ملکہ سیدہ الزبتھ کے پوتے کی شادی خانہ آبادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیدہ الزبتھ کا فون آیا تھا۔ پوچھ رہی تھیں کہ ان کے پوتے کی شادی کا دعوت نامہ ملا یا نہیں؟ میں نے بتایا کہ ہاں، مل گیا تھا۔ لیکن کچھ مصروفیت ہے۔ کل شادی میں نہیں پہنچ سکوں گا۔ ولیمے میں شرکت کا ارادہ ہے۔ تس پر انھوں نے یہ کہہ کر مجھے حیران کردیا کہ ولیمہ شلیمہ کرنے کا ارادہ نہیں۔ پیسے بچانے کے لیے بس ایک ہی تقریب کررہے ہیں۔

ملکہ معظمہ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، سید خاندان سے ہیں۔ یعنی ہماری رشتے دار ہیں۔ ان کا شجرہ برطانیہ کے پی ایچ ڈی اسکالرز ڈھونڈ کر ایک کتاب میں چھاپ چکے ہیں۔ بعد میں آبزرور اخبار نے وہ خبر عام کردی تھی۔ ملکہ وہ خبر دیکھ کر گھبرا گئی تھیں کیونکہ شیعہ نسل کشی کی خبریں ان تک پہنچتی رہتی ہیں۔ میں نے یہ کہہ کر انھیں تسلی دی کہ لشکر جھنگوی وغیرہ صرف بلوچستان میں مصروف ہیں۔ برطانیہ اور بلوچستان کے بیچ میں ایران آتا ہے جو بڑا خونخوار ملک ہے۔ ہزاروں فٹ اونچا جہاز روک کر دہشت گرد اتار لیتا ہے اور پھانسی چڑھا دیتا ہے۔ یہ سن کر ملکہ کے جان میں جان آئی۔

ہیری پتر کی شادی کے موقع پر مجھے چارلس بھائی اور ڈیانا کے بیاہ کا دن یاد آرہا ہے۔ میں ایک ہفتہ پہلے لندن چلا گیا تھا۔ شادی کے سارے انتظامات میں نے کیے تھے۔ اس خاندان کی شادی میں مقامی لوگوں کو دکھانے کے لیے گرجا میں تقریب ہوتی ہے۔ اس سے پہلے گھر میں سیدوں کے طریقے سے نکاح ہوتا ہے۔ چارلس بھائی کا نکاح مولانا عون نقوی نے پڑھایا تھا۔ انھوں نے ڈیانا سے کہا کہ نکاح نامے پر دستخط کریں تو اس نے کہا، نہیں۔ میں نے قسم کھائی ہے کہ پہلے ایک کتاب پر دستخط کروں گی اور مبشر صاحب کو دوں گی۔ انھیں نکاح نامے نہیں، کتابیں جمع کرنے کا شوق ہے۔

ڈیانا کے والد سید نہیں تھے۔ میں نے سیدہ الزبتھ سے کہا کہ بیٹے کی شادی کہاں کررہی ہیں؟ ولی عہد کی پہلی بیوی کوئی سیدانی ہونی چاہیے۔ ملکہ نے سر پکڑ کے کہا، لڑکا مانتا ہی نہیں۔ لڑکی کے ساتھ بھاگنے کو تیار تھا۔ بڑی مشکلوں سے روکا ہے۔ میں نے کہا کہ پھر بھگتیں۔ یہ لڑکی آپ کے خاندان کی ناک کٹوائے گی۔ بعد میں وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ ملکہ آج بھی اس بات کو مانتی ہیں اور شادی بیاہ کے معاملات میں مجھی سے مشورہ کرتی ہیں۔

ہیری کے بڑے بھائی کا معاملہ دیکھیں۔ ان صاحب نے اسکول میں کسی لونڈیا سے دل لگا لیا تھا۔ پتا نہیں کون کون سے وعدے کرلیے۔ ملکہ نے مجھے بلایا اور کہا کہ فلپ بیمار رہتے ہیں۔ چارلس کو دوسری بیوی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ولیم کو سمجھاؤ جو کسی ہم جماعت کے ساتھ رات کو امتحان کی تیاری کرتے کرتے شادی کی تیاری کر بیٹھا ہے۔ میں نے صاحبزادے کو بلایا۔ انھوں نے کہا کہ میں تو جینے مرنے کی قسمیں کھا چکا ہوں۔ میں نے کہا، منے! جینے مرنے کا مطلب شادی ولیمہ نہیں ہوتا۔ اس لڑکی کو کچھ دے دلا کر فارغ کرو۔ جو ہوا سو ہوا۔ باقی رہی قسمیں تو ان کا کفارہ مولانا عون بتا دیں گے۔

یوں میں نے سید ولیم کاظمی کو سمجھایا بجھایا اور سیدہ الزبتھ کو کیتھرین بٹیا کی تصویر دکھائی۔ یہ میرے ایک دوست کے دوست کے دوست کی بیٹی ہیں۔ سید نہ سہی لیکن محب سادات لوگ ہیں۔ لڑکیاں آنکھ مٹکے کی شوقین نہیں۔ ملکہ نے کہا، بس اب تم ہی بات چلاؤ۔ میں بوڑھی ہوگئی ہوں۔ ٹانگوں میں دم نہیں۔ آنے جانے کے قابل نہیں۔ چنانچہ میں نے وہ رشتہ کروایا۔
اب ولیم اور کیتھرین خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ ماشا اللہ تین بچے ہیں۔ اللہ نے چاہا تو آٹھ دس ضرور ہوں گے۔

جب تک پاکستان میں تھا، ملکہ کی ایک آواز پر لندن پہنچ جاتا تھا۔ میں ملک سے نکلتا تھا تو فوج معاملات سنبھال لیتی تھی۔ لیکن یہاں امریکا میں مسائل مختلف ہیں۔ یہاں مصروفیت بہت زیادہ ہے۔ کافی دنوں سے لندن نہیں جا سکا تھا۔

چنانچہ گزشتہ دنوں ملکہ کا فون آیا۔ بولیں کہ صاحب! بہت دن ہو گئے، تم پکڑائی نہیں دے رہے۔ کچھ قصر بکنگھم کی خبر لو۔ ہیری بگڑ رہا ہے۔ ماں موجود نہیں۔ باپ بادشاہی نہ ملنے کے باعث مردم بیزار ہوچکا ہے۔ بچے کے لیے کوئی مناسب لڑکی دیکھو تاکہ شادی کرکے کھونٹے سے باندھیں۔ یہ سن کر میں مسکرا دیا۔
یہاں امریکا میں دیکھ بھال کر اس لڑکی میگھن کا انتخاب کیا۔ ملکہ نے پہلے ناک بھوں چڑھائی کہ سانولی سلونی ہے لیکن جب میں نے اس کی تعریف کی اور ہیری نے بھی پسند کرلیا تو رشتہ پکا ہوگیا۔

اب کل شادی ہے۔ سچی بات ہے کہ مجھے جانا چاہیے۔ لیکن کیا کروں، ڈونلڈ ٹرمپ ہر وقت ٹوئیٹر پر لگا رہتا ہے۔ مجھے وائٹ ہاؤس، محکمہ خارجہ، پینٹاگون پتا نہیں کیا کیا دیکھنا پڑتا ہے۔ کانگریس والوں کو بھی بار بار سمجھانا پڑتا ہے۔ ایک لفظ ادھر ادھر ہوجائے تو ساری قانون سازی دوبارہ کرانا پڑتی ہے۔

سیدہ الزبتھ یہ سن کر خفا ہوگئی تھیں کہ میں کل نہیں پہنچوں گا۔ کچھ دیر بعد انھیں کال بیک کروں گا۔ انھیں خوش کرنے کے لیے اگلے اتوار کو ایسٹ لنڈن کے کسی پاکستانی ریسٹورنٹ میں دعوت کا وعدہ کروں گا۔ مان گئیں تو ٹھیک، ورنہ ٹرمپ سے اسمارٹ فون چھین کر اسے اوول آفس میں بٹھاؤں گا اور اس کا جہاز لے کر لندن روانہ ہوجاؤں گا۔ قریبی رشتے داری میں اتنا تو کرنا ہی پڑتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 191 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi