود کھنہ 6 اکتوبر 1946 کو پاکستان کے شہر پشاور میں پیدا ہوئے، انیس سو سنتالیس میں ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا، ایک ملک کا نام اب بھارت اور دوسرے کا نام پاکستان تھا۔ سنتا لیس کی تقسیم کے بعد ونود کھنہ کے والدین کملا اور کرشن چندر کھنہ پشاور سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ممبئی شفٹ ہو گئے۔ ونود کھنہ کو بالی وڈ فلم انڈسٹری میں موسٹ ہینڈ سم اداکار کا خطاب دیا گیا“، وہ بچپن ہی سے شرمیلے بچے تھے، جو کسی سے بات کرتے ہوئے بھی گھبراتے تھے، کہا جاتا ہے کہ والدین کے سامنے بھی وہ جی ہاں اور جی نہیں تک گفتگو کرتے تھے۔

ونود صاحب کا تعلق ایک بزنس فیملی سے تھا، ابا کو جب معلوم ہوا کہ بیٹا اداکار بننا چاہتا ہے تو وہ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے کہ ایک بزنس اور عزت دار فیملی کا بچہ اداکار بنے گا۔ ونود بھی اپنی دھن کے پکے تھے، انہوں نے کہا وہ ہر صورت بطور اداکار اپنا کیرئر شروع کریں گے۔ بیٹے کے سامنے باپ کو ہتھیار ڈالنے پڑے، ونود کے والد نے کہا ٹھیک ہے، تم اداکار بن جاو، لیکن اس کے لئے تمہارے پاس صرف دو سال کا وقت ہے، اگر بطور اداکار تم اپنا کئیرئیر نہ بنا سکے تو وآپس فیملی بزنس کی طرف آنا پڑے گا، ونود نے والد صاحب کی شرط مان لی۔ قسمت نے ان دوسالوں میں ونود صاحب کا ساتھ دیا اور وہ ایک کامیاب اداکار اور سپر اسٹار بن گئے۔
اب پورے بھارت میں ان کے چرچے تھے۔ ان کی پہلی فلم کا نام۔ من کا میت۔ تھی، اس فلم میں انہوں نے ولن کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ دلم سنجے دت کے والد سنیل دت نے پروڈیوس کی تھی۔ اس کے بعد گلزار صاحب کی فلم۔ میرے اپنے۔ میں اداکاری کے جوہر دیکھائے۔ ہیرا پھیری، مقدر کا سکندر، امر اکبر انتھونی جیسی کامیاب اور معیاری فلموں میں کام کیا۔ اب یہ کہا جانے لگا کہ کہ شاید ونود کھنہ امیتابھ بچن سے بھی بڑے اداکار ہیں، اخبارات میں یہاں تک تبصرے ہونے لگے کہ ونود نے گریٹ امیتابن بچن۔ کی سیٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔ کامیاب ان کا مقدر بن گئی تھی، شہرت ان کے گھر کی دہلیز پر محو رقصان تھی، ہر طرف ان کے چرچے تھے۔

اس دور میں ونود کا خاندان مشکلات کا شکار تھا، لوگ ونود کی بیوی کو یہ طعنہ دیتے تھے کہ وہ انہیں چھوڑ کر سنیاسی بن گیا ہے، ان تنازعات کی وجہ سے ونود صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان علیحدگی ہو گئی۔ اب وہ سنیاس چھوڑ کر دوبارہ فلمی دنیا کا حصہ بن گئے۔ اس دور میں ونود صاحب کی تقریبا تمام فلمیں کامیاب رہی، قربانی اور ڈایاوان اس کی واضح مثال ہیں۔ اب اسٹارڈم پھر سے چمک اٹھا تھا۔ اداکاری سے دل بھر گیا اور ایک دم اعلان کیا کہ اب وہ سیاست کا حصہ بننے جارہے ہیں۔ بی جے پی کو جوائن کیا اور پنجاب کے علاقے گرداسپور کی سیٹ سے ممبر آف پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔

انیس سو اسی مین ونود اور گیتان جلی ایک دوسرے کو طلاق دے دی۔ انیس سو نوے میں ونود کھنہ نے ایک خاتون کویتا سے شادی کی، جن سے ان کے دو بچے ہوئے، لڑکی کا نام شردھا اور لڑکے کا نام ساکشی ہے۔ اپریل دو ہزار سترہ کو انہیں ڈی ہائیڈریشن کی شکایت ہوئی، اسی دن انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ 27 اپریل 2017 کو ان کا انتقال ہو گیا۔ کہا جاتا ہے وہ مثانے کے کینسر کا شکار تھے، لیکن اس بیماری کو چھپایا گیا۔ آخری وقت تک وہ کویتا اور بچوں کے ساتھ رہے۔ ونود صاحب کو ایک چمکتے ستارے کے روپ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔


