دستور کی نصف سنچری اور باقی سچ

قومی دساتیر زندہ دستاویز کہلاتے ہیں۔ مراد یہ کہ ان کی عملی افادیت اور اصولی بنیاد ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ آئین اپنے ڈیزائین میں جتنا بھی غیر لچکدار ہو اس میں ترمیم یا تشریح کا امکان رکھا جاتا ہے لیکن یہ گنجائش آئین میں جمہوری اقدار کا تیا پانچا کرنے کے لئے نہیں ہوتی۔ بنیادی انسانی حقوق کی توسیع کے لئے ہو سکتی ہے، خلاف مقصد نہیں۔ اپریل 2023 میں پاکستان کے دستور مجریہ 1973 کی پچاسویں سالگرہ کی تقریبات

Read more

ڈاکٹر مبشر حسن سے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟

دسمبر 1971ء میں ڈاکٹر مبشر حسن وفاقی وزیر خزانہ بنے تو مشرقی پاکستان میں جنرل نیازی عرف ٹائیگر کو ہتھیار ڈالے اور پاک بھارت جنگ ختم ہوئے ایک ہفتہ ہوا تھا۔ ہوائی حملے کی صورت میں پناہ کے لئے سرکاری اعلان کے مطابق گھر کے صحن میں کھودا گیا مورچہ ابھی تک موجود تھا۔ مشرقی پاکستان میں جنگی قیدی بننے والے فوجیوں میں ہمارے ایک عزیز بھی تھے جن کے بارے افرادِ خانہ فکر مند تھے۔ ریڈیو پاکستان پر سامعین

Read more

عورتوں کے حقوق کی تکرار اور مدعا

جریدہ فارن افیئرز کے شمارہ جنوری 2020 ء کے ایک مضمون میں Rachel Vogelstien اورJamille Bigio لکھتی ہیں کہ گزشتہ سالوں ہونے والے انتخابات میں عورتوں نے نمایا ں کامیابیاں حاصل کر کے منتخب اداروں میں پائے جانے والے صنفی عدم توازن کو کم کردیاہے۔ 2018 ء میں افغانستان میں 417 اور عراق میں 2011 عورتوں نے انتخابات میں حصہ لیا لبنان میں گزشتہ انتخابات ( 2005 ء) میں صرف چار مگر 2018 ء میں 111 عورتوں نے حصہ لیاگزشتہ

Read more

شریعت بل سے شہریت بل تک

ایک طرف بھارت کے شہریت ایکٹ کو برسرِاقتدار بی جے پی اور اس کے حمایئتی تو دوسری طرف انسانی وشہری مساوات کا پرچم بلند کرنے والوں کی صف آرائی ہے۔ بارہ دسمبر 2019 ء کو بھارت کے صدر رام ناتھ کووند کے ترمیمی قانونِ شہریت پر دستخط کرنے سے پیشتر ہی مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ردِعمل آنا شروع ہو گیا تھا جو تاحال جاری ہے۔ ان مظاہروں میں درجنوں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں۔ البتہ

Read more

مسیحی نکاح اور طلاق کے مسودہ قانون میں تبدیلی کیوں ضروری ہے؟

اس سال 20 اگست کو وفاقی کابینہ نے مسیحی نکاح اور طلاق کے ضمن میں ایک مسودۂ قانون کی اصولی منظوری دے دی۔ قریبا ڈیڑھ سو سال بعد قانون کی تبدیلی میں خوشگوار پہلووں کی توقع تھی مگر شوخیٔ تحریر اس بات کی چغلی کھاتی ہے کہ اس مسودے کی تدوین میں علم اور تجربے کو بالائے طاق رکھا گیا ہے۔

ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان میں بسنے والے لوگوں کے لیے ایسا قانون تجویز ہو کہ محض طلاق کے معاملے پر افغانستان، ایران یا ہندوستان کا قانون لاگو ہوجائے۔ مجوزہ مسودۂ قانون کی دفعہ 49 کے مطابق پاکستان کے مسیحیوں کے لیے انگلستان کا قانون لاگو ہوگا۔

Read more

بالٹی کب گھومے گی؟

آٹھ دس برس کے تھے تو کسی بڑے نے ہمیں یہ کرتب سکھا دیا۔ ڈول یا بالٹی میں پانی بھرکرہینڈل سے پکڑواورتیزی سے اپنے گرد گھماتے جاؤ۔ برتن پر کوئی ڈھکنا نہیں اورسیدھا نہیں، لیٹی حالت میں ہے لیکن پانی برتن سے باہر نہیں گرتا۔ ہمیں لگا ہم کوئی چمتکار کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ مداری کی طرح مالٹے سے چار آنے کا سکہ بھی نکال پائیں گے یا ممکن ہے سرکس کے بازیگر کی طرح ہاتھ میں بانس

Read more

پالیسی سازی: خلا کیا۔ زمیں کیا؟

سندھ، پنجاب اور مرکز میں منتخب حکومتیں جاتے جاتے کئی پالیسیاں متعارف کرواگئیں۔آخری چند ہفتوں میں وفاقی حکومت نے فوڈ سیکورٹی، داخلی سیکورٹی، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، واٹر، پنجاب نے انسانی حقوق اور انفارمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ پر ، سندھ حکومت نے کچھ سرکاری ملازمتیں مستقل کرنے اور زرعی پالیسی کا اعلان کیا۔اتنی پالیسیاں یکے بعد دیگرے آئیں کہ موضوع سے د لچسپی رکھنے والوں کے لئے بھی حساب رکھنا مشکل ہوگیا۔ فاٹا اصلاحات پر قانون سازی پرتاخیر کا دفاع کون کرسکتا

Read more

اقلیتوں کے حقوق پر عدالتی احکامات پر عمل د رآمد کی رپورٹ وفاقی و صوبائی محکموں سے طلب

پریس ریلیز 11جون 2018ء لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل تین رُکنی بنچ نے لاہور رجسٹری میں 11 جون 2018ء کو سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد سے متعلق درخواست کی سماعت کی جو انسانی حقوق کی تنظیموں پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق، ادارہ برائے سماجی انصاف، سیسل اینڈ آئرس چوہدری فاؤنڈیشن اور AGHS لیگل ایڈ سیل کی جانب سے ثاقب جیلانی

Read more

اقلیتوں کے حقوق پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

اقلیتوں کے حقوق پر عدالتی حکم پر سپریم کورٹ دوبارہ سماعت کا آغاز کرے گی۔ لاہور: انسانی حقوق کی تنظیموں پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق، ادارہ برائے سماجی انصاف، سیسل اینڈ آئرس چوہدری فاؤنڈیشن کی جانب سے مشترکہ طور پر دائر درخواست کوچیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے سماعت کے لیے منظور کر لیا جس میں ایک عدالتی فیصلہ پر عمل درآمد کی استدعا کی گئی ہے۔ جسے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ

Read more

جسٹس راجندر سچر: قابل رشک اور قابل تقلید کردار رخصت ہوا

دہلی ہائیکورٹ کے سابق چیف جج اور انسانی حقوق کے عظیم علمبردار، راجندر سچر94 سالہ زندگی کا سفر 20 اپریل 2018 کو مکمل کر گئے۔ ان کی وصیت کے مطابق جسد خاکی کو برقی روﺅں کی مدد سے راکھ میں تبدیل کر دیا گیا۔ مگر بڑے لوگ اور نیک اعمال راکھ کہاں ہوتے ہیں؟ جسٹس سچر جج اور حقوق کے محافظ کے طور پر کچھ فکری زاویے ا ور اطلاقی نمونے چھوڑ گئے ہیں جن سے جنوبی ایشیا میں مذہبی

Read more