جاگتی رات کا جمال: جمال احسانی

نہ کوئی فال نکالی نہ استخارہ کیا
بس ایک روز یونہی خلق سے کنارہ کیا

20 فروری 1998 ء کو خلق سے کنارہ کرنے والے جمالؔ احسانی کا استعارتی جہان دیکھ کر اُنھیں ”جاگتی رات کا جمال“ کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ جمال کے مختصر احوال زندگی کچھ یوں ہیں کہ جمالؔ نے 21 اپریل 1951 ء کو سرگودھا جیسی زرخیززمین پرآنکھ کھولی اوائل عمر میں خاندان کے ساتھ کراچی شہرجا بسے۔ سنتالیس سالہ زندگی میں مختلف ملازمتیں کی، کرایے کے گھر بدلتے کراچی کا قریہ قریہ گھوما، غمِ روزگار میں ملک سے باہر بھی گئے، شادی کی، بچے ہوئے لیکن یہ سب کام جمال کے لیے گویا جُز وقتی مصروفیات تھیں۔ جمال کی زندگی میں کوئی شے جو جمال کے لیے سب سے بڑھ کے توجہ کے قابل تھی، وہ شاعری تھی، اِس کے علاوہ کچھ اور نہ تھا۔

Read more

رموز تنظیم برائے فنون وادب کے زیر اہتمام ”ایک شام افتخار حیدر کے نام”

”رموز“ تنظیم برائے فنون و ادب ضلع خوشاب اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن خوشاب کے باہمی اشتراک سے 13 جنوری بہ روز اتوار کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ہال میں شام 4 بجے معروف شاعر افتخارحیدر کے اعزاز میں ایک خوبصورت محفل مشاعرہ بعنوان ”ایک شام افتخار حیدر کے نام“ کا انعقاد کیا گیا۔ جسِ…

Read more

فہمیدہ ریاض تانیثی شاعری کا معتبرحوالہ

ایسے دقیق خیالات و نظریات کو نظم کرنے کے علاوہ ’کب تک‘ ، ’زبان کا بوسہ‘ ، ’ایک لڑکی سی‘ ، ’باکرہ‘ ، ’ایک عورت کی ہنسی‘ ایسی بے شمار بے باک نظموں کو جنم دیا۔ جولائی 1945 ء کو میرٹھ میں پیدا ہونے والی اِس لڑکی کی ابتدائی نظمیں زمانہ طالبِ علمی میں ”فنون“ کا حصہ بنیں۔ 1967 ء میں پہلا شعری مجموعہ ”پتھر کی زبان“ کے نام سے منظرِ عام پر آیا۔ 73 ء میں ”بدن دریدہ“ اور اُس کے بعد ایک مجموعہ ”دھوپ“ کے عنوان سے چھپا۔ کئی شعری مجموعوں کے علاوہ افسانوی نثر بھی شائع ہوئی۔

شادی سے پہلے کراچی اور بعد ازاں لندن مقیم رہیں۔ لندن میں بی بی سی سے وابسطہ ہوئیں، لندن کالج آف فلم ٹیکنیک سے فلم پڑھتی رہیں۔ فہمیدہ ریاض شاعری سے ہٹ کے خواتین کے استحصا ل اور معاشرتی جبروقیود کے خلاف عملی طور پر سرگرم رہیں۔ ”آواز“ کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا۔ ضیا الحق کے دور میں جبری جلا وطنی کے نتیجے میں ہندوستان شفٹ ہوئیں۔ ہندوستان کے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور کئی دیگر اداروں کے ساتھ کام کیا۔ بھارت قیام کے دوران ”آئی ایس آئی“ کی ایجنٹ کہلوانے والی فہمیدہ ریاض ضیا کی موت کے بعد جب پاکستان آئین تو یہاں اِنھیں ”را“ کا ایجنٹ کہا گیا۔

Read more

مدیحہ گوہر: پاکستانی عورت کی ذہانت اور ہمت کا نشان

مدیحہ گوہر سے پہلا تعارف اجوکا تھیٹر کا معروف کھیل ”کون ہے یہ گستاخ ؟“ دیکھنے کے بعد اُس وقت ہوا جب کھیل کے اختتام پر فنکاروں کا تعارف پیش کرنے کے لیے وہ سٹیج پر آئیں۔پیش کیے جانے والے کھیل کا تعلق سعادت حسن منٹو کے متنازعہ افسانوں اورمنٹو کی زندگی کے نشیب وفراز…

Read more