اگر طارق مسیح گِل چُوہڑا ہے تو پھر ہم سب چوہڑے ہیں

یہاں تک کہ اپنے ان ننے ذہن خیالات کا اظہار ہم معاشرتی عدل و انصاف اور مساوات کی بنیاد پر قائم اور پنجابیوں کی نمانئدگی کے اعلیٰ ترین پلیٹ فارم پر کرنے سے بھی نہیں شرماتے۔ کیا عارف عباسی کا یہ فعل ہم سب کے لئے باعث شرم اور باعث اہانت نہیں ہے۔ اور سب سے بڑھ کر جب اس ہتک آمیز اور جاہلانہ رویہ اور سوچ کا پرچار تبدیلی انصاف اور مساوات کی سب سے بڑی دعویدار جماعت تحریک انصاف کے کسی رکن کی طرف سے کیا جائے تو معاف کیجیے، پھر پوری تحریک انصاف پر سوالیہ نشان ہے۔
لہذا میرا مطالبہ ہے کہ تحریک انصاف کی لیڈر شپ اس جاہلانہ طرز عمل پر عارف عباسی کے خلاف نہ صرف کارروائی کرےبلکہ عارف عباسی سے کہے کہ وہ پبلک پلیٹ فارم پر طارق مسیح گل سے اپنی اس قبیح حرکت پر معافی مانگے یا پھر تحریک اپنے تبدیلی کے نعرے سے دست بردار ہو جائے۔ اگر تحریک انصاف کے قائد یا ان کے کارکنان و ووٹرز یہ اتنا سا کام کروا جائیں تو میں واقعی سمجھوں گی کہ خان کے دعووں میں کچھ دم ہے نہیں تو یقین کیجیے پچھلی ستر سالہ اشرافیہ اور ان مین کوئی فرق نہیں۔ بلکہ بدترین ہے وہ جھوٹ جو سچ کے لفافے میں ڈال کر پیش کیا جائے۔
احباب کو یہ بات بہت عامیانہ، عجیب یا احمقانہ بھی لگ سکتی ہے۔ مگر یقین کیجیے تبدیلی ایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتوں اور روزمرہ رویوں کا نام ہے۔ تبدیلی کسی سنہری پروں والے آسمانی گھوڑے یا پھر کسی افسانوی تخت پر بیٹھ کر آنے والی دیوی کا نام نہیں ہے بلکہ ہمارا اپنے مائنڈ سیٹ اور روز مرہ طرز عمل کو تبدیل کرنے کا نام ہے۔ اور جس دن ہم نے اپنے یہ روز مرہ رویے اور اپنی سوچ بدل لی تو تبدیلی نظر آئے گی۔ کسی کو چیخ چیخ کر بتانا نہیں پڑے گا کہ تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آچکی ہے۔ اور اگر خان صاحب کی تبدیلی ایسے کند ذہن اور جاہل سوچ کے حامل افراد کے ذریعے آنے والی ہے تو پھر ایسی تبدیلی سے ہم ابھی سے معذرت کرتے ہیں کہ جہاں ہم انسانوں کے معاشرتی مقام کا تعین ان کی ذاتوں، پیشیوں، فرقوں، مذہب اور برادری کی بنیاد پر کریں۔
میں خان صاحب اور پوری تحریک انصاف سے کہنا چاہتی ہوں کہ اگر آپ کے ہاں انسانوں کے معاشرتی مقام کی بنیاد یہی تقسیم ہے تو پھر جان لیجیے پورا پنجاب بلکہ پورا پاکستان چوہڑہ ہے اور ہمیں ایسا چوہڑہ ہونے پر فخر ہے۔ اس بات کی وضاحت سے پہلے یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب میں گل برادری تو جاٹوں کی ایک بڑی شاخ ہے ہی ہے مگر ساتھ یہ بھی عرض کر دوں کہ چوہڑہ برادری بذات خود ایک بہت معزز برادری ہے اور بڑے بڑے نامی گرامی ڈاکٹرز، پروفیسرز، آفیسرز اور دیگر پیشوں سے منسلک افراد کا تعلق چوہڑہ برادری سے ہے۔ مگر عباسی صاحب نے اپنی کم عقلی، کم علمی اور کم مائیگی کی بنیاد پر یہ لفظ جس پیرائے میں استعمال کیا ہے میں اسی پیرائے میں اس پر بات کرتے ہوئے کہنا چاہوں گی کہ عباسی صاحب یہ چوہڑے انسانیت کی اعلی معراج پر قائم ہیں، آپ اور مجھ جیسے کاہل، سست اور ناکارہ لوگوں سے کہیں بہتر کہ ہم تو اپنی ذات کو صاف نہیں رکھ سکتے بلکہ معاشرے میں صرف گند ڈالتے ہیں۔ مگر یہ چوہڑے آپ کا میرا بلکہ اس پورے معاشرے کا پھیلایا ہوا گند صاف کرتے ہیں۔
عباسی صاحب اگر یہ محنت کش نہ ہوں تو ہم سب کے پھیلائے گند سے اس ملک تو کیا روئے زمین پر سانس لینا محال ہو جائے۔ کسی کو یقین نہیں آتا تو صرف ایک دن کے لئے ان چوہڑوں کو چھٹی دے دیجئے پھر میں دیکھتی ہوں کہ آپ جیسے لوگ کیسے اور کہاں ٹھکانے لگاتے ہیں اپنے پھیلائے ہوئے گند اور کیسے پھرتے ہیں سفید پوشاک پہن کر۔ عباسی صاحب روزی تو ہر کوئی کماتا ہے اور روزی کمانے کا کوئی نہ کوئی ذریعہ بھی اپناتا ہے سو ان چوہڑوں کا بھی ایک ذریعہ معاش ہے جیسے ہم سب کا۔ مگر ان میں اور ہم میں ایک فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثرییت کام صرف اپنی ذات کے لئے کرتی ہے مگر یہ جو چوہڑے ہیں نہ ان کے کام کی وجہ سے ہم سب کا نصف ایمان قائم ہے۔ یعنی صفائی ستھرائی۔ اور یہی فرق ان کو ہم سے زیادہ افضل و برتر کرتا ہے۔ پھر اس حساب سے ہر وہ شخص جو کسی نہ کسی صورت میں دوسرں کا ڈالا گند صاف کرتا ہے وہ چوہڑہ ہے۔
اس میں سب سے پہلے نیب والے آتے ہیں (اگر وہ غیر جانبدارانہ اور حقیقی گند یعنی کرپشن صاف کرتے ہیں تو) ۔ اس طرح تو انصاف فراہم کرنے والے سب سے بڑے چوہڑے بلکہ چوہڑوں کے امام ہیں۔ کیوں کہ وہ بھی اس ملک کو دوسروں کے پھیلائے گند سے صاف کرنے کا کار خیر سر انجام دے رہے ہیں۔ چوہڑے پن میں اگلا نمبر عساکر پاکستان کا بھی آتا ہے کہ وہ بھی بہت سا گند صاف کرتی ہے۔ چاہے سیلاب، زلزلہ، طوفان، آگ یا دہشت گردوں سے نمبٹنا ہو۔ غرض کوئی بھی آفت ہو یا امن کی گھڑی ہو پاک آرمی گند صاف کرنے کے لئے کمر بستہ رہتی ہے اور اس گند کی صفائی میں بہت سے جوانوں کی جان کا نذرانہ بھی پیش کرتی رہتی ہے جس کی ایک مثال کوئٹہ آپریشن میں دہشت گردی کا گند صاف کرتے ہوئے اس ہفتے ایک کرنل اور دو جوانوں کی شہادت ہے۔ اور عباسی صاحب آپ نے طارق مسیح گل کو مذہب کی بنیاد پر چوہڑہ کہہ کر یہ کیا جاہلانہ بات کر دی گویا صفائی ستھرائی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں؟ جناب صفائی ہمارا نصف ایمان ہے، چاہے وہ روح کی ہو، جسم کی یا معاشرے کی۔ تو آپ کا یہ کہنا کہ پاکستان میں رہنے والی تمام عیسائی برادری چوہڑی ہے اور مسلمان چوہڑے نہیں ہیں، انتہائی فضول اور گھٹیا بات ہے۔ ہم پورے پنجاب کے لئے بالخصوص اور پاکستان کے لئے بالعموم یہ بات ہر گز نہیں برداشت کر سکتے کہ کوئی ہمیں یہ کہے کہ ہم چوہڑے نہیں ہیں یعنی ہم صفائی ستھرائی نہیں کرتے گویا ہم سب گندے ہیں۔ مطلب ہم سب کا آدھا ایمان ہے (استغفرللہ)۔
یہ بات کسی صورت بھی قابل برداشت نہیں ہے کہ معاشرتی اور نسلی تعصب کا مارا کوئی نیم خواندہ شخص عوامی نمائندگی کے مقدس اور معزز پلیٹ فارم پر اپنے فرسودہ خیالات کی وجہ سے پوری قوم کو شرمندہ کرے۔ لہذا مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ یا عار نہیں کہ عارف عباسی نے مسیح برادری کے معزز رکن صوبائی اسمبلی طارق مسیح گل جو پنجابی قوم کا بیٹا بھی ہے کو چوہڑہ کہہ کر صرف اور صرف اپنی جاہلییت کا ثبوت دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے حلقے کے نمائندہ تو دور عباسی نسل کی نمائندگی کا حق بھی نہیں رکھتے۔ یہی نہیں ان کے اس عمل نے خان صاحب کی تحریک انصاف میں عدل و انصاف کی کیا footing ہے اس پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
وجہ یہ ہے کہ خان صاحب ایک ایسی تحریک کے امام ہیں جو عدل وانصاف، برابری، سچ اور صاف شفاف اصولوں پر مبنی سیاست کا نعرہ لے کر آئی تھی۔ اب اگر ایسی صورت حال میں خان صاحب کے کاروان کے سپاہی عارف عباسی جیسے لوگ ہوں گے جو سر عام انسانوں کی تذلیل کرنے کی کوشش میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور اپنے خیالات سے کونسا مقدس پلیٹ فارم گندا کر رہے ہیں تو پھر خان صاحب کے لئے مشکل ہوجائے گی۔ اور اسی رفتار سے گند ڈالنے کا یہ عمل جاری رہا تو پھر ہم پنجابی چوہڑوں میں سے تو کوئی بھی خان صاحب کی امامت میں نییت نہیں باندھے گا باقی صوبوں کے چوہڑے بھی یقینا سوچیں گے ضرور۔ اس لیے ضروری ہے کہ خان صاحب یا تو عارف عباسی جیسے لوگوں کا قبلہ درست کروا لیں جو اس قسم کے خیالات کا سر عام پرچار کر کے پارٹی کے صفائی ستھرائی کے نظام پر سوالیہ نشان تو کھڑے کرتے ہی کرتے ہیں ساتھ ساتھ مجھ جیسے چوہڑوں کو متنفر بھی کر رہے ہیں۔ اور خان صاحب جس رفتار سے اپنی پارٹی میں لوٹے بھرتی کر رہے ہیں اس سے پہلے ہی اندیشہ ہے کہ لوٹے ہی لوٹے رہ جائیں گے، چوہڑہ یعنی نیک انسان ایک بھی نہیں ہو گا۔ خدا خان صاحب کا حامی و ناصر ہو!

