پائلٹ بننے کے لیے پہلی شرط کیا ہے؟
آپ اس بات کو پسند کریں یا ناپسند مگر سچ تو یہ ہے کہ ایک زبان جو دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جاتی ہے انگریزی ہی ہے۔ یوں تو ہر ہر شعبے میں اس کا غلبہ دکھائی دیتا ہے لیکن اگر فضائی شعبے کی بات کی جائے تو سمجھیں صرف اور صرف انگریزی کا ہی راج ہے ۔ ہماری مراد انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کی جانب سے 2001ء میں جاری کیا گیا وہ حکمنامہ ہے جس کے مطابق تمام پائلٹوں کے لئے انگریزی زبان میں مہارت لازم ہے چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو اور ان کی مادری زبان جو بھی ہو۔ صرف پائلٹ ہی نہیں بلکہ دیگر فضائی عملے اور ائیرٹریفک کنٹرول کی خدمات سرانجام دینے والوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ انگریزی زبان کا خصوصی ٹیسٹ پاس کریں۔
ویب سائٹ ’مینٹل فلاس‘ کے مطابق انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اس ضابطے کے عالمی سطح پر نفاذ کے لئے 5 مارچ 2008ء کی تاریخ مقرر کی تھی۔ دنیا بھر کی فضائی کو کمپنیوں کو جاری کی گئی ہدایات میں کہا گیا کہ وہ مقررہ تاریخ تک اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پائلٹ اور فضائی عملہ ناصرف تمام فضائی اصطلاحات کو انگریزی زبان میں جانتے ہوں بلکہ ریڈیو پر انگریزی زبان پر نشر کی جانے ہدایات کو بھی باآسانی سمجھنے کے قابل ہوں۔ ان کے پاس انگریزی زبان ایسے لہجے میں بولنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے جسے تمام ایروناٹیکل کمیونٹی باآسانی سمجھ سکے۔ ان ہدایات کے پیش نظر انگریزی زبان کئی سالوں سے دنیا بھر کے پائلٹوں کی عالمی زبان کے طور پر مستعمل ہے۔
سنہ 2001 سے پہلے بھی فضائی شعبے سے وابستہ افراد کے لئے انگریزی زبان کی مہارت ضروری سمجھی جاتی تھی لیکن 1977ء میں کنری آئی لینڈز پر پیش آنے والے ایک حادثے نے اس ضرورت کو اور بھی واضح دیا۔ یہ حادثہ کنری آئی لینڈز کے ٹینریف ائیرپورٹ پر پیش آیا جہاں پین ایم ائیرلائن کا 747 جیٹ طیارہ KLM کے747 جیٹ طیارے سے رن وے پر ٹکراگیا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ حادثہ KLM کے پائلٹ کی جانب سے غیر معیاری انگریزی لہجے کے استعمال اور پین ایم کے پائلٹ کی جانب سے انگریزی زبان کے غیر روایتی الفاظ کے استعمال کی وجہ سے پیش آیا کیونکہ کنٹرول ٹاور پر فرائض سرانجام دینے والا اہلکار ان دونوں پائلٹوں کی بات سمجھنے سے قاصر رہا۔ وہ ان کی درست رہنمائی نہ کرسکا جس کے نتیجے میں حادثہ پیش آگیا۔


