پاکستان میں ناجائز بچے، کوڑے کے ڈھیروں پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دونوں بچوں کے چہرے انتہائی معصوم ہیں۔ ان کی تدفین سے پہلے ان کو آخری غسل دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے جنوبی شہر کراچی میں ان کو کوڑے کے ڈھیر پر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔

سماجی کارکن محمد سلیم ان دونوں چھوٹی چھوٹی لاشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ”دونوں بچے ایک یا دو دن کے ہوں گے۔ ‘‘ دوسری طرف ان کے ساتھی انتہائی احتیاط سے ان دونوں نومولود بچوں کو غسل دینے میں مصروف ہیں۔ پاکستان مسلم اکثریتی آبادی والا ایک قدامت پسند ملک ہے، جہاں شادی سے پہلے بچوں کی پیدائش کی مذمت کی جاتی ہے۔ اسلامی قوانین کی تشریحات کے تحت بدکاری کے جرم میں موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان میں ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

پاکستان میں ایدھی فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس ایک ہزار سے زائد نومولود بچوں کو یا تو قتل کر دیا گیا یا پھر انہیں کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں پر پھینک دیا گیا۔ اس فاؤنڈیشن کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں میں زیادہ تر نومولود بچیا‌ں تھیں۔ فاؤنڈیشن کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف پاکستان کے اہم شہروں سے جمع کیے گئے ہیں۔ بنیادی طور پر دیہی علاقوں میں اس سے بھی زیادہ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، جن کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ناممکن ہے۔

اس فلاحی امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس صرف دسمبر کے مہینے میں اس کے کارکنوں کو 40 نومولود بچوں کی لاشیں گندے نالوں، جوہڑوں اور کوڑے کے ڈھیروں سے ملی تھیں۔ کراچی میں ایدھی فاؤنڈیشن کے مینیجرانور کاظمی بتاتے ہیں کہ سن 2009 میں ان کے ادارے کو مجموعی طور پر 999 نومولود بچوں کی لاشیں ملیں جبکہ اس سے بھی ایک سال قبل 2008 میں یہ تعداد 890 رہی تھی۔

کاظمی کے مطابق ہر طرف المناک کہانیوں کی کثرت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چند واقعات وہ زندگی بھر نہیں بھول سکتے۔ ایک بچے کی عمرصرف چھ دن تھی لیکن اس کو جلا کر پھینک دیا گیا تھا۔ اسی طرح ایک امام مسجد کے کہنے پر ایک نومولود بچے کو پتھر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں، ”بچوں کو قتل مت کریں۔ ان کو ہمارے پاس لے آئیں۔ ہم ان کو رکھیں گے۔ بچے مجرم نہیں ہوتے۔ وہ انسان ہیں اور ان کو بھی جینے کا حق حاصل ہے۔ ‘‘

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی بتاتے ہیں کہ لوگ بچوں کو اس وجہ سے پھینک دیتے ہیں یا قتل کر دیتے ہیں کہ وہ ’ناجائز اولاد‘ ہوتے ہیں لیکن بچے تو معصوم اور محبت کے لائق ہوتے ہیں۔ کراچی کے مضافات میں گمنام قبروں کے 65 سالہ چوکیدار خیر محمد کا کہنا ہے کہ تدفین کے لیے لائے جانے والے زیادہ تر بچوں کی عمریں چھ دن سے کم ہوتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ”ہم نے اس طرح کی تدفین کے لیے یہ نیا پلاٹ خریدا ہے۔ اس سے پہلے بھی ہمارے پاس جگہ تھی لیکن وہاں اب مزید بچوں کو دفنانے کی گنجائش نہیں ہے۔ ‘‘

پاکستان میں اسقاط حمل قانونی طور پر منع ہے۔ اس کی اجازت صرف اسی صورت میں دی جاتی ہے، جب ماں کی زندگی خطرے میں ہو۔ پاکستان میں چند ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اسقاط حمل کی اجازت ملنے سے نومولود بچوں کی شرحء اموات میں واضح کمی ہو گی۔ پاکستانی قانون کے مطابق دوران حمل بچہ ضائع کرنے پر سات سال اور خفیہ طور پر تدفین کے جرم میں دو سال تک قید کی سزا رکھی گئی ہے جبکہ قتل کے جرم میں عمر قید بھی سنائی جا سکتی ہے۔ لیکن نومولود بچوں کے قتل کا مقدمہ کبھی کبھار ہی چلایا جاتا ہے۔ ایک وکیل عبدالرشید کا کہنا ہے کہ اکژ پولیس اسٹیشنوں پر ایسے مقدمات رجسٹر ہی نہیں کیے جاتے اور نہ ہی کوئی ان کی پیروی کرتا ہے۔

بشکریہ ڈوئچے ویلے
تاریخ 18.01.2011

اس سیریز کے دیگر حصےسالانہ ہزاروں ’ناجائز بچوں‘ کا خفیہ قتل
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>