جسٹس راجندر سچر: قابل رشک اور قابل تقلید کردار رخصت ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دہلی ہائیکورٹ کے سابق چیف جج اور انسانی حقوق کے عظیم علمبردار، راجندر سچر94 سالہ زندگی کا سفر 20 اپریل 2018 کو مکمل کر گئے۔ ان کی وصیت کے مطابق جسد خاکی کو برقی روﺅں کی مدد سے راکھ میں تبدیل کر دیا گیا۔ مگر بڑے لوگ اور نیک اعمال راکھ کہاں ہوتے ہیں؟ جسٹس سچر جج اور حقوق کے محافظ کے طور پر کچھ فکری زاویے ا ور اطلاقی نمونے چھوڑ گئے ہیں جن سے جنوبی ایشیا میں مذہبی عدم براشت کے محرکات اور معاشی و معاشرتی پسماندگی دور کرنے میں راہنمائی لی جا سکتی ہے۔

ان کی ذات اور صفات کا ایک غیر معمولی امتحان 1974 میں اس وقت منظر عام پر آیا جب بھارت میں نافذ ایمرجنسی کے دوران، ان کے سکم سے راجستھان ہائی کورٹ میں جبری تبادلے کے احکامات دئیے گئے۔ احکامات خلاف ضابطہ تھے بلکہ یہ واضح تھا کہ انہیں ان کی ریاست کے بیانیے کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کی سزا دی جارہی تھی۔ اس لئے سچر نے ٹرانسفر کی بجائے عہدے سے برخاست کئے جانے کو ترجیح دی۔

ایمرجنسی کے بعد جج کے عہدے پر بحال ہوئے تو دہلی ہائی کورٹ میں بینچ کے ممبر کی حیثیت سے تعیناتی ہوئی۔ نظریات عوام پرور اورمزاج دبنگ پایا تھا اس لئے حکومت ان کے سامنے سرکاری کیس لانے سے گھبراتی تھی۔ جس کی ایک مثال 1984 میں وزیر اعظم اندراگاندھی کے قتل کے بعد سکھ برادری کے خلاف ہونے والی متشدد کارروائیوں پر ایک درخواست تھی۔ کیس راتوں رات ان کی عدالت سے دیگر جج صاحبان کے سامنے منتقل کر دیا گیا۔ دہلی ہائی کورٹ سے چیف جج کے طور پرریٹائر ہو ئے تو اقوام متحدہ میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور امتیازات کی روک تھام کے لئے قائم سب کمیشن کے رکن مقرر ہوئے جسے بین الاقوامی ماہرین کا گروپ بھی کہا جاتا ہے۔

دسمبر 1992 میں بابری مسجد کے سانحے کے دوران بھی وہ اقوام متحدہ کے اسی کمیشن کے ایک اجلاس میں شامل تھے۔ سچر بابری مسجد کے انہدام پر بہت رنجیدہ تھے جس کا ذکر اپنی تقاریر اور بیانات میں اکثر کرتے تھے۔ انہوں نے اس سانحے کا ذمہ دار انتظامیہ کی غفلت کے ساتھ عدلیہ کی سردمہری کو قرار دیا۔ ان کا خیال تھا کہ باقی اقدامات کے علاوہ بھارت میں 6 دسمبر کو بابری مسجد کے سوگ کا د ن یا یوم کفارہ قرار دیا جانا چاہیئے۔

سنہ 2005 میں وزیراعظم من موہن سنگھ کی کابینہ نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ وہ بھارت کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت یعنی مسلمانوں کی معاشی، معاشرتی اور تعلیمی صورتحال کا جائزہ لے کر ایک سرکاری رپورٹ مرتب کرے تاکہ اس ضمن میں کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکے اور عملی تجاویز بھی سامنے آئیں جن کو حکومتی اقدامات اور پالیسی کا حصہ بنایا جاسکے۔ جسٹس سچر اس کمیٹی کے سربراہ مقرر ہوئے اس لیے انکوائری کے نتائج کو سچررپورٹ کا نام دیا گیا۔ اُنہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور دیگر میدانوں میں پسماندگی پر ایک بامقصد اور قابلِ بھروسہ دستاویز بنانے پر سخت محنت کی۔

سچر رپورٹ نے جہاں مسلمان آبادی کی تعلیمی پسماندگی کو واضح کیا وہاں سرکاری ملازمتوں میں تعصبات اور مواقع کی کم یابی کی افسوس ناک تصویر بھی دکھائی۔ 18 فیصد آبادی ہونے کے باوجود مسلمان افراد کی سرکاری ملازمتوں میں نمائندگی تین فیصد کے قریب تھی۔یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ ریاست گجرات جہاں ایک عرصے سے بی جے پی کی مسلمان مخالف حکومت تشکیل پاتی ہے وہاں مسلمانوں کے لئے معاشی مواقع کا استعمال زیادہ جبکہ مغربی بنگال میں جہاں کئی دہائیوں سے کمیونسٹ پارٹی کی حکومت رہی وہاں مسلمانوں کی نمائندگی کم ہے تو سچر کمیٹی نے یہ سفارش پیش کی کہ اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے لیے نہ صرف خصوصی اور اضافی مواقع پیدا کرنا ضروری ہے بلکہ حقوق کی مساوات کو عملاً ممکن بنانے کے لیے ضروری ہے کہ خصوصی انتظامات کے نتائج کی نگرانی بھی جائے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ خصوصی یا اضافی اقدامات حقوق کی برابری کا باعث بنے بھی یا نہیں بنے۔ اقدامات کہاں اور کیسے کامیابیوں سے ہمکنار کئے جا سکتے ہیں۔

 بھارت میں مختلف ریاستوں میں مختلف سیاسی جماعتیں برسراقتدار تھیں۔ مذہبی شناختوں کے حوالہ سے سیاسی و سماجی سطح پر تناؤ اور کشیدگی بھی ہوتی ہے۔ لہذا رپورٹ کو متنازع بننے یا بنائے جانے سے بچانا ایک چیلنج تھا۔ خا ص طور پر جب ایک مذہبی اقلیت کی حالت زار کو با معنی انداز میں بیان کرنا ہو۔ ان خدشات کے بر عکس رپورٹ کابینہ میں زیرِ بحث آئی اور اُس کے نتیجے میں خصوصی اقدامات کیے گئے۔ امدادی منصوبوں کے لیے جن میں رقوم مختص کرنے کے ساتھ ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی بڑھانے کے اسباب پر کام شروع ہوا۔ رپورٹ کے نتیجے میں ہونے والے اقدامات کا کئی سال تک لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں جائزہ لیا گیا۔

 سچر رپورٹ ملکی پالیسوں کی تشکیل اور عمل درآمد کے ضمن میں نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر میں ایک عمدہ دستاویز اور مثال کے طور پر سامنے آئی۔ علمی حلقوں نے گورننس کے مطالعہ جات میں استعمال کیا۔ سچر رپورٹ کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرآئی ملی تو اس کے پیچھے کچھ نمایاں وجوہات تھیں۔ پہلی، جسٹس راجندر سچر اور کمیٹی کے ارکان کی ذاتی خوبیاں اور کردار شک و شبہ سے بالا تھا۔ جس بات نے سچر رپورٹ کو عوام کے لیے قابل بھروسہ بنایا۔ دوسرے غیر جانبداری کے ساتھ ساتھ، سچر رپورٹ علمی و فکری توانائی کی آئینہ دار تھیں۔ تیسرے رپورٹ کی سفارشات قابل عمل اور دنیا میں سماجی انصاف کے اطلاقی پہلوﺅں کے فہم سے مزیں تھی۔ چوتھے، رپورٹ کے منظرعام پر آنے پر کمیٹی کے ارکان اور سول سوسائٹی نے اس مسئلہ پر رائے عامہ کو بیدارکر نے میں خاطر خواہ کام کیا۔

راجندر سچر انسانی وقار اور انسانی مساوات، قانون کی حکمرانی اور شراکتی جمہوریت کے آدرش پر کس قدراعتماد رکھتے تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ 2011 میں جب ان کی عمر 87برس تھی، بھارت میں کرپشن کے خلاف انا ہزارے کی طرف سے شروع کی گئی تحریک میں عملی طور شامل ہوئے بلکہ پیرانہ سالی کسی خوف یا رکاوٹ کا باعث نہیں بنی۔ حتی کہ احتجاجی تحریک میں گرفتاری کی نوبت بھی آئی۔

راجندر سچر لاہور میں پیدا ہوئے اور یہیں سے تعلیم پائی۔ پھر 1947 میں تقسیم ہند اور پنجاب کی خون ریزی و ابتری کے عینی شاہد تھے۔ ہجرت نے ان کی شخصیت پر جو نقوش چھوڑے ان کا اثر تمام عمر رہا۔ بھارت میں وہ نا صرف مذہبی برداشت اور بردباری کی علامت کے طور پر پہچانے گئے بلکہ انکے اسلوب فکر نے معاشی و معاشرتی ناہمواری کو دور کرنے کے لیے جو راہیں تلاش کیں وہ سرکاری پالیسیوں میں انتہائی کارآمد اضافہ تھیں۔

ماہر قانون اور اقلیتوں کے لیے قائم بھارتی کمیشن کے سابق سربراہ پروفیسر طاہر محمود نے انڈین ایکسپریس میں اپنے مضمون میں راجندر سچر کے متعلق یہ کہا کہ وہ اپنی زندگی میں ہی لیجنڈ قرار پا چکے تھے اس رائے سے اتفاق کرنا پڑے گا کیونکہ ان کا احترام بھارت میں ان کے مخالفین بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ سچر اپنے سچ پر قائم رہے۔ جیسا اپنے عہد میں سچ کا ساتھ نبھانے والے کرتے ہیں۔ اور انکی زندگی کا حتمی سچ یہ ہے کہ اپنے سیاق و سباق میں وہ مظلوموں کی مشکل کشائی میں ایک قابل قدرحصہ ڈالے بغیر دنیا سے رخصت نہیں ہوئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •