سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کمرہ نمبر ایک سے…


ڈی جی نیب نے پنجاب پاورڈویلپمنٹ کمپنی بارے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اس کمپنی سے ایک ملزم گرفتار ہوا، اس شخص نے ایرا سے بیس کروڑ روپے لئے، ان میں سے چھ کروڑ وزیر اعلی پنجاب کے داماد علی عمران کو بینک ٹرانزیکشن کے ذریعے منتقل کئے۔ اس کے عوض انہیں ایرا سے لا کر پنجاب پاور کمپنی میں لگوایا گیا۔ یہاں سے بھی اس شخص نے بیس کروڑ روپے سائیڈ پر کر لئے اور ان بیس میں سے بھی ساڑھے پانچ کروڑ علی عمران کو منتقل کئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ دیکھئے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کی تحقیقات غلط ثابت ہو جائیں۔ جس پر ڈی جی نیب نے کہا کہ ہمارے پاس بینکنگ ٹرانزیکشن کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے دوبارہ ریمارکس دئیے کہ آپ کو دی گئی پاور قانون کے زیر اثر ہے،۔ تاثر نہ ابھرے کہ آپ کسی کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ اپنے کیس پر فوکس رہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یوں نہ کریں کہ ‘ جیسے بٹیرا ہتھ آگیا ‘۔ انہوں نے نیب کو ہدایات کیں کہ ہر پندرہ روز بعد ان کمپنیوں بارے رپورٹ سے آگاہ کریں۔ صاف پانی کمپنی کیس میں جب کیپٹن (ر) محمد عثمان روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ کس کھاتے میں چودہ لاکھ پچاس ہزار روپے بطور تنخواہ وصول کر رہے ہیں؟ کیپٹن عثمان نے کہا کہ مجھے کچھ وقت دیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو بہت وقت دے دیا، یہاں وقت نہیں اب۔ آپ گریڈ بیس کے افسر ہیں، ایک لاکھ تیس ہزار آپ کی تنخواہ بنتی ہے، صاف پانی کمپنی میں آپ چودہ لاکھ پچاس ہزار وصول کر رہے ہیں۔ اس کمپنی میں خدمات سرانجام دینے کے لئے آپ کی کیا مہارت ہے؟ ۔ اس موقع پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے حکم دیا کہ آپ نے اب تک جتنی تنخواہ وصول کی وہ ایک ماہ کے اندر اندر واپس کریں۔ کیپٹن عثمان نے کہا کہ میں نے آپ کی عزت میں اس ماہ کی تنخواہ وصول نہیں کی۔ تنخواہوں کے حوالے سے سرکار کی یہ پالیسی دو ہزار چودہ میں متعارف کروائی گئی، میں دو ہزار سترہ سے اس عہدے پر براجمان ہوا ہوں، میں نے انیس سو ترانوے میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ اس سے پہلے کہ کیپٹن عثمان اپنی اب تک کی سروس کا مزید ریکارڈ پیش کرتے چیف جسٹس نے انہیں روکتے ہوئے کہا آپ اور باقی تمام سربراہان اپنی تمام تر وصول کردہ تنخواہیں واپس کریں۔ سرکاری ملازم کی حیثیت سے جو آپ کی تنخواہ بنتی ہے اسے نکال کر باقی تمام پیسہ واپس کیا جائے۔ آپ گریڈ بیس کے افسر ہیں، آپ ڈی سی لگے تھے جب سانحہ ماڈل ٹاون پیش آیا، پھر اشتہار آگیا، اور آپ اس کمپنی میں لگ گئے۔ چار بلین روپے خرچ ہوئے اور ایک بوند پانی نہیں ملا۔ چیف سیکرٹری پنجاب پنجاب خود کہہ چکے کہ ایک بوند پانی آپ نے فراہم نہیں کی۔ میں ٹھیک کہہ رہاہوں ناں چیف سیکرٹری صاحب! چیف سیکرٹری نے فورا چیف جسٹس کو اثبات میں جواب دیا کہ آپ بالکل درست فرما رہے ہیں۔ نیب حکام نے اس موقع پر عدالت کو آگاہ کیا کہ اب تک سترہ کمپنیاں مکمل ریکارڈ جمع کرا چکی ہیں، سولہ نے تاحال کوئی جواب جمع نہیں کرایا جبکہ اکہتر میں سے اڑتیس کمپنیوں نے ادھوراریکارڈ فراہم کیا ہے۔

پھر چیف جسٹس نے خواجہ سعد رفیق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ صاحب، بتائیں ریلوے کا فرانزک آڈٹ آپ کس کمپنی سے کروانا چاہتے ہیں؟ خواجہ سعد رفیق روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے پندرہ آڈٹ کمپنیوں کے فہرست خواجہ سعد رفیق کی جانب لہراتے ہوئے استفسار کیا کہ بتائیں کس کمپنی سے آڈٹ کروانا چاہتے ہیں۔ اپنی مرضی سے کسی کمپنی کا انتخاب کر لیں۔ تا کہ کل کسی کو اعتراض نہ ہو۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جناب چیف جسٹس یہ فہرست ہم نے ہی فراہم کی ہے، میرے پاس یہ فہرست موجود ہے۔ وزیر ریلوے بار بار چیف جسٹس کو ‘آنریبل’ چیف جسٹس کہہ کر مخاطب ہوتے رہے، ان کی باڈی لینگوئج میں بھی خاصی عاجزی جھلک رہی تھی، چہرے پر مسکراہٹ بکھیرے خواجہ سعد رفیق کو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ‘آنریبل’ کا لفظ نکال دیں، آنریبل شخص ہر جگہ آنربیل ہوتا ہے۔ عدالت میں قابل احترام کہتے ہیں بعد میں آپ کی بات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اگر اندر کسی کو ‘آنریبل’ کہا جائے تو پھر باہر بھی ‘آنریبل’ سمجھا جائے۔ سعد رفیق نے مودبانہ گزارش کی کہ جناب میں نے باہر بھی عزت مآب ہی کہا ہے۔ مجھے سمجھ ہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ اس موقع پر چیف جسٹس مسکرائے اور ریمارکس دئیے کہ ریلوے کا آڈٹ فرگوسن کمپنی کو دیا جاتا ہے۔ کمپنی پاکستان ریلوے کا گزرے پانچ سالوں کا آزادانہ اور شفاف فرانزک آڈٹ کرائے اور چھ ہفتوں میں رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔ سعد رفیق نے استدعا کی کہ جناب پانچ نہیں، پچھلے دس برسوں کا آڈٹ کرائیں تاکہ ہماری کارکردگی کھل کر سامنے آسکے۔ چیف جسٹس نے کہا وہ بعد میں کرالیں گے پہلے یہ آڈٹ ہونے دیں۔ وزیر ریلوے نے دوبارہ استدعا کی کہ دس سال کا آڈٹ ہونے سے تصویر واضح ہوگی۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ خواجہ صاحب! آڈٹ بر سراقتدار کا ہوتا ہے، جو چلے گئے ان کا نہیں۔ جب تک ہم ہیں ہم معاملات سدھارنا چاہتے ہیں تاکہ ہمارے بعد آنے والوں کے لئے ایک سسٹم بن جائے۔ چیف جسٹس نے کیس سے ہٹ کر ریمارکس دیتے ہوئے وزیر ریلوے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم نے کچھ لوگوں سے سکیورٹی واپس لینے کے احکامات جاری کئے، اس پر ناراضی کا اظہار کیا گیا۔ سکیورٹی ان کو دی جائے جن کا حق ہے، جنہیں قانون اجازت دیتا ہے۔ کسی کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا مقصد نہیں۔ صوبے ایسی شخصیات کا جائزہ لیں اور جہاں ضروری ہو سکیورٹی فراہم کی جائے۔

وزیر اعلی پنجاب کے سابق سیکرٹری توقیر شاہ کی بیرون ملک تقرری کیس کی سماعت ہوئی تو عدالت نے حکومت کو توقیر شاہ کی تقرری میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا۔ اور ڈاکٹر توقیر شاہ کو بیرون ملک جانے پر بھی پابندی عائد کر دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہمیں دیکھنا ہے کہ توقیر شاہ کی ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں کیسے تقرری ہوئی۔ اس موقع پر توقیر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ آٹھ مئی کو ڈبلیو ٹی او ممبران ممالک کی کانفرس ہے اور پاکستان اس میں کنوئنر ہے۔ بیرون ملک جانے سے متعلق پابندی پر نظر ثانی کی جائے۔ عدالت نے توقیر شاہ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں بیرون ملک جانے سے روک دیا۔ چیف جسٹس نے کہا آپ کی تقرری کیسے ہو گئی جبکہ آپ کا سانحہ ماڈل ٹاون میں نام تھا۔ توقیر شا ہ نے کہا کہ میں سانحہ ماڈل ٹاون کی ایف آئی آر میں نامزد نہیں ہوں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

اجمل جامی

اجمل جامی پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، آج کل دنیا ٹی وی کے لئے لائیو ٹالک شو کرتے ہیں، خود کو پارٹ ٹائم لکھاری اور لیکچرار کے علاوہ فل ٹائم ملنگ مانتے ہیں، دوسری بار ملا جائے تو زیادہ پسند آسکتے ہیں۔ دل میں اترنے کے لئے ٹویٹر کا پتہ @ajmaljami ہے۔

ajmal-jami has 60 posts and counting.See all posts by ajmal-jami