کیا واقعی امیشا کو پولیس نے اغوا کر کے وڈیرے کے حوالے کیا تھا؟


میں نے کچھ دن پہلے ہم سب پہ ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان تھا کیا خوبصورت امیشا کو پولیس نے وڈیرے کے لئے اغوا کیا ہے؟

اب اس معاملے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے اور نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کی امیشا کے بیان پر یقین کیا جائے تو اس ہی عنوان پر سے صرف سوالیہ نشان ہٹا لیا جائے تو لکھا جائے گا کہ ”خوبصورت امیشا کو پولیس نے وڈیرے کے لئے اغوا کیا ہے“۔ امیشا بازیاب ہو گئی ہے اور اس نے میڈیا پر جو بیان دیا ہے اس کی رو سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امیشا کو پولیس نے وڈیرے کے لئے اغوا کیا تھا۔

میں نے اس کالم میں یہ بھی لکھا تھا کہ،
بالکل انڈین فلم کی طرح کا سین ہے لیکن ایک حقیقتی واقعہ ہے جو سندھ کے ریتلے علائقے تھر کے عمر کوٹ کے گاؤں ہاشم پلی کی تیرہ سالہ امیشا خاصخیلی کے ساتھ پیش آیا ہے۔ امیشا کی خوبصورتی اس کی جان کی دشمن بن کر سامنے آئی ہے اور اوپر سے غربت نے اس پر مُہر لگادی ہے کہ اگر کوئی لڑکی غریب ہے تو خوبصورت ہونا جرم ہے اور وہ دوسروں کے رحم و کرم پر ہے۔

امیشا بازیاب بھی فلمی انداز میں ہوئی ہے۔ دو ہفتے گزر جانے، میڈیا کے بے انتہا دباؤ، عدالتی نوٹیس لینے کے بعد کل رات امیشا حیدرآباد میں ٹنڈو الہ یار جانے والی سڑک پر بازیاب ہونے اور ایک میاں بیوی کے ہاتھ لگنے کی بات بتائی جا رہی ہے۔ جس نے اس کو قریبی تھانے پہنچایا۔ عجیب اتفاق یہ ہے کہ جن صاحب کو امیشا ہاتھ آئی ہے وہ بھی پولیس کے ریٹائرڈ اہلکار ہیں۔ پولیس کا کردار اس کیس میں ایسا نہیں ہے کہ جس کی تعریف کی جائے۔ پہلے تو امیشا کی بازیابی کو چھپایا گیا۔ پھر میڈیا میں بات ظاہر ہونے پر جب اس کے گھر والے عمرکوٹ سے حیدرآباد پہنچے تو ان کو لڑکی سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی۔ بارہ گھنٹے امیشا خاصخیلی کی ماں اور دیگر وارث حیدرآباد، میرپور خاص، اور عمرکوٹ کے درمیان رُلتے رہے۔

بحرحال امیشا بازیاب ہو گئی ہے۔ ہر زبان پر یہ بات چل رہی ہے کہ امیشا کو پولیس نے حیدرآباد کے علائقے قاسم آباد میں واقع ایک با اثر شخص کے بنگلے سے بازیاب کرایا ہے مگر بازیابی روڈ پر سے دکھائی ہے۔ امیشا کا عدالت میں کیا بیان آتا ہے یہ بات ابھی رہتی ہے مگر کے ٹی این ٹی وی پر امیشا نے واضح کہا ہے کہ اس کو لیڈی پولیس ایس ایچ او عمر کوٹ خوشبخت نے وڈیرے سیف اللہ اور فیض پلی کے حوالے کیا تھا مزید تفصیل میں عدالت میں بتاؤں گی۔

Facebook Comments HS