نارویجین ڈرامہ نگار جون فوس اور ادب کا نوبل انعام

ناروے سے تعلق رکھنے والے 64 سالہ ادیب و ڈرامہ نگار جون فوس سال 2023 میں ادب کے نوبل انعام کے لیے کامیاب قرار پائے ہیں۔ وہ 29 ستمبر 1959 کو ناروے کے مغربی ساحل پر واقع شہر ہاگسنڈ میں پیدا ہوئے۔ فوس نے تقریباً 40 ڈراموں کے ساتھ ساتھ ناول، مختصر کہانیاں، بچوں کی کتابیں، شاعری اور مضامین بھی لکھے ہیں۔ سویڈیش اکیڈمی کے مطابق ان کو یہ ایوارڈ ان کے اختراعی ڈراموں اور نثر میں ناقابل بیان بیانیے

Read more

جنگ کیوں؟ فرائیڈ اور آئن سٹائن کی خط کتابت

عالمی منظر نامے پر جنگ کا نقارہ بج رہا ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان حالیہ خانہ جنگی نے تمام دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔ کچھ ماہرین عسکری امور اس کو تیسری عالمی جنگ قرار دینے پر تلے ہیں تو بعض مبصرین کے نزدیک یہ جز وقتی ہاؤ ہو کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ عالمی وبا کرونا اور عالمی سطح پر پھیلی معاشی ابتری سے دنیا اس وقت جنگ تو

Read more

مدیحہ گوہر: پاکستانی عورت کی ذہانت اور ہمت کا نشان

(مدیحہ گوہر کی دوسری برسی کی مناسبت سے) مدیحہ گوہر سے پہلا تعارف اجوکا تھیٹر کا معروف کھیل ”کون ہے یہ گستاخ ؟“ دیکھنے کے بعد اُس وقت ہوا جب کھیل کے اختتام پر فنکاروں کا تعارف پیش کرنے کے لیے وہ سٹیج پر آئیں۔ پیش کیے جانے والے کھیل کا تعلق سعادت حسن منٹو کے متنازعہ افسانوں اورمنٹو کی زندگی کے نشیب وفراز سے جڑا تھا۔مدیحہ گوہر نے اِ س کھیل کی ہدایت کاری کے فرائض سر انجام دیے

Read more

ادب کےنوبل انعام یافتگان اور چند مباحث

جمعرات دس اکتوبر کو سویڈش اکیڈمی نےزبان و ادب کےشعبہ میں اعلیٰ کارکردگی کےاعتراف میں اِس سال ایک نہیں دو نوبل انعامات کا اعلان کیا۔ نوبل فائونڈیشن کی جانب سے ہر سال ایک نوبل ایواراڈ کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن گزشتہ سال سویڈش اکیڈمی میں سامنے آنے والے جنسی سکینڈل کےباعث اِس انعام کا اعلان نہ کیا جا سکا لہٰذا اِس سال اکھٹے دو انعامات کا اعلان کرتے ہوئے 2018ء کا نوبل ادب ایوارڈ پولینڈ سےتعلق رکھنےوالی شاعرہ و

Read more

ہیروکی موراکامی کی کہانی ”عزیز از جاں محبوبہ“۔

مصنف ہیروکی موراکامی (جاپانی کہانی) مترجم:عدیل عباس عادل اپریل کی ایک خوبصورت صبح تھی، میں ٹوکیو کے پڑوس میں واقع پُر وضع شہر ہیراجوکیو کی ایک تنگ گلی میں ایک من بھاتی لڑکی کے پیچھے گیا۔ سچ بتاؤں تو، وہ کچھ زیادہ خوبصورت نہ تھی اور نہ ہی ایسی کہ نظریں اس پہ ُرک جائیں۔ اُس کے کپڑے بھی کچھ خاص نہ تھے۔ رات بھر کی نیند کے باعث ابھی تک اس کے بال بری طرح اُلجھے اور بگڑے ہوئے

Read more

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ڈرامیٹکس کلب اور مرزا اطہر بیگ کا ”آخری شو“

اِس سال گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے ڈرامیٹکس کلب جی سی ڈی سی کی طرف سے پیش کیے جانے والا سالانہ کھیل ”آخری شو“ پنجابی زبان میں لکھا گیا کھیل تھا۔ معروف فکشن نگار اور جی سی یو میں شعبہ فلاسفی کے اُستاد مرزا اطہر بیگ اِس کھیل کے لکھاری تھے جبکہ ایڈوائزر ڈرامیٹکس کلب اورشعبہ انگریزی کے استاد ہدایت کارعرفان رندھاوا اور اُن کی ٹیم کی کاوشوں سے تین دن تک یہ کھیل جی سی یو کے بخاری ہال

Read more

جاگتی رات کا جمال: جمال احسانی

نہ کوئی فال نکالی نہ استخارہ کیا
بس ایک روز یونہی خلق سے کنارہ کیا

20 فروری 1998 ء کو خلق سے کنارہ کرنے والے جمالؔ احسانی کا استعارتی جہان دیکھ کر اُنھیں ”جاگتی رات کا جمال“ کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ جمال کے مختصر احوال زندگی کچھ یوں ہیں کہ جمالؔ نے 21 اپریل 1951 ء کو سرگودھا جیسی زرخیززمین پرآنکھ کھولی اوائل عمر میں خاندان کے ساتھ کراچی شہرجا بسے۔ سنتالیس سالہ زندگی میں مختلف ملازمتیں کی، کرایے کے گھر بدلتے کراچی کا قریہ قریہ گھوما، غمِ روزگار میں ملک سے باہر بھی گئے، شادی کی، بچے ہوئے لیکن یہ سب کام جمال کے لیے گویا جُز وقتی مصروفیات تھیں۔ جمال کی زندگی میں کوئی شے جو جمال کے لیے سب سے بڑھ کے توجہ کے قابل تھی، وہ شاعری تھی، اِس کے علاوہ کچھ اور نہ تھا۔

Read more

رموز تنظیم برائے فنون وادب کے زیر اہتمام ”ایک شام افتخار حیدر کے نام”

”رموز“ تنظیم برائے فنون و ادب ضلع خوشاب اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن خوشاب کے باہمی اشتراک سے 13 جنوری بہ روز اتوار کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ہال میں شام 4 بجے معروف شاعر افتخارحیدر کے اعزاز میں ایک خوبصورت محفل مشاعرہ بعنوان ”ایک شام افتخار حیدر کے نام“ کا انعقاد کیا گیا۔ جسِ میں ملک بھر سے نامور شعرا کرام نے شرکت کی۔ مشاعرے کے باقاعدہ آغاز کے لیے محمد الیاس معینی نے تلاوت کی جبکہ رابعہ صادق

Read more

فہمیدہ ریاض تانیثی شاعری کا معتبرحوالہ

ایسے دقیق خیالات و نظریات کو نظم کرنے کے علاوہ ’کب تک‘ ، ’زبان کا بوسہ‘ ، ’ایک لڑکی سی‘ ، ’باکرہ‘ ، ’ایک عورت کی ہنسی‘ ایسی بے شمار بے باک نظموں کو جنم دیا۔ جولائی 1945 ء کو میرٹھ میں پیدا ہونے والی اِس لڑکی کی ابتدائی نظمیں زمانہ طالبِ علمی میں ”فنون“ کا حصہ بنیں۔ 1967 ء میں پہلا شعری مجموعہ ”پتھر کی زبان“ کے نام سے منظرِ عام پر آیا۔ 73 ء میں ”بدن دریدہ“ اور اُس کے بعد ایک مجموعہ ”دھوپ“ کے عنوان سے چھپا۔ کئی شعری مجموعوں کے علاوہ افسانوی نثر بھی شائع ہوئی۔

شادی سے پہلے کراچی اور بعد ازاں لندن مقیم رہیں۔ لندن میں بی بی سی سے وابسطہ ہوئیں، لندن کالج آف فلم ٹیکنیک سے فلم پڑھتی رہیں۔ فہمیدہ ریاض شاعری سے ہٹ کے خواتین کے استحصا ل اور معاشرتی جبروقیود کے خلاف عملی طور پر سرگرم رہیں۔ ”آواز“ کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا۔ ضیا الحق کے دور میں جبری جلا وطنی کے نتیجے میں ہندوستان شفٹ ہوئیں۔ ہندوستان کے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور کئی دیگر اداروں کے ساتھ کام کیا۔ بھارت قیام کے دوران ”آئی ایس آئی“ کی ایجنٹ کہلوانے والی فہمیدہ ریاض ضیا کی موت کے بعد جب پاکستان آئین تو یہاں اِنھیں ”را“ کا ایجنٹ کہا گیا۔

Read more