یروشلم ماضی اور حال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یروشلم کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ اس کی تاریخ کے مطابق، مختلف ادوار میں یہ شہر دو دفعہ تباہ ہوا، تیئیس بار اس کا محاصرہ ہوا، اس پر52 حملے ہوئے اور44 دفعہ اس پر قبضہ ہوا، بابل کے بخت نصر نے ہیکل کو لوٹ مار کر اس کا نام ونشان تک مٹا دیا۔ پروشلم کی گلیوں میں خون کی ندیاں بہیں، یہاں صرف دھواں تھا، اور راکھ کے ڈھیر تھے۔ اس نے تابوتِ سکینہ کو غائب کر دیا اور لاکھوں یہودیوں کو اس کی فوجیں ہانک کر ساتھ لے گئیں۔ یہ یہودی قوم کی بدترین تباہی تھی۔ توریت بھی غائب ہو گئی تھی۔ یہودی بابل میں توریت کو یاد کر کے روتے اور اس تباہی کی یاد میں حضرت سلیمان ؑکے روزے رکھتے۔ دریائے فرات کے جس کنارے پر بخت نصر نے انہیں آباد کیا تھا۔ اس بستی کا نام انہوں نے تل ابیب رکھا۔ یہی وہ وقت تھا، جب دانیالؑ اور عزیز نبیؑ نے یہود قوم کی دلداری اور رہنمائی کی اور حضرت داؤد کی نسل سے بابل بن سالتی ایل نے صہیونیت کی پہلی تحریک کا آغاز کیا۔

صہیونی تحریک کا مقصد دراصل پروشلم کو دوبارہ آباد کرنا اور ہیکلِ سلیمانی کی از سرِ نو تعمیر تھی۔ پھر یوں ہوا کہ ایران کے شہنشاہ سائرس نے جسے بائیبل خورس بھی کہتے ہیں، نے بابل فتح کر لیا، اور یہودیوں کو اپنے وطن جانے کی اجازت دے دی۔ ہیکلِ سلیمانی دوبارہ تعمیر ہوا، نئی توریت بنی، فصیل کی تعمیر بھی ہوتی رہی۔ حتیٰ کہ سکندر آیا اور ایران نے شکست کھائی۔ تاہم ہیکل اور شہر بچے رہے۔ سکندر یہیں مرا اور اس کی لاش سونے کے تابوت میں بند ہو کر سکندریہ پہنچی۔ اب یروشلم مصر کے یونانی حکمرانوں کے حصے میں آیا۔ اور اس نے لوٹ مار اور تباہی کے کئی دور دیکھے۔ ایک لمبی تاریخ قیصروں، رومیوں، اور اسپین کے شاہوں کے ساتھ لڑائیوں کی ہے۔ ہیکل کے جلنے کا قصہ کہ جب ہیکل جلتا تھا اورفاتح سپاہی لوٹ مار اور قتل و غارت گری میں مصروف تھے۔ انہوں نے تقریباً ڈیڑھ لاکھ یہودیوں کو تہہ تیغ کیا۔ پھر راکھ کے ڈھیر سے چنگاری پھوٹی، قیصر قسطنطین خسرو ثانی شاہ ایران روم کے شاہ ہرقل کے درمیان معرکے میں یہودیوں کو
پھر فسلطین سے باہر نکال دیا گیا۔ اب نئی صف آرائی ہوئی اور یروشلم مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا۔ یہ خلیفتہ المسلمین حضرت عمر ؑ کا دور تھا۔ کہ خون کا ایک قطرہ بھی بہائے بغیر یروشلم مسمانوں کے قبضے میں تھا۔

اب طاقت اور غلبے کے کھیل میں مسلمان اور عیسائی آمنے سامنے تھے اور یہودی ملکوں ملکوں تتر بتر تھے۔ صدیوں بعد رومی جاگے اور انہوں نے یروشلم پر قبضہ کر لیا۔ پھر فاطمی آئے، سلجوقی آئے اور عیسائی متحد ہوئے اور انہوں نے یروشلم فتح کر لیا۔ سو سال کے عرصے تک یروشلم پر ان کی حکومت رہی۔ پھر ایک جیالا سورج کی طرح طلوع ہوا۔ دنیا جسے صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانتی ہے۔ اور عیسائی دنیا غصے اور نفرت سے انہیں سلادین کے نام سے پکارتی ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے القدس کو عیسائیوں کے قبضے سے پورے سو سال کے بعد چھڑایا۔ صلیبی جنگوں کے ظویل اور تھکا دینے والے سلسلے کے بعد۔

مشہور مورخ ہیرلڈ لیم یروشلم کی فتح کا منظر کھینچتے ہوئے لکھتا ہے۔ شکست خوردہ یروشلم کی جانب سے جب مشہور عیسائی جنگجو بالین ڈی ابلین صلح کی شرائط لے کر سلطان ایوبی کے پاس آیا اور دونوں کے درمیان شرائط طے ہو گئیں۔

تو جاتے جاتے بالین نے سلطان سے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ پوچھا، بیت المقدس کو آپ کیا سمجھتے ہیں؟
زیرک سلطان نے بغور اس کی طرف دیکھا چند لمحے توقف کیا اور زیرِ لب مسکراہٹ سے کہا۔ کچھ نہیں۔ بالین حیران حیران سا مڑا ابھی چند قدم ہی گیا تھا کہ پیچھے سے سلطان کی آواز آئی۔ رکو۔ وہ رکا اور بے اختیار مڑا۔ اس نے سوالیہ نظروں سے سلطان کے گہرے سنجیدہ چہرے کی طر ف دیکھا۔ سلطان دو قدم اس کی جانب بڑھا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ سب کچھ۔ بیت المقدس میرے لئے سب کچھ ہے۔

ہیرلڈ لیم لکھتا ہے شہر کو کو ئی معجزہ نہ بچا سکا۔ انوکھی بات یہ تھی کہ خون بہائے بغیر مسلمانوں نے شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔ عیسائیوں نے دور پہاڑی کے پیچ وخم سے گزرتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا تو انہیں مزارِ مسیح کے مقدس گنبد پرتاریک سائے چڑھتے ہوئے دکھائی دیے۔ پھر انہوں نے نعروں کی آواز سنی۔ اللہ اکبر۔ اللہ اکبر۔ اللہ اکبر

سبک رو قاصد دور دراز کے ملکوں کی جانب یہ خوش خبری لے کر روانہ ہوئے۔ دمشق اور قاہرہ کے عالم، قاضی اور فقیہہ القدس شریف کی زیارت کی تیاریاں کرنے لگے۔ شاعروں نے فتح کے ترانے لکھے اور کہا۔
ان کا شہر عظیم
سرنگوں ہے وہ شہر ِ عظیم آج
بندگان ِ حق کے سامنے
وہ لرزاں و ترساں ہیں آج
شمشیر ِ آبدار کی جھلک سے
آتش ِ دوزخ کی چمک سے

یروشلم کی ہز اروں سالہ تاریخ کے اس سرسری جائزے کے بعد اب آتے ہیں 1917 کی انمٹ ہزیمت کی جانب جب خلافتِ عثمانیہ زوال کی آخری ساعتوں سے گزر رہی تھی۔ ترک گورنر جمال پاشا نے ترکوں کو پروشلم خالی کرنے کا حکم دیا اور میئر سلیم الحسینی نے سفید جھنڈا ہاتھوں میں پکڑا اور جیفہ گیٹ سے باہر آکر برطانوی سکاؤٹوں کو شہر کی چابیاں دیں۔ جنرل ایڈ منڈ ایلن بی گاڑی سے اترا تو اسے شہر کی گھنٹیوں نے خوش آمدید کہا۔ دوسری جانب برطانویلائیڈ جارج پارلیمنٹ میں چیخ رہا تھا۔ آج ہم نے مسلمانوں سے صلیبی جنگوں کا بدلہ لے لیا اور دمشق میں فرانسیسی جرنل گورد، سلطان صلاح الدین کی قبر پر جوتا پھینکتے ہوئے کہتا تھا۔

صلادین ہم پھر آگئے، ہم نے ہلالی پرچم سرنگوں کر دیا ہے۔
اس کے بعد تھیوڈور ہرزل صہیونیت کا پرچم اٹھائے آتا ہے۔ اس کے ہونٹوں پر یہودی قوم پرستی کا گیت ہے۔ گیت کا نام امید ہے
یہ سوئزرلینڈ کے شہر باسل میں یہودیوں کی عالمی سطح کی دوسری بڑی کانفرنس ہے۔ جس میں دنیا بھر کے با اثر اور امیر ترین یہودیوں نے شرکت کی ہے۔ اور صہیونی بینک اور یہودی بیت المال کے لئے لاکھوں پونڈ دیے ہیں۔ کانفرنس کے مندوبین کے سامنے ہرزل نے اپنا دایاں ہاتھ کھڑا کرتے ہوئے یروشلم کا مرثیہ پڑھتے ہوئے کہا ہے
اے یروشلم اگر میں تجھے بھول جاؤں تو میرا دایاں ہاتھ مفلوج ہو جائے۔

our hope is not yet lost
the hope of two thousand years
to be free people in our land
the land of zion and jeroshalam

تھیوڈرو ہرزل کا خواب پورا ہوا اور 19 49 میں اسرائیل قائم ہو گیا۔ صہیونیوں نے اسے اپنے دو ہزار سال کے خواب کی تکمیل کہا۔
اور فلسطینیوں نے اسے قیامت سے تعبیر کیا۔ یہ قیامت عربوں کی بے عملی، عیاشی، آپسی لڑائیوں اور چپقلشوں نے فلسطین کا مقدر بنا دی۔

اسرائیل دن بدن مضبوط ہوتا گیا اور عرب کم زور۔ اس کم زوری میں فلسطینی اپنی بقا کی جنگ لڑتے رہے۔ یاسر عرفات، محمود عباس اور ان کے جانباز، صابرہ، شتیلہ اور غزہ کی پٹی میں محصور ہو کر بھی اس مطالبے سے کبھی دست بردار نہ ہو سکے کہ القدس ان کا قبلہ اول ہے۔ اور وہ اس کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے میں تامل نہ کریں گے۔ اسرائیلی ریاست کے قیام کے ابتدائی بیس برسوں میں یروشلم دوحصوں میں تقسیم تھا۔ مشرقی اور مغربی حصوں میں۔ مشرقی حصہ اسرائیل کے پاس اور مغربی حصے کی عملداری اردن کے ذمے تھی یہ وہ حصہ تھا

جس میں مسجدِ اقصیٰ، ہیکلِ سلیمانی شامل تھے، درمیان میں پرانے زمانے کی ایک دیوار تھی۔ اسرائیل کے نقشے پر یہ تقسیم ایک سرخ لکیر کی شکل میں موجود تھی۔ مگر 67 میں چھے روزہ عرب اسرائیل لڑائی میں عربوں کی ہزیمت نے یہ لکیر بھی مٹا دی جس کے بعد یروشلم پورے کا پورا صہیونیوں کے قبضے میں آگیا۔ اب جرم ِ ضعیفی کی سزا یوں شروع ہوئی کہ رکنے میں ہی نہ آئی، اردن حصہ کے گرد دیوار کھڑی کر کے اسرائیل نے فلسطینیوں کو مغربی کنارے میں دھکیل دیا اور یروشلم کو اسرائیل کا دار الخلافہ بنانے کی تیاری شروع کر دی۔

خطے میں بھڑکی ہوئی آگ اور عربوں کے آپسی نفاق کو ہوا دے کر یہودی اس دیرینہ خواب کی تعبیر حاصل کر چکے ہیں۔ جسے وہ دو ہزار سال سے پلکوں پر اٹھائے نسل در نسل بھٹک رہے تھے۔
جبکہ تاریخی ہزیمت نے فلسظینیوں کو محض مغربی حصے کو فلسطینی، فلسطین کی ریاست کا دار الخلافہ بنانے کے خواب تک محدود کر دیا۔
یروشلم کو اسرائیل کا دار الخلافہ بنانے کا ٹرمپ کا اعلان گویا جلتی پر تیل کا کام کر گیا۔ جس کے بعدساری مسلم دنیا غم و غصے کا ڈوب گئی۔

عرب دنیا جو پہلے ہی جل رہی تھی۔ اس اعلان کے بعد اس میں ہیجان برپا ہو گیا۔ پوپ فرانسس نے بھی اس کی بھرپور مذمت کی۔ اور خود امریکہ میں بھی ٹرمپ کے اس فیصلے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ کہ یہودی لابی کی تمام تر کوشش کے باوجود آج تک کسی امریکی صدر نے اس متنازعہ معاملے کو چھیڑنے کی کوشش نہیں کی تھی، جسے چھیڑ کر ٹرمپ نے ایک نئے بحران کا آغاز کر دیا ہے۔

یہودی لابی جس نے ٹرمپ کی الیکشن کمپین کا خرچہ ا ٹھایا تھا شاید اسے خو ش کرنے کے لئے ٹرمپ نے یہ قدم اٹھایا ہے۔
مگر اس کے نتا ئج ہمارے سامنے ہیں۔ غزہ پر صہیونی جبریت کا ایک نیا دورشروع ہو چکا ہے۔ جس کے بعد دو سو سے زائد فلسطینی شہید اور ہزاروں ذخمی ہیں۔ یہ کالم لکھنے کے دوران غزہ سے نو بے گناہ فلسطینیوں کی شہادت اور درجنوں ذخمیوں کی خبر ٹی وی چینلز نشر کر رہے ہیں۔

دنیا جو پہلے ہی عدم برداشت، بد امنی اور دہشت گردی سے آلودہ ہو چکی ہے۔ اس کی رگوں میں امریکی صدر کا گھولا ہوا زہر، اسے سر بہ سر نیلا کرنے کے لئے کافی ہے۔
یروشلم وہ شہر ِعظیم، جو عیسا ئیوں، یہودیوں اور مسلمانوں، سب کے لئے یکساں مقدس ہے۔ تاریخ کے ہر د ور میں اس کے لئے خو ن بہایا گیا اور قربانیاں دی گئیں۔ آج پھر یہ شہر قربانی مانگ رہا ہے مگر صرف مسلمانوں کی، کہ یہود و نصاری ٰ کا گٹھ جوڑ آج ہمیں اس مقام پر لے آیا کہ ہم دنیا میں تنہا ہو چکے ہیں۔ کیسی شرمناک ہے یہ ایک ارب ستر کروڑ لوگوں اور چھپن عدد ملکوں کے بے عمل، عیاش اور خود غرض مسلمانوں کی تنہائی، جنہیں آپسی نفاق، بے عملی اور قوم پرستی نے زوال کی ان پستیوں کی جانب دھکیل دیا ہے۔

جہاں انہیں غزہ کے بیکس فلسطینیوں کی کراہیں سنائی دیتی ہیں نہ شامی بچوں کی لہو میں ڈوبی لاشیں رہے عراق، لیبیا، افغانستان اور کشمیر، تو ان کا ذکر فی الوقت رہنے دیتے ہیں۔ عجب یہ کہ اس کے باوجود مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام ہے۔

نزار قبانی کی ایک نظم کی لائنیں۔ جس کا عنوان ہے

ہم پر دہشت گردی کا الزام ہے!
اگر ہم ہمت کریں تو ایسے ملک کے بارے میں لکھ سکتے ہیں
جو ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گیا ہے
زوال و ابتری میں گل سڑ رہا ہے
خود اپنے لئے بھی کوئی جگہ تلاش کر رہا ہے
یا ایک قوم جوبے چہرہ ہو چکی ہے
ایک ملک جس کے پاس قدیم الہام تو نہ ہو
لیکن مر ثیہ اور قصیدہ ہو
ایک ملک جس کے افق پر کچھ دکھائی نہ دے
نہ تو کوئی آزادی نہ ہی کوئی نظریہ
ایک ایسا ملک جس میں پرندوں کو بھی گانے کے لئے درخواستیں دینا پڑتی ہیں
جو کم کم منظور ہوتی ہیں۔ !

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •