مزاحمتی سیاست مذاق نہیں ہے دوستو!
نواز شریف کے ممبئی حملوں کے متعلق تازہ بیان اور اس کے بعد ان کا تمام تر مشکلات اور تنقید کے باوجود اپنے بیان پر قائم رہنا ایک طرح سے وطن عزیز میں اینٹی ایسٹیبلیشمنٹ بیانیے کی بنیاد بن چکا ہے۔ نواز شریف کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ ہوئی بات چیت سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ فی الحال ان کا اپنے بیانیے سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن شہباز شریف اور دیگر روایتی سوچ کے حامل مسلم لیگی سیاستدان نہ صرف اس بیانیے پر تحفظات رکھتے ہیں بلکہ اس بیانیے سے لاتعلقی کا اظہار بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ چونکہ اینٹی ایسٹیبلیشمنٹ بیانیہ سٹیٹس کو کی قوتوں کے خلاف ہوتا ہے اس لئیے دنیا بھر میں یہ مقبول گردانا جاتا ہے اور سیاستدان اس بیانیے کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنا کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن دنیا کے بہت سے ممالک کے برعکس ہمارے ہاں صیح معنوں میں اسٹیٹس کو کی حامل طاقت دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ ہے۔ امریکہ یا برطانیہ کے برعکس جہاں پینٹاگون یا ایم آئی فائیو ایک حد تک انتخابات پر اثر انداز ہوتے ہیں ، پاکستان میں سارے کے سارے انتخابی نتائج کو دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ اپنی منشا کے مطابق ترتیب دے دیتی ہے۔ اس ضمن میں اصغر خان کیس میں جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ اور لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کے ایف آئی اے کو دئیے گئے حالیہ بیانات ناقابل تردید ثبوت مانے جا سکتے ہیں۔ اسد درانی صاحب نے اپنے بیان میں فرمایا ہے کہ پاکستان میں سارے انتخابات مینیجڈ ہوتے ہیں جبکہ جنرل مرزا اسلم بیگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسد درانی کو منع کیا تھا کہ فوج کو سیاسی معاملات میں مت گھسیٹا جائے لیکن ان کی بات نہ سنی گئی۔ یوں تو اس حقیقت سے ہر باخبر شخص شناسا ہے کہ پاکستان میں انتخابات ہوں یا جمہوریت دونوں ہی کنٹرولڈ ہوتے ہیں ، لیکن خود دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کے ذمہ دار ریٹائرڈ افسران کے منہ سے یہ اعترافات نئے بھی ہیں اور اہمیت کے حامل بھی ہیں۔ اصضر خان کیس کی تحقیقات کا دوبارہ حکم گو نواز شریف کو پھنسانے کیلئے دیا گیا تھا لیکن فی الحال اس کا نقصان خود پس پشت قوتوں کو ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب قومی سلامتی اور اداروں کے وقار کو جواز بنا کر ڈان میڈیا گروپ کو بھی پابندیوں کا شکار کر دیا گیا ہے۔
جیو میڈیا گروپ کے سرینڈر کے بعد صرف ڈان میڈیا گروپ ہی واحد مین اسٹریم میڈیا بچا تھا جو بنا کسی دباؤ کے خبریں تجزیے اور تبصرے عوام الناس تک پہنچا رہا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈان میڈیا گروپ کب تک اپنے اخبار کی ترسیل میں رکاوٹوں اور اپنے ٹی وی چینل کی مختلف علاقوں میں غیر قانونی بندش سے پیدا ہونے والے مالی بحران اور غداری کی عطا کی جانے والی سند کا دباؤ برداشت کر پاتا ہے۔ شنید ہے کہ عنقریب ہی سوشل میڈیا پر بھرپور کریک ڈاون کیا جائے گا اور ایسی ویب سائٹس جو جمہوری بیانیئے کے حق میں پلڑا رکھتے ہوئے جمہوری قوتوں کے موقف کو بھی جگہ دیتی ہیں انہیں پی ٹی اے کے ذریعے پابندی کا شکار بنایا جائے گا۔ یہ سب کچھ ہرگز بھی نیا نہیں۔ جن افراد نے ایوب خان، یحیی خان، ضیاالحق اور پرویز مشرف کے ادوار دیکھے ہیں وہ ان تمام ہتھکنڈوں سے بے حد اچھی طرح واقف ہیں۔ ابھی تو شاید تلخی ایام کو مزید بڑھنا ہے اور اہل قلم کو مزید خون دیتے ہوئے پرورش لوح و قلم بھی کرنی ہے۔
اینٹی ایسٹیبلیشمنٹ راستہ کبھی بھی آسان نہیں ہوا کرتا اور نہ ہی اس راستے میں چلنے والوں کیلئے پھولوں کی برسات یا کسی چھاوں کے ملنے کے امکانات ہوا کرتے ہیں۔ جب آپ ان قوتوں کی اجارہ داری کو چیلنج کریں جو روز اول سے سیاہ و سفید کی مالک ہیں تو بدلے میں ہر قسم کے وار سہنے کی صلاحیت اور استعداد بھی رکھنی پڑتی ہے۔ اسی لئے اس طرح کے معاملات میں بیچ بچاو کی راہ اختیار کی جاتی ہے کیونکہ اس راہ میں مرنے والے یا غائب ہونے والے بقول فیض "ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے” کہلاتے ہیں اور کولیٹریج ڈیمیج کے زمرے میں آتے ہیں۔ یعنی یہ راستہ لاتعداد قربانیاں مانگتا ہے اور قربانیاں بھی ایسی جو تاریخ کے پنوں میں گمنام رہتی ہیں۔ بالکل ان سپائیوں کی لاشوں کی مانند گمنام، جو دو طاقتور بادشاہوں کی لڑائی میں مارے جاتے ہیں اور تاریخ کے اوراق میں ان کا ذکر محض لاشوں کے اعدادو شمار کے طور پر ہی آتا ہے۔
نواز شریف کیا واقعی میں ایک انقلاب پسند یا اینٹی ایسٹیبلیشمنٹ سیاستدان بن چکے ہیں یہ سوال بھی اہم ہے اور اس کا جواب بھی حل طلب ہے۔ کیونکہ ایک جانب نواز شریف نے اینٹی ایسٹیبلیشمنٹ بیانیے کا علم تھاما ہوا ہے تو دوسری جانب ان کے چھوٹے بھائی آج بھی ایسٹیبلیشمنٹ سے ڈیل حاصل کرنے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ یعنی خود مسلم لیگ نواز اس وقت دو کشتیوں میں سوار ہے اور یہی حال اس کی لیڈر شپ اور کارکنوں کا ہے۔ سعد رفیق جو مسلم لیگ نون کے مرکزی راہنما ہیں اور ہر دور کی آمریت کے خلاف مزاحمت کا استعارہ رہے ہیں وہ نواز شریف کے اینٹی اسیسٹیبلیشمنٹ بیانیے کو نہیں مانتے اور شہباز شریف کے موقف کو تسلیم کرتے ہیں۔ دوسری جانب مشاہداللہ خان، رانا ثنااللہ اور پرویز رشید جیسے رہنما نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ علی الاعلان کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان تمام رہنماوں نے مشرف دور میں بدترین ٹارچر کا سامنا کیا اور اپنے جسموں پر آج تک تشدد کے نشانات لے کر گھومتے ہیں۔ اینٹی ایسٹیبلیشمنٹ راستے پر چلنے کی قیمت ان افراد نے اپنی جوانی اور عمر کا ایک قابل قدر حصہ چار بائی چار کی کوٹھڑی میں تشدد سہتے ہوئے بسر کیا۔ حالانکہ اس وقت ان کا بیانیہ محض ایک آمر کے خلاف تھا۔ جبکہ اس وقت مسلم لیگ نون کا بیانیہ ایک شخص یا آمر کے خلاف نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف ہے جو ریاست میں منتخب حکومتوں کے اختیارات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بیانیہ دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کے سیاسی کردار اور ریاستی امور میں اس کی بے جا مداخلت کے خلاف ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلم لیگ نواز نے اپنے کارکنوں کی اس قدرسیاسی تربیت کی ہے کہ وہ اس بیانیے اور اس کے نتیجے میں درپیش خطرات کو سمجھ سکیں؟
فی الحال اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر چند اپر کلاس مرد و خواتین کے علاوہ اس بیانیے یا مزاحمتی سیاست کے رموز سے ایک بنیادی سطح کا سیاسی ورکر ابھی تک نابلد بھی نظر آتا ہے اور مزاحمتی سیاست کے داؤ پیچ سے بھی ناواقف دکھائی دیتا ہے۔ مزاحمتی سیاست صرف بحث مباحثوں یا سوشل میڈیا پر جذباتی اور باغیانہ اسٹیٹس اپ لوڈ کر کے نہیں کی جاتی بلکہ اس کیلئے ہر قسم کے ریاستی اور غیر ریاستی جبر کا سامنا عملی زندگی میں کرنا پڑتا ہے۔ جس کے لئے مسلم لیگ نواز کے سیاسی ورکرز یا سپورٹروں کی تربیت کسی بھی طور مثالی نہیں قرار دی جا سکتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خواجہ سعد رفیق اور ان جیسے کئی رہنما جو عوامی سیاست کی نبض ہر ہاتھ رکھتے ہیں فی الحال نواز شریف کو پسپائی اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ سنہ 1999 میں نواز شریف کو مشاہد حسین سید اور کئی دیگر ساتھیوں نے مشورہ دیا تھا کہ "میاں سب چک دیو پھٹے” اور میاں صاحب نے حرف بحرف اس پر عمل کرتے ہوئے مشرف کو فارغ کر کے اس کے ادارے سے براہ راست ٹکر لے لی تھی۔ بعد میں جب مزاحمت کا وقت آیا اور نواز شریف نے ہیچھے مڑ کر دیکھا تو مشاہد حسین سید اور دیگر رہنماوں سمیت بڑی تعداد میںں سیاسی ورکرز بھی میدان سے غائب تھے۔ اس تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے نواز شریف کو سعد رفیق، مشاہداللہ خان، پرویز رشید اور دیگر قابل اعتبار ساتھیوں کے ساتھ ایک طویل نشست کی ضرورت ہے۔ اس نشست میں ان تمام حضرات کو سننے کے بعد انہیں کوئی ایک ایسا بیانیہ اپنانا چائیے جس پر خود نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف بھی ایک ساتھ کھڑے ہوں اور ان کے موقف میں کوئی فرق نہ نظر آئے۔
نواز شریف نے بطور سیاستدان سماجی اور سیاسی ڈھانچے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھتے ہوئے اس بیانیے کا علم تھاما ہے لیکن ان کے اس بیانیے پر قائم رہنے یا نہ رہنے سے تبدیلیوں کا یہ سفر ہرگز بھی مشروط نہیں۔ یہ سفر بذات خود وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہے گا اور سماج میں طاقت کے توازن کے پلڑے کا جھکاو عوامی سمت میں جھکا دے گا۔ یہ سفر انتہائی کٹھن بھی ہے اور طویل بھی۔ صرف سیاسی وابستگی کی بنا پر اس سفر یا راہ کو اختیار کرنے سے پہلے سود و زیاں کے بارے میں سوچ لیجئے گا۔ یوں تو یہ سودے سودو زیاں کے حساب سے بالاتر ہوتے ہیں لیکن جذبات میں بہک کر اس راہ پر چلنے والوں کو خود اپنے دامن میں جھانک کر یہ اندازہ ضرور لگانا چائیے کہ کیا وہ سود و زیاں کے چکر سے نکل کر اپنا سب کچھ تیاگنے کو تیار ہیں۔ اینٹی اسیسٹیبلیشمنٹ یا مزاحمتی سیاست بطور فیشن یا سوشل میڈیا اور ٹی وی کی سکرینوں تک تو آئیڈیل اور رومانوی معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک جہد مسلسل ہے۔ اینٹی اسٹبلیشمنٹ اور مزاحمتی سیاست مذاق نہیں ہے صاحبو۔۔۔


