کل پھر آنا
ایک شام یہ ہوا بھی تھا کہ شام کی تنہائی سے تنگ آ کر ائیر لائن کی ایک ملازمہ کے گھر چلی گئی تھی۔ سیما کاؤنٹر پر مسافروں کو "چیک اِن” کرنے کی ڈیوٹی انجام دیتی تھی۔ کبیر کو بالکل پسند نہیں تھا کہ اس کی بیوی چھوٹے ملازموں کے ساتھ کوئی تعلق رکھے مگر تنہائی ریما کو اس قدر پریشان کر رہی تھی کہ اس کے لیے گھر پر بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا۔ بچوں کو کھانا کھلایا اور سیما کو فون کیا۔ سیما ابھی ڈنر کی سوچ ہی رہی تھی۔ آج اس کا شوہر بھی گھر پر ہی تھا۔ شوہر فضائی معاون ہے۔ ریما چلی گئی۔
کبیر خلاف معمول اس دن جلدی گھر لوٹ آیا۔ اس کی طبیعت کچھ خراب ہو گئی تھی۔ ہلکا ہلکا بخار محسوس ہو رہا تھا۔ گھر میں ریما کو نہ دیکھ کر اس کی جاگیردارانہ ذہنیت کو تیز جھٹکا لگا۔ وہ گھر میں بے چینی سے ٹہلتا رہا، پھر گھر کو اندر سے اچھی طرح سے بند کر دیا تاکہ ریما باہر سے چابی لگا کر نہ کھول سکے۔ ٹی وی کے سامنے بیٹھا رہا، پھر سو گیا۔ رات جب ریما آئی اور دروازہ کھلا ہی نہیں، کیوں کہ بچے اوپر اپنے بیڈروم میں بے خبر سورہے تھے اور کبیر کو تو اپنی بیوی کے خلاف کچھ ثابت کرنا تھا۔ باہر تاریک سرد رات میں ریما تنہا اپنی کار اسٹارٹ کر کے، ہیٹر چلا کر کسی رضائی یا کمبل کے بغیر پڑی رہی۔
صبح کو اس کا موبائل فون بجا۔ بیٹے کو فکر تھی، ناشتے کے لیے ماں کی ضرورت تھی۔
گھر کا دروازہ کھلا، نظریں نیچی کیے ریما اندر داخل ہوئی۔
"آ گئی ہیروئین ہمارے گھر کی! میں پوچھتا ہوں کہ مجھ سے اجازت لیے بغیر تمھارے قدم گھر سے باہر نکلے تو کیسے نکلے ؟ اب تمھاری اتنی ہمت ہو گئی کہ تم مجھ سے پوچھے بغیر باہر گھومنے لگی ہو؟ تمھاری یہ مجال؟”
"جی بس سیما کے گھر گئی تھی۔ میں گھر میں اکیلے بیٹھے بیٹھے بور ہو جاتی ہوں۔ "
"میں نہیں چاہتا کہ تم چھوٹے لوگوں کے ساتھ میل جول رکھو۔ آئی بات سمجھ میں ؟”
ریما سمجھ گئی تھی کہ اس وقت بات کرنے کا مطلب اسے بگاڑنا ہی تھا، وہ بالکل خاموشی اوڑھ کر بچوں کے کام میں جت گئی۔
ازدواجی زندگی کی یادوں میں کچھ بھی مثبت کیوں یاد نہیں آتا؟ کیوں وہ ہمیشہ کسی تاریک سرنگ کے درمیان جا کر کہیں گم ہو جاتی ہے ؟ ایک دن اپنی تنہائی کو دور کرنے کی سزا ساری رات کار میں اکیلے گذارنا! کبیر اپنے آپ کو دلّی والا کہتا ہے مگر طرز عمل کسی گاو ¿ں کے جاہل زمیندار جیسا ہے۔ بے چاری ریما! ابھی تک بریلی کی معصوم ذہنیت سے اوپر نہیں آ پائی تھی۔
جب وہ لندن آئی تھی تو انگریزی بھی ٹھیک سے بول نہیں پاتی تھی۔ نوکری جوائن کرنے کبیر پہلے آ گیا تھا، ریما اپنے بیٹے کے ساتھ تقریباً چار مہینے بعد آئی تھی۔ ایان تقریباً سال بھر کا تھا۔ کبیر جیسے ریما کے لیے پاگل ہو ا جا رہا تھا۔ وہ بہت بڑا منصوبہ بند ہے، پوری سوجھ بوجھ سے اس نے ریما کو جمعہ کی فلائٹ سے لندن بلایا تھا۔ جمعہ اور سنیچر کی راتیں آج بھی ریما کو گدگدا جاتی ہیں۔ اس کا سارا جسم تو "بائٹس” کے نیلے کالے نشانوں سے بھر گیا تھا۔ بس اس کے بعد جب کبیر پیر کو کام پر گیا تو آج تک واپس نہیں لوٹا۔ اس کا گھسٹتا ہوا جسم گھر پر سونے کے لیے ضرور آتا ہے لیکن وہ جسم ریما کے شوہر کا نہیں ہوتا ہے۔ کبھی اے نیٹ کا عاشق ہو تا ہے کبھی سیاہ فام شرلی کا۔
لندن آنے کے بعد کبیر نے چار سکریٹریاں بدلی ہیں۔ ریما نے محسوس کیا کہ شاید ان سکریٹریوں کی خاص قابلیت ان کے بڑے بڑے اثمار شباب ہی تھے۔ بڑے پستان کبیر کی کمزوری تھے۔ شادی کے چار دن بعد ہی جب کبیر ریما کے ساتھ اس کے میکے ہو کر آیا تو راستے میں ہی بے حیائی کے ساتھ کہا تھا، "بھئی تمھارے بھائی کے تو بہت مزے ہیں۔ "
"کیا مطلب؟” ریما کبیر کی بات سمجھ نہیں پائی۔
"تمھاری بھابھی کے خزانے دیکھو، کتنے بڑے بڑے ہیں۔ ” کبیر کی آنکھوں کی گندگی اس کے ہونٹوں سے رال بن کر ٹپک رہی تھی۔ شرم کی ماری ریما نے بس خاموش رہنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ رات کو نائٹی پہنتے وقت اس نے اپنے پستانوں کو دیکھا تھا، چھوٹے تو اس کے بھی بہرحال نہیں تھے۔ ہاں، بھابھی کا پانچ سال کا بیٹا ہے، وہ بھری پ ±ری عورت ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کا جسم بھی اتنا ہی گدرایا ہوا تھا۔ بھلا کوئی بھی شریف آدمی اپنی رشتے داروں کے بارے میں اتنی سستی بات کہہ سکتا ہے۔
اور وہ شرلی! وہ ایک بار کبیر اور خاندان کو ہیتھرو ہوائی اڈے پر چھوڑنے بھی آئی تھی۔ بے شرم کس طرح کبیر کو بھینج کر گلے ملی تھی۔ ریما کی سمجھ نہیں پار ہی تھی کہ کبیر کو کیا پسند ہے۔ کیا وہ گوری انگریز عورتوں کو پسند کرتا ہے یا پھر کالی افریقی عورتوں کو؟ مگر مائی لین لی تو چین سے تھی۔ اوہ! یعنی وہ سارے ذائقے سے لطف اندوز ہورہا ہے۔
اسی لیے تو سیما کے گھر جانے پر اتنا ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا اور رات باہر کار میں گذارنے پر مجبور کر دیا تھا، کیوں کہ سیما نے کبیر کے تعلقات کے بارے میں کھل کر ریما سے باتیں کی تھیں۔ ایک بار تو کبیر نے سیما پر بھی اپنا عہدہ استعمال کرنے کی کوشش کی تھی مگر سیما نے کسی طرح اپنا دامن بچا لیا تھا۔ پھر اس کا شوہر بھی ائیر لائن میں افسر ہے۔ شاید اس سے ڈر گیا ہو گا کہ اس کی بدنامی جائے گی۔ ایک بار فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے ریما نے بھی سن لیا تھا کہ کسی خاتون کے پستانوں اور کولہوں کا ذکر ہو رہا تھا۔ مگر اس وقت بھی کبیر بات ٹال گیا تھا۔ کبیر کو ہمیشہ یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ اگر ریما ائیر لائن کے ملازموں سے دوستی کرے گی تو اس کی پول کھل جانے کا خدشہ ہے۔
ایک بار تو ریما بے حیائی پر اتر آئی۔ "کبیر چلیے نا بستر پر، ٹی وی کل دیکھ لیجیے گا۔ "
بے بس کبیر ریما کے ساتھ ہولیا۔ ریما نے کبیر کا پسندیدہ پرفیوم "پلوماپکا سو” لگایا تھا۔ اپنی نائٹی کو ہلکا سا "ٹوئسٹ” دیا کہ اس کے پستان بس جیسے باہر ابلنے ہی والے تھے۔ مگر کبیر کا مردہ جسم بے حس و حرکت پڑا رہا۔ ریما نے ہمت کی اور کبیر کے نائٹ سوٹ کے پائجامہ میں ہاتھ ڈال دیا۔ کافی دیر تک محنت کرتی رہی مگر کبیر کے خراٹوں نے ریما کو سمجھا دیا بات اس کی دسترس سے باہر ہو چکی ہے۔
ریما اٹھ کر کچن میں گئی اور دراز سے بڑا سا چاقو نکال لائی۔ پہلے سوچا کہ کبیر کا قتل کر دے مگر اس گوشت کے لجلجے لوتھڑے کو دیکھ کر اسے گھن آنے لگی۔ لاش کو مار کر اسے کیا حاصل ہو گا۔
ریما کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کبیر بی۔ بی۔ سی یا آئی۔ ٹی۔ وی کی خبریں کیوں نہیں دیکھتا۔ پھر اسکائی نیوز ہے، سی۔ این۔ این ہے، ان چینلوں کو ممنوعہ کر رکھا ہے۔ بھلا دیسی چینلوں سے دیس کی خبر سن کر کیا حاصل ہو گا۔ جس ملک کے باشندے ہیں، اس کے بارے میں تو کچھ معلوم نہیں، لالو پرشاد یادو اور مایا وتی کے بارے میں پڑھ سن کر کیا حاصل ہو گا؟ اس کے گھر پر بس دیسی نیوز چینل چلتے یا پھر ہندی فلمیں اور سیریل۔
سیریل ہی کی تو بات تھی۔ ریما نے ایک بار سوچا تھا کہ رات کو کبیر کے ساتھ بیٹھ کر ویڈیو پر پاکستانی ڈرامہ "دھوپ کنارے ” دیکھے گی۔ بھارت میں سبھی لوگ اس ڈرامے کی تعریف کیا کرتے تھے۔ اس نے خود بھی ایک آدھ ایپی سوڈ دیکھ رکھا تھا۔ راحت کاظمی کی اداکاری اسے بہت پسند آئی تھی۔ اس نے اپنی پڑوسن بشریٰ سے کہہ کر "دھوپ کنارے ” کے اوریجنل ویڈیو کیسٹ منگوائے۔ کبیر کو منایا کہ کم از کم ایک شام جلدی گھر آ جائے۔ جمعہ کی شام کبیر آٹھ بجے گھر آ گیا۔
باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


