ہجرت اور گھونسلے کے درمیان عمر گزارنے والی ماں
میرے ذہن میں ٹنڈو آدم کی اولین یاد میرے نانا کی چارے کی دکان ہے، ایک جانب ایک کترا مشین تھی جسے میں ایک جانب سے مکئی کے سبز پودے ڈالے جاتے تھے اور کترا مشین کے گول پہیے کے ہینڈل کو گھمایا جاتا تھا تو دوسری جانب سے کٹا ہوا سبز چارہ نکلتا تھا- اسے کپڑے کی چادر یا بوری میں ڈال کر گدھا گاڑی والے لے جاتے تھے۔ اکثر اونٹ والے بھی آتے، اونٹ کو دکان کی ایک سائیڈ پر بٹھاتے اور چارا باندھ کر اونٹ پر لادتے اور چل پڑتے۔ میری فرمائش اور نانا کی سفارش پر اکثر مجھے گدھے اور اونٹ کی سیر کو موقع مل جاتا، ورنہ میں دکان کے کونے میں پڑے مکئی کے پودوں میں سے کوئی نرم چھلی ڈھونڈتا رہتا ۔ ان پودوں کے تنے میں ایک نرم گِلی بھی ہوتی جسےدانتوں میں رکھ کر دبائیں تو رس چھوڑتی، وہ مل جاتی تو پنجاب سے آیا یہ بچہ بہت خوش ہو جاتا۔ زندگی میں بہت کچھ پایا ؛ انعام، فتح، کامیابی، جیت ۔ بعض کے لیے بہت محنت کرنا پڑی، بعض بخشش کے طور پر خود بخود جھولی میں آن پڑا ۔ ہنسے، خوشی منائی، ناچے، مبارکبادیں وصول کیں۔ مگر وہ مکئی کے پودے سے ڈھونڈ کے پانی والی ڈالی کی خوشی کچھ عجب تھی۔ کسی کامیابی نے ویسی مسرت نہ دی۔ عرصے بعد یہ سمجھ آئی کہ جب آپکی زندگی کا کینوس محدود ہوتا ہے، تو برش کا ایک ہاتھ ہی آپ کو مکمل گل رنگ کر جاتا ہے۔
زندگی بھی کیا کترا مشین ہے، لمبے تڑنگے بانکے ادھیڑ کر ریزہ ریزہ کر دیے۔ وہ جو کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے، زندگی کے پہیے کی زد میں آئے تو کٹے چارے کی مانند ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے- مگراُن میں وہ خوش قسمت ہیں جنہوں نے اپنا اندر سبز رکھا کہ کسی کے کام آتے رہے۔ اماں آخری وقت تک خدمت کی بدولت سرسبز تھیں، آخری وقت تک مجھے اُن کے پاس آ کر وہی خوشی کا احساس ہوتا تھا جو بچپن میں سبز چارے سے رس بھرے ٹکڑے کے ملنےسے ہوتا تھا۔
ساتھ والی دکان آٹا چکی کی تھی۔ ایک مشین جسے جب آن کیا جاتا تو خوب شور ہوتا، پٹے چلنے لگ جاتے۔ مشین پر ایک جانب بہت بڑا ٹین کا بنا چوکور سا ڈبہ ہوتا جس میں گندم کے دانے ڈال دیے جاتے اور مشین کے ایک اور جانب ٹین کی ہی بنی ایک تنگ ہوتی چوڑائی سے سفید آٹا نکلتا ۔پھرتی سے اِس کے نیچے بوری لگائی جاتی جس کو بھرتے ہی تیزی سے دوسری بوری سے تبدیل کر دیا جاتا۔
چکی پر کام کرنیوالوں کے کپڑے، بال، چہرے سب آٹے سے سفید ہوئے ہوتے اور تما م فضا گرم تازہ آٹے کی خوشبو دے رہی ہوتی ایک سوندھی خوشبو۔ مجھے یہ کام کرنے والے ہمیشہ سفید روحیں لگتیں۔ سفید شلوار قمیص، سر پر سفید کپڑا باندھے محنت کش۔ گندم کوئی اتنا سستا سودا بھی نہ تھا کہ جس کے لیے جنت چھوڑی گئی۔
آٹےکی خوشبو کا مقابلہ صرف بارش کی خوشبو کرتی ہے، وہ جب کوری زمین پر بارش کے قطر ے گرتے ہیں تو وہ خام خوشبو اٹھتی ہے کہ اعلی بنائے گئے پرفیوم بھی اُس کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔گرم آٹے کی خوشبو ہو، یا مٹی کی دونوں خام ہیں، خالص، بغیر کسی ملاوٹ کے، کسی سنگھار کے بغیر، کسی دکھاوے کی بیساکھیوں کےبغیر ۔ ٹنڈو آدم میرے لیے ہمیشہ ایسے ہی خالص رہا، کورا، مٹی کی بنی صراحی کی مانند جس کا پانی عجب مسرت دیتا ہے، ٹھنڈا، میٹھا، مٹی کی خوشبو لیے۔ پی لینے کے بعد خصوصاً شکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ حلق سے نیچے جاتا پانی ہی جسم کے رواں رواں کوشکر میں مصروف کر جاتا ، بن کہے، کسی عقلی تقاضےسے ماورا ۔ احساس کے معنی محسوس کرنے ہوں تو کسی صراحی کا ٹھنڈا پانی پی کر دیکھیں ۔
سکول کی گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم ٹنڈوآدم ٹرین پر جاتے تو مٹی کی صراحی ساتھ ہوتی کہ یہ سفر بھی تو اماں کا اپنی مٹی کے طرف واپسی کا سفر ہوتا۔ عجب مسرت دیتا، ٹھنڈا، میٹھا، مٹی کی خوشبو لیے۔
اماں کی وفات ہوئی تو میں اُن کےپاس تھا۔ ان کے آخری وقت میں ان کے بستر کے پاس تھا۔ انہوں نے آخری سانس لی اور اگلے سفر کی اڑان پر چل نکلیں اور میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ میں ماتم کروں کہ یہ ایک شکر کی گھڑی ہے۔ اللہ نے مجھے کیا خوبصورت موقع دیا تھا، اُس عورت کے پاس رہنے کا، اُس کو دیکھنے کا، اُس سے سیکھنے کا، جو کہ ایک رہبر تھی۔ میں اماں کی موت کے لمحے سے اُس وقت کا احساس کر پایا تھا جب مالکِ کائنات نے فرشتوں کو آدم کا سجدہ کرنے کا کہا تھا ۔ وہ اُسی اسرار کی ایک کڑی تھیں جب مالکِ ارض و سما نے ملائکہ کو کہا تھا کہ اِس مٹی کی تخلیق کو سجدہ کرو کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے اپنے کرم سے مجھے اُس اسرار کو محسوس کرنے کا موقع دیا تھا ، یہ اُس کی عطا کا شکر ادا کرنے کا موقع تھا۔
اماں دو تین ماہ سے ہی کہہ رہی تھیں، ” جانے کا وقت آ گیا ہے "۔ مگر مجھے لگتا تھا کہ ابھی کچھ وقت باقی ہے۔ رمضان کے آنے میں ابھی کچھ وقت تھا اور مجھے یقین تھا کہ اماں کے سفر کے لیے رمضان کا ہی مہینہ ہوگا ۔ ایسا ہی ہوا ، 2016 کے رمضان کے آخری عشرے میں وہ اطمینان کے ساتھ چلی گئیں ۔ ان کے چہرے پر سکون اور وقار تھا، ایسا جو کسی وفا شعار کے چہرے پر ہوتا ہے جس نے اپنے سپرد کام پوری دیانتداری، ایمانداری اور محنت سے پورا کردیا ہو ۔ ایسی محنت کہ جس سے ہڈیاں چٹخ گئی ہوں، جسم شل ہو گیا ہو، بدن کا رواں رواں ٹوٹ گیا ہو، مگر وہ محنت خود کو شانت کر گئی ہو کہ ذمہ داری ادا کرنے میں کوئی کو تاہی نہیں ہوئی۔ میں نے اماں کے ماتھے کو چوما اور ہاتھوں سے اُنہیں محسوس کیا ۔ اب کے بعد وہ نہ ہوں گی۔
بہن اور چند رشتہ دار خواتین جنہوں نےانہیں غسل دیا بتلایا کہ جسم بالکل تروتازہ تھا، اور خواہش کی کہ ایسی موت اُن کو بھی میسر ہو۔۔ جنازہ ظہر کی نماز کے بعد تھا ۔ فیصل مسجد کے ساتھ کے گراونڈ میں لوگ اکٹھے تھے، میں میت کے ساتھ کھڑا تھا ۔ لوگ آ کر افسوس کر رہے تھے- ایسے میں ایک دیہاتی آگے بڑھا، ادھیڑ عمر، سفید ریش، سر پر سفید کپڑا باندھے ہوئے۔ میں انہیں نہ جانتا تھا، میرے گلے لگا اور کہنے لگا کہ ضرار شہید ٹرسٹ ہسپتال کے ساتھ کے گاوں سے آیا ہوں، آپا کی وفات کا پتہ لگا، جنازہ کے لیے حاضر ہونا ضروری تھا۔ میرے کان میں کہا، "پتہ نہیں تجھے پتہ ہے کہ نہیں، تیری ماں ولی اللہ تھی”۔ میں کیا جواب دیتا، میں تو پہلے ہی اُنہیں ماں کے طور پر جانتا تھا ۔
غضب کی گرمی پڑ رہی تھی، روزہ بھی تھا ۔ ظہر کی نماز کے بعد جب امام صاحب جنازہ پڑھنے لگے تو آسمان پر بادل کا ٹکڑا آ گیا اور ہوا چلنے لگ گئی۔ ایک نمازی نےاپنے ساتھ والے سے اس یکایک تبدیلی کا ذکر کیا تو دوسرے نے فوراً کہا، "چپ رہو، یہ بولنے کا نہیں محسوس کرنے کا لمحہ ہے "۔
ماں جی، کبھی اپنے بیٹے کی قبر پر نہ گئیں۔ اپنا مقصد اس کے نام پر ہسپتال کی تعمیر بنا لیا ۔ آتے جاتے، دن میں کئی چکر قبرستان کے سامنے سے لگتے، کبھی نہ رکیں۔ صبر کا پتھر رکھ لیا تھا، اپنی زندگی میں ایک دفعہ بھی ضرار کی قبر پر نہ گئیں۔ آخر سترہ سال بعد کاندھوں پر سوار آئیں، شہید بیٹے کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئیں۔ میں نے اُنہیں قبر میں اتارا اور اُن کے ساتھ ہی اپنا ایک حصہ بھی چھوڑ آیا ۔ اب کون میری پریشانیوں کو بن کہے محسوس کریگا، کس کی دعائیں میرے گرد حصار ہوں گی، کون میرے دیر سے آنے پر دروازے پر کھڑا ہوگا، کون ہے جو بن کہے میرے پسند کے کھانے سامنے رکھے گا۔ آہ ، ایک در بند ہوا ہمیشہ کے لیے۔ مگر با خدا، میں خوش قسمتوں میں سے ہوں میں نے اُس عورت کو قریب سے دیکھا جس نے اپنی مثال سے مجھے عورت کے مرتبے کا بتلایا ہے۔

