کرپٹو کرنسی اور پاکستان کی ریاستی قدامت پسندی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حالیہ ماہ کے آغاز میں جاری کیے گئے ایک رسمی مراسلے میں عوام کو بِٹ کوائن سمیت تمام قسم کی کرپٹو کرنسیوں سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کرنسیوں یعنی کوائنز اور ٹوکنز کے ذریعے پاکستان سے باہر رقم بھیجنے والے کسی بھی شخص سے ملکی قوانین کے مطابق بازپرس کی جائے گی۔ مزید برآں بینکوں اور کرنسی ڈیلروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس قسم کے کسی بھی سودے میں فریق نہ بنیں جس میں کرپٹو کرنسی شامل ہو۔ کرپٹو کرنسی کے خلاف اس تنبیہ کی بتائی گئی وجوہات کافی حد تک باجواز ہونے کے ساتھ ساتھ دو حوالوں سے بہت دلچسپ اور معنی خیز ہیں۔ ریاستی ادارہ ہونے کے ناطےان میں اول تو بینک کی جانب سے ریاست کا یہ اعتراف ہے کہ کرپٹو کرنسی کی نوعیت میں کافی ابہام ہونے کے باعث ان سودوں میں شامل ہونے والے افراد کو کسی قسم کی قانونی ضمانت دینا ناممکن ہے، دوم یہ اعتراض کہ یہ کرنسیاں اپنی حد درجے خفیہ نوعیت کے باعث غیرقانونی کارروائیوں اور مختلف قسم کے فراڈ میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ضمنی وجوہات بھی مراسلے کا حصہ ہیں جن میں کرپٹو کرنسی ایکس چینجز کا غیر محفوظ ہونا، ہیک ہو جانا، یا بغیر کسی اطلاع کے بند ہو جانا وغیرہ شامل ہیں۔

ہماری رائے میں زیرِ نظر مراسلےکی یہ دونوں معنی خیز جہتیں دراصل اس ریاستی خوف یا جھجک کی علامت ہیں جو ارد گرد بدلتی دنیا اور اس کے مسائل کی کچھ نئی خاکہ بندیوں سے جی چرا کر باآسانی قدامت پسندی کی آڑ لینے کی کوشش ہیں۔ یہ نئی خاکہ بندیاں دراصل اس توازن کے تلاش سے عبارت ہیں جو ایک طرف تو ڈیجیٹل اور پھر بعد میں انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے نتیجے میں ارتقاء پانے والی ثقافت اور اس ثقافت میں نمودار ہونے والے نئے فرد، جب کہ دوسری طرف گلوبلائزیشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشرت کے باعث بدلتے ہوئے تصورِ ریاست کے تحت اس نئے فرد کی آزادی کی ممکنہ مساوات سے متعلق ہیں۔

ظاہر ہے کہ اسٹیٹ بینک کا مراسلہ کوئی تحقیقی یا تجزیاتی مقالہ تو نہیں لہٰذا جہاں تک کرپٹو کرنسی کی نوعیت میں ابہام کا معاملہ ہے تو عوام کو کسی ممکنہ فراڈ کے متعلق پیش آگاہی یا تنبیہ کی حد تک اس میں شامل متعلقہ نکات یقیناً باجواز ہیں۔ لیکن کرپٹو کرنسی کےبالمقابل بینک دولت پاکستان کے جاری کردہ نوٹوں کومحض ”قانونی ٹینڈر“ کہہ دینے سے اول الذکر کے مقابلے میں آخر الذکر کا ابہام ہرگز زائل نہیں ہوتا۔ واقعہ یہ ہے کہ درجۂ ابہام کے اعتبار سے مروجہ کرنسی نوٹ جسے تکنیکی زبان میں بینک نوٹ بھی کہا جاتا ہے کسی بھی قسم کی ڈیجیٹل کرنسی مثلاً کریڈٹ کارڈ وغیرہ اور کرپٹو کرنسی سے کچھ خاص مختلف نہیں۔ آپ اپنے ہاتھ میں بھینچے نوٹوں اور جیب میں موجود بٹوے کو ان کی قدر و قیمت کے پیشِ نظر بہت سنبھال کر تو رکھتے ہیں لیکن انہیں بغور دیکھ کر شاید ہی کبھی خود سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ آخر بینک دولت پاکستان حامل ہٰذا یعنی آپ کو مطالبے پر کیا ادا کرے گا؟ کچھ ضمنی پیچیدگیوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہ جملہ بس ان زمانوں کی یادگار ہے جب کمرشل بینکوں کے لیے لازم تھا کہ کرنسی نوٹوں کے پیچھے سونے یا چاندی جیسی قدروقیمت رکھنے والا کوئی مادی معیار رکھا جائے۔

1923ء میں پہلی بار باباصاحب بھیم راؤ امبیڈکر اپنی مشہور کتاب ”روپیہ کا مسئلہ: تاریخ اور حل“ میں انیسویں صدی میں روپیہ کی تاریخ کے ان لطیف گوشوں سے پردہ اٹھایا کہ کس طرح ہندوستان میں سونا کرنسی کی قدروقیمت کے خالص معیار کی بجائے تبادلے کے معیار میں تبدیل ہو گیا۔ امبیڈکر اپنی کتاب کے دیباچے ہی میں مشہور برطانوی ماہرِ معیشت جان مینرڈ کینز سے اس مسئلے یعنی تبادلے کے معیار پر اپنا اختلاف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تبادلے کا کوئی بھی معیار روپیہ کو متوازن نہیں کر سکتا جب تک عمومی طورپر قوتِ خرید کو متوازن نہ کر دیا جائے۔ باباصاحب امبیڈکر روپیہ کے عدم توازن کی بیماری کے اس علاج کے بھی خلاف ہیں کہ اس کی سونے میں تبدیلی کا کوئی مستند اور با اثرمعیار فراہم کیا جائے۔ خود ان کے بقول ہی ان کی تجویز انتہا پسندانہ ہے اور اس وجہ سے حکومتِ ہندوستان اسے شاید ہی تسلیم کرے گی۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ حکومتِ ہندوستان تمام روپیوں کو پگھلا کر پاسوں ڈلیوں کی صورت فروخت کر دے اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والا زرِ مبادلہ یعنی خالص زر ملکی خزانے میں رکھ لیا جائے۔ اس کی جگہ یعنی یوں پیدا ہونے والے خلا کو ایسے کاغذی نوٹوں سے تبدیل کر دیا جائے جو زر میں تبدیلی کے قابل نہ ہوں۔

خیر فی الحال مقصد روپیہ کی دلچسپ اور پیچیدہ تاریخ بیان کرنا نہیں بلکہ صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ جدیدکرنسی کا تصور بھی اپنے اندر کافی ابہام رکھتا ہے۔ امبیڈکر کی تجویز جو ان کے خیال میں کافی انتہا پسند تھی کچھ ردوبدل کے ساتھ کافی معقول ثابت ہوئی اور با الآخر انہی عمومی اصولوں کی بنیادپر 1935ء میں ریزرو بینک آف انڈیا کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے تقریباً دس سال یعنی جنگِ عظیم دوم کے بعد بریٹن وڈز سمجھوتہ ہوا اور ہندوستانی روپیہ کی قدرامریکی ڈالر کے ساتھ باندھ دی گئی جس کی بنیاد میں اب تک تبادلے کا معیار زر یعنی خالص سونا ہی تھا۔ پاکستانی روپیہ 1982ء تک برطانوی پاؤنڈ سے بندھا تھا جسے ضیاء دور میں بین الاقوامی معاشی منڈی میں روز تبدیل ہوتی شرح مبادلہ سے مشروط کر دیا گیا۔ یہ ایک ایسا بین الاقوامی طریقہ ہے جس میں دنیا بھر کی کرنسی منڈیوں میں ہر لمحہ بدلتی شرح مبادلہ کے حساب سے ملکوں کے مرکزی بینک کرنسی کی خرید و فروخت کرتے ہیں تاکہ کرنسی کی قدر کو معاشی پالیسیوں کے ذریعے قابو میں رکھا جا سکے۔ معاشی پالیسیوں کے کئی اور عوامل بھی اس قدر کے تعین پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ قصہ مختصر آج کی دنیا میں یہ کرنسی نوٹ جو ہمیں قوتِ خرید عطاکرتے ہیں دراصل محض ایک زرِ کاغذی یا زرِ فرمان ہیں جسے انگریزی اصطلاح میں Fiat Currency کرنسی کہا جاتا ہے۔ اس لاطینی الاصل لفظ کے معنی شاہی فرمان کے سے ہیں یعنی جیسے کہا جا رہا ہو کہ فلاں حکم کی ”تعمیل ہو“۔

اس مکمل پس منظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک فرد کے تناظر میں کسی بھی جدید کرنسی مثلاًپاکستانی روپیہ کی قدروقیمت کس اصول پر قائم و دائم ہے؟ ظاہر ہے کہ اگر کسی واحد اصول کی نشاندہی کرنا ہو تو وہ اصول بھروسے کا اصول ہے۔ بہت سے لوگ جب کرنسی کی قدروقیمت کے معاملے میں ریاست پر بھروسہ کرتے ہیں تو اس کو تجارتی استعمال میں لاتے ہیں اور اس کاغذی زرِ فرمان کے لین دین پر نہ صرف مائل بلکہ قانونی طور پرمجبور ہوتےہیں۔ نیشن اسٹیٹ کے تصور کے ساتھ ہی بھروسے کے اس تصور کو جغرافیائی حدود سے مشروط کر کے قومی کرنسی کے تصور کو بھی فروغ ملا اور یوں مختلف ریاستوں میں سفر کی صورت میں ہم ان ریاستوں کی کرنسی استعمال کرنے پر مجبورہوتے ہیں۔ اس طرح قومی کرنسی کسی بھی ریاست کو ایک معاشی تشخص اور اگر معیشت مضبوط اور وسیع ہو تو سیاسی قوت بھی عطا کرتی ہے۔

انٹرنیٹ اور انفارمیشن انقلاب نے یہ منظرنامہ کیسے تبدیل کیا؟
اسی کی دہائی کے بعد انٹرنیٹ کے ذریعے گلوبلائزیشن کو فروغ ملا تو نیشن اسٹیٹ کے اس تصور کی جغرافیائی حدود کسی حد تک ابہام کا شکار ہوئیں۔ تقریباً اسی وقت ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی کا بنیادی تصور بھی ابھرا لیکن اس بنیادی خاکے میں رنگ بھرے جانے اور اس تصور کو پایہ تکمیل تک پہنچنے کے لیے مواصلاتی رفتار میں کافی بڑھوتری کی ضرورت تھی۔ بٹ کوائن کی ایجاد پر(تاحال نامعلوم محقق) ستوشی ناکاموتو کا تاریخی مقالہ تو 31 اکتوبر 2008ء کو منظر عام پر آیا لیکن اس کی نظری بنیادیں کم از کم پندرہ سال قبل مختلف تحقیقی و تجزیاتی تحریروں میں موجود ہیں۔ یہ تحریریں کچھ زیادہ نہیں کیوں کہ ان کا موضوع ہی اس زمانے کے تناظر میں کافی دور کی کوڑی لانے جیسا محسوس ہوتا ہے۔ ان تحریروں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح جنگِ عظیم کے دوران تیز تر ارتقاء پانے والی ریاضیاتی رمزیات (Cryptology) کے ذریعے کچھ سرپھرے ڈیجیٹل تجارتی سودوں کے ایسے نظام کی ایجاد کی کوششیں کر رہے ہیں جو اس قسم کے لین دین میں شامل ”بھروسے“ کی تعریف کو یکسر تبدیل کر دے اور ایک مرکزی ریاست کی جگہ ”بھروسے“ کا یہ نظام ایک لامرکزی ڈیجیٹل نیٹ ورک کے حوالے کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ یہ مکمل نظام صرف ان سودوں ہی کے لیے تجویز کیا گیا جو عرف عام میں ”آن لائن“ یعنی انٹرنیٹ پر طے پا رہے ہیں۔

تصور یہی تھا کہ یہ برقی کرنسی سودے میں شامل تمام فریقوں کے درمیان براہِ راست بھیجی جائے گی اور بیچ میں کوئی بھی تیسرا فریق یعنی ریاست یا ضامن کا کردار ادا کرتا کوئی بھی معاشی ادارہ مثلاً بینک وغیرہ شامل نہیں ہو گا۔ ڈیجیٹل نیٹ ورک نہ صرف جاری سودے پر برقی دستخط ثبت کرے گا بلکہ یہ بھی ممکن بنائے گا کہ دہرے اخراجات کی خردبرد نہ کی جا سکے۔ اس کے لیے برقی بہی کھاتوں کا ایک پورا سلسلہ تجویز کیا گیا جو سودے بازیوں کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ اس برقی سلسلے کو تکنیکی عرفِ عام میں ”بلاک چین“ کہا جاتا ہے۔ بلاک چین میں دخل اندازی یا خردبرد اس وقت تک ناممکن ہے جب تک پوری بلاک چین یعنی بہی کھاتے میں شامل ہر ایک اندراج کو نہ چھیڑا جائے۔ اس کام کے لیے اس حد تک برقی توانائی کی ضرورت ہے جو عملی اعتبار سے اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بہی کھاتہ بناتے مکمل لامرکزی نیٹ ورک میں شامل کمپیوٹروں (nodes) کی اکثریت خردبرد میں شامل نہ ہو۔ عام فہم انداز میں دیکھا جائے تو اتنی توانائی اس طریقے سے جمع کرنا شاید اس سے کہیں زیادہ خارج از امکان ہے کہ کسی بینک کا مینیجر، کیشئیر اور باقی تمام سرکردہ ملازمین بینک ڈکیتوں سے جا ملیں۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ مکمل نظام کس طرح تجارتی سودوں میں بھروسے کی تعریف کو بدلتا ہے۔ انٹرنیٹ کے بعد یہ ایک ایسا انقلاب ہے جو نہ صرف معاشی منظرناموں بلکہ سیاسی و سماجی منظرناموں کو بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ شاید یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ یہاں بھروسے کی تعریف کی تبدیلی سے بھی زیادہ بھروسے کا خلا پُر کیا جا رہا ہے۔ کرنسی کے رائج متبادل تصورات میں اہم سوال یہ ہے کہ آخر اس گلوبلائزیشن کے دور میں باہمی لین دین میں ریاست فرد کو کس حد تک مجبور کر سکتی ہے کہ وہ ان تصورات سے منسلک بھروسے کی کس نوعیت کو اپنائے اور کس کو نہیں؟ چھوٹے بڑے تمام بزنس تیزی سے انٹرنیٹ پر منتقل ہو رہے ہیں اور اگر انہیں ڈالر، یورو اور پاؤنڈ جیسی مگرمچھ کرنسیوں سے آزاد ہونے کا موقع ملے گا تو وہ کیوں ایسا نہیں کریں گے؟ اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان، بھارت اور چین جیسے ممالک کرپٹو کرنسی کے انقلاب کے سامنے بند باندھنے میں کیوں کر کامیاب ہو سکتے ہیں جب یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ اس کوشش کے نتائج بخوبی جان چکے ہیں اور اب کسی نہ کسی طرح اسے قانونی تحفظ فراہم کرنے اور منظم کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ سویڈن اور کینیڈا جیسے کچھ ممالک تو انٹرنیٹ کی غیرمعمولی مواصلاتی قوت کے باعث برقی کرنسی کو مکمل طور پر رائج کرنے کی منزل پر ہیں۔

ایسے میں پاکستان اور ہندوستان جیسے تیسری دنیاکے ممالک جہاں تاحال تو برقی توانائی کی صارفین تک منتقلی کے مسائل پرہی قابو نہیں پایا جا سکا، ریاستی سطح پر کرپٹو کرنسی اور متعلقہ ٹیکنالوجی کو لے کر عدم تحفظات کا پایا جانا نہ صرف ان ٹیکنالوجیوں کی تہہ میں اترے بغیر کسی قدر عجلت پسندی ہے، بلکہ اس لحاظ سے حیران کن بھی ہے کہ ان ٹیکنالوجیوں کو محض کرنسی کے عمومی یعنی تجارتی لین دین کے تصور تک محدود کیا جا رہا ہے۔ اس پر مستزاد یہ سادہ لوحی پر مبنی خیال کہ کرپٹو کرنسی کے ذریعےہونے والے سودوں کو کسی بھی طرح مانیٹر کیا اورغیرقانونی ثابت کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی مارکیٹ میں بٹ کوائن کی آج کی قیمت جسے کرپٹو کرنسیوں میں زرِ تبادلہ بھی کہا جا سکتا ہے، تقریباً گیارہ لاکھ روپے ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مراسلے کے بعد پاکستان کی واحد کرپٹو ایکسچینج ” اردو بٹ ڈاٹ کام ” اپنی ویب سائٹ بند کر چکی ہےجس کے ذریعے بٹ کوائن کی خریدوفروخت جاری تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسٹیٹ بینک کے لیے ایک ایکسچینج پر ہونے والے سودوں کو مانیٹر کرنا آسان تھا یا اب آسان ہے جب لوگ ایک دوسرے سے بٹ کوائن خرید رہے ہیں؟ یہ بٹ کوائن وہ یورپ، امریکہ اور کوریا یا جاپان میں موجود ایکسچینجوں یا پھر اپنے کمپیوٹروں میں انسٹال برقی بٹوں میں بھی رکھ سکتے ہیں۔ کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ بینکوں کے مابین ایک شخص سے دوسرے شخص کو بھیجے جانے والے پچاس ہزار یا ایک لاکھ روپے کرپٹو کرنسی خریدنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں؟

کرپٹو کرنسی کی ٹیکنالوجی کا واجبی علم رکھنےوالے شخص کو بھی یہ گمان ہونا لازم ہے کہ بینکر حضرات تاحال ان ٹیکنالوجیوں کے نام میں لفظ ”کرنسی ” کے باعث اس مغالطے کا شکار ہو رہے ہیں کہ یہاں مقصد صرف صارفین کی تجارتی لین دین ہے۔ اگر ان معنوں میں کرنسی کی تکنیکی تعریف قدروقیمت کا ایک ظرف، تبادلے کا طریقہ کار اور جمع خرچ کی ایک اکائی ہے تو اس وقت موجود 1587 کرنسیوں یعنی کوائنز اور ٹوکنز میں زیادہ تر ان تینوں تعریفات پر پورا نہیں اترتیں۔ دراصل ان میں واحد مشترکہ قدربلاک چین ٹیکنالوجی کا ہونا ہے۔ یہ تمام کرنسیاں دراصل وہ پراجیکٹ ہیں جو پانچ سے دس سال کے اندر منظرِ عام پر آنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کرپٹو کرنسیاں خریدنے والے افراد اگر محض وہ سٹے باز نہیں جو پہلے فارن ایکسچینج مارکیٹ میں سٹے بازی کر رہے تھے اور اب یہاں راتوں رات منافع کمانے کی کوشش میں ہیں تو یقیناً انہیں ان منصوبوں میں اپنے پیسے لگانے سے قبل ان منصوبوں کے وائٹ پیپرز اور ان میں شامل ٹیکنالوجیوں سے واقف ہونا ضروری ہے۔

گلوبلائزیشن کے دور میں یہ منصوبے دراصل ریاست کی جغرافیائی حدود کو مبہم کرتے ہوئے انٹرنیٹ پر مختلف گروہوں کو تجارتی روابط میں باندھ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ ایک پبلشر ہوں جو براہِ راست لکھاریوں سے تجارتی لین دین میں دلچسپی رکھتے ہیں یا پھر کوئی ایسے محقق جو ایک بڑے سوپر کمپیوٹر تک رسائی چاہتے ہیں یا پھر کوئی ایکسپورٹر جو اپنا مال بین الاقوامی منڈیوں تک لے جانا چاہتے ہیں لیکن بیچ میں موجود بینکوں اور ریاستی تجارتی معاہدوں کی وجہ سے پہلا قدم ہی نہیں بڑھا پا رہے۔ اس قسم کی کئی صورتوں میں بلاک چین ٹیکنالوجی ہی آپ کا فطری انتخاب ہو گی۔
بلاک چین ٹیکنالوجی کی ایک منفی جہت اس کا استبدادی شدت پسندوں کے ہتھے چڑھ جانے کا امکان ہے۔

اگر آپ نے مشہور ٹی وی سیریل ” مسٹر روبوٹ ”دیکھ رکھی ہے تو آپ ”کرپٹو انارکزم“ کے تصور سے ضرور واقف ہوں گے۔ کرپٹو انارکزم میں جدید ریاست پر ایک شدید عدم بھروسہ اور اس کے خلاف ایک ناگزیر نیم مارکسی انقلابی رجحان پایا جاتا ہے۔ یہ انقلابی رجحان کوئی خاص غیرمعقول بھی نہیں جیسا کہ عصرِ حاضر میں دولت، بینکوں اور ریاست کے مسائل پر لکھا جانے والے بہت سا تحقیقی مواد ہمیں بتلاتا ہے۔ بحیثیت قاری میری ذاتی رائے میں تیسری دنیا کے ممالک کو ان خدشات میں مبتلا ہونے کی بھی ضرورت نہیں کیوں وہ نہ تو گلوبل ورلڈ آرڈر کے کرتا دھرتا ہیں اور نہ ڈالر کے زیرِ تسلط رہنے میں ان کے کوئی مفادات وابستہ ہیں۔ اسی لیے کرپٹو کرنسی کے خلاف تنبیہ اور عمل درآمد کے باجود چین میں حکومتی اور جامعاتی سطح پر بلاک چین ٹیکنالوجی پر تحقیق جاری ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی صارفین کو تنبیہ کے باجواز پہلو اپنی جگہ لیکن اس کے باعث بلاک چین اور کرپٹو ٹیکنالوجی کے فروغ میں دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی قطعی معقول اقدام اور پہلے ہی سے دس سال بعد شروع ہو جانے والی متوقع دوڑ میں ہار مان جانے کے مترادف ہے۔

Latest posts by عاصم بخشی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words