ولایتی بچے بڑے ہو کر کیا بننے کا خواب دیکھتے ہیں؟

لندن یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم نے سات سال کی عمر کے گیارہ ہزار بچوں سے دریافت کیا کہ وہ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں۔ لڑکوں اور لڑکیوں میں بارہ شعبے سب سے زیادہ مقبول نکلے ٹیچر، کھلاڑی، سائنسدان، ہئیر ڈریسر، فائر فائٹر، پولیس افسر، آرٹسٹ، شو بزنس آرٹسٹ، جانوروں کے ماہر، حیوانات کے ڈاکٹر، ڈاکٹر اور معمار۔ لڑکیاں ان شعبہ جات میں زیادہ دلچسپی رکھتی دکھائی دیں جن میں وہ دوسرے انسانوں یا حیوانات کی دیکھ بھال کر

Read more

ہم نے غلط ہیرو تراش رکھے ہیں

پہلی سے پانچویں جماعت تک کے کسی بچے سے اس کے مستقبل کے عزائم کے بارے میں دریافت کریں۔ وہ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتا ہے۔ ہمارے زمانے میں سکول چھہ سال کی عمر میں پہلی جماعت سے شروع ہوا کرتا تھا۔ پہلی جماعت میں تو ہم نے اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا جلد بازی جانا، مگر دوسری جماعت تک عمیق غور و فکر کے بعد ہم نے فیصلہ کر لیا کہ ہمیں پائلٹ بننا چاہیے۔ دوسرے

Read more

ابتدائی جماعت کے کم سن بچوں کو پڑھائی کی طرف کیسے راغب کیا جائے؟

ہمارے ہاں بچوں کئی نفسیات سے عدم واقفیت اور بے اعتنائی ایک قومی مزاج کی حیثیت سے پائی جاتی ہے۔ یہی مسئلہ بچوں کو کتابوں اور خصوصا درسی کتب کے مطالعہ اور سکول کے کام سے عدم دلچسپی اور سے دوری کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔ ہمارے ہاں والدین کو معلوم نہیں ہوتا کہ بچوں کو پڑھائی کی عادت ڈالنے کا درست طریقہ کیا ہے۔ بچوں کا سکول، کتابوں اور سکول کے کام سے متعلق ابتدائی تاثر بہت اہم ہوتا

Read more

بچوں کی زندگی میں پریشانیاں اور ان کا حل

ایک بڑے کی نظر سے بچوں کی زندگی شاید بہت خوشگوار اور کسی قسم کی پریشانی سے بالکل پاک نظر آتی ہے مگر شاید ایسا نہ ہو۔ یہ بات ہے کہ دس سال اور اس سے زیادہ عمر کے بچوں کی۔ میں خود ان میں سے ایک ہوں۔

یہ جو سال ہوتے ہیں ان میں بچہ جسمانی اور ذہنی طور پر بڑا ہو رہا ہوتا ہے۔ بچوں کے مسائل میں اول نمبر پر آتا ہے سکول میں یا کہیں اور باقی بچوں یا ان سے زیادہ عمر کے لوگوں کا ان کے ساتھ بدمعاشی کرنا جسے انگریزی میں بلنگ bullying کہتے ہیں۔

یہ زیادہ ان بچوں کے ساتھ ہوتا ہے جو زیادہ نہیں بولتے، اکیلے ہوتے ہیں یا ڈرے سہمے ہوتے ہیں۔ میں نے ایسے بچے بھی دیکھے ہیں جو ایسے مسائل اپنے ماں باپ کو بھی نہیں بتاتے اور پھر وہ لوگ ان بچوں کو مزید تنگ کرتے ہیں، ڈراتے ہیں، نیچا دکھاتے ہیں وغیرہ۔ مگر کیوں؟

Read more

ڈھائی سال کے بچے کو اسکول بھیجنا ظلم ہے یا ضرورت؟

سوال۔ 1۔ ڈھائی سال کے بچے کو اسکول بھیجنا ظلم ہے یا ضرورت؟
سوال۔ 2۔ نفسیاتی جسمانی اور معاشرتی لحاظ سے بچے پر کس قسم کے اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
سوال۔ 3۔ کیا گھر پر والدین زیادہ اچھی تعلیم و تربیت کر سکتے ہیں؟
سوال۔ 4۔ بچے کو اسکول میں داخل کروانے کی صحیح عمر کیا ہونی چاہیے؟
سوال۔ 5۔ ایک ماہر نفسیات۔ ماہر تعلیم۔ ماہر سماجیات۔ ماں۔ کی حیثیت سے آپ کا تجربہ و تجزیہ

Read more

مار نہیں پیار

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مار پیٹ کے ذریعے بچوں کی تربیت اور اصلاح کرنے کا خاصا رجحان پایا جاتا ہے۔ بالخصوص جب بچہ زیادہ شرارتی اور عام زبان میں بگڑا ہوا ہو۔ تحقیق کے مطابق ہر 5 میں سے 4 والدین اپنے بچوں کی اصلاح کے لئے مار کا سہارا لیتے ہیں اور ایسے ہر 10 واقعات میں سے 9 واقعات میں مار سہنے والے بچوں میں بچیوں کی تعداد نمایاں ہوتی ہے۔

کیا ہم نے کبھی کسی پتھر کو مار پیٹ کے ذریعے کچھ سکھانے کی کوشش کی ہے؟ کیا مار پیٹ کے ذریعے کسی پتھر کو بہتر کیا جا سکتا ہے؟ جواب شاید ’نہیں‘ ہے کیونکہ مار پیٹ سے ایک پتھر کو صرف توڑا جا سکتا ہے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ بچہ ایک جیتا جاگتا انسان ہوتا ہے۔ اس کی شرارتیں اور کھیل اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ حالات، واقعات، لوگ اور اپنے ماحول کا مشاہدہ بہت غور سے کرتا ہے اور سوچنے سمجھنے کے ساتھ ساتھ چیزوں کا تجربہ اپنے تئیں کرنا چاہتا ہے۔ اس کوشش میں اس سے نئے نئے کھیل دریافت ہوتے ہیں اور نتیجتاً شرارتیں بھی ہوتی ہیں۔ ایسے میں جب والدین اسے ہوشمندی سے سمجھانے کے بجائے اگر مار پیٹ کا سہارا لینے لگیں تو یاد رکھیئے اس بچے کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہ صرف متاثر ہوتی ہے بلکہ وہ نئے تجربات سے بھی گھبرانے لگتا ہے۔

Read more

گُڑیا یا گاڑی: آپ کا بچہ کِس کھلونے سے کھیل رہا ہے؟

نسل در نسل ایک ہی روش چلی آ رہی ہے کہ لڑکا ہمیشہ گاڑی سے ہی کھیلے گا اور اگر لڑکی ہے تو اُسے گُڑیا تھما دی جائے گی۔ مگر کوئی لڑکا گُڑیا سے کھیلتا نظر آ جائے یا کسی لڑکی کے ہاتھ میں کوئی ‘سُپر ہیرو’ دکھائی دے تو یہ ہمیں عجیب کیوں لگتا ہے؟

Read more

بچے، امتحانات اور ذہنی دباؤ

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ میٹرک کے سالانہ امتحانات شروع ہو چکے ہیں۔ بچے اس وقت بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ سمجھا یہ جاتا ہے کہ میٹرک کے رزلٹ پر سارا مستقبل منحصر ہوتا ہے۔ چونکہ آج کل مقابلہ بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ جس کی وجہ سے بچوں پر دباؤ بھی بہت بڑھ گیا ہے اسی وجہ سے ان کی کارکردگی بہت متاثر ہوتی ہے اور اسی ذہنی دباؤ کی وجہ سے وہ انتہائی

Read more

زیادہ اچھے نمبروں کی دوڑ میں بچوں کو مریض مت بنائیے

وہ ویسے ہی سہما ہوا تھا، ہونٹوں پر پپڑی جمی ہوئی تھی، بلب کی روشنی میں اس کا رنگ مزید پیلا لگ رہا تھا، آنکھیں بُجھی بُجھی سی تھیں، کندھوں پر ایک وزنی بستہ تھا۔ تھکاوٹ سے چور اس بچے نے مجھ سے ہلکا سا ہاتھ ملایا اور چپ کر کے چارپائی پر بیٹھ گیا۔ میں نے اپنے رشتہ داروں سے فورا پوچھا کہ یہ عشاء کے وقت کہاں سے آ رہا ہے؟ بچے کی امی جی نے فورا جواب دیا ماشا اللہ ٹیوشن سے ابھی واپس آیا ہے، سارا دن پڑھتا ہے، کھیل کی طرف بھی کم ہی دھیان جاتا ہے، ماشا اللہ سے لائق ہے۔

Read more

ممٹی کا بھوت اور ننھی عفرا

لُو کے تھپیڑوں سے سُرخ تپتی دوپہروں میں جب عفرا اور اُسکے بہن بھائیوں کو تھپک تھپک کر سُلانے کی کوشش کرتی اُنکی ماں جب خود تھک ہار کر سو جاتی تو چند ہی لمحوں بعد وہ سب بہن بھائی چُپکے سے ٹھنڈے کمرے سے نکل چھت پر بنی دھوپ سے چمکتی ممٹی پر جا کر کھیل کود میں مشغول ہو جاتے۔ معصوم کلکاریاں موسم کی حدت سے بے خبر ہو کر آسمان کو چھونے لگتیں۔ زندگی اس سے زیادہ حسین ہو ہی نہیں سکتی تھی۔

پھر ایک دن جانے ایسا کیا ہوا کہ کہ عفرا ممٹی پر جانے سے گھبرانے لگی۔ اُس نے دوپہر کو بھی ماں سے لپٹ کر سونا شروع کر دیا۔ گرمی کی شدت سے گھبرائی اُسکی ماں بہتیرا کوشش کرتی کہ عفرا دُور ہو کر سوئے لیکن عفرا تو مانو بندر کے نوزائیدہ بچے کی مانند اور بھی چمٹتی جاتی۔ ساری دوپہر خوف سے لرزتی عفرا شام ہوتے ہی بالکل نارمل ہو جاتی۔ وہ کسی کو بھی نہ بتا سکی کہ کہ آخر ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ اتنا ڈرنے لگی۔ اُسکے بہن بھائی اُسکے تھر تھر کانپنے کا مذق اُڑاتے لیکن کسی نے بھی وجہ جاننے کی کوشش نہ کی۔

Read more

تعلیمی نظام موت کا سبب کیوں؟

پیدا ہونے کے تین سال بعد ہی بچے کو سکول میں داخل کروا دینا، ایک عام فعل سمجھا جاتا ہے۔ اس سوچ سے ہٹ کر کہ بچے کی تربیت اور اس کی ذہنی صلاحیت پر کیا اثر پڑے گا۔ آج کل کی مائیں اکثر اوقات بچوں کی شرارت سے جان چھڑوانے کا حل، ان کو سکول میں داخل کروا دینا سمجھتی ہیں۔ جہاں کبھی بھی اس کی تربیت گھر جیسی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ایک استانی بیس بچوں پر نظر رکھتی ہے، جبکہ ماں اپنی مکمل توجہ بچے کو دیتی ہے۔

Read more

جنسی ہراسانی مسئلہ ہے، سنگین مسئلہ!

جنسی ہراسانی ایک عام مسئلہ ہے، جس کا سامنا تقریباً ہر جنس کو کرنا پڑتا ہے۔ کبھی باس کے ہاتھوں، کبھی کولیگ کے ہاتھوں، کبھی رشتے دار کے ہاتھوں، کبھی ہمسائے کے ہاتھوں، کبھی کسی کے ہاتھوں۔ سند یہ ہے کہ سرویز بتاتے ہیں کہ اٹھانوے ( 98 ) فیصد لوگ جنسی ہرا سانی کا سامنا کرتے ہیں۔ خواہ مشرق ہو یا مغرب یہ مسئلہ ہر جگہ ہے۔ فرق یہ ہی ہے کہ مشرق میں جنسی ہرا سانی کے قوانین نہایت کمزور ہیں۔ جبکہ تہذیب یافتہ مغرب کے کچھ حصے میں مضبوط جنسی ہرا سانی کے نہایت مضبوط قوانین موجود ہیں۔

آج انیس سال کا ہوتے ہوئے جب آج سے بارہ تیرہ سال پہلے کا وقت سوچتا ہوں کہ جب میں متعدد بار ہراساں ہوا تھا، تو خود سے سوال پوچھنے پر مجور ہو جاتا ہوں کہ میں اس وقت اپنے والد یا والدہ جنہوں نے مجھے بہت اعتماد دیا ہے، انہیں یہ بات کیوں نہیں بتا سکا؟میں کیوں تنہا اس اذیت میں مبتلا رہا کہ وہ آنٹی جب بھی آئیں تو کسی کونے کدھرے میں گھس جاؤں یا قریب رہتی اماں کے گھر چلا جاؤں یا وہ انکل جب بھی آئیں تو فوراً اماں کی اوٹ میں ہو جاؤں۔ تو جواب مجھے ایک ہی ملتا ہے کہ معاشرے کا دباؤ کچھ ایسا تھا کہ ہمت کبھی کر ہی نہیں سکا۔ ط

Read more

بچوں سے پہلے والدین کی تربیت ضروری ہے

ہم ایسے معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جو بچوں کے لیے قطعی محفوظ نہیں ہے۔ ہم اجنبی ماحول سے تو بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں مگر ان قابل اعتبار لوگوں سے بے فکر ہو جاتے ہیں جو اکثر اوقات خطرے کا اصل موجب ہوتے ہیں۔ آج کل کے دور میں بچوں کو جنسی تربیت دینا از حد ضروری ہے مگر اس سے بھی ضروری امر والدین کی اس حوالے سے تربیت ہے۔ ہم بچوں کو یہ تو سمجھا دیتے ہیں کہ اجنبی لوگوں سے محتاط رہنا ہے مگر اس بات کو کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایک خاص عمر کے بعد بچے کو قریبی رشتے دار کی گود میں بھی نہیں بیٹھنا چاہیے۔

Read more

روزانہ اپنے بچے کو دس منٹ دیں

میرا پانچ سال کا بیٹا پچھلے چند دن سے اسکول سے واپس آنے کے بعد بہت خاموش سا رہتا، تھوڑا گھبرایا ہوا بھی۔ دانتوں سے ناخن بی کترنے لگا تھا۔ آج میں نے بہت پیار سے پوچھنا چاہی پہلے تو بہت گھبرا سا گیا پھر ہچکچاتے ہوے جو وجہ بتائی میں خاموش سی ہو گئی۔ چھٹی کے وقت رش سا لگا رہنا ایک معمول کا عمل ہے۔ چھوٹے بچے جب تک کوئی لینے نہیں آتا اسکول کے اندر بنے پلے ایریا میں کھیلتے رہتے ہیں۔ بڑی کلاس کا کوئی لڑکا دو دن اسے رانو ں سے چھو کے گزر جاتا۔

Read more

سانحہ ساہیوال میں میڈیا نے مقتول خلیل کے بچوں کا نفسیاتی استحصال کیا

سانحہ ساہیوال کے بعد میڈیا میں بچوں کو لے کر کوریج پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سانحے کے فوری بعد میڈیا نے مقتول خلیل کے بچوں سے انٹرویو لئے اور پھر یہ سلسلہ چل پڑا یہاں تک کہ اے آر وائی نیوز چینل کے اینکر عارف بھٹی نے اپنے پروگرام میں مقتول خلیل کی ایک بیٹی سے سوالات کئے جن میں یہ سوالات بھی تھے کہ بچی سے پوچھا گیا کہ آپ کے ابو کہاں گئے ہیں، اور بچی کے کہنے پر کہ فوت ہو گئے ہیں اینکر نے پوچھا کہ کیسے فوت ہو گئے ہیں، کل تک تو وہ درست تھے۔

اس پروگرام کے بعد اس پر مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی بہت تنقید کی گئی۔

معروف اینکر اور تجزیہ نگار ضرار کھوڑو نے ہم سب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصولاً تو میں اس بات کے مخالف ہوں کہ جو بچے ابھی اس سانحے سے گزر رہے ہیں ان سے میڈیا ایسے سوالات کرے۔ لیکن اگر شروع میں بچوں کے ایسے کلپ نہ آتے تو شاید یہ کیس ایکسپوز نہ ہوتا۔

Read more

اپنے بچوں کو نہ سمجھا تو آپ انہیں کھو دیں گے

پر تکلف عشائیے کے بعد چائے کا انتظار کرنے کے لئے ہم نے لاونج میں بیٹھنے کو ترجیح دی، مسز حارث چائے بنانے کچن چلی گئیں باقی تمام لوگ باتوں میں مصروف ہوگئے۔ دیوار پر لگی ایک پینٹنگ پر میری نگاہ پڑی جو ٹوٹے ہوئے کانچ سے بنائی گئی تھی اور بعد میں اس پر لاتعداد رنگ بھر دیے گئے تھے، میں نے کافی سمجھنے کی کوشش کی کہ پینٹنگ ہے کیا لیکن سمجھ نہ سکی البتہ پینٹنگ تھی اتنی

Read more

مکمل یکسوئی اور توجہ کے ساتھ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں

سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی کرتے ہوئے جدید دور میں انسان کے لیے بہت سی سہولتیں فراہم ہوئی ہیں جس سے اس کی زندگی آسان ہوئی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنوں سے بہت دور ہو گیا ہے۔ دوست احباب ہوں یا رشتہ دار آج کے دور کا انسان ان قیمتی رشتوں سے جڑے رہنے سے زیادہ اپنے موبائل فون پہ مصروف رہنا پسند کرتا ہے۔ اکٹھے بیٹھے ہوئے بھی آپس میں بات کرنے کے بجائے

Read more

انگریزوں کا انسانی بچے بطور خوراک استعمال کرنے کا منصوبہ

ہم جانتے ہی ہیں کہ سلطنت برطانیہ، تاریخ انسانی کی ایک بے رحم ترین سلطنت تھی۔ سنہ 1729 میں اسی برطانیہ کے ایک مشہور مفکر، فلسفی اور دانشور نے ایک انتہائی ظالمانہ تجویز پیش کی تھی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اس انتہائی مذموم تجویز کو اس نے ”ایک معتدل تجویز“ کے نام سے شائع کیا تھا۔ آئیے اس کی اور اس کے ملک برطانیہ کی اصلیت جانتے ہیں جس نے یہ ”معتدل تجویز“ پڑھنے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی

Read more

پاکستان میں ناجائز بچے، کوڑے کے ڈھیروں پر

دونوں بچوں کے چہرے انتہائی معصوم ہیں۔ ان کی تدفین سے پہلے ان کو آخری غسل دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے جنوبی شہر کراچی میں ان کو کوڑے کے ڈھیر پر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔ سماجی کارکن محمد سلیم ان دونوں چھوٹی چھوٹی لاشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ”دونوں بچے ایک یا دو دن کے ہوں گے۔ ‘‘ دوسری طرف ان کے ساتھی انتہائی احتیاط سے ان دونوں نومولود بچوں کو غسل دینے

Read more

یہ کس کا بچہ ہے؟

عدنان کاکڑ کا کالم ” لڑکیاں ہی کیوں حرامی ہوتی ہیں ‘‘ ان کے اپنے مخصوس انداز میں لکھا گیا تھا۔ جس کا محرک ایدھی کے جھولے میں ملنے والے وہ بچے ہیں جن میں زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ انسانوں کی جانب سے نسوانی جسم کچھ بچیوں کے لیے ناجائز کر دیا جا تا ہے، اور سزا کے طور پر انہیں ایدھی کے جھولے میں ڈال دیا جا تاہے۔ اورکبھی کبھی

Read more

یہ لڑکیاں ہی کیوں حرامی ہوتی ہیں؟

ایدھی مرحوم کے متعلق ایکسٹرا متقی حضرات کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا جاتا تھا کہ وہ حرامی بچوں کی پرورش کرتے ہیں اور ایدھی سینٹرز پر رکھے ہوئے پنگھوڑے اس بات کی ترویج کرتے ہیں کہ معاشرے میں رشتہ مناکحت کے بغیر سیکس پھیلے۔ کیونکہ متقی حضرات بات کہہ رہے ہیں تو اس میں ضرور وزن ہو گا۔ ہم خود معاشرے کا بگاڑ دیکھ رہے ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک کی حالت بری ہوتی جا رہی

Read more