فلسطینیوں کا ماہ رمضان


میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، ہر بار رمضان المبارک اور فلسطینیوں کی لازوال قربانیوں کو اکٹھے پایا ہے. اس سال یہ ماہِ رمضان بھی فلسطینی نوجوانوں کے مقدس ترین اور قیمتی خون قطار در قطار، گروہ در گروہ آزادی کے نام کیے جانے کا گواہ بن چکا ہے.

میں نے امت مسلمہ میں فلسطینیوں سے زیادہ بہادر اور غیرت مند جوان نہیں دیکھے. جس طرح فلسطینی اکیلے عالمی دہشت گرد امریکہ اور اسکی ناجائز اولاد اسرائیل کے خلاف جدو جہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں وہ قابل تحسین ہے. حسنین کریمین علیہما السلام کے پیروکاروں کو جچتی بھی یہی روش ہے کہ دشمن چاہے جتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق اور سچ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑنا.

کروڑوں سلام اس عظیم دھرتی کو جو کئی دہائیوں سے لاکھوں فادی ابو صالح جیسے جرات مند بیٹے پیدا کیے جا رہی ہے. فادی نے پہلے اپنا ملک کھویا، پھر معذوری دیکھی لیکن کسی بھی لمحے وہ کارزار سے واپس نہ لوٹا یہاں تک کہ اس تازہ اسرائیلی جارحیت میں اپنی جان بھی فلسطین پر قربان کر گیا.

کوئی مسیحا ادھر بھی دیکھے، کوئی تو چارہ گری کو اترے،
افق کا چہرہ لہو میں تر ہے، زمین جنازہ بنی ہوئی ہے!!

ہمارے دوست سحاب اکبر نے اپنی فیس بُک پر لکھا کہ اگر آپکو مسئلہ فلسطین کا احساس نہیں تو آپ اس دور کے سب سے بڑے انسانی المیہ سے بے خبر ہیں.

حضرت اقبال نے قرآن کی تفسیر کو اپنے لفظوں میں پروتے ہوئے کہا تھا کہ

اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستاں کا ہر پیر و جواں بے تاب ہو جائے!!

افسوس صد افسوس کہ آج ہر طرف اسی اخوت کا شیرازہ بکھرا ہے جو کبھی مسلمانوں کی طاقت تھی. آج ہمارا تعارف ہمارا علاقہ، زبان، نسل، رنگ اور فرقہ بن چکا ہے. دین اور دینی لحاظ سے اخوت کے تمام رشتے توڑے ہمیں عرصہ بیت چکا. ہر طرف سے کھوکھلے مذمتی بیانات، اظہار یکجہتی کی قراردادیں، جمعہ کے خطبات میں اخلاص سے عاری فقط جذباتی تقریریں، بس یہی مقدر ہیں فلسطینیوں کا.

اس طرح کے المیے اس امت کے نوجوانوں کو بار بار اس تلخ حقیقت سے روشناس کرواتے ہیں کہ اسلامی ٹھیکیدار صرف اپنے اپنے پیٹ کے پجاری ہیں. ایران اور لبنان سے چند آوازیں آتی ہیں لیکن راحیل شریف والے سعودی عرب کی طرف سے مکمل خاموشی یا پھر چند منافقانہ بیانات سامنے آتے ہیں.

مذہبی نہ سہی، انسانی بنیادوں پر ہی سوچیے کہ فلسطینیوں پر کیا بیت رہی ہے.

یہ میری قوم کے حکمراں بھی سنیں
میری اجڑی ہوئی داستاں بھی سنیں
جو مجھے ملک تک مانتے ہی نہیں
ساری دنیا کے وہ رہنما بھی سنیں
صرف لاشیں ہی لاشیں میری گود میں
کوئی پوچھے میں کیوں اتنا غمگین ہوں
میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں

آئے تھے ایک دن میرے گھر آئے تھے
دشمنوں کو بھی تنہا نظر آئے تھے
اونٹ پر اپنا خادم بٹھائے ہوئے
میری اس سرزمیں پر عمر ( رض) آئے تھے
جس کی پرواز ہے آسمانوں تلک
زخمی زخمی میں وہ ایک شاہین ہوں
میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں

میرے دامن میں ایمان پلتا رہا
ریت پر رب کا فرمان پلتا رہا
میرے بچے لڑے آخری سانس تک
اور سینوں میں قرآن پلتا رہا
ذرے ذرے میں اللہ اکبر لئے
خوش نصیبی ہے میں صاحبِ دین ہوں
میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں

نہ ہی روئیں گے اور نہ ہی مسکائیں گے
صرف نغمے شہادت کے ہی گائیں گے
اپنا بیت المقدس بچانے کو تو
میرے بچے ابابیل بن جائیں گے
جو ستم ڈھا رہے ابرہہ کی طرح
ان کی خاطر میں سامانِ توہین ہوں
میں فلسطین ہوں، میں فلسطین ہوں

Facebook Comments HS