یہ لو بیٹا موبائل، جاؤ اب گیمز کھیلو

یہ کہانی صرف سالار کی نہیں اب ہر اس گھر کی ہے جہاں بچے ذرا سا روئیں تو مائیں اپنے موبائل پر کوئی نظم یا کارٹون لگا کر اس کے سامنے کردیتی ہیں اور بچہ روتے روتے چپ اور آنکھوں سے پھسلے آنسو گال پر ہی خشک ہوتے ہوئے مگن کارٹون دیکھنے لگتا ہے۔ آج سے کچھ عرصہ قبل جب بچہ ر وتا تھا تو ماں یا تو اسے سینے سے لگا کر، ٹہلا کر، بہلاپھسلا لیتی تھی، شام میں روئے تو باپ باہر کا ایک چکر لگا کر لاتا، واپسی پر ہاتھ میں چپس اور جوس کا پیکٹ اور چہرے پر مسکراہٹ بتادیتی کہ اب سب سیٹ ہے۔ اگر کوئی بھی جتن کام نہ آئے تو ماں رونے کی وجہ کو بھوک سے تعبیر کرتے ہوئے فیڈر بناتی اور بچے کے منہ سے لگا دیتی تھی۔
یہی بچہ تھوڑا بڑا ہوتا تو اپنے ہم عمر بچوں کا ساتھ ڈھونڈتا اور محلے یا گھر کے صحن میں کھیلتا کودتا کہرام مچاتا دکھائی دیتا۔ اور پھر شام ڈھلے تھکتا اور بے خبر سو جاتا۔ لیکن اب تو یہ دن بہت ہی پرانے لگتے ہیں۔ تب بچوں کے پاس ٹی وی چینل ایک اور دیکھنے کو دو کارٹون ہوا کرتے تھے، کھیلنے کو میدان، پارک اور محلہ بھی ہوتا تھا، وقت گزرتا گیا تو ماؤں کو خیال آیا کہ میرا بچہ دوسروں سے مختلف ہے زیادہ اچھے اور مہنگے اسکول میں پڑھتا ہے اسے محلے کے دیگر بچوں سے دور رکھنا ہی اس کے بہتر مستقبل کی ضمانت اور میری ذمہ داری ہے۔ یہ خیال بڑھتے بڑھتے اتنا تناور درخت بنا کہ آج بچہ گھر تک محدود ہوگیا۔ کھیل کے میدان ویران ہوئے وہاں کچرا پھینکا جانے لگا اور پھر وہاں قبضہ مافیا نے عمارتیں کھڑی کرنا شروع کردیں۔
اب بچوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ جو بچہ باہر گلی محلے میں کھیلتا دکھائی دے وہ اچھا نہیں لیکن جس بچے کے ذہن میں یہ بٹھایا گیا وہ ہے تو بچہ ہی، ضد اور خواہش کرنا اس کا فطری عمل ہے تو اس نے ماں کا پلو کھینچنا شروع کردیا کہ جب کچھ بھی میرے لئے صحیح نہیں تو پھر کیا ہے جو مجھے بہلائے میرا وقت گزارے باہر باقی بچوں کے ساتھ کھیلنے کی آرزو کو ختم کر ڈالے؟ ان سب کے نتیجے میںماں نے اپنی جاں بخشی کے لئے موبائل ہاتھ میں تھما دیا کہ یہ لو میرے بچے اور اب مجھے تنگ نہ کرنا۔ شام میں تھکے ہارے ابا آئے تو ان کا حکم جاری ہوا کہ بچہ شور نہ کرے تو اس کا حل بھی یہی موبائل اور ٹی وی کارٹون نکلا۔ لیکن یہ سب اچانک ہوا کیسے؟
پچھلے چند برسوں میں جب ڈھائی سالہ بچے کو اسکول کا راستہ دکھانے کے لئے رنگ برنگی کلاس روم اور اس میں ناچ گا کر بچے میں پڑھنے کے رجحان کا اضافہ کیا گیا تو ماؤں کو یہ راستہ بھی سوجھنے لگا کہ بچہ بہت تنگ کرتا ہے چلو اسے اسکول بھیجو۔ یوں ایک ڈھائی سال کا بچہ روتا دھوتا، منہ بسورتا، نیند سے جھولتا اسکول جانے لگا وہاں اساتذہ نے ان بچوں کا سکھانے اور وقت گزارنے کے لئے مختلف موسیقی سے مزین نظمیں پڑھانا اور اسکرین پر دکھانا شروع کیں۔ جس سے بچہ خوشی سے وہ چند گھنٹے گزارنے لگا۔ اب گھر آئے تو اسے کیا کرنا چائیے؟ ماں تو ویسے ہی محلے داروں، رشتے داروں، ساس، نند، دیورانی و جیٹھانی سے تنگ ہے کیونکر اپنے بچوں کو اس کے بچوں سے ملنے جلنے دے تو اس نے بھی گوگل کی مدد سے پیرنٹنگ کے نت نئے موز سیکھے اور بچے کو گھر میں ہی فراہم کیا وہ سب جو اسکول میں بھی موجود ہے۔ ویسے بھلا ہو اس گوگل کا اس نے بھی ماؤں کی مشکل کو خوب حل کیا۔ اب تو موبائل پر بچوں کو بہلانے کے لئے کچھ بھی ڈاون لوڈ کرو اور بے فکری سے دوسرے کمرے میں بیٹھ کر فون پر ملنے والے گھنٹہ آفر سے کسی بھی ہم خیال سہیلی یا بہن کو کال ملاکر کلیجہ ٹھنڈا کرو۔ ان سب میں بچہ گھر پر بھی رہے گا اور مصروف بھی۔
یہ تو ہوا تصویر کا ایک رخ اب آتے ہے دو سری جانب، حال ہی میں آنکھوں میں ہونے والی تکلیف کے سبب مجھے شہر کے سب سے بڑے اسپتال جانے کا اتفاق ہوا تو گھنٹوں انتظار کرتے ہوئے میں نے آنکھوں کے مریضوں میں بوڑھے یا پھر بچے سب سے زیادہ دیکھے۔ کچھ بچے ایسے بھی تھے جن کی آنکھ کا کوئی آپریشن ہوا تھا اور وہ آنکھ بینڈیج لگا کر بند کی گئی تھی لیکن اس کے چڑچڑانے پر ماں نے بیگ سے موبائل نکالا اور بچے کو تھما دیا کہ وہ گیم کھیلے اب وہ غریب ایک آنکھ پر سارا زور دیتے ہوئے خود کو مصروف رکھے ہوئے تھا اور ماں پرسکون۔ صوفے کے دوسری جانب کئی ایسے بچے جن کی عمریں دس برس سے بھی کم ہوں گی نظر کمزور ہونے کی وجہ سے والدین کے ساتھ آئے ہوئے تھے اور موٹے موٹے فریم کے چشمے لگائے انتظار میں بیٹھے تھے۔
چلئے مان لیا کہ یہ مسئلہ آپ کو اپنے والدین کی طرف سے موروثی بھی ہوسکتا ہے لیکن یہ ہر جگہ تو ممکن نہیں یہ سوال میرے ذہن کو تنگ کرنے لگا۔ بالاآخر جب میری باری آئی تو میں نے ڈاکٹر سے تمام تفصیلات اور ہدایات سمجھنے کے بعد ان سے پانچ منٹ اضافی مانگے اور سوال کر ڈالا کہ ڈاکٹر صاحب کیا وجہ ہے کہ بوڑھے اور بچے امراض چشم میں سب سے زیادہ مبتلا ہیں؟ ڈاکٹر صاحب مسکرائے اور فرمانے لگے بوڑھا آدمی تو سمجھ آتا ہے عمر کا بڑھنا، قوت مدافعت کا کم ہونا اور مختلف بیماریاں اسے بہت سی بیماریوں سے دوچار کردیتی ہیں۔ لیکن بچوں میں جہاں سب سے زیادہ امراض چشم کی عام بیماریوں میں Epiphora، diplopia، cataract، Amblyopia وغیرہ شامل ہیں وہیں اب سب سے زیادہ ہونے والا ایک مرض Myopia بھی ہے جس کی ایک نمایاں وجہ گھر کے اندر رہنا اور وہ کام کرنا جس میں آنکھوں کا استعمال بہت قریب سے کیا جائے جیسے کہ سلائی کڑھائی، ٹی وی دیکھنا وغیرہ شامل ہے اب بچے سلائی کڑھائی تو کرتے نہیں لیکن قریب سے ٹی وی دیکھنا اور گھنٹوں پلے اسٹیشن پر گیمز کھیلنا، موبائل استعمال کرنا عام بات ہے۔
ڈاکٹر کے مطابق وہ بچے جو اسکول اور گھر میں زیادہ وقت گزارتے ہیں اور اس کے علاوہ باہر قدرتی روشنی میں نہیں نکلتے ان کے ساتھ بھی یہ مسائل رہتے ہیں۔ ان کے مطابق کم سے کم چالیس منٹ بچوں کو باہر سورج کی قدرتی روشنی میں وقت گزارنا چائیے کیونکہ ٹی وی، کمپیوٹر اور دیگر برقی آلات سے نکلنے والی شعاعیں زیادہ تر نیلے رنگ کی ہوتی ہیں اور ہر ڈیوائس پر آنکھوں کو شعاعوں سے دور رکھنے کی اسکرین آویزاں نہیں ہوتی خاص کر موبائل اور آئی پیڈ پر گیمز کھیلنے اور کاٹون دیکھنے کے رجحان میں اضافے سے یہ سب آنکھوں میں تکلیف کا سبب بنتی ہیں۔ باہر کے ممالک میں اس مسئلے کی سنگینی کے سبب اسکول انتظامیہ اب بچوں کو کلاس روم سے نکال کر باہر کچھ دیر کے لئے گراونڈز میں مصروف رکھتی ہے کہ وہ اس مرض سے کسی حد تک بچ سکیں۔ لیکن اس کا حل یہی ہے کہ والدین بچوں کو کم عمری میں ہی موبائل کے استعمال سے روکیں اور انھیں اس کے ہونے والے نقصانات سے آگاہ بھی کریں کیونکہ جو بھی بچے آنکھوں کی تکالیف اور نظر کمزور ہونے کے سبب میرے پاس آتے ہیں ان سے میرا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ موبائل اور ٹی وی دیکھنے کا استعمال کتنے گھنٹے کا ہے؟ اور جواب سب کا ایک ہی ہوتا ہے کہ ان کا دن رات انہی آلات کے ساتھ گزرتا ہے۔
بدقسمتی سے ہم نے اپنے بچوں کی باتوں اور سوالات سے جان چھڑانے کے لئے انھیں وہ سب فراہم کردیا ہے جو وقتی سکون کا سبب تو ہے ہی لیکن اس کا نتیجہ ایک جانب ان کو امراض چشم میں مبتلا کر رہا ہے تو دوسری جانب ان رشتوں سے بھی دور کر رہا ہے جو سب سے زیادہ قیمتی اور انمول ہیں۔ ہم اپنے بچو ں کو یہ کیسے سمجھائیں کہ وہ موبائل پر اپنا وقت کم سے کم دیں کیونکہ ہم بڑے بھی تو یہی کچھ کر رہے ہیں۔ جب بچے کے ساتھ بیٹھی ماں یا باپ بھی اپنا فارغ وقت موبائل کی نذر کردے تو بچہ عین اس وقت یہی سوچ رہا ہوتا ہے کہ بڑے تو مصروف ہیں وہ ان سے بات کر ے گا تو شاید اسے ڈانٹ ڈپٹ یا نظر اندازی کو سہنا پڑے تو وہ بھی اسی چیز کا انتخاب کرے گا جو آپ کے زیر استعمال ہے۔ کیونکہ آپ نے ہی تو اسے سمجھایا اور سکھایا ہے کہ سب غلط ہوسکتا ہے لیکن والدین نہیں۔ آپ کا بچہ کیسے اس سہولت کو برا سمجھ سکتا ہے؟ آپ کیسے اسے اس کے نقصانات سے آگاہ کرسکتے ہیں جب وہ یہ آپ کے ہاتھ میں وقت بے وقت دیکھے گا؟
ایک لمحے کو سوچئے جس وقت آپ اپنے تمام کاموں سے فراغت کے بعد بیٹھتے ہیں اور آپ کو اپنا بچہ بھی سامنے نظر آئے تو کیا ہی اچھا ہو کہ آپ اسے اپنے پاس بٹھائیں اسے اپنے بچپن کا کوئی قصہ سنائیں، اس سے اس کیاسکول کی کہانیاں سنیں اس کیپسند ناپسند پر تبادلہ خیال کریں۔ آپ کو اپنے اردگرد بسنے والے لوگ اگر نہیں بھی پسند تو کسی چھٹی کے روز گھر میں خود کو بند کرنے اور برنچ پر جانے کے بجائے اپنے بچوں کو کسی پارک یا صبح سویرے ساحل سمندر لے جائیں وہاں کی تازہ ہوا اور دھوپ کو محسوس کریں اور اس کے ساتھ ریت پر گھر بنائیں کیونکہ آپ نے تو اپنے بچپن میں مٹی سے خوب دوستی نبھائی لیکن آپ کا بچہ صرف اس گرد سے واقف ہے جو چاروں طرف سے بند رہنے والے گھر میں فرنیچر پر ہی آکر جم جاتی ہے ٹیکنالوجی کے اس دور میں اپنے بچوں کی دوستی مٹی سے کروائیں، اس کو گھاس کی ٹھنڈک اور گھنے درختوں کی چھاوں کو محسوس کروائیں کیونکہ شام ڈھلے اس نے پھر گھر آنا ہے وہی ٹی وی، وہی لیپ ٹاپ، وہی گیمز، وہی آلات اس کے زیر استعمال ہوں گے لیکن آپ کے اس عمل سے اس کی آنکھوں کو کچھ نیا دیکھنے کو ملے گا کچھ دیر کو ہی سہی راحت و سکون توملے گا۔

