زیادہ اچھے نمبروں کی دوڑ میں بچوں کو مریض مت بنائیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ ویسے ہی سہما ہوا تھا، ہونٹوں پر پپڑی جمی ہوئی تھی، بلب کی روشنی میں اس کا رنگ مزید پیلا لگ رہا تھا، آنکھیں بُجھی بُجھی سی تھیں، کندھوں پر ایک وزنی بستہ تھا۔ تھکاوٹ سے چور اس بچے نے مجھ سے ہلکا سا ہاتھ ملایا اور چپ کر کے چارپائی پر بیٹھ گیا۔ میں نے اپنے رشتہ داروں سے فورا پوچھا کہ یہ عشاء کے وقت کہاں سے آ رہا ہے؟ بچے کی امی جی نے فورا جواب دیا ماشا اللہ ٹیوشن سے ابھی واپس آیا ہے، سارا دن پڑھتا ہے، کھیل کی طرف بھی کم ہی دھیان جاتا ہے، ماشا اللہ سے لائق ہے۔

میں حیران ہوا کہ اس وقت ٹیوشن اور ابھی تیسری کلاس میں ہی ٹیوشن کیوں؟ یہی حال میں نے اپنے کئی دیگر رشتہ داروں کے گھر بھی دیکھا۔ صبح سویرے اٹھ کر قرآن سیکھنے جانا ہے، واپس آتے ہی اسکول جانا ہے، وہاں سے واپسی سے تھوڑی دیر بعد ہی ٹیوشن والی باجی کی طرف جانا ہے، مغرب کے وقت واپسی اور اس کے بعد پھر سے مزید پڑھنے کے لیے دباؤ۔ سبھی کو یہ فکر تھی کہ فلاں کا بیٹا یا بیٹی اتنے اچھے نمبروں سے پاس ہوا ہے، ہمارا کیوں نہ ہو؟ تقریباً سبھی نے بس زیادہ نمبروں کو معیار بنا رکھا ہے۔

میں نے دیکھا ہے کہ والدین کی اس خواہش کے پیچھے بچوں کے چہروں کی رونقیں اُجڑ چکی ہیں، وہ بچے کم اور اسٹریس کے مریض زیادہ لگنے شروع ہو گئے ہیں۔ یہی حال اسکولوں کا ہے۔ وہاں بھی زیادہ سے زیادہ نمبروں کی ایک عجیب و غریب قسم کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ کوئی دن میں دس گھنٹے تعلیم دینے پر تلا ہوا ہے تو کوئی بارہ گھنٹے کی سروس فراہم کر رہا ہے۔ اس اسٹریس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بچے تھکاوٹ سے چور چور ہو چکے ہوتے ہیں، انہیں سر درد کا مسئلہ رہتا ہے، بھوک نہیں لگتی، سونے کے مسائل پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں، ان کی صحت متاثر ہو رہی ہے اور سب سے بڑھ کر بچوں کی خوشیاں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔

ہم مجموعی طور پر بچوں کے بچپن کو سرے سے ختم کرنے بلکہ قتل کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ایک عجیب و غریب قسم کا کریز پیدا ہوتا جا رہا ہے کہ ہمارے بچے کے نمبر سب سے اچھے آنے چاہئیں، اس کی پوزیشن پہلی آنی چاہیے۔

ہمیں علم ہی نہیں ہے کہ ہم اس کے پیچھے اپنے بچوں کا بچپن ختم کرتے جا رہے ہیں، ان کے کھیلنے اور ہنسنے کے مواقع ختم کرتے جا رہے ہیں، جس اسٹریس فُل زندگی کا آغاز ہم نے بڑے ہو کر کیا تھا، اس اسٹریس فل اور اپوائنٹ منٹس سے بھرپور زندگی کا آغاز آج کے بچے ابھی سے شروع کر چکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر بچہ پہلے نمبر پر نہیں آئے گا، زیادہ اچھے نمبر نہیں لے گا تو کیا ہو جائے گا؟ ہم کیوں فطرت کے اس قانون کو ماننا نہیں چاہتے کہ بچے ذہانت کے مختلف درجے لے کر پیدا ہوتے ہیں؟ ہم کیوں مناسب نمبر لینے والے اپنے بچوں کو آئیڈیل قرار نہیں دے سکتے؟

دنیا تمام کامیاب ترین لوگ اور مغربی ممالک میں والدین اپنے بچوں کو ایک متوازن زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ میں پچھلے دنوں علی بابا گروپ کے بانی جیک ما کی اپنے بیٹے کو کی جانے والی ایک نصیحت پڑھ رہا تھا، جس میں وہ کہتے ہیں، ”میں نے اپنے بیٹے کو بتایا ہے کہ تمہیں اپنی کلاس میں پہلی تین پوزیشنیں حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن تمہارے بہت بُرے نتائج بھی نہیں ہونے چاہئیں۔ صرف اسی طرح کے بچے کے پاس ہی باقی ہنر سیکھنے کا وقت بچتا ہے۔ ‘‘

پچھے دنوں بزنس اِنسائیڈر میں بل گیٹس اور ان کی اہلیہ کا ایک انٹرویو پڑھنے کا موقع ملا تو ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ ان کے لیے بچوں کے گریڈ زیادہ اہم نہیں بلکہ اس سے اہم ان کے بچوں کی بہتر کردار سازی، تجسس اور مسائل کا حل تلاش کرنے کی قوت ہے۔ انہوں نے بچوں کی پرورش میں ’لو اینڈ لاجک‘ تھیوری کے تحت کی ہے اور چودہ برس کی عمر تک اپنے بچوں کو موبائل فون سے دور رکھا ہے۔

پاکستان میں ہمارا نظام تعلیم بری طرح سے ناکام ہو رہا ہے۔ ہم وہ بچے ہی پیدا نہیں کر پا رہے، جن میں سوچنے، سمجھنے، چیزوں کو پرکھنے اور خود سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہو۔ ہم نے رٹا سسٹم پر اتنا زور دیا ہے کہ کنڈر گارٹن میں ہی بچوں کو دس دس کتابیں لگوا دیتے ہیں۔

اب جرمنی میں ایک بچہ چھ سال کی عمر میں پہلی جماعت میں جاتا ہے اور اسے سے پہلے کم از کم دو یا تین سال اس کو کنڈر گارٹن میں رکھا جاتا ہے۔ اب اس بچے کو کنڈر گارٹن میں کوئی ایک کتاب بھی نہیں لگوائی جاتی۔ ان دو یا تین برسوں میں اسے صرف اپنے ارد گرد کا ماحول سمجھایا جاتا ہے، انہیں جنگلوں میں لے جایا جاتا ہے، کھیل ہی کھیل میں صفائی کے طریقوں سے لے کر سامان کو سنبھال کر رکھنے کی تربیت دی جاتی ہے، انہیں اپنا بستر بچھانے، کپڑے بدلنے سے لے کر دانت صاف کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

اب مڈل کلاس پاکستانی والدین بچے کے کھیل کود کی سرگرمیوں کو تو وقت کا ضیاع سمجھنا شروع ہو گئے ہیں حالانکہ ایسی سرگرمیوں کا بچوں کی نشو ونما اور مستقبل کی کامیابیوں میں اہم ترین کردار ہوتا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں کو اچھے کردار اور متوازن شخصیات والے انسان پیدا کرنے چاہیے تھے لیکن وہ دن رات ایک کر کے زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کے چکر میں ہیں۔ ناکامیوں سے انسان سیکھتا ہے، بچوں کو ناکامیوں سے سیکھنے دیں اور پھر آگے بڑھنے دیں۔ مغربی ممالک میں اگر بچہ ٹیوشن پڑھتا ہے تو استاد اسے اپنی کمزوری، اپنی ناکامی، اپنی بے عزتی سمجھتا ہے، ہمارے ہاں استاد خود کہتے ہیں کہ بچے کو میرے پاس ٹیوشن کے لیے بھیجا کریں، اسے اشد ضرورت ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ بچوں کی پڑھائی کے حوالے سے مغربی ممالک مثالی ہیں، یہاں بھی بڑی جماعتوں میں ایسے ہی مسائل شروع ہو جاتے ہیں، جن کا حل نکالا جانا ضروری ہے لیکن پاکستان کے مقابلے میں یہاں کے بچوں کو پھر بھی کم اسٹریس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چھوٹی کلاسوں میں عمومی طور پر بچوں کو ویک اینڈ پر ہوم ورک نہیں دیا جاتا تاکہ وہ بلا کسی فکر کے کھیل کود سکھیں، ہفتے میں دو چھٹیاں لازمی ہیں، خوش رہنے کے مواقع زیادہ ہیں، پاکستان کی نسبت سکول میں رہنے کا دورانیہ کم ہے، ناورے اور سویڈن جیسے ممالک میں بچوں کو کتابوں کے بغیر پڑھانے کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ پڑھانے کے طریقے سائنسی بنیادوں پر ہیں، اسکولوں میں سوئمنگ، موسیقی اور کھیلوں کا باقاعدہ انعقاد لازمی ہے۔ پاکستان میں ایلیٹ اسکولوں کے علاوہ ایسی سرگرمیاں انتہائی محدود ہو چکی ہیں۔

پاکستان حکومت کو کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے، جس کے تحت پرائمری تک کے بچوں کا سلیبس محدود کیا جا سکے۔ بچوں کو اسکول کے علاوہ کھیلنے کودنے اور دیگر سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کا وقت مل سکے۔ اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو والدین کو یہ علم ہونا چاہیے کہ انہوں نے بچوں کو دس سال کی عمر میں ہی آئن سٹائن یا سائنسدان نہیں بنانا۔ انہیں اپنے بچوں کو سمجھانا چاہیے کہ ہمیں تمہاری دن رات پڑھائی اور زیادہ سے زیادہ نمبر نہیں چاہییں، بلکہ تمہارا مثبت کردار اور ایک اچھا انسان چاہیے۔

May 20, 2018 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •