جنسی ہراسانی کی آگہی اور روک تھام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میشا شفیع اور علی ظفر کو لے کر سوشل میڈیا اور میڈیا پر بحث مباحثے کا ایک طوفان آ گیا ہے اور ساتھ میں ایک صںفی جنگ بھی شروع ہو گئی ہے۔ کچھ خواتین میشا شفیع کی حمایت کر رہی ہیں اور کچھ لوگ علی ظفر کی۔ علی ظفر کے والد میرے ایک محترم استاد تھے مگر میں علی ظفر کو ذاتی طور پر نہیں جانتی۔ اسی طرح میشا شفیع سے علاوہ خاتون ہونے کے میرا کوئی اور ناتہ نہیں۔ میں ان لوگوں کی ذاتی زندگی اور اس واقعہ کی جزئیات سے ہر گز بھی واقف نہیں اور نہ ہی کسی کے درست یا غلط کا فیصلہ کرنے کا مجھے کہا گیا ہے اور نہ ہی میں خود کو اس پوزیشن میں موجود محسوس کرتی ہوں۔

البتہ اس واقعہ کو لے کر لوگوں کے رویوں کے بارے میں میری ایک رائے ہے اور بطور عوام ہمارے مطالبات اور لائحہ عمل کے بارے میں بھی۔

کچھ لوگوں نے میشا شفیع پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے محض شہرت کے لئے یہ قدم اٹھایا۔ اس بارے میں ہی مگربل کا سبی کے واقعہ کو لے کر میں نے ٹویٹر پر Feminist next door نامی اکاونٹ کی ایک بڑی دلچسپ ٹویٹ انگریزی میں پڑھی کہ کیا آپ ان 59 عورتوں کے نام بتا سکتے ہیں جو بل کاسبی کے خلاف سامنے آئیں؟ کیا آُپ ان میں سے آدھوں کے نام بتا سکتے ہیں؟ کیا آپ انہیں ویسے ہی پہچان سکتے ہیں؟ کیا آپ ان کا آٹوگراف لینا چاہیں گے؟ Cool تو خواتین ریپ کا الزام مشہور ہونے کے لئے نہیں لگاتیں۔

میں اس بات سے متفق ہوں۔

اکثر لوگوں کو ان خواتین پر بھی اعتراض ہے جو محض صنف کی وجہ سے میشا شفیع کی حمایت کر رہی ہیں۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ ہم کسی بھی صنف کے لوگوں کو کل کفر یا کل ایمان قرار نہیں دے سکتے مگر اگر اکثریت کو دیکھا جائے تو زیادہ تر ہراسانی کے واقعات مردوں سے عورتوں کی طرف پیش آتے ہیں کیونکہ قوت عموما مردوں کے پاس زیادہ ہوتی ہے اور ہراسانی بہرحال بنیادی طور پر قوت کے بے جا استعمال سے مربوط ہے۔

جو خواتین میشا شفیع کو عورت ہونے کے ناطے سپورٹ کر رہی ہیں وہ اصل میں ایک پوری صنف نازک کی سپورٹ کے لئے آواز اٹھا رہی ہیں اور خود کو اس کی جگہ پر رکھتے ہوئے پیش آنے والے ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کے لئے مردوں کو ڈرا کر پیش بندی کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ بات ایک کمزور کے دفاعی نظام کے طور ہر تو ٹھیک ہے مگر اس مسئلے کا حل نہیں کیونکہ اگر کسی نے بھی مووی ڈسکلوژر دیکھی ہو تو وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ قوت کا استعمال کچھ صورتوں میں خواتین بھی کر سکتی ہیں اور اس معاملے میں مرد بھی بے بس ہے۔

مگر اس سارے قصے کے سامنے آنے سے کچھ باتیں جو ہماری سمجھ میں آئیں وہ یہ ہیں کہ ہراسانی جو کہ لمس، بے ہودہ بات یا اپنے جسمانی اعضا کو کسی کے سامنے اس کی مرضی کے بغیر سامنے لانے کی ہو، کا وقت کے گزرتے چلے جانے کے بعد عموما کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔

علی ظفر اور میشا کے معاملے میں ہم جج نہیں مگر بطور عام لوگ ہمارے سمجھنے کی باتیں یہ ہیں
ایک تو یہ کہ ہمیں یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ ہراسانی کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور یہ واقعات دل و دماغ پر برے اور گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ ہمیں اپنی ذاتی حدود اور جسمانی حدود کا بہت واضح طور پر علم ہونا چاہیے اور ساتھ میں دوسروں کی ذاتی اور جسمانی حدود کا بھی۔

ہمیں کسی بھی فرد سے ایک جسمانی فاصلے اور گفتگو کی حدود کا بھی علم ہونا چاہیے تاکہ کسی کے بھی حد کے گزرنے کی صورت میں ہم فوری ادراک اور تدارک کر سکیں۔
کسی بھی ادارے، بڑے شاپنگ مال اور ایسی جگہ جہاں کوئی پبلک ایونٹ منعقد ہونا ہوسب سے پہلے یہ واضح کیا جائے کہ وہاں جسمانی فاصلے اور گفتگو کی کیا حدود اور قیود مقرر ہیں تاکہ کوئی بھی لا علمی یا بے وقوفی میں کسی حد کو پار نہ کرے۔

اس کے بعد ہمیں اس مطالبہ کی ضرورت ہے کہ کسی بھی ایسی جگہ پر جہاں خواتین اور مرد مل کر کام کرتے ہیں وہاں ہراسانی کے واقعات سے نمٹنے کے لئے ایک شعبہ ہونا چاہیے جہاں ایک ایسی قابل خاتون بیٹھی ہو جو کسی بھی ایسے فرد کی شکایات کو، جسی کسی دوسرے نے ہراساں کیا ہے، بغیر کسی طرفداری کے خفیہ طور پر ریکارڈ میں لا سکے۔
اسی طرح اگر یہ ادارہ ایک ایونٹ مقرر کرواتا ہے جیسا کی میشا شفیع اور علی کا ہوا تو معاہدے کی باقی شرائط کے ساتھ دوسروں کے ساتھ پیش آنے کا برتاؤ بھی اس معاہدے میں شامل ہو۔

جب کسی خاتون کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ پیش آئے تو اسے واضح طور سے معلوم ہونا چاہیے کہ اس نے نہ کس طرح کہنی ہے اور واضح طور پر منع کس طرح کرنا ہے، اپنے الفاظ سے اور جسم سے بھی تاکہ اگلے کو یہ واضح طور پر معلوم ہو جائے کہ اس کا یہ فعل پسندیدہ نہیں ہے اور اسے خوش آمدید نہیں کہا جا رہا۔ صاف لفظوں میں منع کر دینا بھی بعض اوقات کافی ثابت ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد انتظامیہ کے علم میں یہ بات لانا چاہیے کہ فلاں شخص کا رویہ ناپسندیدہ یا ہراساں کرتا ہوا ہے اور کسی بھی انتظامیہ کے لئے یہ بات لازمی ہونا چاہیے کہ وہ اپنے تحت ہونے والے پروگرام یا اپنے تحت چلنے والے ادارے میں موجود شخص کی شکایات اور مسائل کو خاموشی سے سن کر اس پر ایکشن لیں گے۔

اس کے علاوہ ہراسانی کے واقعات کو فوری طور پر اپنے پاس محفوظ کر لینا چاہیے تمام جزئیات جیسے وقت اور جگہ وغیرہ لکھ کر اور اگر کوئی گواہ ہو تو اس کا نام پتہ بھی اور اگر اس جگہ پر کیمرے نصب ہوں تو ریکارڈنگ بھی طلب کی جاسکتی ہے اور اگر آپ نے اس شخص کو اس حرکت سے باز رہنے کے لئے کوئی ای میل یا ٹیکسٹ میسجکیے ہیں تو ان کا ریکارڈ بھی پاس رکھنا چاہیے۔ اس طرح کے ثبوت سے ہراسانی اور ہنی ٹریپنگ کے الزام کے بیچ میں فرق متعین کرنے میں بھی آسانی ہو گی۔

ادارے کو بھی چاہیے کہ وہ کسی بھی شخص کے بارے میں ریکارڈ کروائے جانے والے تمام چھوٹے بڑے واقعات کو لکھ کر محفوظ کرتا جائے تاکہ کسی بھی شخص کے بارے میں شکایات کی تعداد کا تعین کیا جا سکے۔

ادارے کو سب سے پہلے اس شخص کے بارے میں ایکشن لینا چاہیے۔ اس ایکشن میں اسے سمجھایا جا سکتا ہے، وارننگ دی جا سکتی ہے اور برطرف یا معطل بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایونٹ کی صورت میں ایونٹ کا معاہدہ منسوخ کیا جاسکتا ہے، شاپنگ مال کی صورت میں اسے مال سے نکالا جا سکتا ہے اور آئندہ کے لئے داخلے پر بھی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ دوسری تنظیموں میں بھی ان کے اپنے حساب سے سزا یا وارننگ کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

اس صورت میں اگر سب چیزوں کو قدم بہ قدم لے کر چلا جائے تو ہراسانی کے واقعے کو تمام ڈاکیومنٹری ثبوت کے ساتھ عدالت میں لے جانا اور ثابت کرنا بے حد آسان ہو سکتا ہے۔

میں نہیں جانتی کہ آیا کہ میشا شفیع ان سارے مراحل سے گزرنے کے بعد سامنے آئیں یا بس وہ ایک دم سے بس سوشل میڈیا پر کھل گئیں کیونکہ اگر ایسا کیا جائے تو کسی کو بھی ثبوت فراہم کرنا ناممکن ہو گا اور لوگ یہ بھی کہنے میں خود کو حق بجانب محسوس کریں گے کہ وہ سوشل میڈیا کی طاقت کا بے جا استعمال کر کے علی ظفر کو ہی بے جا ہراساں یا پریشان کر رہی ہیں۔

مگر اس بات کے سامنے آنے سے ہمارے لئے اپنے حقوق اور مطالبات کا تعین کرنے کا ایک راستہ کھلا ہے اور ہمیں اس بارے میں اداروں میں اور ملکی سطح پر بہتر قانون سازی کی بات کرنا چاہیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مریم نسیم

مریم نسیم ایک خاتون خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ فری لانس خاکہ نگار اور اینیمیٹر ہیں۔ مریم سے رابطہ اس ای میل ایڈریس پر کیا جا سکتا ہے [email protected]

maryam-nasim has 59 posts and counting.See all posts by maryam-nasim