پاکستان سے کافرستان تک۔۔وادی کیلاش کا سفر۔۔۔
چند ہفتے قبل پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے صدر ملک سیلمان کا فون آیاکہ فیڈریشن کچھ کالم نگاروں ،اینکرزاورصحافیوں پر مشتمل وفد کو وادی کیلاش لے کر جانا چاہتی ہے آپ کا کیا ارادہ ہے؟ میں نے کہا جناب میں کافرستان دیکھنے کے لیئے ضرور جاؤں گا۔ ویسے بھی پاکستان کے پہاڑوں اور مختلف ثقافتوں کو دیکھنے کا میرا شوق مجھے پورا سال چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔ جونہی میں نے سفر کا ارادہ کیا تو پتہ چلا کہ جانے والے صحافیوں کی تعداد سو سے زیادہ ہوچکی ہے اور تنظیم کے پاس انتظام صرف بیس افراد کا ہے۔ میں پی ایف سی کا جوائنٹ سیکرٹری بھی ہوں اسلئے مجھے اندازہ تھا کہ بندے جب بھی کم کرنے کا وقت آیاتو ہمیں بطور میزبان اپنے آپ کو سب سے پہلے جانے والوں کی فہرست سے نکالنا ہوگا۔ بہرحال سیلمان صاحب کی دن رات محنت کے بعد ساٹھ لوگوں کو لے کر فیڈریشن نے کافرستان جانے کا ارادہ کیا۔ اس سفر کو ممکن بنانے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب اور اُن کی ٹیم کے ساتھ ساتھ ایم ڈی ٹوریزم چوہدری عبدالغفورصاحب نے فیڈریشن کے ساتھ ہرممکن تعاون کیا،جس پر ہم اُن کے شکرگزار ہیں۔
اسلام آباد کی وہ حسیں صبح کبھی نہیں بھولی جاسکتی جس نے مجھے پاکستان کے اُبھرتے ہوئے کالم نگاروں،اینکرز اور صحافیوں سے فیس بک سے باہر نکل کر فیس ٹوفیس ملنے کا موقع فراہم کیا۔ ہر شخص نیا نیا تھا اور بہت سے چہرے ایک دوسرے سے نہ آشناء تھے۔ فلیش مین ہوٹل پر ناشتے کے بعد ہم نے کیلاش کی طرف سفر کا آغازکیا۔ جونہی موٹروے سے رشکئی کی طرف ٹرن لیاتو ہم نے ایک پٹرول پمپ کے قریب گاڑیوں کو روک لیا۔ اب صورتحال یکسر مختلف تھی۔ بہت سے لوگ آپس میں دوست بن چکے تھے اور لگتا تھا جیسے برسوں سے یارانہ اور دوستی کا رشتہ قائم ہے۔ شکریہ فیس بک۔
سفر دوبارہ شروع ہوا ۔ پہاڑوں کے حسیں اور دشوارگزار راستے ہمارے منتظر تھے۔ نیاپاکستان نئے نظاروں اور پرانی بوسیدہ سڑکوں کے ساتھ ہمارا منتظر تھا۔ خان صاحب کے دعوؤں کے عین مطابق پولیس کانظام پنجاب سے بہت بہتر تھا،نہ کسی کو تنگ کیا جاتا ہے اور نہ ہی ہر کلومیٹر کے بعد لمبی توند نکال کر کوئی پولیس والا ناکے پر آپ کا انتظار کررہا ہوتا ہے۔ ہم شام کے وقت اپر دیر پہنچے تو پتہ چلا لواری ٹنل بند ہے۔ ایمرجنسی میں اپر دیر رات کا سٹے کرنا پڑا۔ وہاں پی ٹی آئی کے مقامی رہنماء ملک طارق صاحب نے صحافیوں کیلئے قیام وطعام کا بندوبست کیا۔ ڈاکٹر فاروق کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب وہاں کے مقامی صحافی ہیں اور کیلاش کی تاریخ کو باخوبی جانتے ہیں ۔ کیلاش کے نام سے ان کی کتاب میں وادی کیلاش اوروہاں کی تاریخ کے حوالے مفصل لکھا گیا ہے۔ رات اپر دیر کے دریا کے کنارے گزاری اور بہت سے دلفریب مناظر دیکھنے کا موقع ملا۔ گل حسین نے ہمیں اپردیر کی سیر کروائی اور رات بھر ہمارے ساتھ مٹرگشت کرتے ہوئے گزاری۔
صبح ہمیں اُٹھتے اُٹھٹے بہت دیر ہوگئی اور اتنے میں کیلاش یاترا ہمیں اپر دیر چھوڑ کر کیلاش کی طرف رواں دواں ہوگئی۔ قسمت اچھی تھی وقت پر آنکھ کھلی اور فون کرنے پر پتہ چلا کہ وہ لوگ اپردیر سے چھ کلومیٹر آگے پہنچ چکے ہیں۔ خیر ہمارے انتظار میں قافلے کو روک دیا گیا۔ ہم غریبوں کا انتظار کس نے کرنا تھا،تین عدد اینکرز حضرات ہمارے ہمسفر تھے جنہوں نے کیلاش سے پروگرام کرنے تھے بس اُنہی کے صدقے ہمیں بھی یہ سعادت حاصل ہوئی۔
اپردیر سے آگے راستہ انتہائی پُر خطر ہے۔ کچھ دیر بعد لواری ٹنل کا دیدار نصیب ہوا۔ یہ ایسا عجوبہ ہے جس کا سنگ بنیاد آج سے چالیس سال پہلے رکھا گیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سنگ بنیاد رکھا اور ایک سال پہلے سابق وزیراعظم نوازشریف نے نو کلومیٹر پر محیط اس ٹنل کا افتتاح کیا۔ ٹنل کے افتتاح سے پہلے چترال کے لوگ کم ازکم چھ مہینے کیلئے پاکستان سے جدا ہوجاتے تھے۔ پاکستان میں داخلے کے لیے افغانستان کا باڈر استعمال کرنا پڑتا تھا۔
ٹنل کے بعد روڈ کی حالت انتہائی خراب ہے۔ یہ وادی کیلاش اور چترال جانے والا واحد راستہ ہے۔ اس روڈ پر گاڑیاں بھی جواب دے گئی البتہ خداخدا کر کے ہم بلاآخر چترال پہنچ گئے ۔ چترال میں گورنر کاٹیج اور بارش کی وجہ سے سر موسم ہمارا منتظر تھا۔ ڈسٹرک ناظم چترال مغفرت شاہ نے ہمارا استقبال کیا اور رات کو کھانے پر ڈپٹی کمشنرارشاد علی سودھر نے ہمیں چترال اور گردونواح کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ گورنر کاٹیج چترال سے پورا شہر آپ کے قدموں میں نظر آتا ہے۔ دلفریب نظاروں اور سرد موسم سے دن رات لطف اندوز ہوئے۔
صبح ہوتے ہی تمام لوگ تروتازہ ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے اور ہر شخص ایک ہی موضوع پر بات کررہا تھا۔ کافرستان مطلب کیلاش کیسا ہوگا۔ وہاں کی ثقافت وہاں کی حسین جنت اور حسیناوؤں کا تذکرہ زبان زدعام تھا۔ ہائے کیلاش۔ یہ کیلاش بھی بہت عجیب سی دنیا ہے۔ قدیم ترین تہذیب اور ثقافت سے بھرپور کیلاش کے خطہ کو پوری دنیا میں ایک خاص مقام حاصل ہے تاریخ ہمیں یہاں بھی متضاد نظر آتی ہے۔ بعض لکھتے ہیں کہ یہ سکندراعظم کے سپائیوں کی اولاد ہیں تو کوئی تاریخ دان یہ کہتا ہوانظر آتا ہے کہ یہ لوگ افغانستان سے ہجرت کرکے آئے ہیں۔ البتہ آثارقدیمہ والوں کے مطابق یہ جگہ دوہزار سال سے بھی زیادہ پُرانی ہے جس سے یہی لگتا ہے کہ یہ لوگ سکندراعظم کی باقیات میں سے ہی ہوں گے۔ انکی مذہبی روایات اسلام سے یکسر مختلف ہیں۔ انکے ہاں صفائی کے برعکس گندا رہنے کو زیادہ اچھا سمجھا جاتا ہے۔ فوتگی پر یہ لوگ غم منانے کی بجائے خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ رقص وسرور کی محفل اور قیام وطعام پر لاکھوں روپے کے اخراجات آتے ہیں البتہ شادی پر انکے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ یہ لوگ کھیتوں کی بجائے پہاڑوں میں رہنا پسند کرتے ہیں تاکہ کھیتوں کو صرف کھیتی باڑی کے لیئے استعمال کیا جاسکے۔
ہم چترال سے آیؤن اوردروش سے ہوتے ہوئے بمبوریت پہنچے جہاں کیلاشیوں کا مذہبی تہوار چلم جوسی اپنے روایتی جوش وخروش سے جاری تھا۔ ہم نے وہاں کیلاشیوں کے ساتھ وقت گزارا اور جاننے پر پتہ چلا کہ بہت سی پرانی روایات کو نئی جدت کے ساتھ نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق اپنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تیزی سے ختم ہونے والی اس قدیم ترین تہذیب کو بچانے کے لیے حکومت کو ہر ممکن قدم اٹھانا چاہیے۔ پوراخطہ کسی زمانے میں کیلاشی آبادی پر محیط تھا مگر اب کیلاشیوں کی تعداد چار ہزار سے بھی کم رہے گئی ہے۔ قدرت کے حسین نظاروں سے بھرپور اور مشینی دنیا سے میلوں دور کیلاش کا یہ علاقہ کسی شاہکار سے کم نہیں۔ کیلاش میں رات گزارنے کے بعد ہمارا یہ سفر اسلام آباد اور لاہور پہنچ کر بخیروآفیت ختم ہوا۔ قدرت کے حسین نظارے دیکھنے ہیں تو کیلاش ضرور جائیں۔




