میرے وطن کی عورتوں کا آن لائن ریپ

فساد کا باعث یہ بریکٹ بنا، جس میں ایک لسانی برادری کا نام لے کر معذرت کی گئی تھی کہ اس برادری کے لوگ رشتہ بھیجنے کی زحمت نہ کریں۔
یہ اشتہار پنڈی سے تعلق رکھنے والے ان بدقسمت والدین کی طرف سے دیا گیا تھا جنہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہو گا کہ یہ اشتہار پلک جھپکتے میں آن لائن خانہ جنگی کا باعث بن جائے گا۔ اشتہار میں لڑکی کی عمر چونتیس سال درج ہے، اس عمر کی لڑکی کا غیر شادی شدہ ہونا، پاکستان جیسے سطحی معاشرے میں ایک بڑی ذہنی اذیت ہے۔ تقریباً ہر خاندان میں ایسی لڑکیاں موجود ہیں جو شادی کی مناسب عمر کی حد کو پار کر چکی ہیں۔ ان کے رشتے کی تلاش میں در در کی خاک چھانی جاتی ہے، میرج بیوروز کے چکر کاٹے جاتے ہیں اور بعض اوقات اشتہارات کا بھی سہارا لیا جاتاہے۔ رشتے کی تلاش کے اس پورے دورانیے میں لڑکیاں متعدد بار ٹوٹنے اور جڑنے کے عمل سے تو گزرتی ہی ہیں لیکن مذکورہ اشتہار کو فیس بک پر دو صوبوں کے چند بگڑے ہوئے ذہنوں نے جس بے دردی سے نفرت کے اظہار کا ذریعہ بنایا، یہ مثال میری نظروں سے پہلی بار ہی گزری ہے۔
ماہِ رمضان المبارک کی مبارک سماعتیں تیسرے روزے سے ہو کر گزر رہی تھیں، عصر سے مغرب کے درمیان کا وقت تھا، لیکن کچھ شیطانی دماغوں کے لیے ان باتوں کی اہمیت نہ تھی۔ انہوں نے کسی بھی چیز کا لحاظ کیے بغیر پوسٹ پر دیے جانے والے کمنٹس میں وہ توتکار کی اور ایک دوسرے کی عورتوں کو ایسے بے لباس کیا کہ ذرا سی دیر میں فیس بک میدانِ جنگ اور وہ پوسٹ ”ریپ کیمپ“ بن گئی اور مجھے یقین ہو چلا کہ شیطان قید ہوکر بھی دل و دماغ پر حکومت کرنے کے گُر سے خوب واقف ہے۔ میں موبائل ہاتھ میں لیے گنگ بیٹھی تھی اور مجھے اپنے ان تمام سوالات کے جوابات مل رہے تھے جو چھوٹے سے لے کر کسی بھی بڑے تنازعے تک، ہر اختلاف کی صورت میں عورتوں کے ریپ کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے مقابل گروہ پر اپنی برتری ثابت کرنے کے حوالے سے تھے۔
قدیم یونان سے لے کر دورِ جدید تک جنم لینے والے تمام لسانی، قومی اور مذہبی تنازعات جنہوں نے خانہ جنگی کی شکل اختیار کی، ان سب سانحات کا مشترکہ دردناک پہلو عورتوں کا ریپ ہی رہا ہے۔ ریپ کی صدیوں پرانی روایت پورے اہتمام کے ساتھ اب بھی موجود ہے۔ نفرتوں کے بیج بو کر دشمنی کی فصل کاٹنا، دوسروں کے کھیت جلا کر اپنی کھیتی لہلہانا اور پھر بھی انتقام کی آگ نہ بجھے تو حریفوں کی عورتوں کو میدان میں گھسیٹ کر ان کے گلاب چہروں سے نقاب نوچنا اور ان کو بے لباس کرکے اپنی مردانگی تلے مسل دینا وہ قدیم حیوانی چلن ہے جو انسانی معاشروں کی گود لا تعداد سانحات سے بھر چکا ہے۔
مجھے کسی مذہبی عقیدے یا قوم سے اختلاف نہیں۔ میرا اختلاف تو اس سوچ سے ہے جہاں عزت اور عصمت کا خالص مردانہ تصور عورتوں کو ہمیشہ انتقام کی زد پر ہی رکھتا ہے۔ فیس بک کی یہ پوسٹ تو اس ذہنیت کا شکار معاشرے کی ایک ہلکی سی جھلک ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے جس کونے میں بھی عورتوں کے ریپ کو آپس کی دشمنی نکالنے کا ذریعہ بنایا گیا وہاں ایسے ہی زہریلے الفاظ اور خیالات معاشرے کی اخلاقی اقدار کو جڑوں تک کھوکھلا کر چکے تھے، جیسے خیالات الفاظ بن کر اس پوسٹ پر زہر اگل رہے تھے۔
مجھے افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ اپنے دیس کی عورتوں کی آن لائن آبروریزی کرنے والے ان مردوں کا تعلق ایسے معاشرے سے ہے جہاں محرم کے سامنے بھی عورتوں کا ذرا کھل کر انگڑائی لینا یا کندھے سے قمیص کا سرک جانا، اس کے تقدس کے منافی شمار کیا جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں سانسیں بھرنے والے ان غلیظ خیالات کے حامل مردوں کا یہ بھیانک چہرہ مرے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ میں متواتر یہ سوچے جا رہی ہوں کہ اگر یہ دونوں گروہ فیس بک کے بجائے مدِمقابل ہوتے تو ان کی خواتین کے پاس عزت بچانے کے صرف دو ہی راستے ہوتے، دریائے راوی یا دریائے سوات۔
فیس بک کی اس پوسٹ نے مجھے خوش فہمی کی جنت سے یک دم اٹھا کر تلخ حقیقت کے جہنم میں لا پھینکا۔ اور میں ہانپتے ہوئے بس یہی سوچے جا رہی ہوں کہ صبر، برداشت، بھائی چارے اور رواداری کے اسباق تو یہاں کوئی پڑھنے کو تیار ہی نہیں۔ بس نفرتیں ہیں جو اندر ہی اندر پنپ رہی ہیں۔ کہیں مذہب کی بنیاد پر نفرتوں کے الاؤ دہک رہے ہیں، کہیں زبان، صوبے اور قوم کے نام پر لوگ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سعی میں ہیں۔
یہی سوچ کس قدر تکلیف دہ ہے کہ اگر وقت کی بے رحم موجیں کبھی میرے پاک وطن کو ایسے دہانے پر لے گئیں جس کے آگے صرف آگ اور خون کا دریا ہو تو یہاں کی عورتوں کے لیے یہ سرزمین جنوبی سوڈان یا برما نہ بن جائے! یہ انتقام کی وہی مردانہ ذہنیت ہے جس نے قیام پاکستان کے وقت سرحد کے دونوں پار مسلمان، ہندو اور سِکھ عورتوں کا بے دریغ ریپ کیا، یہ وہی خیالات ہیں جو مشرقی پاکستان کی سرزمین پر بنگالی عورتوں کو ریپ کیمپوں میں لے گئے اور کہیں بہاری عورتوں کی عزت سے کھیلتے رہے۔ یہ سارے سانحات صرف پھولے پیٹوں پر وضع حمل کے نشانات ہی چھوڑکر نہیں گئے بلکہ ہماری روشن تاریخ کو بری طرح مسخ کرگئے۔
انہی سوچوں میں غلطاں میں نے فیس بک کی اس پوسٹ کو بند کردیا۔ ساتھ بیٹھی اپنی بیٹی کو کانپتے ہاتھوں سے لپٹا لیا اور وطنِ عزیز کی سب عورتوں کی سلامتی کے لیے سجدہ ریز ہوگئی۔

