کل پھر آنا
آواز پھر آئی۔ اگر ایک سے زیادہ لوگ ہوئے تو وہ کیا کرے گی۔ اپنا دروازہ اندر سے بند کر لیتی ہوں، پھر کوئی کیسے مجھے دیکھ پائے گا۔ مگر یہ تو شترمرغ والی بات ہوئی کہ میں خطرے کو نہیں دیکھ پا رہی ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ خطرہ مجھے نہیں دیکھ پائے گا۔
کوئی سیڑھیاں چڑھ رہا ہے۔ اب کیا کرے ریما؟ اب تو اٹھ کر دروازے تک جانے میں بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ کیا اب کبیر اور بچوں سے کبھی ملاقات نہیں ہو پائے گی؟ کیا ضرورت تھی ابھی چھت کے ٹائلز بدلوانے کی؟ مجھے اکیلا چھوڑگئے یہاں مرنے کے لیے۔ بچو! تمھاری ماں تمھیں مرتے دم تک یاد رکھے گی۔ ویسے کبیر کے ساتھ ساتھ روز مرنے سے ایک بار کی موت کہیں بہتر ہے۔
آنے والا رک گیا ہے۔ پہلے والے بیڈ روم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ شکر ہے کہ اس کا بیٹا وہاں نہیں ہے ورنہ نہ جانے اس کے ساتھ کیا سلوک کرتا۔ کتنی بے خوفی سے وہ چہل قدمی کر رہا ہے، اس کے کمرے کی طرف …کیا میرے کمرے کی طرف آئے گا؟ منھ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ کیا میری قسمت میں بے آواز موت لکھی ہے ؟
اب کمرے میں کچھ تلاش کرنے کی آوازیں آنے لگی ہیں۔ بیچاری بٹو کے کمرے میں اسے بھلا کیا ملے گا۔ اس کے پاس تو سونے کے زیورات بھی نہیں ہیں مگر وہ کچھ سوچ کر اس کے کمرے میں تھوڑے ہی گیا ہے، ابھی ذرا دیر بعد وہ یہاں بھی آتا ہو گا۔
کیا حرج ہے، ایک بار اپنے کمرے کا دروازہ اندر سے بند ہی کرلوں۔ اس کو پتہ بھی نہیں چلے گا اور جب کمرہ اندر سے بند دیکھے گا تو شاید باقی گھر کا مال لے کر میری جان بخش دے۔ میرے کمرے میں تو بریف کیس بھر کر زیورات پڑے ہوئے ہیں اور ان میں کچھ ہیرے بھی ہیں۔ ابھی پچھلے سال اٹلی سے کچھ کورل سیٹ بھی بنوائے تھے۔ کہیں میری عزت؟ وہ سہم گئی۔
وہ ہمت کر کے دروازے تک پہنچ گئی۔ ہاتھ بڑھایا اور دروازے کا ہینڈل پکڑنے کی کوشش کی…ہاتھ میں ایک انسانی ہاتھ آ گیا۔ منھ سے چیخ نکلی۔ دوسرے ہاتھ نے منھ دبادیا۔ پل بھر وہ چور کی گرفت میں تھی۔ چور نے اپنے جیمیکا والے لہجے میں کہا، "آواز نہیں …جان سے مار دوں گا۔ "
ریما کے تو ہوش ہی اڑگئے۔ آواز حلق سے باہر نہیں نکل پا رہی تھی۔ اچانک اس کے پاؤں زمین سے اکھڑگئے اور وہ لڑکھڑا گئی۔ یکایک بدلتے صورت حال میں اس کا بایاں پستان چور کے ہاتھ میں تھا۔ چور نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، ریما کی آواز کو قابو کرنے کے لیے اپنے ہونٹوں سے اس کے ہونٹوں کو بند کر دیا۔ ریما اس نئی صورت حال کے لیے بالکل تیار نہیں تھی۔ وہ چور کی گرفت سے نکلنے کی جتنی کوششیں کر رہی تھی، اس کے پستان اور ہونٹوں پر دباؤ اتنا ہی سخت ہوتا جا رہا تھا۔ اسے لگا کہ اس کا دم گھٹ جائے گا۔
اب تک چور شاید صورت حال سمجھ چکا تھا۔ وہ اس ارادے سے قطعی نہیں آیا تھا۔ وہ تو سیدھی سادی چوری کرنے کے لیے یہاں گھسا تھا۔ مگر قدرت نے اس کی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ اس نے آہستہ سے ریما کو بستر پر لٹا دیا۔ خوف زدہ ریما زیادہ مزاحمت بھی نہیں کرپا رہی تھی۔ چور نے ایک بار اس کے ہونٹوں پر اپنی گرفت کمزور کی۔ ریما نے ایک لمبی سانس لی اور اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔
لیکن اب تک چور کو ریما کے جسم کی خوشبو کا احساس ہو چکا تھا۔ اس نے آہستہ سے ریما کے سر کو اوپر اٹھایا اور اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔ اس کا ایک ہاتھ ریما کے جسم پر رینگ رہا تھا۔ ڈری ہوئی ریما کے جسم میں بھی اب تناو ¿ محسوس ہو رہا تھا۔ ریما کی سانسیں زور زور چلنے لگی تھیں۔ اس کے کان کی لویں گرم ہو چکی تھیں۔ اچانک چور کو ریما کی جانب سے بھی جوابی دباو ¿ کا احساس ہوا۔ ریما چور کے بدن کو محسوس کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ پل بھر کے لیے چکرایا مگر پھر اس دباو ¿ سے لطف اندوز ہونے لگا۔ اب اس کا ہاتھ رفتہ رفتہ نیچے کی طرف سرکنے لگا۔ ریما کے جسم میں دھماکے ہونے لگے تھے۔ اس چور کے بولنے کے لہجے سے اور اس کے جسم کی مہک سے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ جیمیکا کا کوئی سیاہ نوجوان ہے۔ اس نے کبھی کبھار کبیر کے ساتھ بلیو فلم میں سیاہ مرد کو ننگا دیکھا تھا۔ آج وہ خود ایک سیاہ مرد کی آغوش میں تھی۔
ریما کی گرمی اب پگھلنے لگی تھی۔ مکمل طور پر گیلی ہو چکی ریما اب اس چور کو اپنے اندر محسوس کر رہی تھی۔ چند لمحوں میں جو کچھ زنا بالجبر کی طرح شروع ہوا تھا، اب لذت انگیز فعالیت میں تبدیل ہو چکا تھا۔ تقریباً ایک دہائی کے بعد ریما کو سیکس کا سکھ مل رہا تھا اور وہ اس سے پوری طرح محظوظ ہو رہی تھی۔ ریما کی آسودگی سے لبریز سسکیوں کے علاوہ فضا میں کوئی دوسری آواز نہیں سنائی دے رہی تھی۔ چور اب پوری شدت کے ساتھ ریما کو آسودہ کر ر ہا تھا۔ ریما کی سسکاریاں اور چور کی مزدور جیسی آوازیں گھر کی دیواروں سے ٹکرا کر ایک الگ قسم کی سنگیت تخلیق کر رہی تھیں۔
ریما چار بار سرشار ہوئی۔ ہر بار اس نے چور کو دباؤ دے کر کچھ پلوں کے لیے روکا۔ اب چور نے پہلی بار آواز نکالی، "اب میں نہیں رک سکتا،میں ابھی جا رہا ہوں۔ ” ریما پانچویں بار چور کے ساتھ ساتھ آئی، اور زور سے چلائی۔
سب کچھ تھم گیا۔ چور اٹھا اور تاریکی میں ریما کی طرف دیکھنے لگا۔ اس کے جسم کا رنگ کمرے کی تاریکی کا حصہ ہی بن گیا تھا۔ ریما نے اشارے سے اسے باتھ روم کا دروازہ دکھایا۔
چور ہاتھ منھ دھو کر تولیے سے پونچھتا ہوا باتھ روم سے باہر نکلا، اس نے چوری کا سامان وہیں چھوڑا اور گھر کے صدر دروازے کی طرف پلٹ گیا۔
ریما نے کچھ پل کے لیے چور کی پیٹھ کو دیکھا، کچھ سوچا اور کہا، "سنو، کل پھر آنا۔ "


