احتجاجی اجتماع پر تشدد میں سندھی لڑکی کے کپڑے پھٹنے پر سندھ میں شدید غم و غصہ
وائس فار مسنگ پرسن کی طرف کراچی پریس کلب پہ 72 گھنٹے کی بھوک ہڑتال کے دوسرے دن، کل اس کیمپ پر پولیس اور دیگر اداروں کے ریڈ اور عورتوں پر ہو نے والے تشدد کے خلاف کل سے سندھ بھر میں شدید غم و غصے کی لہر آئی ہوئی ہے۔ حسب معمول اردو میڈیا نے کل ہونے والے اس واقعے کی خبر تک نہیں دی حالانکہ یہ واقعہ کراچی پریس کلب کے سامنے رونما ہوا ہے۔ انگریزی اخبارات اور سوشل میڈیا پر پولیس اور سادہ لباس والوں کی نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ہاتھا پائی کی تصویروں کے وائرل ہونے کا طوفان برپا ہے۔جس میں احتجاج پرپولیس اور سادہ لباس اہلکاروں کے طرف سے تشدد کے دوران ایک لڑکی کے کپڑے پھٹ جانے کی وڈیو بھی وائرل ہوئی۔ سندھ کی تقریبا سبھی سیاسی پارٹیاں، علمی ادبی حلقے، صحافی کراچی پریس کلب پر ہونے والے اس واقعے کی مذمت کر رہے ہیں اور ان سب کی ہمدردیاں جبری گمشدہ افراد اور ان کے خاندان والوں کے ساتھ ہیں۔ آج سندھ بھر کے پریس کلب کے سامنے یکجہتی احتجاج ہو رہے ہیں.
صورتحال سے کافی عرصے سے سنگین ہے۔ سیاسی کارکن جو اچانک گم ہوجاتے ہیں وہ لمبے عرصے سے گم ہیں یا پھر ان کی لاشیں ملتی ہیں۔ اس کے خلاف نہ کوئی عدالت کچھ کرتی ہے، نہ پولیس اور نہ حکومت۔ سیاسی پارٹیاں خوف کے باعث خاموش ہیں مگر اب یہ خاموشی ٹوٹتی ہو ئی محسوس ہو رہی ہے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین کی دیکھا دیکھی، اب سندھ میں کافی عرصے سے چلنے والی جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کی تحریک کراچی پریس کلب تک احتجاج کی صورت اختیار کر رہی ہے ۔ اس تحریک کی روح رواں جبری گمشدہ افراد کی بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔ سورٹھ لوہار، سسی لوہار، نیلم آریجو، شیریں اعجاز اور دیگر لڑکیاں اس احتجاج کی قیادت کر رہی ہیں
احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ جس کسی کے خلاف کوئی بھی مقدمہ ہے اس کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ سندھ میں ایک دوسرا سوال بڑی شدت سے اٹھ رہا ہے، کہ پشتون موومنٹ کے منظور پشتون اسلام آباد، لاہور، کراچی میں اس مقصد کے لئے احتجاج کرتے ہیں تو ان کو احتجاج کرنے دیا جاتا ہے مگر اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیئے پر امن بھوک ہڑتال پر بیٹھنے والی ان کی بیٹیوں، مائوں اور بہنوں تک پر تشدد کیا جاتا ہے، آخر ایسا کیوں ؟ بہرحال ملک کے حاکموں کو اب اس جبری گمشدگی والے معاملے کو حل کرنا ہوگا۔ یہ معاملہ اندر ہی اندر لاوے کی طرح پک رہا ہے۔



