سنہ 2053 کی ویران دنیا


”جب آپ انسان کے پاس جا سکتے ہیں تو مشین سے مدد لینے کی کیا ضرورت ہے؟ “۔ کتنا خوبصورت خیال ہے! یہ خیال امریکی ادیب رے بریڈ بری (1920۔ 2012) کے ذرخیز ذہن کی پیداوار ہے۔ رے بریڈ بری نے سائنس فکشن کے میدان میں شہرت پائی اور شہرہ آفاق ناول ’فارن ہائیٹ 451‘ کے علاوہ کئی افسانوں کے مجموعے تخلیق کیے۔

ان کی کہانیاں ہمیں تخیلاتی دنیا میں لے جاتی ہیں جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو ناقابل تلافی حد تک بدل دیا ہے۔ سائنسی ایجادات نے انسان کو گھیر رکھا ہے۔ مشینوں کی برق رفتار اور بے انتہا شور میں انسانی زندگی ہانپتی پھرتی ہے۔
ایسی ہی کہانی کو سائنس فکشن کا نام دیا جاتا ہے۔

رے بریڈ بری کی ایک خوبصورت کہانی ’پیدل چلنے والا‘ ( The Pedistrian) 1951 میں شائع ہوئی۔ اس کہانی میں آنے والے اس وقت کی تصویر کشی کی گئی ہے جب انسانی زندگی مشینوں کی غلام بن جائے گی۔ کہانی کے واقعات سن 2053 میں وقوع پزیر ہوتے ہیں۔

یہ کہانی لیونارڈ میڈ نامی ایک مصنف کی ہے جو کئی سالوں سے رات دیر تک سڑک پر چہل قدمی کرنے کا عادی ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں اس کا آمنا سامنا کسی انسان سے نہیں ہوا۔ تمام ضروریات گھروں میں موجود جدید مشینیں پوری کر رہی ہیں لہذا لوگ گھروں سے باہر نہیں نکلتے۔ سڑکیں ویران ہیں، گھر تاریک اور مزاروں کی طرح دکھائی دینے والے۔

نومبر 2053 کی ایسی ہی ایک اداس اور یخ بستہ رات کو پولیس کار لیونارڈ کا راستہ روک لیتی ہے۔ کار سے آنے والی آواز اس سے رات کو باہر پھرنے کا مقصد، پیشہ، ازدواجی حیثیت وغیرہ کے بارے سوالات کرتی ہے۔ لیونارڈ میڈ کی تازہ ہوا کھانے اور  چیزیں دیکھنے کے لیے چہل قدمی کرنے پر پولیس حیران ہے کہ گھر میں دیکھنے کو ٹی وی اور ہوا کے لیے ائیر کنڈیشنر ہونے کے باوجود یہ شخص سڑک پر کیوں پھر رہا ہے۔ کوئی سر پھرا ہی ایسا کر سکتا ہے۔ لہذا لیونارڈ کو ایک مشکوک کردار اور نفسیاتی مریض سمجھا جاتا ہے اور گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اسے زوال پزیر رحجانات پر تحقیقات کے نفسیاتی مرکز لے جایا جاتا ہے تا کہ اس کے عجیب رویے پر تحقیق کی جا سکے۔ لیونارڈ کار میں بیٹھتا ہے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ گاڑی کے اندر کوئی شخص موجود نہیں ہوتا۔ وہ ایک روبوٹ کار ہوتی ہے۔

رے بریڈ بری نے یہ کہانی ایک ذاتی واقعے سے متاثر ہو کر لکھی تھی۔ لاس اینجلس میں ایک دوست کے ہمراہ چہل قدمی کرتے ہوئے انہیں پولیس نے روکا اور پوچھا، ’آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ ‘ رے بریڈ بری نے جواب دیا ’ہم اپنا ایک پاؤں دوسرے پاؤں کے آگے رکھ رہے ہیں۔ ‘ پولیس اہلکار اس مزاح پہ برہم ہوئے تھے۔ کہانی کے کردار لیونارڈ کے گھر کا پتہ بھی وہی ہے جہاں رے بریڈ بری رہائش پزیر رہے۔

سائنسی ترقی کے ہاتھوں انسانی زندگی کی بربادی اس کہانی کا مرکزی خیال ہے۔ بلاشبہ انسان ابدی سکون کا متلاشی ہے۔ زندگی کی مشکلات سے نمٹنے کے لیے اس نے جدید سائنسی ایجادات کی مدد لی ہے۔ جہاں ان ایجادات نے سکھ بانٹے ہیں وہاں دکھ بھی عطا کیے ہیں۔ بریڈبری کے خیال میں مشینیں وہ کیچوے ہیں جو انسانی زندگی کے توانا جسم سے سارے رنگ چوس لیتے ہیں۔ بے رونق، جذبات سے عاری اور ساکن زندگی مشینوں کی دین ہے۔

انسان اپنے ہی ہاتھوں بنائی مشینوں کی گراریوں میں پھنستا چلا جا رہا ہے۔ جو چیزیں آرام و سکون کے حصول کے لیے بنائی تھیں وہی بے چینی و بربادی کا ساماں ٹھہریں۔ یہی آج کے انسان کی قسمت ہے! وہ ایک بے جان پرزے کی طرح مشینوں کے سیلاب میں بہتا چلا جاتا ہے۔

برطانوی ادیب ایچ جی ویلز نے کہا تھا کہ آج کا انسان چلتی گاڑی میں سوار ایک بندر کی مانند ہے جو زندگی کی اس تیز رفتار گاڑی کو اپنی مرضی سے نہ موڑ سکتا ہے نہ بریک لگا سکتا ہے۔ یہ گاڑی اب اس کے قابو میں نہیں رہی۔
گویا ایک پتنگ ہے جس کی ڈور ہاتھوں سے چھوٹ گئی ہے۔

رے بریڈ بری نے تخیل کی آنکھ سے مستقبل کی زندگی میں جھانکا ہے اور 2053 کی دنیا دیکھی ہے۔ یہ ٹی وی کا زمانہ ہے۔ دنیا کو اسکرین پہ دیکھنے کا دور ہے۔   تازہ قدرتی ہوا کی جگہ اے سی کی مصنوعی ہوا استعمال ہوتی ہے۔ سڑکیں صحرا سی ویراں ہیں۔ سبھی لوگ مقبروں جیسے گھروں میں دبکے ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہیں۔ کتابیں اور میگزین نہیں پڑھے جاتے۔ لوگوں کا آپس میں میل ملاقات بہت کم ہے۔ مشینوں نے انسانوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ جیسے آجکل ہم سمارٹ فون اور انٹرنیٹ میں اتنے مگن رہتے ہیں کہ ایک ہی چھت تلے رہنے والے ایک دوسرے کو وقت نہیں دے پاتے۔

علامہ اقبال نے ایسے ہی تاریک پہلو کو شعر میں ڈھالا تھا۔
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

رے بریڈ بری نے اپنی کہانی Dark They Were And Yellow Eyed میں بھی جدید آلات کے انسانی زندگی پر مہلک اثرات کی بات کی ہے۔ یہ کہانی بٹرنگ خاندان کی ہے جو جنگ کی وجہ سے زمین سے مریخ پر جا بستے ہیں اور وہیں کے ہو رہتے ہیں۔ زمین پہ موجود سارے خلائی جہاز جنگ میں تباہ ہو جاتے ہیں اور مریخ سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ وہ اتنے بدل جاتے ہیں کہ زمینی مخلوق دکھائی نہیں دیتے۔ یہی خوفناک تبدیلی رے بریڈبری کی کہانیوں کا موضوع ہے اور اسی بھیانک بدلاؤ سے وہ دنیا کو خبردار کرتے ہیں۔ وہ اس بات پہ کڑھتے ہیں کہ دلکش اور سادہ زندگی تیزی سے اپنی دلکشی کھو رہی ہے۔ صد افسوس کہ تباہی کی یہ بساط انسان نے اپنے ہی ہاتھوں سے بچھا رکھی ہے۔
عجیب بات ہے کہ انسان اپنا دشمن خود ہی ٹھہرا۔

’پیدل چلنے والا‘ ایک علامتی کہانی ہے جس میں کردار، واقعات، شہر، عمارتیں، سڑکیں ہر چیز علامت کے طور پر استعمال ہوئی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار لیونارڈ پرانے دور کے انسان اور سادہ فطری زندگی کی علامت ہے جو ٹیکنالوجی دور کی تمام آلائش سے پاک ہے۔ لیونارڈ سردیوں کی ٹھنڈی رات میں جیبوں میں ہاتھ ڈالے چہل قدمی کرنا پسند کرتا ہے۔ وہ ایسی دنیا میں رہتا ہے جہاں یہ رویہ ابنارمل تصور کیا جاتا ہے۔ اسے نفسیاتی عارضے میں مبتلا شخص قرار دیا جاتا ہے۔

لیونارڈ کی گرفتاری اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی آزادی خطرے میں ہے۔ انسان کی مرضی مشینوں کے تابع ہوتی جا رہی ہے۔ پیدل چلنے جیسے کام بھی ہم اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے۔
2053 کی اندھیری شام ہمارے تاریک اور بے رنگ مستقبل کا استعارہ ہے۔ سنسان راستے، مقبروں ایسے خاموش گھر، کھڑکیوں کے پیچھے دیواروں پہ رینگتے بھورے سائے، اور ہر سو پھیلی گہری خاموشی۔ یوں لگتا ہے کہ لیونارڈ کسی قبرستان سے گزر رہا ہو۔ شہر پہ شہر خموشاں کا گماں ہوتا ہے۔ آنے والے دور میں ہمارے شہر ایسے ہوں گے۔ مشینوں کے ہاتھوں پتلیاں بنے مردہ انسانوں کے شہر۔

رے بریڈبری نے جو دنیا ہمیں دکھائی ہے اس میں خوفناک تنہائی ہے۔ لیونارڈ لاکھوں انسانوں کی بستی میں بھی تنہا ہے۔ ساتھ چلنے والا کوئی ساتھی ہے نا بات کرنے کو کوئی شخص۔ وہ عمارتوں سے باتیں کرتا ہے مگر بے جان دیواریں چپ رہتی ہیں۔ یہ احساس تنہائی سائنسی ترقی کے ساتھ ہی عطا ہوا ہے۔
پولیس کی گاڑی ایک روبوٹ کار ہے جس میں کوئی ڈرائیور نہیں ہے۔ وہ اچانک ایک موڑ پہ لیونارڈ کو روک لیتی ہے۔ یہ گاڑی جدید مشینی زندگی کی علامت ہے جو سادہ اور قدرتی زندگی کے راستے میں آ کھڑی ہوئی ہے۔

لیونارڈ گرفتار کر لیا جاتا ہے اور کار میں بٹھا لیا جاتا ہے جو ایک جیل کوٹھڑی سے مشابہت رکھتی ہے۔ لیونارڈ ترقی یافتہ سائنسی دور کی مشین میں قید ہو جاتا ہے۔ فرار کا کوئی راستہ بھی نہیں۔   وہ روبوٹ کار میں بند ہے جسے وہ اپنی مرضی سے موڑ نہیں سکتا۔ وہ ایک بے بس انسان ہے جو نہ چاہتے ہوئے بھی روبوٹ کار کے ساتھ سفر کرتا جاتا ہے۔
بالکل ایچ جی ویلز کے بندر کی طرح جو چلتی گاڑی میں سوار ہے۔

رے بریڈ بری کی طرح کینیڈین ادیب سٹیفن لیکاک کا بھی یہی خیال ہے کہ جدید ایجادات ہماری زندگی کو بھدہ اور بد صورت بنا رہی ہیں۔ انسان اپنی انسانیت کھو رہا ہے۔ انسانی خصوصیات کو مشینیں کچل رہی ہیں۔ سٹیفن لیکاک اپنی طنزیہ کہانی Man in Asbestos میں ہمیں ایک ہزار سال بعد کی زندگی دکھاتا ہے۔ کہانی کا کردار سوتا ہے تو اس کی آنکھ سن 3000 میں کھلتی ہے۔ اس دور میں انسان نے سائنس کی مدد سے موت، بھوک اور کام کاج کو ختم کر دیا ہے۔ لوگ مرتے نہیں، نا ہی ان کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں بھوک نہیں لگتی لہذا روزی کمانے کی ضرورت نہ رہی۔ کہانی کا مرکزی کردار ایسی زندگی سے بیزار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے

’یہ ہے آپ کی آنے والی زندگی؟ ایک بے رونق مردہ زندگی جس میں کوئی کام ہے نا کوئی بوجھ۔ اور اسی لیے اس زندگی میں مٹھاس بھی نہیں ہے۔ ‘
کہانی کے آخر میں وہ تمنا کرتا ہے کہ
‘مجھے لوٹا دو وہی پرانی زندگی جس میں خطرات بھی ہیں اور پریشانیاں بھی۔ سخت محنت بھی ہے اور تلخ حالات بھی۔ وہی پرانی زندگی مجھے دے دو جس میں دل بھی ٹوٹتے ہیں۔ ‘
انسان کی زندگی بلاشبہ غم سے بھری ہے مگر انسان کی مصائب دور کرنے کی جدوجہد ہی سے دنیا میں خوبصورتی ہے۔

کہانی The Pedistrian  کا لیونارڈ میڈ بھی رے بریڈ بری کی طرح سادہ اور قدرتی رنگوں سے بھری زندگی جینے کی آرزو رکھتا ہے۔ وہ کتابیں پڑھتا ہے اور کہانیاں لکھتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ سائنسی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی ہماری خوبصورت دھنک سی زندگی کے رنگ نہ چھین لے۔
رے بریڈ بری کہتا ہے ’میں (اپنی کہانیوں میں) مستقبل نہیں دکھاتا بلکہ مستقبل کو روکنا چاہتا ہوں‘۔

Facebook Comments HS

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 81 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti