کل پھر آنا


ریما نے جلدی سے ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگایا۔ اس نے آج کھانے میں مٹن چانپ، مشروم مٹن کی سوکھی سبزی اور ثابت مونگ کی دال بنائی تھی، ساتھ میں رائتہ، سلاد، پاپڑاور اچار۔ کھانا کھا کر ٹی وی کے پاس کبیر پہنچ گیا۔ اس نے آج کپڑے بھی نہیں بدلے تھے، اب تک سوٹ اور جوتے کی گرفت میں ہی تھا۔ ریما میز کی صفائی میں مصروف ہو گئی۔ بچا ہوا کھانا ٹھیک سے پیک کر کے فریج میں رکھا۔ برتن صاف کیے اور ہاتھ منھ دھو کر پرفیوم لگائی اور کبیر کے ساتھ بیٹھ گئی۔ اسے یاد آیا کہ وہ کیسے کبیر کے ساتھ بھارت میں سنیما دیکھنے جا یا کرتی تھی۔ شادی کے بعد جے پور گئے تھے اور انھوں نے رام مندر میں فلم دیکھی تھی۔

"ارے بھئی! کون ہے اس سیریل میں ؟”

"کوئی راحت کاظمی ہے۔ پاکستان کا بہت بڑا ٹی وی اسٹار ہے۔ ساتھ میں مرینا خان ہے۔ بشریٰ بتا رہی تھی کہ راحت کاظمی میں تین انڈین اسٹاروں کی جھلک ہے، امیتابھ بچن، منوج کمار اور راج ببر۔ "

"یہ کیسا مکسچر ہوا جی؟ امیتابھ اور منوج تو ویسے ہی دلیپ کی نقل کرتے ہیں ، پھر بھلا یہ کاظمی میاں کیا ایکٹنگ کریں گے ؟”

"آپ دیکھیے تو سہی” ریما کو کبیر کی منفی باتیں پریشان کرنے لگتی ہیں "اور ہاں ! اس سیریل میں کچھ بہت خوب صورت غزلیں اور نظمیں بھی ہیں۔ "

"چلیے ابھی سامنے آ جاتی ہیں۔ "

"دھوپ کنارے ” کی کاسٹنگ شروع ہوتی ہے۔ ریما کو عادت ہی نہیں ہے کہ ایک جگہ مٹی کا مادھو بن کر فلم یا ٹی وی سیریل دیکھا جائے۔ وہ ایک متحرک اور فعال شخصیت ہے۔ اس کا جی باتیں کرنے کو چاہتا ہے۔ آج تو صرف کبیر کا ساتھ پانے کی غرض سے …کبیر نے آج کھانے سے قبل ڈرنک نہیں لی تھی، شاید اسی لیے ڈزا مبئی کا ایک بڑا سا پیگ بنا لیا ہے۔ اس نے ریما کو بھی اپنے لیے ڈرنک بنانے کے لیے کہا۔ ریما ماحول کو رنگین بنا دینا چاہتی تھی۔ اس نے کبیر کی بات مان لی۔ حالاں کہ اس کی شدید خواہش تھی کہ کبیر خود اس کے لیے ڈرنک بنائے۔ عموماً ریما کھانے کے بعد ڈرنک لے لیتی ہے۔ کریم دی مینتھ پینے سے اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ پان کھا لیا ہو۔ آج بھی اس نے وہی بوتل کھولی، ہرے رنگ کا ایک پیگ اپنے گلاس میں ڈالا اور برف کو چور کرنے لگی تاکہ کریم دی مینتھ کا فراپے بنا سکے۔ یکایک اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے دوسرے گلاس میں چور کی ہوئی برف ڈالی اور پھر پہلے گلاس میں سے مشروب آہستہ آہستہ اس پر انڈیلنے لگی۔ برف کے ساتھ مل کر ہرے رنگ کا کریم دی مینتھ، ماحول کو کہیں زیادہ رومانٹک بنا رہا تھا۔ ریما کو یہ ڈرنک بنانا کبیر نے ہی سکھایا تھا۔ کبیر نے ریما کا گلاس دیکھا اور مسکرادیا۔ دونوں نے اپنے گلاس ٹکرائے اور ایک ایک گھونٹ پی لیا۔ پہلا ایپی سوڈ ختم ہوتے ہوتے ڈرنک اپنا اثر دکھانے لگی اور ریما کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ "کبیر ! ہم آج دن بھر کھانا بناتے اور صفائی کرتے کرتے تھک سے گئے ہیں۔ ہمیں نیند آ رہی ہے۔ چلیے، آپ بھی اوپر چلیے۔ یہ سیریل کل صبح آرام سے دیکھیں گے، کل تو آپ کی چھٹی ہے۔ "

"ارے، ہماری چھٹی ہے کہاں ہے ؟ ائیر لائن تو ہفتے میں ساتوں دن کام کرتی ہے۔ ہم ہر وقت آن کال ہوتے ہیں …تم چلو، میں ابھی آتا ہوں۔ "

ریما اپنے بیڈ روم میں چلی گئی اور دھم سے بستر پر گرتے ہی سو گئی۔ نیند بہت گہری تھی۔ تھکن کا اثر صاف نظر آ رہا تھا اور کریم دی مینتھ نے اپنا کام بھی کر دیا تھا۔ ریما کی نیند اس وقت کھلی جب کمرے میں روشنی ہوئی۔ اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھول دیں۔ کچھ دیر کے لیے وقت کا احساس اس کے دماغ سے غائب ہو گیا تھا۔ وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ سامنے کبیر کھڑا تھا، سوٹ اور ہیٹ میں اپنے ہاتھوں میں بیگ لیے۔ اسے لگا جیسے صبح ہو گئی ہے اور کبیر دفتر جانے کے لیے تیار ہے۔ "ارے کبیر، آپ رات بھر کمرے میں آئے ہی نہیں ؟ میں سوتی رہ گئی۔ کیا دفتر کے لیے نکل رہے ہیں ؟”

"ارے نہیں ریما، میں بس ‘دھوپ کنارے ‘ دیکھتا رہا۔ میں نے دونوں ویڈیو کیسٹ دیکھ ڈالے۔ ابھی صبح کے چار بجے ہیں ، میں بھی سوتا ہوں۔ "

"آپ نے دونوں ویڈیو دیکھ لیے ؟ مگر میں نے تو کہا تھا نا کہ صبح اکٹھا بیٹھ کر دیکھیں گے، پھراتنی جلدی کیا تھی۔ میں تو آپ کے ساتھ "انجوائے ” کرنا چاہتی تھی۔ "

"ارے تو اس میں کون سا جرم سرزد ہو گیا۔ ہم تمھارے ساتھ دوبارہ دیکھ لیں گے۔ کوئی پابندی تھوڑی ہے تمھارے ساتھ دیکھنے کی؟”

ریما تڑپ اٹھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک علاحدہ قسم کی جلن تھی، جسے سمجھنے کے لیے دل کا حساس ہونا بہت ضروری ہے۔ کبیر کے لیے اس نازک جذبے کو سمجھ پانا ممکن نہیں تھا، "ارے ابھی کہا ں جا رہی ہو؟ ابھی تو صبح ہونے میں دیر ہے۔ "

اس دن پہلی بار ریما نے کبیر کے ساتھ سونے سے انکار کر دیا اور وہیں آ کر بیٹھ گئی، جہاں ذرا دیر قبل کبیر بیٹھ کر "دھوپ کنارے ” سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اسے غصے کے مارے متلی محسوس ہو رہی تھی۔ آج اس نے جی بھر کے اپنے والدین کو کوسا، جنھوں نے اچھی ملازمت، دولت مند گھرانہ اور برادری سے اس کی شادی کر دی تھی۔ اگر وہ غریب ہوتی اور اسے شوہر کا پیا ر ملتا تو کیا وہ زیادہ سکھی نہ ہوتی۔

"ارے یہ سب چونچلے ہیں۔ راج کپور نے تو غریبی کو اتنا ‘گلیمرائز’ کر دیا تھا کہ انسان کا غریب ہونا بھی بہت رومانٹک لگنے لگتا تھا۔ دو روز روٹی نہ ملے تو سارے کا سارا رومانس اڑن طشتری ہو جائے۔ پیسہ جس کے پاس نہیں ہے، اس سے پوچھ کر دیکھو۔ پیسہ نہیں تو گھر میں سکون نہیں، دل میں پیار نہیں۔ "

"ہمارے گھر میں تو پیسے کی کمی نہیں ہے، پھر ہمارے گھر میں سکون کیوں نہیں ہے ؟ آپ کے پاس تو بچوں کے لیے بھی پانچ منٹ کا وقت نہیں ہوتا۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ ایان کون سی کلاس میں پڑھتا ہے ؟ ہماری بیٹی کی ضرورتیں کیا ہیں، آپ نے کبھی سوچاہے ؟…اپنی سکریٹریوں سے فرصت ملے تو کوئی بات بنے …آپ جیسے انسان کو پیار اور محبت کے مطلب کا کیا پتہ؟”

یہ بحث کبھی کبھار کا شغل نہیں تھی۔ یہ روزانہ کا جھگڑا تھا۔ بچے عقل مند ہیں، انھوں نے کبھی شکایت نہیں کی کہ ان کے والد کیوں کبھی ان کے لیے موجود نہیں ہوتے …ان کے اسکول کے کاموں کے لیے ماں ہے، ان کے کھانے پہننے ، اسپورٹس اور ٹورس پر جانے کے لیے سب کچھ ماں کرتی ہے۔ بھلا انھیں باپ کی کمی محسوس ہو تو کیسے ہو۔ جب سب کچھ پورا ہو رہا ہو کسی کی کمی بھی کیوں کھلے گی۔

باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5