مدیحہ گوہر: پاکستانی عورت کی ذہانت اور ہمت کا نشان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(مدیحہ گوہر کی دوسری برسی کی مناسبت سے)

مدیحہ گوہر سے پہلا تعارف اجوکا تھیٹر کا معروف کھیل ”کون ہے یہ گستاخ ؟“ دیکھنے کے بعد اُس وقت ہوا جب کھیل کے اختتام پر فنکاروں کا تعارف پیش کرنے کے لیے وہ سٹیج پر آئیں۔ پیش کیے جانے والے کھیل کا تعلق سعادت حسن منٹو کے متنازعہ افسانوں اورمنٹو کی زندگی کے نشیب وفراز سے جڑا تھا۔مدیحہ گوہر نے اِ س کھیل کی ہدایت کاری کے فرائض سر انجام دیے تھے۔ اُن کی فن کے ساتھ سنجیدگی اور کمٹمنٹ کا اندازہ اِس شاندار کھیل سے بخوبی لگایا جا سکتا تھامزید حلاوت وچاشنی سے بھر پور گفتگو اور شفقت بھرے چہرے نے ذہن میں اُن کی شخصیت کا خوبصورت خاکہ ابھارا جو آج تک یوں ہی سلامت ہے ۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں اردو ادب کا طالب علم ہونے اور جی سی ڈی سی (گورنمنٹ کالج ڈرامیٹکس کلب) سے وابستگی کے باعث ہم چونکہ اداکاری و تھیٹر کے طالب علم تھے لہذا کھیل کے بعد جی سی ڈ ی سی کے دیگر دوستوں کے ساتھ بیک سٹیج ادکاروں اور بالخصوص آرٹ تھیٹر کی اِس عظیم ہستی مدیحہ گوہر کو ملنے پہنچے تو ایک خاص اپنائیت محسوس ہوئی جس کے پیچھے تھیٹر کی محبت کے ساتھ ساتھ راوین ہونے کا رشتہ کار فرما تھا ۔

اِس کھیل کے بعد مدیحہ گوہر کے بارے میں مزید بہت کچھ جان کاری حاصل ہوئی جس سے پتہ چلا کامدیحہ گوہر محض ایک ہدایتکار نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے جسے اداکار،ڈرامہ نگار،مصنفہ، ہدایتکار،فیمنسٹ، سماجی کارکن اور اس کے علاوہ بہت سے نام دیے جا سکتا ہے ۔1956ءمیں پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہونے والی مدیحہ گوہر کو ادب اور آرٹ گویا گھٹی میں ملے تھے ۔ والدہ خدیجہ گوہر نے”The Coming Season’s Yield” کے نام سے ایک ناول لکھا جس کا اردو ترجمہ” امیدوں کی فصل “ کے عنوان سے کیا گیا ۔مدیحہ گوہر کی بہن فریال گوہر بھی ادب، آرٹ اور کلچر کے حوالے سے اہم نام ہے۔ مدیحہ گوہر نے شاہد ندیم سے شادی کی جو پاکستان ٹیلی ویژن پر پرڈیوسر ہونے کے ساتھ ساتھ بطور صحافی اور سوشل ایکٹیوسٹ کے طور پر اپنا ایک خاص تعارف رکھتے ہیں۔

زمانہ طالب ِ علمی سے ہی مدیحہ گوہر کا رجحان اداکاری و تھیٹر کی طرف رہا کنیئرڈ کالج لاہور اور گورنمنٹ کالج لاہور کے ڈرامیٹکس کلب سے وابستہ رہیں۔1978ءمیں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی زبان و ادب میں ایم کرنے کے بعد یونیورسٹی آف لندن (برطانیہ) سے تھیٹر سائنسز میں ڈگری حاصل کی ۔پاکستان واپس آنے پر 1983ءمیں اپنے شوہر شاہد ندیم کے ساتھ مل کر ” اجوکا “ تھیٹر کی بنیاد رکھی ۔”اجوکا “ تھیٹر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں سوشل تھیٹر کے حوالے سے ایک معتبر نام ہے ۔صنفی و طبقاتی تقسیم ہو،انتہا پسندی کا ناسورہو یا بنیادی انسانی حقوق کی پائمالی ”اجوکا“ تھیٹر نے اِن کے خلاف بھر پور آواز اُٹھاتے ہوئے معاشرے میں اپنا مثبت کردارادا کیااور آج تک کر رہا ہے ۔مدیحہ گوہر نے اجوکا پروڈکشن کے پلیٹ فارم سے بطورِ مصنف، ادکار اور بالخصوص ہدایتکار درجنوں ڈراموں میں کام کیا ۔اجوکا تھیٹر کے پلیٹ فارم سے کون ہے یہ گستاخ؟ ‘دارا‘ لو پھر بسنت آئی‘ انی مائی دا سپنا‘ بالا کنگ‘ بُلھا‘، ہوٹل موہنجودھاڑو‘ چیرنگ کراسمیت کئی اہم کھیل کھیلے گئے جنہیں عوام میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی ۔اِس سفر میں میں مدیحہ گوہر اُن کے شوہر شاہد ندیم اور اجوکا تھیٹر کو ان گنت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اُن کے ارادے کسی طور پر سرد نہ پڑے۔2007ءمیں پیش کیے گئے ایک طنزیہ کھیل ” برقعہ ویگنیزا“کومتنازع شہرت حاصل ہوئی رجعت پسند طبقے کی جانب سے اِس کھیل کی مخالفت کے باعث پاکستان میں اِ س پر پانبدی لگا دی گئی تاہم انگریزی ترجمہ کے ساتھ بیرونی ممالک میں یہ کھیل پیش کیاجاتا رہا ۔مدیحہ گوہر کچھ عرصہ کے لیے تدریس کے شعبہ سے بھی منسلک رہیں لیکن ضیاالحق کے دور میں انہیں سرکاری نوکری سے برخاست کر دیا گیا اور پاکستان ٹیلی ویژن پر ان کے ڈراموں پر پابندی لگا دی گئی ۔

اِسی دھوپ چھاﺅں میں اجوکا تھیٹر پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے لیے ایک نرسری ثابت ہوا ۔میرے لاہور قیام کے دوران کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ کہیں آرٹ تھیٹر پیش کیا جا رہا ہو اور ہم نہ دیکھنے گئے ہوں ۔اجوکا،رفیع پیر، آزاد، کاپی کیٹس، سنگت ،اولو مپولو ،زِگ زیگ، میڈ ماسک، مکھوٹے اور یونیورسٹیز ڈراما کلبز اینڈ سوسائیٹیز کے بیشتر کھیل تھیٹر کے اساتذہ اور طالب ِ علموں کے ساتھ دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔کھیل دیکھنے کے بعد تادیر تھیٹر کے فکری و فنی پہلوﺅں پر ہونے والے مباحث بھی ہماری خاص دلچسپی کے حامل ہوتے ۔اِس دوران بنا کسی مبالغہ کہ اجوکا تھیٹر کے کام کو سراہا جاتا بالخصوص دارا‘ کون ہے یہ گستاخ؟‘ ہوٹل موہنجودھاڑو‘ اور لو پھر بسنت آئی اجوکا پروڈکشنز کی وہ کھیل تھے جو ہمیں بطورِ خاص پسند آئے ۔کامران مجاہد، نسیم عباس، رضیہ ملک، نروان ندیم اور چند مزید ایسے چہرے تھے جنہیں ہم اجوکا سے پہلے بھی ٹی وی سکرین پر دیکھ چکے تھے ۔

بعدازاں ہمارے یونیورسٹی ڈرامیٹکس کلب کے چند اداکاروں نے اجوکا کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنے فن و شوق کو مزید نکھارا اور ٹیلی ویژن سکرین تک رسائی حاصل کی جن میں نایاب فائزہ، عمر ڈار، مزمل شبیر، طلحہ چوہار، سنان احمد ورک وغیرہ کے نام ذہن میں آتے ہیں۔ مدیحہ گوہر نے اجوکا تھیٹر کو ساتھ لیے کئی ممالک کے دور ے کیے اور تھیٹر آرٹ میں ملک کی نمائندگی کی ۔انہوں نے پاکستان کے علاوہ ہمسایہ ملک بھارت، بنگلہ دیش، مصر، ایران، امریکہ اور برطانیہ میں بھی اپنے تھیٹرز پیش کیے۔عوامی مقبولیت کے ساتھ ساتھ ملکی و بین الاقوامی سطح پر کئی ایواڈ اُن کے حصہ آئے ۔حکومتِ پاکستان نے ادب اور ثقافت کے میدان میں اعلٰی کارکردگی کی بنیاد پر مدیحہ گوہر کو 2003ءمیں تمغہ حسن کارکردگی اور 2014ء میں فاطمہ جنا ح ایوارڈ سے نوازا۔2005ءمیں نوبل ادب انعام کے لیے بھی مدیحہ گوہر کو نامزد کیا گیا۔اسٹیج ڈراموں کی لکھاری ہونے اور اپنی عمدہ کارگردگی پر نیدر لینڈز کی حکومت نے انہیں 2006ءمیں ‘پرنس کلاز ایوارڈ’ عطا کیا۔

مذکورہ تمام کامیابیوں کے ساتھ ساتھ مدیحہ گوہر کا نام کئی حوالوں سے متنازع بھی رہا سب سے زیادہ مخالفت کا سامنا مدیحہ گوہر کو رجعت پسند طبقے کی جانب سے کرنا پڑا۔انسانی حقوق کی ایکٹیوسٹ ہونے، اجوکا کے تھیٹرز میں شدت پسند رویوں کی مخالفت اور تقسیم پاکستان کے دوران ہونے والے انسانی استحصال کو واضح طور پر اجاگر کرنے میں انھیں اینٹی پاکستان اور اینٹی اسلام بھی کہا گیا ۔مدیحہ گوہر اور اجوکا پر بین الاقوامی فنڈنگ اور غیر ملکی اجنسیوں کی معاونت کے الزامات بھی لگے ۔ساتھی فنکاروں سے بھی کچھ تنازعات کی خبریں موصول ہوئیں۔میں نے کچھ دوستوں اور شوبز کے لوگوں سے یہ بھی سنا کہ اجوکا تھیٹر کا آغاز مدیحہ گوہر اور شاہد ندیم نے تنہانہ کیا تھا بلکہ اِس ٹیم میں چند اہم لوگ بھی شامل تھے جو بعد ازاں اختلافات کے باعث الگ ہو گئے لیکن جب اِس بابت اُن سے مزید استفسار کیا تو کوئی ٹھوس حقائق سامنے نہ آ سکے ۔لاہور قیام کے دوران میرے کچھ قریبی دوستوں نے اجوکا تھیٹر کو جوائن کر لیا تو اس وجہ سے ہمارا اجوکا پروڈکشن کی تماثیل پر آنا جاناپہلے کی نسبت قدرے زیادہ ہو گیا اِس دوران دیگر اداکاروں ، اجوکا ٹیم اور میڈم مدیحہ گوہر سے میری کئی ملاقاتیں ہوئیں۔

اِن دِنوں میری بھی خواہش تھی کہ اجوکا ٹیم کا حصہ بنوں لیکن ارد گرد سے موصول ہونے والی متنازع خبروں کے باعث میں کچھ تذبذب کا شکار تھا ۔ اِس دوران میں چند دوستوں سے مشوہ بھی کیا ۔ٹی وی ، فلم اور تھیٹر کی معروف ادکارہ زراہ اکبر بلوچ سے میں نے ایک ملاقات کے دوران اِس بابت رائے چاہی اور مدیحہ گوہر پر لگنے والے الزامات کا بھی ذکر کیا تو انہوں نے مجھے ایک پتے کی بات بتائی اُن کا کہنا تھا کہ” عادل پہلے آپ یہ فیصلہ کریں کہ آپ کو سیکھنا ہے یا آپ کونام کرنے کا جنون ہے؟‘ اگر آپ سیکھنا چاہتے ہو تو لوگوں کی باتوں پر کان دھرے بغیر اجوکا کو جوائن کر لیں اور سیکھیں۔آپ جب تک سیکھنے کا جنون قائم رکھیں گے آپ کو راہ نمائی ملے گی اپنے پیشن کے اظہار کرنے کے لیے بہترین پلیٹ فارم ملے گا جس دن آپ نے خود کو کچھ سمجھنا شروع کر دیا، کچھ کریڈٹ چاہنے لگے ، یا خو دکو تھیٹر پر صاحبِ رائے جانتے ہوئے مدیحہ گوہر کو مشورے دینے شروع کر دیے اُس دن کو آپ مدیحہ گوہر سے اپنے اختلافات کے آغاز کا دن سمجھ لیجیے گا۔آپ ذرا کھوج لگائیں تو آپ جان جائیں گے کہ نظریاتی اختلافات کے علاوہ ساتھی فنکاروں کے مدیحہ گوہرسے اختلاف کی نوعیت یہ ہے کہ وہ خود کو ’سیانا ‘ سمجھتے ہیں اور جس نے بھی کسی فن کے ساتھ عمر بتائی ہو جو کسی فن کے تمام اسرار و رموز سے واقف ہو وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کو ’سیانا ‘ نہیں جانتا“ .تاہم سرکار کی ملازمت اور اپنی چند نجی مجبوریوں کے باعث میں اجوکا ٹیم کا حصہ تو نہ بن سکا لیکن آج بھی لاہور میں اجوکا کا کوئی کھیل پیش کیا جا رہا تو میری کوشش ہوتی ہے کہ میں وہ دیکھ سکوں۔

بات مدیحہ گوہر سے ہوتی ہوئی اجوکا تھیٹر اور پھر اپنی ذات تک پہنچ گئی ۔واپس مدیحہ گوہر کی طرف آﺅ تو یہ سچ ہے کہ میں تھیٹر کے لیے مدیحہ گوہر کی کاوشوں فن سے اُن کے لگاﺅ کا دلی طور پر اعتراف کرتا ہو ۔روسی ادیب اینتن چیخوف نے کہا تھا کہ ” آدمی خدا سے دھوکہ کر لے لیکن اپنے فن سے دھوکہ نہ کرے “مدیحہ گوہر بھی شاید اسی نظریے کی قائل تھیں۔پاکستان میں جب کمرشل تھیٹر نے فحش گوئی اور آرٹ کے نام پر بیہودگی کا پرچار کرتے ہوئے تھیٹر کے نام تک کو بدنام کر دیا ایسے میں مدیحہ گوہر اور نان کمرشل آرٹ تھیٹر سے جڑے دیگر لوگوں نے فن کی ساکھ کو قائم رکھنے کے لیے ا پنا خون پسینا ایک کیا اپنے شب و روز کو فن کے لیے وقف کر کے رکھ دیا ۔دہشت گردی اور انتہا پسندی نے جس وقتِ ابتلا میں پاکستان کا تشخص برباد کیا ایسے میں مدیحہ گوہر اور اجوکانے انڈیا اور امریکہ جیسے ممالک میں جا کر پاکستان کی مثبت تصویر پیش کی۔

25اپریل 2018ء کو لاہور میں مدیحہ گوہر تو کینسر جیسے موزی مرض سے لڑتی ہوئی اِس جہان کو داغِ مفارقت دے گئی۔ لیکن اُس کا نظریہ فِن آرٹ اور دنیائے تھیٹر سے محبت رکھنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ قائم رہے گا ۔بیشک جس وجود نے فن کو زمیں برد ہونے سے بچانے کے لیے اپنا خون پیش کیا ۔یہ زمین اُس وجود کو خاک میں سمیٹتے ہوئے بھی اُس کے فن کو اپنی چھاتی پر قائم رہنے سے نہیں روک پائے گی´ جس مدیحہ گوہر نے خود مر کے بھی فن کو زندہ کیا وہ مر کے بھی کہاں مرے گی۔ بلھے شاہ، اسی مرنا ناہی، گور پیا کوئی ہور ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •