خودکشی کرنے کی وجوہات، اعداد و شمار اور معاشرے کا کردار
معاشرے کو سمجھنا بھی سائنس ہے معاشرتی سائنس۔ جس کے کچھ معیار ہیں۔ اور کچھ طے شدہ طریقے اور پیمانے۔ ان میں چار اہم طریقہ کار ہیں جن کی مدد سے کسی بھی معاشرے کو تہہ در تہہ سمجھا جا سکتا ہے۔ تقابلی جائزہ، تاریخی جائزہ، توجیہاتی جائزہ اور نظریاتی جائزہ۔
آج ہم اسی طریقہ کار کو استعمال کر کے دیکھتے ہیں کہ خودکشی جیسا اہم مسئلہ بھی معاشرتی پہلو رکھتا ہے یا صرف انفرادی حیثیت کا حامل ہے۔ اور یہ بھی سوچنا ہو گا کہ جب ہم خودکشی یا اس جیسے کسی مسئلے پہ کوئی رائے قائم کرتے ہیں تو ہم کیا طریقہ کار اپناتے ہیں۔ بلکہ کیا ہم رائے قائم کرتے ہوئے کوئی طریقہ کار اپناتے بھی ہیں یا نہیں۔
بہت سے مسائل اور معاملات پہ ہماری کوئی رائے ہوتی ہے۔ جو عموما نظریاتی ہوتی ہے۔ ہم بچپن سے کسی نا کسی مخصوص نظریے کے حوالے سے معلومات حاصل کرتے ہیں جس میں ناصرف مذہب، اخلاقیات بلکہ سائنس کے بھی بہت سے نظریات شامل ہیں۔ زمین گول ہے یا دن میں 24 گھنٹے ہوتے ہیں یہ سب ہم نے یاد کیا ہوا ہے۔ پانی آکسیجن اور ہائڈروجن سے مل کے بنتا ہے اس کا ثبوت شاید لیبارٹری میں آبادی کا مشکل سے دس فیصد حصہ ہی دیکھتا ہوگا۔ اہم چیز جو ہم لوگ مس کرجاتے ہیں کیوں کہ ہمیں یہ سکھایا نہیں جاتا وہ ہے مزید تین طریقوں کا استعمال۔
کسی بھی مسئلے کو سمجھنے اور جانچنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہم دیکھیں کہ اس کی ابتداء کیسے ہوئی۔ یہ سمجھنے کے لیے ہم سوال میں استعمال ہوئی مثال یعنی خودکشی پہ بات کرتے ہیں۔
خودکشی سے متعلق جو تاریخی شواہد ملتے ہیں ان میں زیادہ تر خودکشیاں یا تو رضاکارانہ طور پہ کی جاتی تھیں یا سزا کے طور پہ۔ کچھ خودکشیاں کسی جسمانی تکلیف سے چھٹکارے کے لیے بھی کی جاتی تھیں۔
آپ کو سقراط کا قصہ یاد ہوگا کہ اسے سزا کے طور پہ خود زہر کا پیالہ پینا پڑا تھا۔
بہت سے علاقوں اور مذاہب کا رواج تھا کہ ملک یا قوم کی حفاظت کے لیے یا کسی بڑے مقصد کی تکمیل کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پہ پیش کیا جاتا تھا۔ انڈیا میں یہ رسم بھی رہی کہ جب راجہ، پرجا کو کسی بیرونی حملے سےمحفوظ نہیں رکھ پاتا تھا تو خودکشی کر لیتا تھا۔
تاریخ کے شواہد دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ایک لمبے عرصے تک خودکشی کو برا عمل نہیں سمجھا جاتا تھا نہ زندگی کی حفاظت کو اس طرح ضروری سمجھا جاتا تھا جیسے کہ اب سمجھا جاتا ہے۔ یہ خودکشی کی تاریخی پہلو کی بات تھی اب آتے ہیں توجیہاتی پہلو۔ یعنی کن کن وجوہات کی بنا پہ خودکشیاں کی جاتی ہیں۔
خودکش حملے سے لے کر عزت بچانے کے لیے کی جانے والی خودکشیوں تک بیچ میں کئی وجوہات اور حقائق موجود ہیں۔ کسی ملک میں خود کشی کے زیادہ رجحان کے پیچھے نہ صرف وہاں پہ مسائل کا زیادہ ہونا مگر ساتھ ساتھ کسی مخصوص قسم کی خودکشی سے متعلق نظریہ بھی بہت اہم ہے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ کسی مسئلے کو ختم کرنے کے لیے اس سے جڑے نظریہ کو بدلنا انتہائی اہم ہے کیونکہ وہ افراد جو مسئلہ پیدا کرنے کے جرم میں پکڑے جاتے ہیں وہ چند ہوتے ہیں جبکہ اس نظریہ کے حامل افراد کہیں زیادہ۔ صرف قانون سازی کرنے سے وہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس بات کا تجربہ کئی ترقی یافتہ ممالک کر چکے ہیں جہاں مختلف بڑے مسائل جن میں خودکشی، نشہ، ڈکیتی اور قتل وغیرہ جیسے جرائم کے لیے جب قانون سازی ناکام ہوگئی تو انہوں نے اگلا قدم اٹھایا اور عوام کو آگاہی کی طرف لے کر گئے۔
کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں سزا کا رجحان کم ہوتا جارہا ہے اور بڑے پیمانے پہ لوگوں کو ریہیبلیٹیشن یا سدھار کی سہولتیں مہیا کی جارہی ہیں۔ اور یہ یاد رکھیے گا کہ ان ترقی یافتہ ممالک سے مراد ”امریکہ“ نہیں ہے کیوں کہ ہماری عمومی غلط فہمی یہ ہے کہ جب بھی مغربی ترقی یافتہ ممالک کا نام لیا جاتا ہے تو ہم صرف امریکہ کا تصور کرتے ہیں جبکہ سوائے بڑی فوج اور مہنگی کرنسی کے امریکہ میں کوئی ایک بھی ایسی خصوصیت نہیں جو کہ ترقی یافتہ ملک کے معیار پہ پوری اترے خاص طور پہ جب ہم معاشرتی بہتری، ایک عام شہری کے زندگی کے معیارکے حوالے سے اور سوشل سائنس کے بنیادی نظریات کے حوالے سے دیکھیں تو امریکہ اور کئی ایسے ممالک جنہیں ترقی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے وہ اصل معیار سے کہیں پیچھے ہیں۔ امریکہ کا نام یہاں اس لیے بھی استعمال کیا کیوں کہ دنیا میں سب سے زیادہ خودکشیاں جن ممالک میں ہوتی ہیں امریکہ ان پچاس ممالک میں شامل ہے
چلیے پہلے تو دیکھتے ہیں کہ کن ممالک میں سب سے زیادہ خودکشیاں ہوتی ہیں اور تحقیق کے بعد کیا وجوہات سامنے آئی ہیں۔ عالمی ادارہ ء صحت کے مطابق دنیا میں پچھلے چند سالوں میں سب سے زیادہ خودکشیاں سری لنکا، قازقستان، غانا، لیتھونیا اور ساوتھ کوریا میں ہوئیں۔ ان میں سے کسی کو اول یا دوم اس لیے نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ تناسب کی تھوڑے بہت فرق سے ہر سال کوئی ایک ملک زیادہ اور کوئی اس سے کچھ کم ہوجاتا ہے۔ مگر کئی سالوں سے یہی ممالک صف اول ہیں۔ اور اس کے تناسب میں ہر سال بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ اگر دنیا کے وہ 25 ممالک دیکھیں جہاں خودکشی کا تناسب سب سے زیادہ ہے اس میں حیرت انگیز طور پہ کچھ بہت ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں جیسے کہ جاپان اور روس۔ مگر زیادہ تر ممالک انتہائی غریب ہیں۔ ایک اہم بات جو تمام ممالک کے خودکشی کیسز میں یکساں ہے وہ یہ کہ خودکشی کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق کم تعلیم یافتہ غریب گھرانوں سے ہے ان میں بے روزگار ہونا سر فہرست مسئلہ ہے اس کے بعد گھریلو مسائل اور نشہ کرنا سب سے زیادہ پائے جانے والے مسائل ہیں۔
خودکشی کے کیسز میں اہم بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ کہ ہر جگہ مردوں کا خودکشی کا تناسب اسی ملک کی خواتین سے کہیں معمولی سا زیادہ ہے کہیں پہ دوگنا اور کہیں پہ دوگنے سے بھی زیادہ۔ مگر جب آپ خودکشی سے متعلق جمع ہونے والے ڈیٹا کا مزید گہرائی سے مطالعہ کریں تو اس تناسب کی مزید وجوہات نظر آتی ہیں۔ سب سے پہلی وجہ یہ کہ مرد عموما زیادہ سریع الاثر طریقہ استعمال کرتے ہیں مثلا کسی ہتھیار سے خود پہ وار کرنا، کسی گاڑی یا ٹرین کے سامنے آجانا یا خود کو جلا لینا۔ جبکہ خواتین عموما زہر خورانی کا طریقہ استعمال کرتی ہیں جس کی فوری طبی امداد دینی بہ نسبت باقی طریقوں کے آسان ہے۔ ایسے میں یہ کوشش خودکشی کے اعداد و شمار میں شامل نہیں ہوپاتی۔ اس کے بعد آتا ہے کیس رجسٹر کرنے کا طریقہ، بہت سی خودکشیاں گھر والوں کی جانب سے چھپا لی جاتی ہیں کیونکہ اسے حادثے کا رنگ دینا آسان ہوتا ہے اور بہت ذاتی مسائل سامنے آنے سے بچ جاتے ہیں۔ چھت سے کودنا، گاڑی کے سامنے آجانا، دوا کا اوور ڈوز، دریا میں ڈوب جانا یہ ایسے طریقے ہیں جو کہ عموما حادثے کے زمرے میں آسانی سے ڈال دیے جاتے ہیں اور یا تو اہل خانہ یا پھر پولیس اسے خودکشی کے طور پہ رجسٹر نہیں کرتی۔
سوال یہ آتا ہے کہ اہل خانہ تو معاملے کو چھپا لیں یہ بات سمجھ آتی ہے مگر پولیس، اسپتال اور اس جیسے دوسرے حکومتی ادارے ایسا کیوں کرتے ہیں تو اس کی وجہ سامنے ہے کہ جس جگہ کے مسائل روکنا آپ کی ذمہ داری ہو وہاں انٹرنیشنل اسٹیٹسٹکس یہ دکھائے کہ یہاں سب سے زیادہ مسائل ہیں تو آپ کی کارکردگی پہ یہ کتنا بڑا سوالیہ نشان ہوگا۔
اب برسبیل تذکرہ یہ بھی بتاتی جاوں کہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اس فہرست میں 177 ویں نمبر پہ ہے اور ہمارے ملک میں ہر سال ہر ایک لاکھ مردوں میں سے ہر ڈھائی مرد اور ہر ایک لاکھ عورتوں میں سے ہر ڈھائی عورت، خودکشی کا شکار ہوتے ہیں۔ اور یہ اعداد و شمار حکومتی سطح پہ رجسٹرڈ اعداد و شمار ہیں۔
ایسے ہی بر سبیل تذکرہ کہ امریکہ اس فہرست میں 48 ویں جبکہ انڈیا 24 ویں نمبر پہ ہے۔
یہ بات ذہن میں رہے کہ عالمی ادارہ ء صحت ہمیشہ حکومتی سطح پہ رجسٹرڈ کیسز کے اعداد و شمار بتاتا ہے جبکہ کچھ ادارے اپنے ذرائع سے بھی یہ اعداد و شمار اکھٹے کرتے ہیں ایسے میں ان کی بنائی ہوئی فہرست میں یہ ترتیب کچھ آگے پیچھے ہوتی ہے۔ مگر اس کے باوجود سر فہرست پانچ سے دس ممالک تھوڑے بہت تعداد کے فرق کے ساتھ وہی ہیں۔
خود کشی کے حوالے سے یہ سب تو تھا اجتماعی درجے اور اعداد و شمار کا تذکرہ۔ اب دیکھتے ہیں کہ خودکشی کرنے والا کس ذہنی کیفیت کا شکار ہوتا ہے۔ خودکشی کے عموما کیسزمیں متاثرہ شخص انتہائی شدید ذہنی تناؤ کا شکار رہا ہوتا ہے۔ افسردگی، زندگی سے بیزاری، اکیلے پن کا احساس، کوئی بھی اچانک اور شدید صدمہ وغیرہ۔ عموما کیسز میں خودکشی سے پہلے وہ اپنے ارادے کا اظہار کسی قریبی شخص سے ضرور کرتا ہے۔ جو کہ عموما نظر انداز کردیا جاتا ہے یا پھر اسے مزید ذہنی دباؤ میں مبتلا کرنے والی رائے سے نوازا جاتا ہے۔ جس میں سر فہرست رویہ متاثرہ شخص کے مسئلے کو کھلے الفاظ میں غیر اہم اور عمومی قرار دینا ہے۔
یاد رکھیے کہ خودکشی کسی شخص کے جذباتی طور پہ اکیلے ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے اور اس کےاردگرد موجود قربت کے دعوے داروں کی مجرمانہ غفلت کا بھی۔ خودکشی مذہبی اعتبار سے یقینا ایک گناہ ہے مگر خودکشی کرتے ہوئے بندے کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے بے لچک رویے کے ساتھ یہ بتانا غیر انسانی رویہ ہے اور ایسا ہی ہے جیسے بھوک سے مرتے ہوئے شخص کو مردار کھاتےدیکھ کر آپ اس کی بھوک مٹانے کی بجائے یہ سکھانے میں لگ جائیں کہ مردار حرام ہوتا ہے۔ لعن طعن کرنا کسی بھی مسئلے کو بڑھانے کا طریقہ ہوسکتا ہے ختم کرنے کا ہرگز نہیں۔


