مسیحی نکاح اور طلاق کے مسودہ قانون میں تبدیلی کیوں ضروری ہے؟

اس سال 20 اگست کو وفاقی کابینہ نے مسیحی نکاح اور طلاق کے ضمن میں ایک مسودۂ قانون کی اصولی منظوری دے دی۔ قریبا ڈیڑھ سو سال بعد قانون کی تبدیلی میں خوشگوار پہلووں کی توقع تھی مگر شوخیٔ تحریر اس بات کی چغلی کھاتی ہے کہ اس مسودے کی تدوین میں علم اور تجربے کو بالائے طاق رکھا گیا ہے۔

ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان میں بسنے والے لوگوں کے لیے ایسا قانون تجویز ہو کہ محض طلاق کے معاملے پر افغانستان، ایران یا ہندوستان کا قانون لاگو ہوجائے۔ مجوزہ مسودۂ قانون کی دفعہ 49 کے مطابق پاکستان کے مسیحیوں کے لیے انگلستان کا قانون لاگو ہوگا۔

Read more

بالٹی کب گھومے گی؟

آٹھ دس برس کے تھے تو کسی بڑے نے ہمیں یہ کرتب سکھا دیا۔ ڈول یا بالٹی میں پانی بھرکرہینڈل سے پکڑواورتیزی سے اپنے گرد گھماتے جاؤ۔ برتن پر کوئی ڈھکنا نہیں اورسیدھا نہیں، لیٹی حالت میں ہے لیکن پانی برتن سے باہر نہیں گرتا۔ ہمیں لگا ہم کوئی چمتکار کرنے کے قابل ہو گئے…

Read more

پالیسی سازی: خلا کیا۔ زمیں کیا؟

سندھ، پنجاب اور مرکز میں منتخب حکومتیں جاتے جاتے کئی پالیسیاں متعارف کرواگئیں۔آخری چند ہفتوں میں وفاقی حکومت نے فوڈ سیکورٹی، داخلی سیکورٹی، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، واٹر، پنجاب نے انسانی حقوق اور انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ پر ، سندھ حکومت نے کچھ سرکاری ملازمتیں مستقل کرنے اور زرعی پالیسی کا اعلان کیا۔اتنی پالیسیاں یکے بعد دیگرے…

Read more

اقلیتوں کے حقوق پر عدالتی احکامات پر عمل د رآمد کی رپورٹ وفاقی و صوبائی محکموں سے طلب

پریس ریلیز 11جون 2018ء لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل تین رُکنی بنچ نے لاہور رجسٹری میں 11 جون 2018ء کو سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد سے متعلق درخواست کی سماعت کی جو انسانی حقوق کی…

Read more

اقلیتوں کے حقوق پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

اقلیتوں کے حقوق پر عدالتی حکم پر سپریم کورٹ دوبارہ سماعت کا آغاز کرے گی۔ لاہور: انسانی حقوق کی تنظیموں پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق، ادارہ برائے سماجی انصاف، سیسل اینڈ آئرس چوہدری فاؤنڈیشن کی جانب سے مشترکہ طور پر دائر درخواست کوچیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے سماعت کے لیے منظور کر لیا…

Read more

جسٹس راجندر سچر: قابل رشک اور قابل تقلید کردار رخصت ہوا

دہلی ہائیکورٹ کے سابق چیف جج اور انسانی حقوق کے عظیم علمبردار، راجندر سچر94 سالہ زندگی کا سفر 20 اپریل 2018 کو مکمل کر گئے۔ ان کی وصیت کے مطابق جسد خاکی کو برقی روﺅں کی مدد سے راکھ میں تبدیل کر دیا گیا۔ مگر بڑے لوگ اور نیک اعمال راکھ کہاں ہوتے ہیں؟ جسٹس…

Read more