تو کون؟ میں ایویں خواہ مخواہ!


بعض اوقات بڑی مضحکہ خیز صورت حال سے پالا پڑ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ کے دفتری ساتھی اس بات کا علم رکھتے ہوں کہ آپ کالم لکھتے ہیں مگر سوائے پانچ چھ کے باقی کسی نے کبھی آپ کا لکھا ہوا پڑھنے کی زحمت نہ کی ہو۔

ایسے میں کوئی خاتون کولیگ آپ سے یہ سوال کردے کہ آج کیا لکھا؟ تو قدرتی طور پر خوشی کا احساس ہوتا ہے کہ آپ کی لکھی تحاریر پڑھی جارہی ہیں۔ اسی خوشی میں لکھنے والا بندہ پوچھ بیٹھتا ہے کہ آپ نے میری فلاں تحریر پڑھی؟ جواب آتا ہے کہ نہیں۔ اس دھچکے سے سنبھل کر پوچھا جاتا ہے کہ اچھا فلاں تحریر پڑھی؟ جواب آتا ہے کہ وہ بھی نہیں پڑھی۔ تھوڑی مایوسی ہوتی ہے۔ پھر امید بھرے لہجے میں پوچھا جاتا ہے کہ اچھا آپ کو کون سی تحریر پسند آئی تو جواب آتا ہے کہ میں نے تو آپ کی کوئی تحریر پڑھی ہی نہیں۔

یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسانیت سے اعتبار اٹھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ماتھے پر پسینے کے قطرات نمودار ہو جاتے ہیں۔ آنکھوں کے سامنے رنگ برنگے دائرے رقص کرنے لگتے ہیں اور انسان خود پر قابو پانے کی جدوجہد میں مصروف ہو جاتا ہے مبادا کوئی سخت الفاظ زبان سے پھسل جائیں۔ اشتعال کی اٹھتی ہوئی لہر پر قابو پا کر دھیمے اور تقریباً فریادی لہجے میں دریافت کیا جاتا ہے کہ محترمہ آپ نے آج تک میرا لکھا ہوا نہیں پڑھا تو پھر آپ کو اس بات سے کیا دلچسپی ہے کہ میں نے آج کچھ لکھا ہے یا نہیں۔ تو جواب میں ایک ایسی مسکراہٹ دیکھنے کو ملتی ہے جسے الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔

ہمارا یہ رویہ نیا نہیں ہے۔ ہم ہر اس انسان کو جو ہم سے ہٹ کر کچھ کر رہا ہے یا کرنا چاہتا ہے یہ احساس دلاتے رہتے ہیں کہ تم جو کر رہے ہو یا کرنا چاہ رہے ہو اس کی ہماری نظروں میں کسی قسم کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ لیکن ہم تم سے سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں اور وہ ہم کرتے رہیں گے چاہے اس سے تمہیں کتنی کی کوفت کیوں نہ ہو۔ ہمارے پاس تمہارے لیے حوصلہ افزائی کا حوصلہ نہیں ہے۔

ہم ایک مصنوعی احساس تفاخر رکھنے والے معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہا ہے تو ہم اسے انجینئرنگ کے فوائد گنواتے ہیں۔ کوئی انجینئرنگ پڑھنا چاہ رہا ہو تو ہمارے پاس سے میڈیکل کے فوائد برآمد ہو جاتے ہیں۔ کامرس والوں کو ہم آرٹس کے مشورے مہیا کرتے ہیں اور آرٹس والوں کو بزنس پر لیکچر دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر ہمارے تمام تر مشوروں کے بعد بھی اگلا اپنی ہی کرنے پر بضد ہو تو پھر ہم اسی کے شعبے سے بری بری مثالیں ڈھونڈ کر اس کی حوصلہ شکنی شروع کر دیتے ہیں۔

اس کے باوجود بھی اگر وہ اپنے عزم سے رجوع نہ کرے تو ہم ڈاکٹر کو کمپاؤنڈر، انجینئر کو ٹھیکے دار اور ایک شیف کو دو ٹکے کا باورچی کہ کر سامنے والے کی مت مار دیتے ہیں۔ ہم ملازمت کرنے والوں کو حقارت سے نوکر اور کاروبار کرنے والوں کو بنیا کہ کر قہقہے لگاتے ہیں۔ ہم کسی کی عزت نفس پر وار کرنے میں ایک لمحہ کی ہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں کرتے۔ معلوم نہیں ہم کون سے احساس کمتری کی تسکین کرتے ہیں۔ ہمارے پاس ہر ایک کے لیے متبادل مشورے اور حوصلہ شکنی کی ایسی ایسی نادر تراکیب موجود ہوتی ہیں کہ اگلا بندہ سر پیٹ لینے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اس وقت کو کوستا پھرتا ہے جس وقت اس کا ہم سے سامنا ہوا تھا۔

اس رویئے کا تعلق معاشرتی تربیت سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ ہم بطور معاشرہ تعلیم اور تربیت کی شدید ترین کمی کا شکار ہیں۔ ہمیں اپنی ناک سے آگے دیکھنے کی تربیت ہی نہیں دی گئی اسی لیے ہم اپنی ناک سے آگے دیکھ ہی نہیں پاتے۔ اور اگر ہمیں کوئی ہمارے ناک سے آگے کھڑا دکھائی دیتا ہے تو ہم اس کی ایسی کی تیسی کرنے میں ایک لمحہ کی دیر بھی نہیں لگاتے۔ ہم اپنے بچوں کو مہنگے اسکولوں میں داخل تو کروا دیتے ہیں لیکن ان کی کردار سازی کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے میں یکسر ناکام ہو جاتے ہیں اور مسلسل ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
ایک محاورہ ہے کہ جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تب ہوش آتا ہے مگر یہاں تو پانی سر سے کب کا گزر چکا مگر ہوش ہے کہ آ کر ہی نہیں دے رہا۔

Facebook Comments HS

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 122 posts and counting.See all posts by awais-ahmad