مستریو، الیکشن بھی جنرل ہی ہوتا ہے


پی ٹی ایم کا تو پتہ نہیں اس کے جانے مانے لوگ البتہ الیکشن میں اترنے لگے ہیں۔ وزیرستان کی تینوں اور ایف آر کی اکلوتی قومی اسمبلی کی سیٹ یہ لے ڈوبیں گے۔ نہیں یقین تو وہاں کہ سدا بہار امیدواروں کی شکلیں ہی دیکھ لیں کتنی لٹک گئی ہیں۔

اب اک مخبری سوات سے اک تازہ خان کا فون آیا۔ اس نے پوچھا کہ یہ بتاؤ اگر میں پی ٹی ایم سے الیکشن لڑوں تو پھر۔ اسے کہا لڑ کس نے روکا ہے۔ پارٹی تو الیکشن کمیشن میں رجسٹر نہیں ہے نہ اس کا کوئی نشان ہے شاید۔ تازہ خان نے کہا یار ان کی حمایت سے نشان کوئی بھی ہو فرق نہیں پڑتا۔

تازہ خان سے کہا کہ ٹینشن کیا ہے لڑو الیکشن۔ تازہ خان نے آگے سے پوچھا کہ بس یہ پوچھنا تھا کہ الیکشن لڑوں تو وہ مجھے کتنا ماریں گے۔ اسے کہا اتنا ہی ماریں گے جتنا جائز ہو گا الیکشن لڑنے پر۔ تازہ خان نے کہا اچھا اتنے کی پھر خیر ہے۔ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا یہ سمجھے جانے بغیر کے میں مذاق کر رہا تھا۔

پشاور اپنے دو ہوشیار ترین ساتھی رپوٹروں سے رابطہ کیا کہ سیاسی نبض چیک کی جائے۔ جو جیالا رپوٹر ہے اس نے بتایا کہ کپتان کا ووٹ قائم دائم ہے۔ ایم ایم اے کی موجودہ پارلیمانی طاقت تئیس ممبر ہیں۔ دو ہزار آٹھ میں ستائس اور دو ہزار دو میں بائیس صوبائی حلقے ایسے تھے جہاں جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے مشترکہ ووٹ سب سے زیادہ تھے۔ اگر حساب کتاب پر ہی رہا جائے تو ایم ایم اے سرپرائز دینے جا رہی ہے کے پی میں۔

منظور پشتین کی تحریک نے سب سے زیادہ نقصان مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو ہی پہنچایا ہے۔ یہ نقصان کتنا ہےاس کا اصل اندازہ الیکشن نتائج سے ہی ہو گا۔ یہ ہمارے دوسرے ساتھی رپوٹر کا کہنا تھا۔ اس کا یہ بھی ماننا ہے کہ امیر مقام اگر بیس سیٹیں لے گئے تو اگلے وزیراعلی ہوں گے۔ کے پی میں براہ راست الیکشن نناوے سیٹ پر ہوتے ہیں۔ اے این پی چار صوبائی سیٹ سے چھلانگ مار کر دس کا ہندسہ پار کرے گی۔ پی ٹی آئی پچھلی بار تیس سیٹ سے زیادہ جیت گئی تھی اس بار بیس کے آس پاس آرام سے رہ سکتی ہے۔ یعنی اس کی سپورٹ کافی حد تک برقرار ہے البتہ لہر اتر چکی ہے۔ یہ تو تھیں کے پی کی صوبائی سیاست اب ذرا قومی سیاست۔

یہ مت پوچھیں کس نے بتایا ہے۔ بس اتنا ہی سمجھ لیں کہ مستریوں سے بات ہوئی ہے۔ مستری بولے تو انجینئیر۔ کچھ سے براہ راست سنا کچھ کا حال دل کسی ذریعے سے سنا۔

مستری لوگ اس بار ساٹھ دانے آزاد امیدوار جتوانے کی امید سے لگے بیٹھے ہیں۔ حیرت ہی ہوئی کہ چوھدری نثار کو کافی تگڑا امیدوار برائے وزیراعظم بھی سوچ رکھا ہے۔ یہ مسلم لیگ نون پر ٹکٹ لڑیں یا آزاد رہیں۔ آزاد امیدواروں کی قیادت کریں گے۔ مسلم لیگ نون سے کیک کا ایک پیس ساتھ ملا کر پی ٹی آئی کے ساتھ مخلوط حکومت بنائیں گے۔

اک مستری بہت اعتماد سے کہا کہ دیکھنا اس بار پوٹھوہار سے کتنے آزاد امیدوار جیتتے ہیں۔ یہ سارے چوھدری نثار کا ساتھ دیں گے۔ اس جوان سے پوچھا کہ بھائی چکوال اٹک پنڈی جہلم کے علاوہ بھی کوئی پوٹھوہار ہے؟ اس کا کہنا تھا کہ نہیں یہی ہے۔

تو پھر اے جواں اس پورے پوٹھوہار میں کل ملا کر دو ٹوٹرو ہیں جو آزاد الیکشن لڑنے اور جیتنے کی سکت رکھتے ہیں۔ ایک چکوال سے سردار غلام عباس، دوسرا میجر طاہر صادق اٹک سے۔ میجر صاحب پی ٹی آئی میں ہیں۔ سردار صاحب پی ٹی آئی جا رہے ہیں نہ بھی گئے آزاد جیت گئے تو چوھدری نثار کی قیادت پر انہیں راضی کون کرے گا۔ دونوں میں سوکنوں والا پیار ہے ازل سے۔

اس مستری نے تو مناسب بزتی کر کے فون بند کر دیا۔ ہم نے لاہور میں مستری سے رابطہ کر لیا۔ اب سمجھ نہیں آ رہی کہ چنیوٹ کے ایم این اے ایم پی اے حضرات کہ کہانی سناؤں یا رہنے دوں۔ رہنے دیتے ہیں ضرور اپنی پتلی کمر پر نشان ڈلوانے ہیں۔

سرائیکی بیلٹ کے ایک ایم این اے دو ایم پی اے اور تحصیل ناظمین کے ایک گروپ کے آگے لگ کر اک مستری نے ایک ہفتے سے دوڑ لگا رکھی ہے۔ یہ سارا گروپ نون چھوڑ کر پی ٹی آئی میں جانے کو مرن والا ہوا پھر رہا۔ مستری دوڑ لگا گیا ہے چھوٹی سی خواہش سن کرکہ ہمیں پی ٹی آئی کا ٹکٹ بھی لازمی ملنا چاہیے۔

گوجرہ سے چوھدری خالد وڑائچ ایم این اے ہیں نون لیگ کے۔ اس سیٹ پر اصل مقابلہ مسلم لیگ نون کے ایم حمزہ اور چوھدری امجد وڑائچ میں ہوتا رہا۔ دو ہزار دو اور آٹھ میں حمزہ صاحب ہارتے رہے۔ شہباز شریف نے چوھدری خالد وڑائچ کو لاہور بلا کر مسلم لیگ نون میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ ایم حمزہ کو سینیٹر بنا دیا۔ خالد وڑائچ نے الیکشن لڑا تو اسامہ حمزہ ان کے مقابلے پر آزاد امیدوار اتر آئے۔ اسامہ کو اپنے والد مسلم لیگی سینیٹر ایم حمزہ کی بھرپور حمایت حاصل رہی۔

خالد وڑائچ نے اسامہ اور اپنے بڑے بھائی امجد وڑائچ کو لمبی لیڈ سے شکست دی۔ نوے ہزار نو سو پندرہ  ووٹ حاصل کیے۔ اسامہ نے ساٹھ ہزار نو سو کے قریب ووٹ لیے جبکہ چوھدری امجد وڑائچ کی بیگم فرخندہ وڑائچ نے چھتیس  ہزار ووٹ سمیٹے۔ اسامہ حمزہ دو ڈھائی سال پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے۔ اچھے امیدوار ہیں اک زوردار نیک ٹو نیک فائیٹ کی پوری امید تھی اس حلقے میں۔ اب یہاں انہونی یہ ہوئی ہے کہ امجد وڑائچ پی ٹی آئی میں جا شامل ہوئے ہیں۔ ان کو ٹکٹ بھی مل گیا ہے۔ اسامہ اب حیران پریشان پھر رہے ہیں۔   الیکشن وہ ہر صورت  لڑیں گے۔ نتیجہ پھر جو نکلنا ہے وہ ظاہر ہے۔

سرائیکی بیلٹ کا جو گروپ مستری کو آگے لگا کر دوڑا رہا وہ بھی یہی سین بنائے گا جب پی ٹی آئی میں شامل ہوا۔ مستری بیچارہ کی کرے ٹھنڈا پانی پی مرے۔ کپتان نے مستری حضرات سے تازہ فرمائش یہ کی ہے کہ تم لوگوں نے صرف مجھے امیدوار ہی نہیں فراہم کرنے۔ انہیں پھر بٹھانا بھی ہے اس امیدوار کے حق میں جسے میں پارٹی کا ٹکٹ دوں۔

اتنے آٹو پر چلنے والے امیدوار جو سٹ سٹینڈ کا کاشن سن کر اٹھک بیٹھک کریں اس پاک دھرتی پر پیدا ہی نہیں ہوئے۔ الیکشن لڑنے کو کہیں سے بھی تیار ہو جائیں گے۔ بیٹھنے کو کسی کا ابا انہیں نہیں منا سکتا۔ زبردستی کا نتیجہ پھر یہ ہی نکلنا کہ وہ اپنے دھڑے کے ووٹ وہاں ڈلوا دیں کہ دباؤ ڈالنے والوں کی اپنی چیکیں بادلوں تک سنائی دیں۔

کچھ مستری تو کپتان کی تازہ  فرمائش سن کر غش کھائے بیہوش پڑے ہیں۔ کچھ سر پر ٹھنڈا پانی ڈال کر بی پی سنبھال رہے ہیں۔ اک آدھ جوگی ہوا پھر رہا ہے۔ ابھی یہ غریب ہوش میں آئیں تو انہیں پتہ لگے کہ پی ٹی آئی کہ اندر کس نے کس سے بیعانہ پکڑ رکھا ہے ٹکٹ ڈلوانے کا۔ کل ہی تو مخدوم صاحب ترین صاحب کو جڑ گئے تھے انہیں ٹکٹوں کے سیاپے پر۔
مستریو الیکشن بھی جنرل ہی ہوتا ہے اس کو سیلوٹ کر کے ہی بات بنے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 341 posts and counting.See all posts by wisi