فائزہ سمرا سے بڑی شکاری نکلی


وہ بھی بہت سے دنوں کی طرح ایک عام دن تھا۔ نہ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور نہ ہی ہوا میں خوش گوار مہک تھی۔ نہ ہی باد صبا گلوں سے اٹھکیلیاں کر رہی تھی۔ نہ جھرنا مترنم شور مچا رہا تھا اور نہ ہی افق پر سرخی چھائی ہوئی تھی۔

چلچلاتی گرمی تھی اور سر کے بالوں سے پاؤں کی انگلیوں تک پسینے کی دھاریں بہ رہی تھیں۔ سمرا اپنی ترقی کا پروانہ ہاتھ میں تھامے تھکے تھکے قدموں سے ڈی جی صاحب کے کمرے سے نکلی اور اپنی میز کے عقب میں موجود کرسی پر آ کر ڈھیر ہو گئی۔ اسے رہ رہ کر فائزہ کے رد عمل کا خیال ستا رہا تھا۔

سمرا اور فائزہ کو اس دفتر میں کام کرتے ہوئے ایک سال ہو گیا تھا اور دونوں نے اپنی ملازمت خوب دل لگا کر کی تھی۔ دونوں نے اپنے تئیں ڈی جی صاحب سے کام سیکھنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ ملازمت کی ابتدا میں ہی دونوں کو معلوم ہو گیا تھا کہ ڈی جی صاحب کی نظروں میں بس وہی دونوں کام کی لڑکیاں ہیں۔ باقی دونوں لڑکیوں کو دفتر کے کونے کھدروں میں کھپا دیا گیا تھا۔ انہوں نے اس پر کسی قسم کی صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کی تھی لہٰذا سمرا اور فائزہ کو ان سے کوئی خطرہ محسوس بھی نہیں ہوا تھا۔

میز کے کونے کے تھوڑے سے ٹوٹے ہوئے شیشے کی کارستانی دونوں کے ساتھ ہوئی تھی اور کچھ ہی دن میں دونوں نے اس بات پر اتفاق بھی کر لیا تھا کہ میز کے شیشے کا ٹوٹا ہوا کونا ہی دونوں کی بقا کا ضامن تھا۔ اس اتفاق کے بعد دونوں اچھی سہیلیاں بن گئی تھیں۔ چونکہ دونوں کا مشن بھی ایک ہی تھا یعنی ترقی پانا چناچہ دونوں ایک دوسرے کی مدد بھی کیا کرتی تھیں۔ اپنے تجربات آپس میں شیئر کرتی تھیں تاکہ دونوں کی کارکردگی میں مزید نکھار آئے اور ترقی کے مواقع حاصل ہوں۔

دونوں نے اپنا اپنا کام بھی بانٹ لیا تھا۔ ڈی جی صاحب بھی دونوں سے خوش تھے۔ دونوں اپنے اپنے کام میں طاق تھیں اس لیے دفتر کا نظام بھی خوش اسلوبی سے چل رہا تھا۔ مسئلہ تب ہوا جب پہلے سال کے اختتام پر ڈی جی صاحب نے اعلان کیا کہ اس سال چار نئی لڑکیوں میں سے ایک کو ترقی ملے گی۔

سمرا اور فائزہ نے یہ اعلان سنا تو دونوں کی آنکھوں میں سرخی اتر آئی۔ وہ دونوں اپنی اپنی ترقی میں رکاوٹ برداشت کرنے کو تیار نہیں تھیں۔ دونوں نے محنت بھی تو خوب کی تھی۔ سمرا کو زبان پر عبور تھا تو فائزہ کی پوزیشن بہتر تھی۔

سال کے اختتام سے ایک ہفتہ قبل فائزہ کی ماں بیمار پڑ گئی۔ اس نے دفتر سے کچھ دن کی چھٹی لے لی۔ سمرا کو موقع مل گیا۔ زبان پر تو اسے عبور تھا ہی اب اس نے اپنی پوزیشن کو بھی بہتر کیا اور ڈی جی صاحب کو اپنی تعریف کرنے پر مجبور کر دیا۔ جس دن فائزہ چھٹیوں سے واپس آئی اسی دن ترقی کا اعلان ہونا تھا۔ فائزہ کا رنگ قدرے زرد اور طبیعت سست تھی۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کی غیر موجودی میں سمرا مقابلہ جیت چکی ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔

جب سمرا اپنی ترقی کا پروانہ لے کر واپس آئی تو فائزہ دفتر سے جا چکی تھی۔ سمرا کی میز پر ایک ٹائپ شدہ کاغذ موجود تھا۔ سمرا نے کاغذ پڑھا اور اسے افسوس ہوا۔ وہ فائزہ کا استعفیٰ تھا۔ سمرا نے فوراً فائزہ کے موبائل پر فون ملایا۔ فائزہ نے دوسری گھنٹی پر کال ریسیو کر لی۔

”یہ کیا حماقت کر رہی ہو؟ تمہیں معلوم ہے آج کل ملازمت مشکل سے ملتی ہے۔ “ سمرا نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
”تم فکر مت کرو۔ “ فائزہ نے کہا اور فون کاٹ دیا۔

اگلی شام سمرا اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ دیکھ رہی تھی کہ اس کی نظر فائزہ کے ٹویٹ پر پڑی اور وہ اچھل پڑی۔ فائزہ نے ڈی جی صاحب پر جنسی ہراسانی کا الزام لگا دیا تھا۔ سمرا نے اپنا سر پیٹ لیا۔ ڈی جی صاحب کچھ دن پریشان رہے۔ مگر اصل دھچکا سمرا کو تب لگا جب ڈی جی صاحب اور فائزہ ایک دن اکٹھے دفتر آئے اور ڈی جی صاحب نے دفتر کے عملے سے فائزہ کا تعارف کروایا۔

”ان سے ملئے۔ یہ میری نئی وائف ہیں۔ “
سمرا کے منہ سے مبارک باد کا لفظ تک نہ نکل سکا۔ فائزہ نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ سمرا سے بڑی شکاری ہے۔

Facebook Comments HS

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 122 posts and counting.See all posts by awais-ahmad